وہ کردار جو کمرے میں موجود سب کی جانی ہوئی بات کہہ دیتے ہیں۔ اس مجموعے کا بیشتر حصہ سچ سے زیادہ سچ بولنے کی قیمت کے بارے میں ہے۔
Read these in English 90 truth quotes
“بہار بیگم کا خدشہ جلد سچ ثابت ہوا جب ایک دن ماہ نور نے انہیں یہ کہہ کر گھنگرو واپس کر دیے کہ وہ اپنے کوٹھے پر واپس جانا چاہتی ہے اور اسے اس فن سے کوئی دلچسپی نہیں رہی۔”

“"پاگل ہوگئے ہیں آپ؟ کوئی اتنی چھوٹی سی بات پر اپنی بیٹی کو ایسے کہتا ہے؟ اگر وہ سچ میں چلی گئی تو؟" سکینہ کا دل بیٹھا جا رہا تھا.”

“اس سے متعلقہ ایک بہت سنگین اور دلخراش سچائی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ہر 4 میں سے 2 بچے جبکہ ہر 5 میں دو بچیاں کسی نہ کسی طریقے سے sexual harassment کا شکار ہوتی ہیں۔”

“اس حقیقت سے آشنا ہوتے ہوۓ کے ہم آپکو اس کے بدلے میں کچھ نہ دے سکیں گيں؟"مسز عمیر" خدا نے میری کوکھ کو خالی رکھ کر بھی مجھے ایک ماں کا دل دیا ہے.”

“" کیا وہ سب سچ میں میرا خواب تھا؟" وہ اسی شش و پنج میں تھا جب اچانک اس کی نظر اپنے ہاتھ میں بندھی سنہری ڈوری پر پڑی، تو وہ چونک گیا۔”

“زمرد سے محبت میں وہ اتنی آگے آگئی تھی کہ اسے یہ بھی یاد نہ رہا تھا کہ میں نے اسے سچے دل سے چاہا ہے۔”

“ہم ہمیں یہ یقین ہے اگر نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کریں تو یہ بہت آگے جا سکتے ہیں اور یہ حقیقت حال بھی ہے۔”

“اس کتاب کا عنوان "بے نتیجہ" انسانی وجود کے اس خالی پن کی عکاسی کرتا ہے کس کا کوئی مادی حل موجود نہیں۔”

“کتّے کی وفاداری کی اتنی صاف ، واضح اور سچی تصویر انسان کی فطرتِ وفاداری کو جھنجھوڑنے کے لئے بالکل تیر بہدف ہے۔”

“میرے ہاتھوں ہوا خالی گھر بہت اچھی طرح مجھے زندگی کے بارے میں یہ حقیقت سمجھا گیا کہ کوئی چیز بھی دنیا میں دائمی نہیں۔”

“....اور جس دن تم نے اپنی محبت حاصل کر لی ....اس دن کسی شے کی طلب باقی نہیں رہے گی ....حتٰی کہ اس سگریٹ کی بھی نہیں۔”

“اُردو کے جوہر شناس شاعر اسرؔار جامعی ہیں جنہیں وزیرِاعظم اور ان کےوزیروں کی اَنا کے حد سے زیادہ پھولے ہوئے غباروں کو پنکچر کرنے میں مہارت ِ تامہ حاصل ہے۔”

Our authors, in their own words and in the press.
الفاظ بہت زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔ لفظوں کی طاقت اوران کااثر ایک حقیقت ہے۔ ایک لفظ کسی کی پوری زندگی تبدیل کر دیتا ہے، الفاظ جہاں زندگی دیتے ہیں وہی زندگی چھین بھی لیتے ہیں اسی لیے کہتے ہیں الفاظ کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔
سلمان کا شعری اسلوب بےحد رواں اور منفرد ہے۔ اس کتاب میں ان کی یہی خوبی نمایاں ہے۔ انھوں نے بہت سے موضوعات پر قلم اٹھایا ہے اور ان کے ہر شعر میں شاعری سے محبت جھلکتی ہے۔یہی نہیں بلکہ وہ کمال کی منظرنگاری پیش کرنے کا بھی ہنر جانتے ہیں
کتاب کا اسلوبِ بیان سادہ اوردلکش ہے۔ کتاب بنیادی طور پر چار حصوں میں تقسیم ہے جس کے پہلے حصے میں فورم اور سائیٹ سیورز کا تعارف اور نابینااور معذورقلم کار خواتین کا انٹرویو درج ہے۔ادب سے تعلق رکھنے والی مختلف عورتوں کے بارے میں پڑھ کر آپ جانیں گے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں کس قدر مشکلات کا سامنا کیا مگر انھوں نے ہار نہیں مانی اور محنت اور لگن کے ساتھ اپنے کام کو جاری رکھا۔دوسرے حصے میں محترمہ کشور ناہید کے انٹرویوکے ساتھ ساتھ مسلم ثانیثیت اور نسائی ادب اور تنقید شامل ہے۔
”اِک پرخیال“بنیادی طور پر بہت سی تحریروں پر مبنی ہے۔اس میں موجود دلچسپ مضامین قاری کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔اس کتاب کے ذریعے منیرہ قریشی نے دراصل قاری کو بہت اچھی اچھی نصیحتوں سے نوازا ہے۔ اپنے احساسات وخيالات کو لفظ کے پیرہن میں سموتے ”اک پرخيال!“ مختلف النوع موضوعات کا ایک ایسا آئینہ ہے جو فاضل مصنفہ کے دلی جذبات کا عکاس ہے
مصنفہ نے ان افسانوں میں مختلف موضوعات کو چھیڑا ہے اور سچ پوچھیں تو یہ کتاب ایک خوش رنگ گلدستے کی مانند ہے جس میں طرح طرح کے رنگ دیکھنے کو ملیں گے۔ان کی ہر کہانی کا طرز تحریر مختلف ہے تاکہ قاری ایک ہی طرح کی کہانیاں پڑھ کر اُکتا نہ جائے۔
The Sinking Wedding is Sara Amir’s latest work, in which she has used the themes of horror, fiction, mystery, adventure, and friendship as well. The plot is we-knitted and you will feel excitement at the end of each paragraph.
سیکس ایڈ پاکستان کی جانب سے پیش کردہ یہ کتاب بچوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے۔سی کے بارے میں تعلیم عام کرنےکے لیے کام کررہی ہے۔یہ تنظیم بچوں میں گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ میں فرق کرنے کا شعور پیدا کرتی ہے ۔پچھلے کچھ سالوں میں پاکستان میں جنسی تشدد کے واقعات بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں۔ بچوں میں بڑھتےجنسی تشددکے واقعات کو کم کرنا بے حد ضروری ہے۔اس برے کام میں ملوث لوگوں کو سزا دینے کی ہرممکن سے ممکن کوشش کرنی چاہیےتاکہ ہمارے بچےبھرپور طریقے سے اپنے بچپن کو جی سکیں۔کس ایڈ پاکستان، پاکستان کی پہلی غیر سرکاری تنظیموں میں سے ایک ہےجو 2020 ءسے جنسیت
A reflective interview with Aneeta Yaqoob exploring psychology & about her self-help book in urdu" Umeed ki Kiran."