ہر سطر کسی حقیقی کتاب سے ہے، جو کسی پاکستانی مصنف نے لکھی۔ اقوال پڑھیے، کتاب تک پہنچیے — اور کہانی گھر لے جائیے۔
“باہمی رفاقت و اشتراک عمل سے بطور انعام خوشیاں بھی ملتی ہیں اور پھر یہ خوشیاں صرف ایک گھر تک ہی محدود نہیں رہتیں بلکہ معاشرے پر ان کے اثرات پڑتے ہیں۔”

“جو انسان زندگی میں خود آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنےکام کو وقت پر انجام دیتا ہے وہی دولت کا حقدار ٹھہرتا ہے۔”

“حیرت کے ساتھ خوشی بھی ہوئی کہ ہمارے لیڈرز یہاں اتنے مشہور ہیں کے ايک عام شہری بھی ان کے ناموں سے واقف ہے۔”

“اگر کسی بات کا خوف یا اندیشہ لاحق ہے توفرار کی بجائے اس کازیادہ سے زیادہ وقت کے لئے سامنا کریں تاوقتیکہ ان جذبات کی ساری توانائی خرچ ہوجائے اور آپ پرسکون ہو جائیں۔”

“پہلے سمیسٹر میں ہی اس نے خود سے عہد کرلیا تھاکہ اب کوئی ایک دوست نہیں بنائےگی، بلکہ کوشش کرے گی کہ سب کے ساتھ اچھے طریقے سے رہے۔”

“حالیہ سالوں میں، ارشد کے چند گیت(’ہم چرسی بھنگی ہیں‘،’میرے دیس میں ہیں امکان بہت‘، اور، ’سب پیسے کی گیم‘، اور ’میری قوم بڑی جزباتی‘) کافی مقبول ہوئے ہیں۔”

“سالہا سال سے مرد نے یمن کی طرح خاموش جهاد کر رہے ہیں میں محنت کی اور جذبے کے ساتھ وہ خاص نمبر شائع کرتے رہے ہیں ۔”

“آپ وزیرِ داخلہ ہیں، پولیس فورس کی کشتی کے نا کدا، قانون اور نظم کے آقائے نامدار، میں ایک مظلوم اُردو شاعر ہوں، ایک فریادی بن کر آیا ہوں آپ کو میری فریاد سُننی پڑے گی!”

“اُسے زاہد اور ظہیر کی اپنی کمپنی میں شمولیت کی زیادہ خوشی نہیں تھی کیونکہ اُسے اپنے گھر کے افراد کی کمزوری کا پہلے سے اندازہ تھا۔”

“رات کے تقریباً ۲ بجے اُن کی آنکھ کھلی تو وہ اتنے ترو تازہ ہو کر اٹھے کہ انھیں گمان گزرا کہ وہ مر چکے ہیں اور یہ ان کی روح ہے جو بستر پر بیٹھی ہے۔”

“میری شادی پر اس کا بنایا ہوا ایک ایمبرائڈری والا فریم بھی جو مجھے تحفے میں ملا تھا، آج تک میرے گھر کے لاؤنج کی دیوار پر آویزاں ہے۔”

“اس میں اتنی جرات تھی ہی نہیں کہ یہ بتا پاتی کہ اس نے کال کیوں کی وہ کون سا وہم تھا یاڈر تھا جس نے ان کے دل و دماغ کو گھیر رکھا تھا۔”

“میں یہاں چھہ وقت کی نماز ادا کرتا ہوں آپ بھی تہجد کی نماز ادا کیا کریں اس سے دنیا وآخرت میں سکون ملتا ہے۔”

“اِنہی باتوں کی بُھول بُھلیاں میں وہ بھٹک رہا تھا کہ آنکھوں سے ایک موتی چھلک کر رخسار پر گرنے کے بعد ہتھیلی پر ٹھہر سا گیا.”

Our authors, in their own words and in the press.
ہر کتاب کا ایک خانہ ادھورا ہوتا ہے اور اس ادھورے کونے کو قاری اپنے تصور کے رنگوں سے بھر دیتا ہے۔ بہت سی باتیں ان کہی رہ جاتی ہیں مگر سننے والا ان ان کہے الفاظ کا بھی مفہوم اخذ کرلیتا ہے اور اسی طرح بہت سی کہانیاں نامکمل ہوتی ہیں مگر دیکھنے والے کی نگاہ اسے مکمل کر دیتی ہے۔یہ کتاب ناتمام قصوں اور کہانیاں کا گھر ہے اور انھیں مکمل کرنے کا اختیار قاری کا تصور محفوظ رکھتا ہے۔
A reflective interview with Aneeta Yaqoob exploring psychology & about her self-help book in urdu" Umeed ki Kiran."
ماریہ شہزاد کا تعلق لاہور سے ہے۔ انھوں نے دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کی اور وفاق المدارس سے منسلک رہیں۔ ماریہ نے ناول نورِ سحر کےعلاوہ بہت سے افسانے اور ناولٹ بھی لکھے۔ وہ جذبات کو الفاظ کی صورت میں پرونے کے ہنر سے خواب واقف ہیں۔ مصنفہ کو منظر […]
From the turmoil of Partition to the operating rooms of Lahore, the legacy of neurosurgery pioneer Prof. Dr. Bashir Ahmad (1934–2014) stands as a timeless story of resilience, intellect, and devotion to humanity. His life’s work not only built the foundations of modern neurosurgery in Pakistan but also inspired generations of doctors to serve their homeland with […]
سیکس ایڈ پاکستان کی جانب سے پیش کردہ یہ کتاب بچوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے۔سی کے بارے میں تعلیم عام کرنےکے لیے کام کررہی ہے۔یہ تنظیم بچوں میں گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ میں فرق کرنے کا شعور پیدا کرتی ہے ۔پچھلے کچھ سالوں میں پاکستان میں جنسی تشدد کے واقعات بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں۔ بچوں میں بڑھتےجنسی تشددکے واقعات کو کم کرنا بے حد ضروری ہے۔اس برے کام میں ملوث لوگوں کو سزا دینے کی ہرممکن سے ممکن کوشش کرنی چاہیےتاکہ ہمارے بچےبھرپور طریقے سے اپنے بچپن کو جی سکیں۔کس ایڈ پاکستان، پاکستان کی پہلی غیر سرکاری تنظیموں میں سے ایک ہےجو 2020 ءسے جنسیت
Discover the power of Palestinian Poetry a voice of struggle, resilience, and compassion in You, The Witness by Meem Ayien.
ہر ناامید اور مایوس شخص کو اچھے دنوں کے آنے کی امید دلاتی یہ کتاب بلاشبہ اپنی نوعیت میں منفرد ہے۔ بُرا وقت ہمیشہ آزمائش بن کر آتا ہے اور ہر آزمائش انسان کو منزل سے ایک قدم اور قریب کر دیتی ہے۔