Check out our most recent publications
کچھ کہا کچھ سنا ہوتا - Kuch Kaha Kuch Suna Huta
Free sample · no sign-up

کچھ کہا کچھ سنا ہوتا - Kuch Kaha Kuch Suna Huta

by Usman Ghani

You are reading the first 30% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

30% of the book — free to read

 

 

کچھ کہا کچھ سنا ہوتا

عثمان غنی

 

داستان پبلشرز

 

کاپی رائٹ ۲۰۲١ء داستان

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔

اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر

چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔تنقیدی مضامین اور تبصروں

میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔

 

اشاعت اوّل ٢٠٢١ء

 

ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان

www.daastan.com

 

٭

مدیرہ

نرمین سرھیو

 

نظرِ ثانی

فریال زہرا

 

__

 

سرورق کے جملہ حقوق مصنف کے نام محفوظ ہیں

 

زندگی تیز تھی یا سست اس کا اندازہ لگانا مشکل تھا مگر ایک بات تو یقینی تھی کہ لوگ زندگی سے بزور مقابلہ کر رہے تھے۔کون کیا تھا؟کس طرح تھا؟کسی کو فکر نہیں تھی اور شاید اسی کو زندگی سمجھا جارہا تھا۔ہنستے چہروں کے پیچھے غمگین چہروں کو، قہقہوں کی گونج میں چھپی سسکیوں کو، پرامن ہواؤں میں پھیلے سرد لہجوں کو محسوس کرنے کے لیے کسی کے پاس وقت نہیں تھا۔ان سے واقفیت ان کے لیے وقت کا زیاں تھا۔بس سب اپنی زندگیوں میں مگن تھے۔

ان لوگوں کے درمیان ایک ایسا شخص بھی موجود تھا جو سب باتوں سے باخبر تھا۔یہ نہیں کہ وہ سب کی زندگی کے بارے میں جانتا تھا۔وہ بس اتنا جانتا تھا کہ لوگ جیسے ہوتے ہیں ویسے دکھتے نہیں ہیں۔خواہ وہ ان سوجی آنکھوں میں کبھی آنسو تو نہیں دیکھ پا تا تھا لیکن ان کی بےبسی اور سفید پوشی کو محسوس ضرور کرتا تھا۔اس کی نظریں کہانیاں تلاش کرتی تھیں۔کندھے پہ ایک بھورے رنگ کا بستہ لٹکائے وہ ایک آئینہ لیے پھرتا تھا۔وہ آئینہ کوئی ظاہری وجود نہیں رکھتا تھا۔بلکہ یہ آئینہ اس کے کہانی کے وہ کردار ہوتے تھے جس میں جب لوگ خود کو دیکھتے تھے تو خوف زدہ ہو جاتے تھے۔

 فراز کی نظر یا وہ آئینہ سب کو بہت کھٹکتا تھا اور یہی وجہ تھی کہ اس کو کوئی پسند نہیں کرتا تھا۔اس کا کوئی دوست بننا نہیں چاہتا تھا اور اگر ہوتا بھی تو کسی کو اس سے دلچسپی نہیں تھی۔وہ بھی دوست بنانے کا زیادہ قائل نہیں تھا۔دراصل اسے ان کی کہانیوں میں دلچسپی تھی ان میں نہیں۔اس کے نزدیک لوگوں سے لگاؤ انسان کو کمزور بنا دیتا تھا۔اس لیے اس نے نہ تو انسانوں سے کوئی لگاؤ رکھا نہ اپنی کہانیوں سے۔

 لوگ تو خاموش سمندر کے ساتھ بھی کئی کہانیاں منسوب کردیتے ہیں یہ تو پھر بھی ایک انسان تھا۔کئی کہانیوں کو اس کے ساتھ بھی منسوب کردیا گیا۔انسانی فطرت ہے کہ وہ ان جھوٹی باتوں کو تسلیم کرلیتا ہےجو قابلِ ہضم ہوں۔فراز اپنی زندگی کے ساتھ اتنا سخت مقابلہ کر رہا تھا کہ اس کے نزدیک یہ سب فضول تھا کہ وہ ان باتوں کی تردید کرے۔اس کی خاموشی نے ان باتوں کو پروان چڑھنے دیا اور باتیں یونہی پھیلتی رہیں۔

فراز آج بہت تھکا ہوا تھا۔دن بھر کی بھاگ دوڑ نے اس کو توڑ دیا تھا۔جب گھر میں داخل ہوا تو سیدھا کمرے کی طرف چل دیا اور اپنا جسم بستر پہ پھینک دیا۔جیسے اس کی روح جسم سے نکل گئی ہو اور اس کا جسم کھوکھلا ہو گیا ہو۔

اسی وقت شرفو چاچا پانی کا گلاس لیے فراز کے کمرے میں داخل ہوئے، ”مالک پانی پی لیجیے۔“

 فراز نے کہا، ”ارے شرفو چاچا آپ کو کتنی بار بولا ہے آپ عمر میں مجھ سے بڑے ہیں مجھے مالک کہہ کر نہ بلایا کریں۔“

”اصل میں اتنے سالوں کی عادت ہے۔لیکن لگتا ہے آپ کے گھر میں یہ عادت چھوٹ جائے گی۔“انہوں نے جواب دیاتوفراز مسکرا دیا۔

ابھی شرفو چاچا کمرے سے نکل ہی رہے تھے کہ فراز نے گھمبیر لہجے میں انہیں آواز دی، ”شرفو چاچا ایک بات تو بتائیں، اچھے اور برے وقت میں کیا فرق ہوتا ہے؟“

وہ اس سوال پہ بڑا حیران ہوئے کیوں کہ اس سے پہلے یہ سوال ان سے کسی نے نہیں پوچھا تھا۔

”اچھے اور برے وقت میں صرف اتنا فرق ہوتا ہے کہ جب اچھا وقت ہو تو جس پتھر کو ہاتھ لگاؤ وہ سونا ہوجاتا ہے اور جب برا وقت ہو تو سونا پتھر کے داموں بھی نہیں بکتا۔“شرفو چاچا نے جواب دیا۔

”اس کا مطلب یہ ہوا کہ اچھا وقت عروج ہے اور برا وقت زوال۔“فراز نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا، ”یہ تو کہا جاتا ہے کہ عروج اور زوال دونوں کی ایک مدت ہوتی ہے۔وہ مدت طویل ہوتی ہے یا مختصر یہ مختص نہیں۔یہ مدت اس انسان کے فیصلوں پر منحصر ہوتی ہے۔“

 اس بات پہ شرفو چاچا بولے، ”میں نے اپنے دو ماہ میں آپ کو کبھی اتنا مایوس نہیں دیکھا۔“فراز مسکرایا اور پھر اس نے جواب دیا، ”مایوسی تو کفر ہے۔“کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ صرف اتنا کہہ پایا، ”دیر بہت ہوگئی ہے آپ سوجائیں، مجھے بھی سونا ہے اور کل صبح جلدی کام پر جانا ہے۔“

***

”میں تمہارا زوال ہوں؟“فراز نے پوچھا۔

”ہاں۔“اس کا جواب آیا۔

فراز کی آنکھ کھلی تو وہ بوکھلایا ہوا تھا۔اس نے خواب میں کچھ ایسا دیکھا تھا جس کا بوجھ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اٹھا رہا تھا۔یہ خواب وہ جانے کتنے سالوں سے دیکھ رہا تھا اور ہر بار اس کی آنکھ اسی ہڑبڑاہٹ سے کھلتی تھی جیسے کل کی بات ہو۔جانے کیا تھا اس قصّے میں کہ اس کے بعد اسے مصروفیت سے ایک خاص انسیت سی ہوگئی تھی، فراغت کے لمحے اسے کاٹ کھانے کو دوڑتے تھے۔وہ تب سے ہی زندگی کے ساتھ ایک جنگ کر رہا تھا جس کے نتائج سے اسے خود بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

بےسکونی کی نیند سے جب بیدار ہوا تو اس کی گھڑی پہ ٨ بج رہے تھے۔اس نے اپنے فون کا الارم بند کیا اور نہانے کے لیے چلا گیا۔حسبِ عادت اس نے ناشتہ جلدی میں کیا اور دفتر کے لیے نکل گیا۔راستے میں سوچ رہا تھا کہ وہ اپنے باس کو کیا جواب دےگا۔اس نے کئی مہینوں سے کسی کہانی پہ کام نہیں کیا تھا۔اسے ڈر تھا کہ اس کی بنائی ہوئی ساخت خطرے میں ہے جو اس نے اتنے سالوں میں بنائی تھی۔انہی پراگندہ خیالات کے ہمراہ وہ دفتر پہنچ گیا۔

”آپ کو بابر صاحب بلا رہے ہیں۔“دفتر میں پہنچےاسے بمشکل پانچ منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ ایک چپڑاسی نے اسے مطلع کیا۔

فراز نے جب یہ سنا تو اس نے یہ نتیجہ اخذ کر لیا کہ اس کی نوکری خطرے میں ہے۔ڈرتے ڈرتے وہ بابر صاحب کے کمرے میں گیا تو انہوں نے فراز کا ڈر بھانپ لیا اور مسکراتے ہوئےکہا، ”ڈرو نہیں آج کھانے کے لیے کوفتے لایا ہوں تمہاری نوکری نہیں کھاؤں گا۔“اس پہ فراز بھی مسکرایا اور سکھ کا سانس لیا۔

”مجھے معلوم ہے کہ تم پریشان ہو جس کی وجہ سے تم کام نہیں کر پا رہے ہو۔مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہوا ہے تمہارے ساتھ بس اتنا کہوں گا کہ سب بھول جاؤ۔“بابر صاحب نے بات کو آگے بڑھایا۔

”بھول تو میں دو دن بعد ہی گیا تھا لیکن ان لمحوں کو کیسے بھول جاؤں جو یہ دل دوبارہ جینا چاہتا ہے۔جب وہ لمحے یادیں بن کے وارد ہوتے ہیں تو کتنی تکلیف دیتے ہیں۔“فراز نے جواب دیا۔دونوں ایک دوسرے کو ایک خاموش مسکراہٹ کے ساتھ دیکھ رہے تھے کہ جیسے دونوں اپنی اپنی جگہ ٹھیک ہوں مگر بےبس ہوں۔

”میں تمہاری زندگی میں زیادہ مداخلت کا اختیار تو نہیں رکھتا پر ایک باس ہونے کے ناتے اپنے ہونہار اور قابل لکھاری کی مدد ضرور کر سکتا ہوں۔“بابر صاحب نے کہا۔

”کیسے؟“فراز نے پوچھا۔

”ہر سال لکھاری ہمیں کچھ نہ کچھ بھیجتے ہیں لیکن ان کو کوئی پڑھتا نہیں ہے اور وہ سکرپٹس یونہی بیکار جاتی ہیں تو تم کیوں نہیں انہیں پڑھتے اور جو اچھی لگیں ان کے لکھاریوں کو مزید نکھارتے۔“انہوں نے کہا۔

وہ ہچکچا رہا تھا تو بابر صاحب نے اسے سوچنے کے لیے ایک دن کی مہلت دے دی۔

وہ کشمکش میں تھا کہ وہ یہ پیشکش قبول کرے یا نہیں؟چند ماہ کی محرومیوں نے اسے کمزور بنا دیا تھا۔اس کا خود پہ یقین ختم ہو رہا تھا۔وہ سوچ رہا تھا اور ساتھ ساتھ اپنے کمرے میں ٹہل رہا تھا۔

”آپ کو کوئی پریشانی ہے؟“شرفو چاچا کمرے میں داخل ہوئے تو ان کو دیکھ کر پریشان ہو گئے۔

”ہاں چاچا!بس ایک فیصلہ لینے میں مشکل ہورہی ہے۔مجھے میرے باس نے کہا ہے کہ میں لکھاریوں کی سکرپٹس پڑھوں اور ان کو مزید نکھاروں۔“فراز نے جواب دیا۔

”تو اس میں سوچنے کی کیا بات ہے۔آپ اتنے قابل ہیں آپ کے لیے یہ کام تو بہت آسان ہے۔“

”لیکن میں نے کچھ ماہ سے کچھ نہیں لکھا۔میں اب اس قابل نہیں رہا کہ ان کو نکھار سکوں۔“فراز نے اپنی پریشانی بتائی۔

”آپ کو پچھلے دو ماہ سے میں نے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، ہو سکتا ہے اس بہانے آپ کو کوئی ہنسی کا پتا دے جائے۔“شرفو چاچا نے کچھ دیر سوچ کر کہا۔

 فراز پر اس بات نے تھوڑا اثر کیا۔وہ بھی خوش رہنا چاہتا تھا اور اس کا طریقہ یہی تھا کہ وہ اس پیشکش کو قبول کرلے۔

That’s the end of the free sample

You have read 30% of کچھ کہا کچھ سنا ہوتا - Kuch Kaha Kuch Suna Huta. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Usman Ghani earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 100

See all editions, reviews and details

کچھ کہا کچھ سنا ہوتا - Kuch Kaha Kuch Suna Huta Buy — Rs 100