وہ باتیں جو کرداروں نے ٹھوکر کھا کر سیکھیں۔ یہ کہاوتیں نہیں جو نسل در نسل چلی آ رہی ہوں — یہ وہ نتیجے ہیں جن تک کوئی کہانی کے بیچ میں پہنچا، اکثر ایک غلطی کے بعد۔
Read these in English 111 wisdom quotes
“(آزاد جموں کشمیر یونیورسٹی کی طالبہ زہرہ گردیزی کے مقبوضہ وادی کے لیے تحریر کیے گے سچے جذبات) اگست کی ایک صبح آنکھ کھلی تو اپنی عارت کے مطابق ٹیلی ویژن کا دیدار فرض عین سمجھا۔”

“ہمیشہ تکلیف ہی سمجھا کبھی زندگی کو آسان نہیں سمجھا نا کوشش کی گئی جاننے کی کے زندگی مشکل کیوں ہے۔۔”

“دونوں ماں باپ خاموشی میں اتنا بھول گئے تھے کہ اس چاکلیٹ دودھ کے خوف میں اور اس کی سمجھ آنے میں وہ معصوم نہ مکمل کھا پاتی تھی اور نہ سو پاتی تھی۔”

“جانتے ہیں جب کسی زینب کے سا تھ زیادتی ہوتی ہے تو میں زیادتی کرنے والے سے زیادہ ان والدین کو ظالم سمجھتا ہوں جنہوں نے ان درندوں کے سامنے اپنی اولادیں پھینک رکھی ہیں۔”

“ایک وہ انسان بہت خوش قسمت ہے جس کی غیر موجودگی میں لوگ اسکی عزت کریں اور دوسرا وہ جس کے جانے کے بعد اسکی یاد میں تنہائی میں آنسو بہائے جائیں اور سوچا جائے کہ اتنی جلدی۔۔”

“اس کتاب کا عنوان "بے نتیجہ" انسانی وجود کے اس خالی پن کی عکاسی کرتا ہے کس کا کوئی مادی حل موجود نہیں۔”

“ہمارے پیدا کرنے والے رب نے بھی ہمیں مقصد دے کر اس دنیا میں بھیجا لیکن ہمیں آزادی دی کہ ہم اپنے سفر میں اپنے انتخاب میں آزاد ہیں۔”

“میرے ہاتھوں ہوا خالی گھر بہت اچھی طرح مجھے زندگی کے بارے میں یہ حقیقت سمجھا گیا کہ کوئی چیز بھی دنیا میں دائمی نہیں۔”

“جہاں ہماری سوسائٹی یورپ کی باقی بہت سی باتوں سے امپریس ہے وہیں ان کی نقاب سے نفرت میں بھی اپنا رول ادا کرنا اپنا فرض سمجھتی ہے۔”

“نجمہ اور سالار احمد کے لاکھ سمجھانے پر بھی وہ آئے دن گھر میں ایسے ہی ہنگامے کرتا اور شیری کو گھر سے نکالنے کا تقاضا کرتا۔”

“قومی بیانیے کو اسکے تاریخی پس منظر میں سمجھے بغیر نہ تو ایک متبادل بیانیہ ترتیب دینا ممکن ہے اور نہ ہی ایک متبادل نظام کی نقش گری کی جاسکتی ہے۔”

“اندھیری رات میں پہاڑی علاقے میں جیپ ڈرائیو کرنے کا مجھے بلکل بھی تجربہ نہ تھا لہٰذا راستے میں موڑ کاٹتے ہوئے میری جیپ نیچے کھائی کی جانب لڑکھڑا گئی تھی۔”

“اس کے پاس ایسا علم تھا کہ اگر وہ دوستاروں پر قابو پا لیتا تو دنیا کے تمام انسانوں کے ذہنوں کی ڈوریاں اس کے ہاتھوں میں آجاتیں۔”

“کہتے ہیں کہ دنیا میں اس سے بڑھ کر اور کوئی ایوارڈ نہیں ہوسکتا کہ لوگ آپ کی تربیت کی وجہ سے آپ کے والدین کی تعریف اور عزت کریں۔”

“خدا کی محبت کو تنہائی اور خاموشی میں ہی محسوس کیا جا سکتا ہے اس لیے جب بھی زندگی میں تنہائی محسوس کرو تو اسے ربّ سے ملنے کا موقع تصوّر کرنا۔”

“گھر کی کوئی بھی لڑکی اس سے دوستی کرنا پسند نہیں کرتی تھی تو اس نے بھی اپنا زیادہ وقت امی اور دادی جان کے ساتھ صرف کرنا بہتر سمجھا۔”

“ایک اور چیز جس نےمجھے حیرت میں ڈالا وہ یہ تھی کہ ناروے میں انگریزی تو سب سمجھتے ہیں پر بولتا کوئی بھی نہیں ہے۔”

“انسان اپنی عقل اور تدبیر پربھروسہ کرتا ہے مگر یہ بھول جاتا ہے کہ ایک تدبیر کرنے والا اوپر بھی ہے جو سب سے بہتر تدبیر کرتا ہے۔”

Our authors, in their own words and in the press.
Nidal Hammad’s The Last Minute, a football novel and story of passion, pressure, and perseverance published by Daastan
Explore Dr. Shahbaz Ahmed Shahzad's research journey and his book on Artificial Intelligence in Modern Warfare in this author interview.
Interview with author Faizan Jalal sharing insights on his book, inspiration, writing journey, and experience with publishing.
کتاب کا اسلوبِ بیان سادہ اوردلکش ہے۔ کتاب بنیادی طور پر چار حصوں میں تقسیم ہے جس کے پہلے حصے میں فورم اور سائیٹ سیورز کا تعارف اور نابینااور معذورقلم کار خواتین کا انٹرویو درج ہے۔ادب سے تعلق رکھنے والی مختلف عورتوں کے بارے میں پڑھ کر آپ جانیں گے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں کس قدر مشکلات کا سامنا کیا مگر انھوں نے ہار نہیں مانی اور محنت اور لگن کے ساتھ اپنے کام کو جاری رکھا۔دوسرے حصے میں محترمہ کشور ناہید کے انٹرویوکے ساتھ ساتھ مسلم ثانیثیت اور نسائی ادب اور تنقید شامل ہے۔
ہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جس کی خوش و خرم زندگی میں اچانک ہی سماعت سے محرومی داخل ہو جاتی ہے اور مشکلات اور آزمائشیں اس کے گھر کی راہ دیکھ لیتی ہیں۔ سماعت کی محرومی کا ہمت و حوصلے سے مقابلہ کرنے کی کہانی آپ میں بھی امید کی ایک نئی روح پھونک دے گی۔ اس باہمت لڑکی کی کہانی کے ساتھ ساتھ یہ کتاب اپنے اندر سماعت کے نقائص اور اس کے علاج سے متعلق بھی بیش بہا معلومات رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ سماعت کے نقائص سے متعلق لوگوں کی کئی غلط فہمیوں کا بھی ازالہ کرتی ہے۔
گزشتہ ہفتے نامور نیور سرجن پروفیسر ڈاکٹر بشیر احمد کی سوانح عمری Partition to Pioneer From تقریب رونمائی کا انعقاد ہوا۔
Six Murders in Seattle is a marvel of these superbly talented writers. In this book, they narrate a full suspense story about six back-to-back murders in a city called Seattle, and when the crime department could not able to handle this same pattern of murders, they asked for the officer, whose reputation is worse than criminals, as a last try to solve this mystery of murders.
Faiza Anum shares writing journey and her inspiration behind “Of Leaves and Longing,” a poetry anthology on trees and nature.
A reflective interview with Aneeta Yaqoob exploring psychology & about her self-help book in urdu" Umeed ki Kiran."