ہر سطر کسی حقیقی کتاب سے ہے، جو کسی پاکستانی مصنف نے لکھی۔ اقوال پڑھیے، کتاب تک پہنچیے — اور کہانی گھر لے جائیے۔
“پٹھان ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم مہر کی رقم نہیں دیتے ، یہ اللہ پاک کا حکم ہے،اس کا پٹھان ہونے سے کوئی لینا دینا نہیں۔”

“اس دم کروانے سے اتنا فرق ضرور پڑا تھا کہ جس طرح وہ نازو کے غم میں مبتلا تھی اور بچیوں کے لیے فکرمند تھی وہ فکر کافی حد تک ختم ہو گئی تھی۔”

“پس ہمارے سانس لینے کا بنیادی مقصد اسی آکسیجن نامی گیس کو جسم کے اندر لے جانا ہوتا ہے تا کہ جسمانی خلیات بہتر انداز میں کام کر سکیں۔”

“کیا ایسا ہی ہے؟ ہمارا اور اللہ کا تعلق بس مالک اور نوکر والا ہے؟ ہمیں ہمیشہ یہی بات ہی تو بتائی گئی ہے کے اللہ کا ہر حکم ماننا ہے کیوں کے وہ مالک ہے۔۔”

“اس کٹیا سے ھر شام اٹھتی دھویں کی لکیر کو میں نے زندگی کا استعارہ کب سمجھنا شروع کیا، شاید مجھے خود صحیح اندازہ نہیں ہے۔”

“اس کے لئے پہلے.آپ کو انہیں یقین دلانا ہوگا کہ آپ.انہیں جنتی اور جہنمی کی کیٹگری میں ڈال کر نہیں سوچتی بلکہ.ایک مسلمان کی حیثیت سے سوچتی ہو.”

“اس کا ذاتی خیال تھا کہ جب کسی انسان سے کوئی بہت بڑی غلطی ہو جاتی ہے تو اللہ سزا کے طور پر اس کے گھر ہیجڑا پیدا کر دیتا ہے۔”

“پانچ سال پہلے ِاسی نیم کے پیڑ کے نیچے شانی نے مودی موچی کو اللہ کے انتقام سے ڈرایا تھا اور آج وہ اپنی آنکھوں سے اللہ کے انتقام کو دیکھ رہا تھا۔”

“تو میں نے مارے ڈر کے اس کا اسکول جانا وقتی طور پر بند کر دیا مگر شاید میری بیٹی کے نصیب ہی برے تھے .”

“خاموشی کے لیپ نے زخموں کو ایسا بھرا تھا کہ اس میں سے خون رس رس کر اس کی روح میں شامل ہو کر اس کو گھا ئل کررہا تھا۔”

“آخر کب تک آپ ڈرا دھمکا کر اپنے بچوں کے گلے گھونٹتے رہیں گے اور کیوں؟ کیا لوگ اور خاندانوں کی نام نہاد عزتیں آپ کے بچوں کی عزت نفس سے زیادہ اہم ہیں؟ نہیں!”

“ابھی میں راستے میں ہی تھا کی ٹریفک جام ہوگئی، ٹریفک کہ اژدہام میں گاڑیوں کے شدید شور سے اکتا کر میں نے بھیڑ میں ہی گاڑی کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔”

“ہم دنیا حاصل کرنے کی ہوس میں اپنوں کا ہی گلا کاٹ رہے ہیں ...آنے والے وقت میں ساری ذمے داری تم نوجوانوں پر آرہی ہے .”

Our authors, in their own words and in the press.
Aysha Khalid is a Turkish poet, she does not believe in the boundaries of language to express herself or her imagination. That’s the reason, she has chosen a Pakistani publishing company ‘Daastan’ to publish her collection of poems.
ہر ناامید اور مایوس شخص کو اچھے دنوں کے آنے کی امید دلاتی یہ کتاب بلاشبہ اپنی نوعیت میں منفرد ہے۔ بُرا وقت ہمیشہ آزمائش بن کر آتا ہے اور ہر آزمائش انسان کو منزل سے ایک قدم اور قریب کر دیتی ہے۔
Samar Malik, opens up about her writing journey, the emotions behind her latest poetry collection, and her experience publishing with Daastan.
سیکس ایڈ پاکستان کی جانب سے پیش کردہ یہ کتاب بچوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے۔سی کے بارے میں تعلیم عام کرنےکے لیے کام کررہی ہے۔یہ تنظیم بچوں میں گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ میں فرق کرنے کا شعور پیدا کرتی ہے ۔پچھلے کچھ سالوں میں پاکستان میں جنسی تشدد کے واقعات بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں۔ بچوں میں بڑھتےجنسی تشددکے واقعات کو کم کرنا بے حد ضروری ہے۔اس برے کام میں ملوث لوگوں کو سزا دینے کی ہرممکن سے ممکن کوشش کرنی چاہیےتاکہ ہمارے بچےبھرپور طریقے سے اپنے بچپن کو جی سکیں۔کس ایڈ پاکستان، پاکستان کی پہلی غیر سرکاری تنظیموں میں سے ایک ہےجو 2020 ءسے جنسیت
I'll meet you there is a poetic book that leaves its readers stunned, to say the least. It was published fairly recently and beautifies the world around us. The book's theme caters to multiple topics and since it is set in modern times and written as poetry, it leaves a lot to be imagined by the readers. The readers are creatively transported into an entirely different world that is beyond the human imagination.
اس کتاب کی یہی خوبی ہے کہ ہر شعر کو نہایت سلجھے، رواں اور دلچسپ انداز میں قلم بند کیا گیا ہے۔“
Interview with Syed Husain Momin Zaidi on Poetry Volume 1 Reflections discussing writing journey and working with Daastan.
Based on Wings of Brotherhood by Wg Cdr (Retd) Badrul Hassan Khan, this gripping account reveals the unseen side of the 1965 War, the fear, discipline, and brotherhood that defined the Pakistan Air Force.