12% of the book — free to read

عرش کے تارے
محمد جہانگیر بدر


داستان پبلشرز
کاپی رائٹ ۲۰۲١ء داستان
جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر
چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں
میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
اشاعت اوّل ٢٠٢١ء
مطبع: پکسلز پرنٹنگ سولیوشن
ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان
*
مدیران
فریال زہرا
نرمین سرھیو
گرافک ڈیزائنر
انعم امیر
------
سر ورق کے جملہ حقوق مصنف کےنام محفوظ ہیں
اس ناول کو لکھنے کے دوران پاکستان سے لے کر کویت تک جن جن لوگوں نے
میرا ساتھ دیا؛ میرے والدین، بہن بھائی، بیوی، بیٹی، منسٹری آف ہیلتھ، کویت (وزراتِ صحت کویت)، الجہرہ ہسپتال اور ان سب دوستوں کے نام جنھیں پڑھ
کر اندازہ ہوگاکہ یہ ناول ان کے بارے میں ہے!
ناکامی، پریشانی، مایوسی اور غم انسانی زندگی کا حصہ ہیں۔مشکلات میں غمگین ہونا انسانی فطرت ہے، مگر نا امید اور مایوس ہونا کفر ہے۔انسان میں مضبوطی ان مشکلات میں ثابت قدم رہنے سےآتی ہے۔مشکل حالات میں صبر کرنے والا انسان جانتا ہے کہ ہر نا کامی کے بعد کامیابی، پریشانی کے بعد خوشحالی، مایوسی کے بعد سکون اور غم کے بعد خوشیاں ہیں۔یہ ناول اس بات پر زور دیتا ہےکہ جو انسان ناکام ہونے کے بعد گلہ شکوہ کرتا رہتا ہے اس کی اداسی اور بڑھتی جا تی ہے۔اس کے برعکس جو ناکامی اور پریشانیوں میں اللہ پر توکل اور بھروسہ کرتے ہوئے صبر کرتے ہیں اور ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں تو اللہ ان کو عزت و شہرت، شان و شوکت، مال و دولت اور پیار و محبت سب لوٹا دیتا ہے۔خود اعتمادی انسان کو کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے مگر گھمنڈ، غرور اور تکبر انسان کو زیب نہیں دیتا۔گھمنڈی انسان کی کمر ایک دن ضرور ٹوٹ جاتی ہے۔
یہاں عرش کے تارے سے مراد وہ انسان ہے جو اپنی انا کو چھوڑ کر اللہ پر توکل کرے۔اس کے علاوہ اس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہےکہ جلد بازی میں کوئی قدم نہ اٹھائیے، کوئی قدم اٹھانے سے پہلے اچھی طرح تحقیق کرلیں۔جس طرح انسان جسمانی بیماریوں کا شکار ہو سکتا ہے اسی طرح ذہنی بیماریوں کا شکار بھی ہوسکتا ہے۔بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں ذہنی بیماری کو جنات اور سایہ سمجھ کر اس انسان کی زندگی ہمیشہ کے لیے تاریک کردی جاتی ہے۔دراصل اس انسان کو آپ کے خلوص، پیار و محبت، توجہ اور اچھے رویے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس ناول میں کچھ واقعات کا تعلق حقیقت سے ہے اور کچھ کا کوئی تعلق نہیں۔اس ناول میں لکھے گئے الفاظ سے کسی فرد، گروہ، شعبے، ادارےاور سیاسی و مذہبی طبقے کی دل آزاری ہوئی ہو تو اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں۔
اس ناول لکھنے کو دوران جن جن لوگوں نے میرا ساتھ دیا میں ان سب کا شکرگزار ہوں۔خاص طور پر داستان، فریال زہرا، نرمین سرھیو اور جویریہ سراج کا، جنھوں نے میرے ان خیالات کے اظہار کو کتابی شکل دینے میں میری مدد کی۔
محمد جہانگیر بدر
muhammadjahangeerbadar@gmail.com
Whatsapp: +923337086400
یہ ملتان کا ایک پرائیویٹ کالج تھا۔ایف ایس سی پری میڈیکل کی اس کلاس میں بہت شور شرابا تھا۔آج کلاس کا آخری دن تھا۔ان کے پیپرز شروع ہو رہے تھےاورمئی کا مہینہ تھا۔گرمی نے اپنی شدت دکھانا شروع کر دی تھی۔لڑکیاں اور لڑکے ایک دوسرے کی ڈائیریز میں اپنی یادیں اور کچھ خاص لمحے سمو رہے تھے۔حقیقی زندگی سے بہت دور موج مستی میں رہنے والے یہ طلباء آج ایک دوسرے کی ڈائریوں پر آٹو گرافس دے رہے تھے اور ساتھ ہی کچھ نصیحتیں بھی لکھ رہے تھے۔آج یہ سب سے فلاسفر بنے ہوئے تھے۔کچھ لوگ کلاس روم کی ڈیسکوں پر اپنے نام لکھ رہے تھے کہ ہمیں دنیا یاد رکھے گی تو کچھ دیواروں پر نقش و نگار بنانے میں مصروف تھے۔یہ کالج کے دن بھی کتنے اچھے ہوتے ہیں، جب آؤ تو سب اجنبی ہوتے ہیں اور پھر وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ادھر وقت بیت گیا ادھر پیپرز کا وقت شروع ہونے لگا اور کلاس کا آخری دن بھی آن پہنچا۔طالب علموں کا شور اس قدر زیادہ تھا کہ کلاس روم میں چلنے والے پنکھوں کا شور کلاس میں موجود طالب علموں کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر تھا۔
کلاس میں موجود جہانزیب ملک کلاس کی اس گہما گہمی سے بےپرو ہ ہو کر جبینہ نوروز کی طرف ہی متوجہ تھا جو کلاس کے سب سے زیادہ ذہین طلباء میں شمار ہوتی تھی۔اسے یاد تھا جب دو سال پہلے وہ کلاس میں آئی تھی تو یہاں کوئی اس کا جاننے والا نہیں تھا اور سب لڑکے لڑکیاں اس کا مذاق اڑا رہے تھے کہ یہ کیسی پرانے فیشن کی لڑکی آ گئی اس کےتو کپڑے بھی پرانے ڈیزائن کے ہیں۔وہ جب کلاس میں بولنے لگتی تو سب اس کے پیچھے پیچھے بولنے لگتے اور کچھ تو عجیب وغریب آوازیں بھی نکالنے لگتے، تب جہانزیب ہی اس کے حق میں بولتے ہوئے کھڑا ہوا۔اس نے پوری کلاس کو سمجھایا کہ، ’کیسا لگے گا جب کل کو کوئی آپ کی بہن کے ساتھ بھی ایسا کرے۔ہمیں تو سب کے ساتھ اچھے سلوک اور بہترین انداز سے پیش آنا چاہیے۔یہ وقت جو بے مقصد اور فضول لگ رہا ہے آپ کو لگتا ہے کہ بہت زیادہ ہے حقیقت یہ ہے کہ یہ وقت بہت کم ہے ہنسی خوشی میں ہمیں پتہ بھی نہیں چلے گا کہ یہ کیسے گزر گیا۔اس لیے مل جل کراور پیار ومحبت سے رہنے میں ہی ہم سب کی بہتری اور بھلائی ہے۔‘اس کے انٹرسٹ کی وجہ سے سب جبینہ کو برداشت کرنے لگے۔بعد میں اس نے جہانزیب کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ کیسے وہ اپنے کلاس فیلوز کے رویے سے دل برداشتہ ہوکر، پریشانی کے عالم میں عین ممکن تھا کہ کالج چھوڑ دیتی مگر جہانزیب نے اس کی مدد کر کے ساری زندگی کےلیےاسے اپنا احسان مند بنا لیا۔
***
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پوری کلاس کا رویہ اس کے لیے مختلف ہوتا گیا۔پوری کلاس اس کی قابلیت کی معترف تھی اور ہر کوئی اس کی ریسپیکٹ کرتا، اس کی قابلیت کے گن گاتے سبھی اسے بھلے نظر آنے لگے۔جب وہ دو سال پہلے کلاس روم میں آئی تھی تو اپنے سفید یونیفارم کی وجہ سے پری لگ رہی تھی۔وہ پری جس کے بارےمیں کتابوں میں پڑھا، کہانیوں میں پڑھا، ایسی پری جسے اپنے بڑوں کی لوریوں میں سنا، وہ پری جس کو ٹی وی پر دیکھتے تھے۔معصوم سی بھولی بھالی نادان سی یہ لڑکی پوری کلاس میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی۔کچھ لڑکیوں کو شاید اس سے اسی وجہ سے جیلسی تھی اور یہی وجہ تھی کہ ایسی لڑکیاں کالج میں اسے برداشت نہیں کرتی تھیں۔وہ اب سب اساتذہ کی نظروں میں ایک بہترین طالب علم تھی۔
آج وہ سندھی اجرک کے ڈیزائن سے بنے کرتے کے ساتھ وائٹ ٹراؤزر میں ملبوس تھی۔سر پر سفید دوپٹہ، آنکھوں میں چمک، ہونٹوں پر قدرتی مسکراہٹ، سلکی لمبے گھنے بال (ایسے بال جن کے بارے میں ٹی وی پر کمرشلز آتی ہیں)اور ہاتھوں میں پھولوں کے گجرے پہنے وہ بہت حسین لگ رہی تھی۔اسے اللہ نے بنایا ہی اتنا خوبصورت تھا۔پوری کلاس جہانزیب ملک کو گڈ لک کے کارڈز دے رہی تھی۔مگر وہ ان سب پر اتنا زیادہ فوکس نہیں کر رہا تھا۔اس کی توجہ صرف ایک انسان پر تھی وہ اس کی یادوں میں کھویا ہوا تھا۔اس ایک انسان جس کی وجہ سے یہ ایک پڑھاکو طالب علم بنا ہوا تھا۔کلاس میں پہلے دن سے ہی اسے جبینہ سے لگاؤ ہوگیا تھا۔مگر کبھی اس نے اظہار نہیں کیا تھا۔اب جب ایک دم سے سب الگ ہو رہے تھے تو اسے پیپر کی پریشانی سے زیادہ اس سے الگ ہونے کا دکھ تھا۔اندر سے وہ اداس تھا۔مگر کسی کو یہ اداسی، یہ تنہائی بتا نہیں سکتا تھا۔جبینہ سب سے ملنے کے بعد جہانزیب ملک کے پاس آئی۔
”جہانزیب میں تمہاری بہت شکر گزار ہوں کہ تم نے مجھے حوصلہ دیا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں کوئی کلاس میں اب تمہیں تنگ نہیں کرے گا۔تمہارے اس حوصلے سے میرے اندر بہت کانفیڈینس آیا اور دیکھو پتہ ہی نہیں چلا ٢ سال ختم ہوگئے۔“اس نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا۔
”کیا ہوا تم اداس کیوں ہو کوئی پریشانی ہے؟گھر میں سب ٹھیک ہیں؟امی بابا ٹھیک ہیں؟خیریت ہے نا؟“جبینہ نے اسے دکھی دیکھ کر اس کی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر جلدی سے اتنے سارے سوال پوچھ ڈالے۔
”ہاں سوائے میرے سب ٹھیک ہیں۔“اس نے اس کے اس طرح پوچھنے پر آخر جواب دے ہی دیا۔
”ہیں!تمہیں کیا ہوا؟پیپرز کی ٹینشن ہے؟“اس نے پریشانی سے اس کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
”نہیں۔۔۔۔کوئی پریشانی نہیں ہے۔تم بس مجھے یہ بتاؤ مجھ سے شادی کرو گی؟“اس نے ایک دم یہ پوچھ کراسے حیران کر دیا۔
جہانزیب کی بات سن کر اس کا چہرہ ایک دم لال ہوگیا۔
وہ کافی دیر خاموش رہی اور پھر آہستہ سے بولی، ”میں نے کبھی ایسا نہیں سوچا۔میں تمہیں اپنا ایک اچھا دوست سمجھتی ہوں اور سمجھتی تھی تم اگر مجھے پسند کرتے تھے تو مجھے بتانا چاہیے تھا۔“
اتنی دیر میں اس کے والد اسے لینے کےلیے آ گئے اور گارڈ اسے بلانے کےلیے کلاس روم میں آ گیا۔
”جبینہ کو اس کے گھر والے لینے آ گئے ہیں۔جلدی سے آ جائے۔“گارڈ نے آواز دی۔
”جہانزیب مگر۔۔۔“اس نے گارڈ کو آنے کا کہہ کر صرف اتنا کہا۔
”مگر کیا؟“اس نے بے چینی سے پوچھا۔
”کیا تم کسی اور کو پسند کرتی ہو؟کیا تمہاری منگنی ہو چکی ہے؟یا تمہارا نکاح ہوگیا ہے؟“اس نے ایک ساتھ اتنے سارے سوالات پوچھ لیے۔
”اللہ حافظ!“جہانزیب کے ان سب سوالوں کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اس لیے صرف اتنا کہا۔
یہ اس کے آخری الفاظ تھے جو جہانزیب کے کانوں نے سنے تھے۔وہ اٹھ کر اس کے سامنے سے گزر گئی، وہ اسے روکنا چاہتا تھا مگر کلاس کا ماحول دیکھ کر چپ ہوگیا۔
اس کے والد گیٹ کےباہر بائیک پر بیٹھے اس کے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔پیشے کے اعتبار سے وہ ایک الیکٹریشن تھے۔نئے بننے والے گھروں کے ٹھیکے لے کر وہ اپنے گھر کا سرکل چلاتے تھے۔ان کی بیوی تقیہ نوروز ہاؤس وائف تھی۔گھریلو کاموں کے ساتھ ساتھ بچوں کی پرورش میں اپنا وقت گزارتی تھی۔وہ بہت محنتی عورت تھی۔اس کی محنت کا اندازہ اس کے بچوں کی تربیت سے ہو جاتا تھا۔جبینہ کے علاوہ ان کا ایک بیٹا جانب نوروز بھی تھا جو ابھی نویں جماعت میں تھا۔جانب پورے گھر کا لاڈلا تھا۔چھوٹا سا یہ گھر اپنے آپ میں ایک جنت تھا اور بہت خوشحال تھا نوروز صاحب بھی اپنے بچوں کی ہر جائز ضرورت پوری کر رہے تھے۔کبھی ایسا نہیں ہوا کہ بیوی بچوں نے فرمائش کی ہو اور انہوں نے پوری نہیں کی ہو۔کبھی کبھی تو ایسا ہوتا تھاکہ گھر کی ضرورت اور بچوں کی فرمائش کےلیے انہیں چوبیس چوبیس گھنٹے کام کرنا پڑتا۔جانب کو اچھی طرح سے یاد تھا جب اس نے اپنے کزن کی شادی پر ایک خاص سوٹ کی فرمائش کی تھی، اس کے والد نے پورے چھتیس گھنٹے لگاتار کام کیا تھا اور اس کی فرمائش پوری کی تھی۔ان کا باپ زمین پر ان کےلیے کسی فرشتے سے کم نہیں تھا۔جانب کی ہر چھوٹی بڑی خواہش کےلیے اپنی جان لگا دیتا تھا۔
***
یقیناً باپ زمین پر بیٹیوں کےلیے فرشتے سے کم نہیں۔دنیا میں سب سے خالص اور عمدہ محبت ایک باپ کی اپنی بیٹی کےلیے ہوتی ہے۔ہاں یہ سچ ہے کہ انسان اپنے بیٹوں سے محبت کرتا ہے اور اپنی بیوی سے پیار کرتا ہے۔مگر بیٹی سے محبت ان سب سے اوپر ہے۔
وہ بائیک پر بیٹھی سوچوں میں گم ہوگئی۔اس نے پہلے دن سے آخری دن تک کالج میں گزارے ایک ایک لمحے کے بارے میں سوچا۔اس کی زندگی میں جہانزیب کا کوئی رول تھا یا نہیں کبھی کسی مقام پر کوئی وقت آیا ہو جہاں اس نے محبت کو اپنے دل میں پال لیا ہو۔کالج میں جب بھی اسےکوئی پریشانی ہوتی تھی وہ اس کے ساتھ ہوتا تھا۔وہ پوری کلاس کی تمام ٹیچرز کی مخالفت اس کےلیے لے لیتا تھا۔جب بھی کبھی کسی ٹاپک پر اسے اعتراض ہوتا تھا۔کبھی اس نے یہ ظاہر ہی نہیں کروایا تھا کہ وہ اسے پسند کرتا ہے یا اس سے محبت کرتا ہے۔مگر ایک دم اچانک سے اس نے ایسی بات کر دی جس پر سوچنا گمان کرنا ابھی اس کے بس کی بات نہیں تھی۔ابھی تو اس نے اپنے ایگزامز پر فوکس کرنا تھا۔پھر اپنے ماں باپ اور اپنے بھائی کےلیے کچھ کرنا تھا۔وہ چاہتی تھی وہ کچھ بن کر ملک و قوم کی خدمت کے ساتھ ساتھ اپنے والدین اپنے بھائی کےلیے بھی کچھ کرے۔وہ چاہتی تھی اس کے والدین کو ان کی فرمائشیں پوری کرنے کےلیے اس طرح دن رات محنت نہیں کرنا پڑے۔ابھی وہ انہیں سوچوں میں گم تھی کہ اسے ایک دم زور دار جھٹکا لگا جس سے وہ دھڑام سے بائیک سے نیچے گر گئی۔اس کے والد بھی گرے تھے اور بائیک ان کے اوپر آ گئی تھی۔وہ ایک دم سے اٹھے اپنے زخموں کی پرواہ کیے بغیر پہلے بیٹی کو اٹھانے کی کوشش کی مگر وہ کیسے اٹھاتےکہ اس کا دوپٹہ ٹائر میں پھنسا ہوا تھا۔لوگوں کا ہجوم جمع ہوگیا۔غیرت مند باپ نے بیٹی کی عصمت پر حرف آنے سے بچانے کےلیے سب کو روک دیا کہ کوئی آگے نہ آئے اور خود اپنی ایک ٹانگ موٹر سائیکل کے پچھلے ٹائر کے نیچے کر دی جس سے بائیک تھوڑی اوپر کو اٹھی اور وہ اس کا دوپٹہ نکالنے میں لگے۔باپ کی محبت دیکھ کر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔اتنی دیر میں ہجوم میں سے ایک بندہ بھاگ کر قینچی لے کر آیا اور نوروز سے صاحب کہا سر یہ دوپٹہ یہاں سے کاٹ لیں۔
انہوں نے قینچی لے کر ایسا ہی کیا۔جیسےہی دوپٹہ ٹائر سے آزاد ہوا اس کی گردن کو آئی ہوئی سختی تھوڑی کم ہوئی مگر اس کی آنکھوں سے آنسو تھم نہیں رہے تھے۔ہجوم میں سے ایک آدمی نے اپنا رومال انہیں دیا کہ وہ بیٹی کو اڑھا لیں۔انہوں نے ویسے ہی کیا۔اتنی دیر میں ریسکیو ١١٢٢ والے آگئے۔انہوں نے سب سے پہلے چوٹوں پر مرہم لگایا اس کے بعد درد کےلیے انجکشن لگائے۔بائیک کو گاڑی میں رکھا اور ان دونوں کو گاڑی میں بیٹھا کر گھر چھوڑ دیا۔اس سے پہلے انہوں نے دونوں سے پوچھا انہیں ڈاکٹر کے پاس لے چلیں۔انہوں نے انکار کر دیا۔گھر پہنچتے ہی جب ماں نے یہ حالت دیکھی تو ان کے پاؤں کے نیچے سے تو زمین ہی نکل گئی۔
”میری خیر ہے جبینہ کو سنبھالو۔اسے زیادہ چوٹیں آئی ہیں۔اندر جا کر اسے چیک کرو اگر ہاسپٹل جانا ہے تو چلتے ہیں۔“انہوں نے تقیہ سے کہا۔
جبینہ لگاتار روئے جا رہی تھی اسے یہی دکھ تھا کہ اس کی وجہ سے اس کے بابا کو چوٹیں لگی ہیں۔بے شک اسے خود کو اتنی چوٹیں نہیں لگی تھیں مگر اپنے بابا کے دونوں گھٹنوں اور کہنیوں پر رگڑکے نشانات دیکھ کر روئے جا رہی تھی۔جب وہ بار بار پوچھنے پر بھی چپ نہیں ہوئی تو بیٹی کو ماں نے گلے لگا لیا۔
”میری وجہ سے بابا کو چوٹ لگی ہے۔کاش میں نے اپنا دوپٹہ سنبھالا ہوتا، کاش بابا کی جگہ مجھے چوٹیں لگ جاتیں۔“اس نے روتے ہوئے کہا۔
”ارے پگلی اتنی سی بات کو پکڑ کر رو رہی ہو کوئی حال نہیں ہے۔یہ چھوٹی سی چوٹیں کسی بڑی مشکل سے انسان کو بچاتی ہیں اور جس کے نصیب میں چوٹ لکھی ہوتی ہے وہ اسے ملتی ہے۔ایسی باتیں نہیں سوچتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں۔اللہ کی ہر آزمائش پر ہمیں الحمد للہ کہنا چاہیے۔اس سے اللہ تعالیٰ انسان سے راضی ہو جاتے ہیں۔“اس کے بابا جویہ ساری باتیں دروازے پر کھڑے سن رہے تھے اندر آئے اور مسکرا کر اسے سمجھاتے ہوئے بولےاور وہ خود اپنے بابا کی یہ محبت دیکھ کر نڈھال ہوگئی۔
***
کلاس میں ایک دم سناٹا چھا گیا تھا۔پوری کلاس جو اپنی گہما گہمی میں لگی تھی ایک دم جہانزیب کی طرف متوجہ ہوئی۔وہ سب آپس میں کھسر پھسر کرنے لگے اور اس کی طرف دیکھنے لگے۔اس سے پہلے کہ اس سے کوئی سوال کرتا وہ ایک دم اٹھا اور کلاس سے نکل گیا، پارکنگ ایریا سے اپنی بائیک نکالی اور گھر کی طرف چل پڑا۔
”اس نے کوئی جواب کیوں نہیں دیا۔کیا واقعی وہ کسی اور کو پسند کرتی ہے؟اس نے’مگر‘بولا تھا اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟ میرے خیال سے مجھے اس کے گھر اپنا رشتہ بھجوانا چاہیے۔مگر ابھی پیپرز سر پر ہیں اچھا نہیں لگتا کہ میں رشتہ بھیج دوں کہیں اس کے گھر والے غصے میں آ کر اسے پیپر دینے سے منع نہ کر دیں۔“اس نے خود کو تسلی دیتے ہوئے خود سے ہی کہا۔
اس کے والد صاحب عادل ملک پنجاب پولیس میں اے ایس آئی کی پوسٹ پر تھے۔اپنے ڈیپارٹمنٹ کے اصولوں اور اقتدار کے پابند تھے۔نہایت ایماندار اور اصول پسند آفیسر تھے۔یہی وجہ تھی کہ انہوں نے کوئی دھن دولت نہیں بنائی تھی۔
ان کی بیوی آئمہ ہاؤس وائف تھی ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی؛ بڑا بیٹا اورنگزیب ملک وکیل تھا۔دوسرا بیٹا شاہ زیب ملک ابھی آئی۔ٹی کی ڈگری لینے کے بعد جاب کی تلاش میں تھا اور زیادہ تر وقت گھر میں ہی دستیاب ہوتا تھا۔جبکہ جہانزیب ایف۔ایس۔سی کر رہا تھا اور سب سے چھوٹی ان کی بیٹی تھی جس کا نام جاناں ملک تھا۔وہ آٹھویں جماعت میں پڑھتی تھی اور گھر میں سب سے زیادہ ذہین تھی۔
***
طلباء کسی بھی قوم کی اگلی نسل کے رہنما ہوتے ہیں۔لہذا انہیں بہترین خصوصیات کے حامل افراد بننے کے لیے تربیت دی جاتی ہے۔امتحانات کے لیے مطالعہ کرنا ذہنی دباؤ سے کم نہیں ہوتا مگر اس کے ساتھ نیا نیا عشق دل و دماغ پر سوار ہوجائے تو اس دباؤ میں پڑھائی جاری رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ہوسکتا ہے کہ انسان بھول جائے کہ وہ پیپر کی تیاری کر رہا ہے یا عشق کر رہا ہے۔اچھے طالب علم کےلیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ نظم و ضبط پر عمل پیراہو۔اگر وہ کامیاب ہونا چاہتا ہے تو اسے لازمی طور پر اپنے ٹائم ٹیبل پر سختی سے عمل پیرا ہونا چاہیے اور ہر روز اساتذہ اور والدین کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔کیونکہ ان کی ہدایات پر عمل کرنے کے بعد ہی وہ ایک بہترین انسان بن سکتا ہے۔تعلیم ہی ہے جو ہمیں راستے کا تعین کرنا سکھاتی ہے۔تعلیم ہی ہے جو ہمیں اچھے برے کی پہچان کرواتی ہے۔تعلیم ہی ہے جو ہمیں ایک بہترین انسان بناتی ہے۔تعلیم ہی ہے جو ہماری شخصیت میں نکھار پیدا کرتی ہے۔تو سب سے پہلی چیز ہی یہی ہے کہ ہمیں اپنے اساتذہ کی راہنمائی اور والدین کی ہدایات پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔یہی چیز ہی ہمیں کامیابیوں سے ہمکنار کرتی ہے۔
جہانزیب ایک ایسا طالب علم تھا جو سب سے بہتر بننے کی خواہش رکھتا تھا۔اس کے ہمیشہ سے نا صرف کالج انتظامیہ اور اساتذہ کے ساتھ بلکہ ساتھی طلباء کے ساتھ بھی خوشگوار تعلقات قائم تھے۔شروع میں جب وہ باربارسوالات پوچھتا تھا تو ہر کوئی اسے بیوقوف سمجھتا تھا، مگر آہستہ آہستہ سب کو احساس ہوگیاکہ یہ اچھے طالب علم کو درمیانے یا نکمے طالب علم سے الگ کرتا ہے۔وہ ایک ایساطالب علم تھاجو بہت سارے سوالات پوچھتا ہےیا تو اس بات کی وضاحت کرنے کے لیے کہ اس ٹاپک میں استاد نے کیا کہا ہے یا کسی خاص موضوع پر کسی شبہ کو حل کرنے کی تگ ودو میں۔اسی لیے وہ ہمیشہ قوم، معاشرے اور کالج کے ساتھ ساتھ معاشرتی اصولوں کا احترام کرنے والا ایک اعلی درجے کا مالک طالب علم تھا۔وہ کبھی بھی اپنی غلطیوں یا عیبوں کا الزام دوسروں پر نہیں لگاتا تھایا اس کے لیے بہانے نہیں بناتا تھا بلکہ اپنے اعمال کی پوری ذمہ داری خود لیتا تھا۔یہ اس کی زندگی کا بہترین اصول تھا اور وہ اس پر عمل پیرا بھی ہوتا تھا۔یہی چیز اس کی شخصیت میں ایک نیا ابھار پیدا کرتی تھی اور وہ سب میں ایک مختلف طالب علم کی حیثیت سے صف اوّل پر تھا۔وہ اپنی شخصیت کے ہر پہلو کی ترقی کے لیے نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا۔صرف اپنے اساتذہ کی طرف سے دیے گئے کورس ورک آؤٹ پر انحصار نہیں کرتا تھا بلکہ وسیع پیمانے پر آن لائن اور دنیاکے مختلف اساتذہ کے مشوروں پر عمل پیرا ہوکر موضوع کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتاتھا۔مختلف نقطۂ نظر اور محنت کے ساتھ مؤثر انداز میں مطالعہ کرنے پر کئی گھنٹے لگاتا۔کلاس روم میں جو پڑھایا جاتا وہ اس پر دھیان دیتا اور یہی اس کی ایک بڑی خوبی تھی۔لیکچرز کے دوران وہ اس بات پر پوری توجہ مرکوز کرتا کہ ٹیچر جس چیز کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے وہ اس سے بہت زیادہ فائدہ اٹھائےاس طرح اسے کلاس کے بعد خود ہی کسی ٹاپک کو سمجھنے میں بہت محنت نہیں کرنا پڑتی تھی۔
خود اعتمادی کامیابی کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور یہ جہانزیب میں بھی تھی۔وہ اپنی پڑھائی میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی اپنی صلاحیت پر اعتماد رکھتا تھا۔اس لیے وہ اکثر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتا تھا۔اپنی پہلے کی غلطیوں کےباوجود ایک مثبت رویہ اسے اعلی درجے کے نتائج برقرار رکھنے میں مدد دیتا۔اپنا مقصد طے کیے بغیر کوئی بھی طالب علم معیاری نتائج حاصل نہیں کرسکتا۔اس لیےوہ ہر سیشن کے آغاز میں ہمیشہ اپنا مقصد طے کرلیتاتھا۔یہ خصوصیت بھی کسی کسی طالب علم میں پائی جاتی ہے۔یہ اس کی خوبی تھی جو بہت سے طالب علموں میں سے اسے بھی چن کر دی گئی تھی۔
ایک اچھے طالب علم میں ہمیشہ اس چیزکی صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ جلدی سے مسئلے کے حل کےبارے میں سوچ سکے۔یہ ذہانت یقینی طور پر اساتذہ کو کسی طالب علم سے لگاؤ رکھنے پر مجبور کرتی ہے، ذہانت اور قابلیت مشکلات کو حل کرنے کی مہارت کے ساتھ آتی ہے۔یہ خوبی ہر طالب علم میں نہیں ہوتی لیکن اچھے طلبہ اس کے مالک ہوتے ہیں جیساکہ جہانزیب تھا۔اسی ذہانت کی وجہ سے وہ نا صرف اپنے اساتذہ کے لیے ٹاپک پڑھانے میں آسانی پیداکرتا بلکہ پڑھائے جانے والے ٹاپک کو آسانی سے سمجھنے میں دوسرے طلباء کی بھی مدد کرتا۔اس میں یہ معیاری خصوصیات پڑھائے جانے والے ٹاپک کو گھر سےمطالعہ کر کے آنے اور لیکچر پرزیادہ سے زیادہ توجہ دینے سے پیدا ہوئی تھی۔وہ کلاس میں منظم اور قواعد و ضوابط پر ہمیشہ عمل پیرا ہوتا اور ہمیشہ اپنے اساتذہ اور کلاس فیلو سے ادب واحترام اور مناسب و بہترین برتاؤ سے پیش آتا اس وجہ سے اس میں اپنے ہم جماعت سے بہتر سیکھنے کی صلاحیت موجود تھی۔اس کے علاوہ بہت سارے طلباء جو بہت ذہین اور ہوشیار تھے لیکن اپنے برے سلوک کی وجہ سے اساتذہ کی نظروں میں گر جاتے اور اساتذہ کے لیے بھی ان کا یہ رویہ بڑی مایوسی کا شکار ہوتا۔ادب کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔کوئی بھی برے سلوک کرنے والے طلباء کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتا، تاہم اساتذہ ان طلبہ کےلیے کچھ بھی کرتے ہیں جو عزت، شائستگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور قواعد کے پابند ہوتے ہیں۔وہ پڑھائی کے بارے میں ہمیشہ سنجیدہ ذہنیت رکھتا تھا۔جب اسائمنٹ کی تکمیل اور پیش کرنے کی بات آتی تو وہ تاخیر اور سستی نہ کرتا۔وہ ہمیشہ اس بات کو یقینی بناتا کہ سست رویے کی وجہ سے ناکام نہ ہو۔اس کی تعلیم کے حصول میں سنجیدگی اس کے اساتذہ کو اس بات کا یقین دلاتی کہ یہ طالب علم ضرور کامیاب ہوگا۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ ایک ذہین وفطین اور محنتی طالب علم تھا مگر اب کچی عمر میں اس کے سر پر عشق کا بھوت سوار ہو چکا تھا۔یہ عشق کا بھوت اگر ایک بار چمٹ جائے تو بڑے بڑے شاہوں کو گداگربنا کر رکھ دیتا ہے۔جب تک محبوب کا دیدار نہ ہو جائے، اسے حاصل نہ کر لیا جائے نہ تو دل کو اطمینان و سکون ملتا ہے اور نہ ہی چین آتا ہے۔اس کا بھی یہی حال تھا۔وہ بے چین ہو چکا تھا۔جیسے ہی وہ پڑھنے کےلیے کتاب کھولتا اس کی آنکھوں کے سامنے اس دشمن جان کی تصویر آ جاتی۔اس کے گلابی ہونٹ، سلکی بال، گالوں کی حسین بناوٹ اور بڑی بڑی خوبصورت کالی آنکھوں کی کشش اسے بے چین کردیتی۔ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے کتابوں کے صفحوں پر موجود الفاظ مٹ گئے ہوں اور پوری کتاب میں صرف اس کا ہی عکس بنا ہوا ہو۔اسے کب اور کیسے اس سے محبت ہوئی اسے اندازہ ہی نہیں ہوا۔اس کے دل میں تو بس وہ ڈیرہ جمائے بیٹھی تھی، اسے ایک آزاد پنچھی کی طرح آزاد چھوڑنے کی بجائے اس کے دل کو اپنی بند مٹھی میں اپنی محبت سے قید کیے بیٹھی تھی اور وہ اس محبت سے بھلا کیسے نکل سکتا تھا۔جب ایک بار اس پر قبضہ ہو چکا تھاتووہ بھلا کیسے ختم ہو سکتا تھا۔محبت چیز ہی ایسی ہے دنیا سے بے گانہ کر دیتی ہے۔ابھی تو شروعات تھی آگے آگے پتہ چلنا تھا ہوتا کیا ہے۔کہتے ہیں اگر کسی کو بددعا دینی ہو تو کہہ دو جا اللہ کرے تجھے کسی سے محبت ہو جائے کیونکہ اگر محبت ہو جائے تو ملنا کتنا مشکل اور کٹھن مرحلہ ہے یہ کوئی سوچ لے تو محبت کو ہونے سے پہلے ہی خیر باد کہہ دے لیکن ایسا ممکن کہاں ہوا ہے۔بربادی، تباہی یا خوشیاں، کوئی ایک ہی حصے میں آتی ہے۔اس کے حصے میں کیا آ رہا تھا، مقدر میں کیا لکھا تھا کسی کو کیا معلوم۔
پتہ نہیں وہ کالج اپنے لیے جاتا رہا تھا یا جبینہ کےلیے جاتا تھا۔اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی۔اب جب سے وہ اس سے دور ہوئی اور اسے اس دوری کا احساس ہوا تو کوئی بھی چیز اسے اچھی نہیں لگ رہی تھی۔ایک عجیب بے قراری تھی جیسے وہ چاہتا ہو کہ جلد سے جلد وہ اس کے سامنے آجائے یا پھر وہ خود بھاگ کر اس کے گھر پہنچ جائے۔وہ چاہتا تو اس کے گھر جا سکتا تھامگر یہ سوچ اسے روک لیتی کہ کہیں اس کے اچانک اس طرح سے پہنچ جانے سے اس کی محبت میں دراڑ پیدا نہ ہو جائے۔کوئی ایسی روکاوٹ نہ آ جائے جس سے اس کےلیے یا جبینہ کےلیے مشکلات کھڑی ہو جائیں۔وہ جو اسے پانے کےلیے بے چین ہے کہیں اس کی بے چینی ہمیشہ کےلیے نہ ہو جائے۔جس کی عزت و آبرو کی اسے پرواہ تھی کہیں اس کے جانے سے اس کی ذات سے اسے جوڑ کر اس کا تماشہ نہیں بنا دیا جائے۔اس لیے وہ اس معاملے میں بہت ریزرو تھا۔اسے اس کی عزت اور آبرو کی خود کی جان سے زیادہ پرواہ تھی۔
***
وقت اسی کشمکش میں گزر گیا۔امتحانات کے دن آگئے اور اس کی تیاری صرف وہی رہی جو کلاس میں ٹیسٹ دے کر ہوئی تھی، وہ امتحانوں کی وجہ سے پریشان تھا۔لڑکیوں اور لڑکوں کے امتحانی سینٹر الگ الگ بنائے گئے تھے اس لیے اس سے ملاقات کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
ادھر جبینہ خود ایک حادثے کا شکار ہوئی تھی اس لیے وہ اپنی پڑھائی پر مکمل توجہ نہیں دے پائی۔ایسا لگتا تھا جیسے کسی کی نظر لگ گئی ہو۔جب انسان پورا سال محنت کرے اور آخر میں اس محنت کا پھل حاصل کرنے کے ان آخری لمحات میں انسان کی سکت ختم ہو جائے تب اپنی قسمت پر بہت رونا آتا ہے، یہی کچھ اس کے ساتھ ہو رہا تھا۔اسے اپنی محنت حاصل ہوتی نظر نہیں آ رہی تھی۔جہانزیب اس کی حالت سے بے خبر تھا۔اسے معلوم نہیں تھا اس کے ساتھ کیا حادثہ پیش آیا ہے۔اگر اسے معلوم ہو جاتا تو وہ رہ نہیں پاتا اور اس کے گھر لازمی پہنچ جاتا۔
آج ان کا پہلا پیپر تھا۔جہانزیب کا سینٹر گورنمنٹ ڈگری کالج بنا تھا اور وہ اپنے پیپر کی تیاری نہیں کر پایا تھا، اس کا عشق اسے اس بات کی اجازت نہیں دیتا تھا۔اسے ہر جگہ اپنی محبت کی چاشنی نظر آتی تھی۔وہ اس سے بے پناہ محبت کر بیٹھا تھا۔کیسے وہ اس سے الگ ہو سکتا تھا۔جب الگ ہونے کے بارے میں سوچنا محال تھا تو پھر اس کا سامنے نہ ہونا، ایک دم جدا ہو جانا کیسے اسے اس کے پیپر پر توجہ دینے دیتا۔وہ پریشانی کی حالت میں تیاری نہیں کر سکتا تھا۔صبح اٹھا تھاتواس کا دل جانے کا نہیں تھا۔پریشانی کا عالم اپنی جگہ لیکن اسے پیپر تو کسی طرح دینے ہی تھے۔وہ بے دلی سے اٹھا رات بھر جاگنے کی وجہ سے اس کی آنکھوں کے نیچے ہلکے پڑ چکے تھے۔دل اندر سے تو ویران تھا ہی لیکن باہر سے بھی اب حالت تھوڑی سی خراب تھی۔اس نے بے دلی سے کپڑے نکالے اور فریش ہو کر آیا۔ایک نظر کتاب کو دیکھا اور کھولنا چاہا لیکن اگلے ہی لمحے اس نے کتاب سے نظریں چرا لیں کہ کہیں وہ اسے دوبارہ سے نظر نہ آ جائے، خاموشی سے اپنی رول نمبر سلپ، آئی ڈی کارڈ، اور پین مارکر اٹھاکر وہ کمرے سے باہر نکل آیا۔اب اس کا رخ گھر سے باہر کی طرف تھا۔
”ناشتہ کر کے نہیں جاؤ گے؟کیاطبیعت ٹھیک ہے؟“جیسے ہی اس نے لاؤنج کے دروازے سے باہر قدم رکھا۔اس کی والدہ کی آواز کانوں میں آئی۔اسے پلٹنا پڑا اور وہ خاموشی سے چلتا ہوا ان کے پاس آ کر ناشتے کےلیے بیٹھ گیا۔
”پیپر کی ٹینشن ہو رہی تھی تو بس ناشتے کا ہوش ہی نہیں رہا۔“اس نے بیٹھتے ہی اپنا آپ چھپانے کےلیے جھوٹ کا سہارا لیا۔
”کچھ بھی ہو ناشتہ کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔اگر ناشتہ نہیں کرو گے تو پیپر لکھتے وقت دماغ سے کیا خاک سوچ پاؤ گے۔ادھر بھوک لگی ہوگی اور ادھر پیپر کے لالے پڑے ہوں گے۔ذرا اپنی حالت دیکھو! لگ ہی نہیں رہا پہلے والے جہانزیب ہو۔چلو جلدی سے ناشتہ کرو اس کے بعد پیپر دینے جاؤ اللہ تمہاری مدد کرے گا۔“انہوں نےاسے ڈاٹتے ہوئے کہا۔
وہ چپ چاپ ناشتہ کرنے لگا تھا کیونکہ ایسے نہیں تو ویسے اس نے کرنا تو تھا۔بغیر ناشتے کے تو اسے اس کی امی نہیں جانے دیتی تھی اس لیے چپ چاپ کچھ لقمے کھائے اور جلدی سے باہر نکل آیا۔بائیک سٹارٹ کی اور امتحانی سینٹر کی طرف جانے کےلیے اپنی بائیک موڑ لی۔گلیوں سے نکل کر وہ سیدھا روڈ پر آگیا اور اب راستہ آسان تھا۔وہ لگ بھگ پندرہ منٹ میں وہاں پہنچ گیا۔پہنچتے ہی اس نے بائیک سٹینڈ پر کھڑی کی، بائیک کھڑی کرنے کا ٹوکن لیا اورگارڈ کو چیکنگ کروانے کے بعد اندر داخل ہوگیا۔اندر داخل ہوتے ہی دونوں اطراف کھلے ہوئے پھول بھی اس کا موڈ خوشگوار نہ کر سکے تھے۔کالج میں موجود مختلف درختوں پر کچھ پرندے ایک خوشنما تاثر پیدا کر رہے تھے۔وہ آگے بڑھا اور امتحانی کمروں کے باہر چٹ دیکھی جہاں تمام سٹوڈنٹس کے رول نمبر لکھے تھے۔اس کا رول نمبر دوسری رو میں چوتھے نمبر پر تھا۔اپنی سلپ اور آئی ڈی کارڈ چیک کروانے کے بعد وہ کمرے میں داخل ہوگیا۔تمام سٹوڈنٹس لائن سے اپنی اپنی رو میں براجمان تھے۔وہ بھی اپنی سیٹ پر جا کر آرام سے بیٹھ گیا۔کچھ ہی دیر میں جوابی شیٹ تقسیم کر دی گئی۔اب صرف پیپر کا انتظار سب کو ستائے جا رہا تھا۔تھوڑی ہی دیر میں سب میں پیپر تقسیم کر دیا گیا۔اس کے سامنے بھی پیپر آ گیا۔اسے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔پیپر دیکھتے ہی اسے احساس ہوا اس کی کچھ زیادہ تیاری نہیں ہے لیکن وہ بغیر کچھ بولے جو ٹیسٹ کی مدد سے تیاری کی تھی اسی حساب سے پیپر حل کرنے لگا۔
***
جبینہ صبح سویرے اٹھی اور نماز پڑھنے کے بعد وہ پھر سو گئی تھی۔رات بھر وہ جاگی تھی، جاگنے کے باوجود بھی اتنی بہتر تیاری نہیں کر پائی تھی اور اب رات کو نہ سونے کی وجہ سے دوبارہ سو گئی تھی۔
”ابھی تک نہیں اٹھی ہو کب اٹھنا ہے؟“اس کی والدہ نے آواز لگائی۔اس نے چادر ایک بار اتاری اور پھر سے اپنے اوپر تان لی لیکن اگلے ٥ منٹ کے بعد اس کے اوپر سے کھینچ لی گئی تھی۔وہ حیران سی دیکھنے لگی۔
”پیپر دینے نہیں جانا ہے ؟“انہوں نے آکر اسے پچکارا اور سامنے کھڑے ہو کر پوچھا۔
”جانا ہے۔“اس نے سستی سے بس اتنا ہی جواب دیا۔
”ٹھیک ہے جلدی سے تیار ہو کر آؤ تمہارے بابا انتظار کر رہے ہیں۔اور تم یہ رات بھر مت جاگا کرو دیکھو آنکھیں کیسے سوجی ہوئی ہیں اور اب اتنا لیٹ اٹھی ہو کہ پیپر ریوائس کرنے کا وقت بھی نہیں ملے گا۔“انہوں نے اسے اچھا خاصا لیکچر بھی دے دیا۔
وہ ہاں میں سر ہلاتی ہوئی اٹھی اور جلدی سے کپڑے تبدیل کیے جو اس کی امی نے اس کےلیے پہلے سے ہی استری کر دیے تھے۔وہ بلیک رنگ کی شارٹ فراک اور پلازو پہن کر بالوں کی ٹیل پونی بنا کر نیچے آئی جہاں اس کے بابا اس کا انتظار کر رہے تھے۔اس نے تھوڑا سا ناشتہ کیا، اپنا پیپر کےلیے ضروری سامان اٹھایا اور بائیک پر اپنے بابا کے ساتھ سینٹر کےلیے چل دی۔اس کا سینٹر گورئمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین بنا تھا۔وہ کالج کے اندر ضروری چیکنگ کے بعد داخل ہوگئی اوراپنا رول نمبر دیکھ کر امتحانی کمرے میں چلی گئی۔پیپر ملتے ہی اپنا پیپر توجہ سے کرنے لگی۔لیکن اس دوران بھی وہ ڈسٹرب ہی رہی۔بہت مشکل سے اس نے اپنا پیپر ختم کیا۔اتنی ٹینشن میں پیپر حل کرنا اس کےلیے مشکل ہوگیا تھا۔
***
دونوں کے امتحانات اسی پریشانی میں، اسی تگ و دو میں، جیسے آئے ویسے ہی گزر گئے مگر وہ دونوں ہی اپنی کارکردگی سے متاثر نہیں تھے۔جب مرضِ عشق لا حق ہو جائے یا پھر کوئی ایسی ٹینشن آجائے جسے آپ سوچ سوچ کر پریشان ہو رہے ہوں اور کوئی اہم کام سر انجام دینا ہو تو آپ کبھی بھی اپنے لیے بہتر کرنے کی وہ صلاحیت نہیں لا سکتے جو اس سے پہلے تھی۔ہاں ٹھنڈے دماغ سے سوچ کر اس پر فوکس ضرور کر سکتے ہیں۔یہی معاملہ ان دونوں کے ساتھ بھی پیش آیا۔
پیپرز کے بعد جبینہ مینٹلی طور پر پریشان تھی۔وہ نہ تو اپنے پیپرز صحیح سےدے پائی تھی اور نہ ہی گھر کے کاموں پر وہ توجہ دے پاتی تھی، ہر وقت اپنے خیالوں میں رہتی تھی۔جانے کون کون سی سوچیں تھیں جو اسے ہر وقت پریشان رکھتی تھیں۔اس حادثے کے بعد سے وہ ایسی ہوگئی تھی، اس سے پہلے ہرگز نہیں تھی۔زندگی میں نہ ختم ہونے والا طوفان وہ اپنے اندر سموئے بیٹھی تھی۔زندگی اتنی کٹھن بھی نہیں تھی جتنی اسے اس وقت حالات کے ردو بدل کی وجہ سے محسوس ہو رہی تھی۔وہ خاموش رہنے والی بالکل نہیں تھی بلکہ وہ تو ہمیشہ چہچہاتی ہوئی سب کو اپنے گرد لپیٹ کر رکھتی تھی۔اس کی چھوٹی چھوٹی شرارتوں سے، میٹھی میٹھی باتوں سے پورا گھر گونجتا تھالیکن اب ایسا نہیں تھا۔وہ اپنی زندگی کے اس واقع کے بعد بالکل بوجھل سی ہو چکی تھی۔حالانکہ وہی گھر، وہی ماحول، وہی رہن سہن تھالیکن وہ مکمل طور پر بدل ہو چکی تھی۔اسے بہت جلد ان حالات سے نکل جانا چاہیے تھا پر ابھی تک وہ انھی حالات کی لپیٹ میں تھی۔
اس کا گھر کوئی بہت بڑا گھر نہیں تھا۔چھوٹا سا پیارا سا یہ گھر بہت خوبصورتی کے ساتھ باہمی محبت سے سجایا گیا تھا۔یہ گھر ان کےلیے جنت سے کم نہیں تھا۔گھر میں داخل ہوتے ہی سامنے ہی ٹی وی روم تھا۔اسی کمرے کے دوسرے سرے میں کچن تھا جو گھر کا سب سے خاص حصہ تھا۔اسے بنانے پربہت سوچ بچار اور منصوبہ بندی کی گئی تھی۔اس میں فن تعمیر بہت اعلیٰ تھا، جس میں گلابی اور سنہری ستون تھےاوراندر درمیانی سائز کا فریج رکھا تھا۔ایک خوبصورت ڈیزائن کردہ شیلف جہاں مسالے رکھتے، موجود تھا۔کچن میں تین لائٹس تھیں۔ایک تو ہر وقت جلتی رہتی اور باقی جب کھانا بنایا جاتا ہے اس وقت آن کی جاتیں۔بائیں سمت میں کھانے کی میز اور دائیں سرے پر کوکنگ رینج۔کھانے کی میز کے چاروں طرف کرسیاں جو کہ براؤن رنگ کی اور تعداد میں سات تھیں، انہیں فیملی کے حساب سے سجایاگیا تھا۔گھر میں صرف چار افراد تھےاوراضافی تین کرسیاں مہمانوں کے لیے تھیں۔اس وقت کھانے کی میز پر آخری رات کے کھانےکی باقیات اس بات کی نشاندہی کررہی تھیں کہ جبینہ اپنے پیپرز کی ٹنیشن کی وجہ سے صفائی کرنا بھول گئی تھی۔
اس فرنٹ پورشن کےسامنے ہی بیڈ رومز ہیں جن تک رسائی گھر کے مکینوں کو ایک خوشی کا تاثر دیتی تھی کہ یہ گھر در حقیقت گھر تھا۔کمروں میں خوبصورتی سے براؤن کلر کی الماریاں بنائی گئی ہیں جن کے اوپر بیگ رکھے جاتے ہیں۔بستروں کے نیچے کمبل، دروازوں کے پیچھے لٹکے ہوئے کپڑے، کھڑکی پردن بھر کے لانڈری کےلیے نکالے ہوئے کپڑے لٹکے ہوئے نظرآرہے ہیں۔ایک الیکٹرک mosquito killerراکٹ ہنگامی حالات کے لیے قابل رسا جگہ پر ٹکا ہوا ہے، آدھی استعمال شدہ دوائی اورسنی پلاسٹ میز پر پڑے ہیں، چارجر درازوں میں پائے جاتے ہیں۔یہ کہاں سے آئے ہیں، کوئی نہیں جانتا ہے۔اس گھر کی بھی ایک الگ شان ہے۔
متوسط طبقے کے لوگوں کے پاس مہمانوں کےلیے الگ کمرے نہیں ہوتے۔لیونگ روم ہی مہمانوں کا کمرہ ہوتاہے۔ہر وہ چیز جو نظر آتی ہے وہ حکمت عملی کے ساتھ مہمانوں کو متاثر کرنے کےلیے ہوتی ہے۔مہمانوں کی خاطر تواضع کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہوتا ہے۔ایسے گھروں میں یہی سمجھا جاتا ہے کہ گھر میں آیا مہمان اللہ کی رحمت ہوتا ہے اور رحمت کو واپس نہیں موڑا کرتے ہیں۔رحمت حاصل کرنے کےلیے تو لوگ اپنی زندگی جان جوکھوں میں ڈال دیتے ہیں کہ کسی طرح اللہ انہیں نواز دے تو پھر گھر آئے مہمان کی قدر کرنا کتنا اچھا عمل ہے۔اسے سوچنا اسے دیکھنا کتنا بہترین ہے، کوئی سوچ ہی لے تو اس کی قدر جان لے ناقدری نہ کرے۔اللہ کریم نے ہم انسانوں کو ایک دوسرے میں خوشیاں بانٹنے والا بنایا ہے اگر ہم کسی انسان کی تواضع کر کے خوشیاں بانٹ سکتے ہیں تو پھر اس میں قباحت کیا ہے۔لیکن ہر انسان اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائے اگر وہ اس میں بڑھ جائے گا تو اس کےلیے واپس پلٹنا دشوار ہو جائے گا اور اگر اسی چادر سے زیادہ کرنے لگے تو اپنے ہی پاؤں باہر نکلیں گے جو ہمارے ہی حالات کو ہمارے سامنے پسماندگی کی صورت میں پیش کیے جائیں گے اور تب ہم کچھ نہیں کر پائیں گے۔
***
عادل ملک نے ملتان میں اپنا گھر حلال کی کمائی سے بنایا تھا۔چھوٹا سا صحن، گیٹ کے دونوں اطراف میں گملے ترتیب سے رکھے ہوئے جن میں رنگ برنگے پھول لگے ہیں۔گھر میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے ڈرائینگ روم، اس کے بائیں طرف عادل ملک اور آئمہ کا کمرہ ہے۔کمرے کی دیواروں پر سفیدے کی لکڑی سے نقش و نگار بنا کر لگائے گئے ہیں۔کمرے کے اندر ایک بہت بڑا بیڈ ہے اور بیڈ کے بائیں جانب ایک شلیف موجود ہے۔جس کے سب سے اوپر قرآن پاک اور اس کی تفاسیر رکھی ہوئی ہیں۔دیواروں پر اسلامی خطاطی کے شاہکار لگے ہوئےہیں جن میں سورۂ یٰس، سورۂ الرحمن، اللہﷻ کے ننانوے نام، حضرت محمدﷺننانوے نام اور چاروں قل فنی مہارت سے لکھے گئے ہیں۔
دائیں جانب کچن اور چھوٹا سا ڈائننگ ہال ہے۔فرسٹ فلور پر تین بیڈ رومز اور ایک بڑا ٹی وی لاؤنج ہے تمام کمرے اسی ملتی جلتی ترتیب سے خوبصورت بنائے گئے ہیں اور نفاست اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔پہلے اورنگزیب کا کمرہ آتا ہے۔جس کے بائیں طرف کھڑکی ہے جس سے باہر کا نظارہ ہوسکتا ہے۔دائیں طرف الماری ہے جس میں قانون کی کتابیں اور فائلز پڑی ہوئی ہیں۔بیڈ کے بالکل سامنے ایک ریوالونگ چیئر اورساتھ ٹیبل ہے، جس پر لیپ ٹاپ رکھا ہے۔
دوسرا کمرہ جہانزیب اور جاناں کا ہے، یہ ذرابڑا ہے اور اس کے دائیں اور بائیں جانب دیواروں کے ساتھ دو سنگل بیڈ لگے ہوئے ہیں۔دو الماریاں ہیں جن میں دونوں کے کپڑے لٹکے ہوئے ہیں اور بیڈ کے سامنے ایک بڑا صوفہ اور ٹیبل ہے جس پر دونوں بہن بھائی کی کتابیں پڑی ہیں۔
تیسرے نمبر پر شاہ زیب کا کمرہ ہے جس میں ایک سنگل بیڈ، بیڈ کے دونوں طرف سائیڈ ٹیبلز، ایک کمپیوٹر اور ساتھ ہی ایک لیپ ٹاپ پڑا ہوا ہے۔یہاں آئی ٹی کی بکس بھی پڑی ہوئی نظر آتی ہیں۔اس کی الماریوں میں ٹی شرٹس، جینز، بیلٹ اور پرفیومز رکھے ہوئے ہیں۔
گھر کے بالکل سامنے ایک پارک ہے پارک کے اندر صاف پانی کےلیے فلٹر لگا ہوا ہے اور دوسری سائیڈ پر جھولے لگائے ہوئے ہیں جن پر بیٹھ کر چھوٹے بچےجھولا جھولتے اور انجوائے کرتے ہیں۔یہ ان کی تفریح کا بہت اچھا انتظام ہے۔جہاں بچے خوش گپیوں کے ساتھ ساتھ گھر کے ماحول سے نکل آتے ہیں، جو وہ دیکھ دیکھ کر تھک چکے ہوتے ہیں یا پھر بوریت محسوس کرتے ہیں تب وہ یہاں تمام بچوں کے ساتھ انجوائے کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔پارک کے اندر چار ٹریک اس طرح سے بنائے گئے ہیں کہ ہر کوئی اپنے حساب سے چاہے چھوٹے ہوں چاہے بڑے ہوں دوڑ لگا لیں یا واک کر لیں۔صبح فجر کی نماز کے بعد پارک میں پرندے نظر آتے ہیں انہیں کی رونق چار سو پھیلی ہوتی ہے۔ہر عمر کی عورتیں اور مرد واک کرنے میں مصروف ہوتے ہیں اورکچھ عمر رسیدہ لوگ تھیراپی کےلیے بھی آئے ہوتے ہیں۔یہ ایک خوشنما اور بہترین جگہ ہے جہاں تمام لوگ اپنی اپنی مرضی کے مطابق زندگی کے لمحات گزارتے ہیں اور یہ لمحے انجوائے کرتے ہیں جو ان کےلیے تفریح کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔
***
اورنگزیب جہانزیب کا بڑا بھائی بہت اچھا مفکر، دانش ور، تجزیہ نگار، بہتر حکمت عملی جاننے والا، مسائل کا بہترین حل جاننے والا اور اچھا راز دار وکیل تھا۔وہ لوگوں کی قانونی رہنمائی اور قانونی پریشانیوں میں مدد اور بھلائی کرنے کو اپنا فریضہ سمجھتا تھا۔
وہ امیگریشن سے متعلق امور میں سپیشلیٹس تھا اور اُسے ویزا، شہریت، پناہ گزین اور گرین کارڈز کے معاملات سے نمٹنے میں پوری طرح مہارت حاصل تھی۔وہ اپنے قدرت کی طرف سے عطا کی گئی صلاحیتوں کی وجہ سے ایک مثال تھا۔اسے اللہ کی طرف سےاور بھی بہت سی نعمتیں عطا کر دی گئی تھیں۔
شاہ زیب سارا دن اپنے لیپ ٹاپ میں گھسا رہتا تھا۔پڑھائی کے بعد اب وہ آن لائن فری لانسر کے طور پر کام کر رہا تھا اور اس کے علاوہ مختلف کمپنیز کےلیے سوفٹ وئیر اور ویب سائٹس بنانے میں لگا رہتا تھا۔وہ کام میں اتنا مصروف ہوتا کہ اسے پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب دن ہوا ہے اور کب رات۔اسے یہ تک معلوم نہیں ہوتا تھا کہ گھر میں کیا ہو رہا ہے۔اسے جب بھی کسی چیز کی ضرورت ہوتی وہ جاناں کو آواز دیتا کہ وہ چائے لے کر آؤ، پانی لے کر آؤ وغیرہ۔یا پھر جب جہانزیب گھر میں ہوتا تو اس کے کام کاج میں لگا رہتا، جیسے کپڑے استری کر دینا یا بازار سے کچھ لے آنا وغیرہ۔
پیپرز کے بعد جہانزیب بھی چپ چپ رہنے لگا۔گھر میں کئی بار اس کی امی اور بہن نے پوچھاکہ، ”کیا بات ہے؟پیپرزصحیح نہیں ہوئے یا کوئی اور پریشانی ہے تو تم ہم سے ڈسکس کر سکتے ہو۔“لیکن اس نے ہمیشہ انہیں ٹال دیا۔وہ بتاتا بھی تو کیا کہ اسے اس کچی عمر میں کسی سے پیار ہوگیا ہے اور وہ سامنے بھی نہیں ہے۔وہ اس کچی عمر میں عشق جیسے روگ کو پال کر بیٹھا ہوا ہے۔بس یہی سوچ کر خاموشی اختیار کر لیتا لیکن دن بدن اس کی یہ ٹینشن بڑھ رہی تھی اور کسی طرح کم نہیں ہو رہی تھی، اس کےلیے اس طرح کے حالات کو فیس کرنا بہت کٹھن ہوتا جا رہا تھا۔اس نے کئی بار سوچا بھی کہ وہ اپنی ماں سے یا بہن سے یہ بات ڈسکس کر لے، ان سے کھل کر بات کر لے لیکن اس کے اندر ہمت بھی جمع نہیں ہو رہی تھی۔اکثر بات کرنے کی کوشش کرتا لیکن بات کرتے کرتے رک جاتا اور پھر کچھ سوچ کر خاموشی اختیار کر لیتا۔ایک دن وہ بہت افسردہ سا لاؤنج کے باہر بنی سیڑھیوں کے سٹیپس پر بیٹھا تھا اور گہری سوچ میں گم تھا۔اتنے میں اس کی امی نے لاؤنج کی کھڑکی کا پردہ ٹھیک کرتے ہوئے اسے دیکھا اور اسے دیکھتے ہی سوچ میں پڑ گئیں۔
’یہ لڑکا پہلے تو ایسا نہیں تھا۔ایک دم اسے اچانک کیا ہوگیا ہے۔اگر اس طرح سے اس کی زندگی چلتی رہی یہ تو بالکل بجھ سا جائے گا۔‘وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے دروازہ کھول کر اس کے پاس ہی بچی جگہ پر بیٹھ گئیں۔
”ارے برخوردار! کیا بات ہے؟کس سوچ میں گم بیٹھے ہو؟“انہوں نے اس کے پاس آکر بیٹھتے ہوئے کہا۔
”کسی سوچ میں گم نہیں بیٹھا بس فری تھا تو یہاں بیٹھ گیا۔“اس نے ایک دم اپنی گہری سوچ کو بریک لگاتے ہوئے کہا۔
”تم میرے بیٹے ہو تمہیں میں نہیں سمجھوں گی تو کون سمجھے گا۔“انہوں نے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔
”ایسی بات نہیں ہے۔آپ ایسے ہی وہم کر رہی ہیں۔“اس نے بھی انہیں کے انداز میں انہیں دیکھ کر جواب دیا۔
”میں تمہاری ماں ہوں اورمجھے اندازہ ہےکہ تم کسی پریشانی میں ہواس لیے اس پریشانی سے نکلنے کےلیے تمہیں مجھے بتانا ہوگا۔بتاؤ گے تو ہی تم اس سچویشن سے نکل پاؤ گے۔“انہوں نے مسکراتے ہوئے اس کے بالوں کو ٹھیک کرتے ہوئے کہا جو ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے۔
”مجھے ایک لڑکی سے محبت ہوگئی ہے جو میری کلاس فیلو بھی ہے۔“ان کے اس طرح بار بار اصرار پر اسے بتانا ہی پڑا۔
وہ دھیرے دھیرے بتاتا گیا تھا اور ماں نے اس کی بات غور سے سنی۔اس کے بعدتھوڑی دیرکےلیے مکمل خاموشی چھاگئی۔ایسے محسوس ہوا جیسے یہاں کوئی ذی روح موجود ہی نہیں ہے۔تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد انہوں نے خاموشی کو توڑتے ہوئے اسے سمجھانا شروع کیا۔
”ابھی تم سے بڑے تمہارے اور دو بھائی ہیں اور تم نے تو خود ابھی اپنا فیوچر بنانا ہے۔ابھی سے یہ عشق و محبت تمہیں نہیں کرنی چاہیے تھی، پہلے اپنی تعلیم مکمل کرتے اس پر فوکس کرتے لیکن اب جب ہوگیا ہے تو میں تم سے تمہارا پیار چھین تو نہیں سکتی ہوں۔اس لیے تم انتظار کرو، صبر اختیار کرو کیونکہ ایک کہاوت ہےکہ’دیر آئے درست آئے‘۔اس لیے جب تمہارا ایڈمیشن کسی میڈیکل کالج میں ہو جائے گا تو میں خود تمہارے لیے رشتہ لے کر جاؤں گی۔اس لیے پریشان ہونے کی ضرورت بالکل نہیں ہے۔میں تم سے وعدہ کرتی ہوں تم جہاں کہوگے میں تمہاری شادی کروا دوں گی۔لیکن ابھی خدا کےلیے تم اب عشق وشق کے چکروں میں نہ پڑو کیونکہ یہ وقت عشق کرنے کےلیے صحیح نہیں ہے یہ وقت کچھ کرنے کا ہے، آگے بڑھنے کا ہے۔ابھی تمہاری زندگی کا وہ مرحلہ ہے جہاں سے تم نے اپنے لیے ایک منزل کا انتخاب کرنا ہے۔ابھی زندگی کے بہت سے راستے طے کرنے ہیں۔ابھی تم نے آگے بڑھنا ہے، تمہیں زندگی کی اونچ نیچ کو دیکھنا ہے، وقت کو سمجھنا ہے تب جا کر تو تم آگے بڑھو گے۔تب جا کر اپنی زندگی کا ایک حصہ ایک ایسی جگہ گزارو گے جہاں تم قابل بن جاؤ۔تب تم جسے پانا چاہو پا سکتے ہو۔ایسے تم ہرگز اپنی منزل کی طرف رواں دواں نہیں رہ سکتے ہو۔اس لیے انٹری ٹیسٹ کی تیاری کرو جیسے ہی تم یہ ٹیسٹ پاس کر لو گے میں تمہاری شادی کروا دوں گی۔“
وہ اپنی ماں کے آگے ایک لفظ نہیں بول پایا کیونکہ ماں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ انٹری ٹیسٹ پاس کر لے تو اس کی پسند کی لڑکی سے اس کی شادی کروائیں گی اس لیے وہ خاموش ہوگیا۔
انٹری ٹیسٹ کی تیاری شروع ہوگئی۔اب اس کا کامیاب ہونے کا مقصد نا صرف میڈیکل کالج میں ایڈمیشن لینا تھا بلکہ اس کے ساتھ اپنی محبت کو پانا بھی تھا۔جب محبت جیسے رشتے کو چیلنج کیا جائے یا پھر ایک مقصد بنا دیا جائے تو انسان اسی کی تگ و دو میں لگ جاتا ہےاور ہر حال میں اس محبت کو حاصل کرنا چاہتا ہے اس کا مقصد ہی محبت کو پانا ہوتا ہے۔
جہانزیب نے اپنے مقصد کو پانے کےلیے جس اکیڈمی کا انتخاب کیا تھا وہ لاہور کی ایک اکیڈمی تھی جہاں اس نے اپنی انٹری ٹیسٹ کی تیاری کےلیے ایڈمیشن لیا تھا۔اسے ہر حال میں یہ ٹیسٹ پاس کرنا تھا۔محبت میں انسان بہت کچھ کر جاتا ہے یہ اس نے سنا تھا اب جبکہ اسے خود کو محبت ہوگئی تھی تو وہ بھی کیا کچھ نہیں کر رہا تھا۔وہ کامیاب ہو یا نہ ہو اسے اپنا بیسٹ دینا تھا، اسے اپنا١٠٠فیصد دینا تھا اس کے بعد چاہے وہ کامیاب ہو یا نہ۔اس نے پوری لگن سے بغیر ردوبدل کیے، بغیر جھوٹ بولے اللہ کے سامنے سچے دل سے اسے مانگا تھا اور اب اپنی امی جان کے کہنے پر اس ٹیسٹ کو پاس کرنے کےلیے دن رات ایک کرنے والا تھا۔جیسے ہی اکیڈمی میں انٹر ہوں مین گیٹ عبور کرنے کے بعد دو منزلہ نفاست سے بنی ہوئی عمارت کھڑی تھی۔عمارت کے اندر داخل ہونے اور باہر آنے کےلیے دونوں اطراف میں سیڑھیاں موجود تھیں۔سیڑھیوں کے سامنے سفید رنگ کے بڑے بڑے شیشے نصب کیے گئے تھے اور ان شیشوں کے درمیان میں کلاس روم تک جانے کےلیے دروازہ تھا۔سیڑھیوں کے نیچے کھدائی کر کے زمین کی تہہ میں(انڈر گراؤنڈ)بھی کچھ کلاس رومز بنائے گئے تھے۔دروازے سے تھوڑا اوپر دوسرا حصہ تھا جہاں کچھ اور کلاس رومز موجود تھے۔دوسری بلڈنگ کے باہر کی جانب خوبصورتی سے سفید رنگ کے بڑے بڑے شیشے لگے تھے جو نیچے اور اوپر کی لک کو کافی حد تک ملا دیتے تھے۔دوسری اور پہلی منزل کے درمیان میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ انگلش میں بڑے بڑے حروف میں کالج کا نام لال رنگ میں لکھا نمایاں نظر آتا تھا۔
You have read 12% of عرش کے تارے - Arsh k Taray. The full e-book picks up right where this stopped.