ہر سطر کسی حقیقی کتاب سے ہے، جو کسی پاکستانی مصنف نے لکھی۔ اقوال پڑھیے، کتاب تک پہنچیے — اور کہانی گھر لے جائیے۔
“مختلف عالمی مجّلوں میں سیاسی و بین الاقوامی تعلقات پر تحقیقی مقالے لکھنے کے علاوہ گاہے گاہے نثر و نظم میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔”

“متین اپنے علاقے کے نوجوانوں کا لیڈر تھا اور جس جوش سے وہ مہم چلا رہا تھا سب کو لگتا تھا کہ یہ پاگل ہوگئے ہیں۔”

“جب مجھے ان سے کوئی مسئلہ نہیں تو آپ کو کیوں ہے ؟ جب میں ان کی ذمہ داری سے نہیں ڈر رہی تو آپ نے کون سا انھیں جہیز دینا ہے ؟ ذرا سوچیں!”

“بہار بیگم کا خدشہ جلد سچ ثابت ہوا جب ایک دن ماہ نور نے انہیں یہ کہہ کر گھنگرو واپس کر دیے کہ وہ اپنے کوٹھے پر واپس جانا چاہتی ہے اور اسے اس فن سے کوئی دلچسپی نہیں رہی۔”

“ان کا ماننا ہے کہ مرد اور عورت کی طرح ان کا بھی ایک جینڈر ہے اور انہیں اپنے جینڈر پر کوئی ندامت نہیں۔”

“متبادل مستقبل کی تشکیل اسی وقت ممکن ہے جب نیا معروض کھڑا کرنے کے لیے اس بنیاد کو بدلا جاۓ گا جس پر موجودہ معروض کا پورا ڈہانچہ کھڑا ہوا ہے۔”

“بیلما غصے سے پھنکارتے ہوئے آگے بڑھی،اسی لمحے رومی نے اس پر پانی کا چھڑکاؤ کیا ،جس سے وہ تہہ خانے کی چھت سے جا ٹکرائی اگلے پل وہ درد سے تڑپ رہی تھی۔”

“زمین جب شعلے اُگلتی ہے تو آسمان کا بال بھی بِیکا نہیں کر پاتی مگر جب آسمان بجلیاں گراتا ہے تو زمین کا سینہ چھلنی ہو جاتا ہے۔”

“'اگر میری بچیوں کے ساتھ بھی ایسا ہو گیا تو کیا ہو گا؟ کیا میں ان کی حفاظت کر پاؤں گی؟ کیا میں ان کو تحفظ دے سکوں گی؟' اس کے ذہن میں ہر وقت خوف کےسائے منڈلاتے۔”

“جوانی میں ہمارے بالوں کی جڑوں میں موجود اس کیمیکل کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو کہ پھر وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتی چلی جاتی ہے۔”

“ہمیشہ تکلیف ہی سمجھا کبھی زندگی کو آسان نہیں سمجھا نا کوشش کی گئی جاننے کی کے زندگی مشکل کیوں ہے۔۔”

“زندگی کا کیا بھروسہ کہ صبح تک کیا سے کیا ہو جائے؟''ہم دونوں نے ایک قہقہ لگایا اور سیٹھ مجیب کیبن سے باہر چلا گیا۔”

“ایک بے بس شخص جو تنہائی کی تاڑ میں رہتا ہے ،کہ کہیں سکون مل جائے اور چین کی سانسیں میسر ہوجائیں....اس حالت میں اندھیرے سے بہتر جگہ کیا ہو سکتی ہے!”

“مگر جن کو سب کچھ مل جائے اور ان میں کچھ پانے کی خواہش اور کچھ کھو دینے کا ڈر باقی نہ ہو وہ بھی تو بد روحیں ہی ہیں بلکہ مردہلاشیں!”

Our authors, in their own words and in the press.
سیکس ایڈ پاکستان کی جانب سے پیش کردہ یہ کتاب بچوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے۔سی کے بارے میں تعلیم عام کرنےکے لیے کام کررہی ہے۔یہ تنظیم بچوں میں گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ میں فرق کرنے کا شعور پیدا کرتی ہے ۔پچھلے کچھ سالوں میں پاکستان میں جنسی تشدد کے واقعات بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں۔ بچوں میں بڑھتےجنسی تشددکے واقعات کو کم کرنا بے حد ضروری ہے۔اس برے کام میں ملوث لوگوں کو سزا دینے کی ہرممکن سے ممکن کوشش کرنی چاہیےتاکہ ہمارے بچےبھرپور طریقے سے اپنے بچپن کو جی سکیں۔کس ایڈ پاکستان، پاکستان کی پہلی غیر سرکاری تنظیموں میں سے ایک ہےجو 2020 ءسے جنسیت
کتاب کا اسلوبِ بیان سادہ اوردلکش ہے۔ کتاب بنیادی طور پر چار حصوں میں تقسیم ہے جس کے پہلے حصے میں فورم اور سائیٹ سیورز کا تعارف اور نابینااور معذورقلم کار خواتین کا انٹرویو درج ہے۔ادب سے تعلق رکھنے والی مختلف عورتوں کے بارے میں پڑھ کر آپ جانیں گے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں کس قدر مشکلات کا سامنا کیا مگر انھوں نے ہار نہیں مانی اور محنت اور لگن کے ساتھ اپنے کام کو جاری رکھا۔دوسرے حصے میں محترمہ کشور ناہید کے انٹرویوکے ساتھ ساتھ مسلم ثانیثیت اور نسائی ادب اور تنقید شامل ہے۔
Discover the journey of Naveed Ahmad, an educator and poet . His debut book, Bay Nateeja, published by Daastan, explores deep human emotions.
اس کتاب کی یہی خوبی ہے کہ ہر شعر کو نہایت سلجھے، رواں اور دلچسپ انداز میں قلم بند کیا گیا ہے۔“
Faiza Anum shares writing journey and her inspiration behind “Of Leaves and Longing,” a poetry anthology on trees and nature.
Samar Malik, opens up about her writing journey, the emotions behind her latest poetry collection, and her experience publishing with Daastan.
Nidal Hammad’s The Last Minute, a football novel and story of passion, pressure, and perseverance published by Daastan
Explore Dr. Shahbaz Ahmed Shahzad's research journey and his book on Artificial Intelligence in Modern Warfare in this author interview.
ہر ناامید اور مایوس شخص کو اچھے دنوں کے آنے کی امید دلاتی یہ کتاب بلاشبہ اپنی نوعیت میں منفرد ہے۔ بُرا وقت ہمیشہ آزمائش بن کر آتا ہے اور ہر آزمائش انسان کو منزل سے ایک قدم اور قریب کر دیتی ہے۔