ہر سطر کسی حقیقی کتاب سے ہے، جو کسی پاکستانی مصنف نے لکھی۔ اقوال پڑھیے، کتاب تک پہنچیے — اور کہانی گھر لے جائیے۔
“اللہ سے محبت کرے وہ رحمان ہے اُسکے ۹۹ ناموں میں سے ۸۹ رحمت والے ہیں اور صرف جلا١ والا ہے اب فیصلہ آپ کریں کے اللہ سے ڈرنا ہے کے پیار کرنا ہے۔۔”

“انہی چہروں پر مشتمل 'ناگفتہ' افسانوں اور شاعری کا ايک ایسا مجموعہ ہے جو انسان کے اس چھپے چہرے کو مختلف حالات اور واقعات میں ظاہر کرتا ہے۔”

“آگے ہی کچھ قدم کے فاصلے پر، جہاں یہ راستہ ختم ہوتا تھا، دائیں طرف سے ہلکے ہلکے سُنہرے رنگ کی روشنی نُمایاں ہو رہی تھی.”

“ایسی محبت رات کے پچھلے پہر جاگ اٹھنے والے داڑھ کے درد کی طرح تکلیف دہ ہوتی ہے، مگر آپ اس درد کے گرد طواف کرتے زندگی نہیں گزارتے۔”

“" وہ مسکرائی- " تو مایوسی کے کھنڈر میں دب کر مرنے سے بہتر نہیں کہ ہم امید کا دیا جلا کر دوسروں کو بھی روشنی فراہم کریں اور خود بھی روشن ماحول میں زندگی گزاریں؟ .”

“گھر والوں کو شدت سے احساس دلانے کی کوشش کرے کہ وہ جسم بے شک کوئی اور رکھتا /رکھتی ہے مگر روح سے مخالف جنس کی ہے۔”

“میرے لئیے اس مُسکراتے ہوئے چہرے کے برعکس اسکے دل کی کیفیت کا اندازہ لگانا بے حد مشکل تھا ....میں مسلسل حیرانگی کی دلدل میں ڈُوبا جا رہا تھا۔”

“کچھ عرصہ قبل اس کا انتقال ہوگیامگر اس کی زندگی میں بھی سکینہ کو کبھی سلائی کرکے تو کبھی کیاس چن کر گھر میں زندگی کا دیپ جلانا پڑتا تھا۔”

“اسی عمر میں بڑ ے سمجھداری سے کام لیں تو بچوں کی معصو میت برقرار رہتی ہے اور میں بحثیت ماں، میں سلطان کی ماں تھی یا باپ۔”

“اپنے بچوں کو ذہنی، جسمانی اور جذباتی ہر طرح سے تحفظ فراہم کرنا آپ کی ذمہ داری ہے نہ صرف باہر کی دنیا سے بلکہ ان کے اندر کی دنیا سے بھی جو زیادہ خطرناک ہے۔”

“زندگی میں کچھ پل آپ کو منجمند کر دیتے ہیں کوئی ایک لمحہ آپ کی پوری زندگی کو اپنے حصار میں لے لیتا ہے۔”

“انکا جذبہ دیکھ کر محلے کے بچے بھی انکے ساتھ ہاتھ بٹانے لگے .محسن ایک جگاکھڑا ہو کر یہ سب دیکھ رہا تھا .اسکو دل ہی دل میں بہت خوشی ہورہی تھی .”

“بشریٰ کے جاتے ہی میں سامنے والے بیڈ پر متوجہ ہوئی وہاں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی دو گھنٹے میں ہی انہیں یہاں سے چلے جانا تھا۔”

“مسلماں کو وفا سے حاصلِ ایماں بھی کہتے ہیں مگر غیرت نہ جانے کیا ہوئی اہلِ قیادت کی وطن کو لوٹتے بھی ہیں،، وطن کو ماں بھی کہتے ہیں ۔۔”

Our authors, in their own words and in the press.
Daastan, founded on the very notion of being able to tell your stories by putting one's word out there in the world as a whole, becoming a part of this universe; materializes its principles through the journey of thousands of authors we have published. One such journey is that of Mahnoor Kareem, a teenager from Rawalpindi who grew up aspiring to be an exceptional author and chose to become one of them. From finishing a book in a single day to becoming the author of one, she is a treasured Daastan-published author. In an interview, she revealed that her father used to write short stories for so
An insightful interview with Aqleem Fatimah on Ishq Ilhaam Hai, discussing love, her writing inspiration, and her journey with daastan.
ہر کتاب کا ایک خانہ ادھورا ہوتا ہے اور اس ادھورے کونے کو قاری اپنے تصور کے رنگوں سے بھر دیتا ہے۔ بہت سی باتیں ان کہی رہ جاتی ہیں مگر سننے والا ان ان کہے الفاظ کا بھی مفہوم اخذ کرلیتا ہے اور اسی طرح بہت سی کہانیاں نامکمل ہوتی ہیں مگر دیکھنے والے کی نگاہ اسے مکمل کر دیتی ہے۔یہ کتاب ناتمام قصوں اور کہانیاں کا گھر ہے اور انھیں مکمل کرنے کا اختیار قاری کا تصور محفوظ رکھتا ہے۔
”یہ ڈھاکہ کالج کے قریب ایک پُرہجوم بازار تھا۔یہاں ضروریاتِ زندگی کی تمام چیزیں دستیاب تھیں۔یہ ہر طبقے کے لوگوں کی خریداری کے لیے سب سے مشہورجگہ تھی۔ایک بہت اچھی مارکیٹ تھی جہاں زیورات، بیگ، کپڑے، اسٹیشنری کی اشیاء، بیڈ شیٹس اور تکیے وغیرہ ملتے تھے۔“
ماریہ شہزاد کا تعلق لاہور سے ہے۔ انھوں نے دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کی اور وفاق المدارس سے منسلک رہیں۔ ماریہ نے ناول نورِ سحر کےعلاوہ بہت سے افسانے اور ناولٹ بھی لکھے۔ وہ جذبات کو الفاظ کی صورت میں پرونے کے ہنر سے خواب واقف ہیں۔ مصنفہ کو منظر […]
مصنفہ نے ان افسانوں میں مختلف موضوعات کو چھیڑا ہے اور سچ پوچھیں تو یہ کتاب ایک خوش رنگ گلدستے کی مانند ہے جس میں طرح طرح کے رنگ دیکھنے کو ملیں گے۔ان کی ہر کہانی کا طرز تحریر مختلف ہے تاکہ قاری ایک ہی طرح کی کہانیاں پڑھ کر اُکتا نہ جائے۔
Aysha Khalid is a Turkish poet, she does not believe in the boundaries of language to express herself or her imagination. That’s the reason, she has chosen a Pakistani publishing company ‘Daastan’ to publish her collection of poems.