Check out our most recent publications
لکی انسانی سرکس - Lucky Insani Circus
Free sample · no sign-up

لکی انسانی سرکس - Lucky Insani Circus

by Muhammad Jahangeer Badar

You are reading the first 30% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

30% of the book — free to read

 

داستان پبلشرز

 

کاپی رائٹ ۲۰۲۲ء داستان

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔

اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر

چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں

میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔

اشاعت اوّل ٢٠٢۲ء

 

مطبع: پکسلز پرنٹنگ سولیوشن

ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان

www.daastan.com

 

*

مدیران

فریال زہرا

نرمین سرھیو

 

ـــــ

سرورق کے جملہ حقوق مصنف کے نام محفوظ ہیں

 

انتساب

تمام جانوروں کے نام۔۔۔!!

 

(نوٹ: تمام تصاویر کے لیے گوگل سے رجوع کیا گیا تھا۔)

 

فہرست

عرضِ مدیرہ. 11

تاثرات... 12

دیباچہ.. 18

گدھے کا انسان پر ظلم... 19

سرکاری کتے.... 21

تانگہ... 26

بندر نے تماشا دکھایا. 30

ریچھ کا تماشا.. 37

اونٹ اور انسان.. 41

تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا 43

کبوتر.. 44

طوطا.. 47

بلی.. 49

بیل.... 51

خرگوش اور انسان.. 54

مرغا. 56

فاختہ... 58

چوہا. 60

مینڈک... 62

مچھلی..... 63

ہاتھی.... 64

بکرا 66

بارہ سنگا اور ہرن.. 67

شیر.... 69

چیتا.... 71

جنگل میں نئی حکومت..... 72

 

عرضِ مدیرہ

”لکی انسانی سرکس“ اپنے موضوع اور اسلوب دونوں کے اعتبار سے ایک ایسی منفرد کتاب ہے جو ہلکی پھلکی تنقید کے پیرائے میں ہمیں بے شمار اہم پیغامات دیتی ہے۔ دراصل یہ کتاب بنی نوع انسان کو آئینہ دکھانے کی ایک کوشش ہے۔

جب اس کتاب کا مسودہ ادارت کےلیے میرے پاس آیا تو اس کے ابتدائی چند صفحات پڑھتے ہی یوں لگا جیسےکہیں ذہن کے کسی کونے میں اسی طرح کی تحریر پڑھنے کی آرزو تھی۔ انسانوں اور جانوروں کے مقام کا آپسی تبادلہ اور انسانوں کے حیوانی خصائص کا بیان ایک ایسا موضوع ہے جس پر ہر انسان اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی خواہ چند لمحوں کے لیے ہی صحیح لیکن سوچتا ضرور ہے۔ ہم بس سوچ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، کبھی اس کا اظہار عوامی سطح پر نہیں کرتے کیوں کہ اس سے اپنی ہی نا اہلی کا پردہ چاک ہوگا۔ لیکن اسے قلم بند کرنے کا بیڑا جہانگیر بدر نے اٹھایا اور اسے پایۂ تکمیل تک بھی پہنچایا۔ کسی موضوع کا انتخاب کر لینا مشکل نہیں بلکہ اصل کام تو اس پر غیر جانب داری سے لکھنا ہے اور جہانگیر بدر نے یہ کام کر دکھایا ہے۔ میں کتاب کی اشاعت پر انھیں مبارک باد پیش کرتی ہوں اور کتاب کی کامیابی و مقبولیت کے لیے دعاگو ہوں۔

فریال زہرا

 

تاثرات

یہ ایک منفرد اور اہم موضوع پر لکھی گئی بہترین کتاب ہے۔

کچھ دیر کے لیے ایک ایسی دنیا کا تصور دیا گیا ہے جہاں جانوروں کی حکومت اور انسانوں کی غلامی ہے۔ اس تصور کے ذریعے حقیقی دنیا میں کی جانے والی جانوروں کے ساتھ زیادتی کی بہترین عکاسی کی گئی ہے۔ کتاب کا اندازِ بیان آسان اور مزاحیہ ہے۔ دل چسپ تصاویر اور منفرد انداز میں لکھی گئی یہ کتاب آپ کے بک کلیکشن میں لازمی ہونے کی حق دار ہے۔ مجھے بذات خود یہ انداز و بیان بہت الگ لگا اور مجھے یہ بہت پسند ہے۔ میرے خیال میں اس موضوع پر آج تک کسی نے نہیں لکھا، جہانگیر بدر نے تقریباً سبھی ڈومیسٹک جانوروں کو اپنا موضوع بنایا اور جس انداز میں انسانوں کو جانوروں کی پوزیشن پر رکھا گیا وہ بہت ہی دل چسپ ہے۔ میں اس کتاب کی کامیابی کےلیے دعا گو ہوں اور جہانگیر بدر کی بہت شکر گزار ہوں کہ انھوں نے مجھے یہ مسودہ پڑھنے کا موقع دیا۔

ن۔ ص

رائیٹر

 

ہم انسان ہوتے ہوئے بھی کبھی کبھی بہت غیر انسانی حرکتیں کر جاتے ہیں جو کہ اب ہمارا معمول بن گئی ہیں۔ ہمیں محسوس بھی نہیں ہوتا كہ ہم کتنا ظلم کر رہے ہیں۔ جانور بے زبان ضرور ہیں، لیکن احساسات ان میں بھی ہوتے ہیں، درد انھیں بھی ہوتا ہے۔ لیکن بہت سے لوگ شاید اِس بات کو یکسر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ہم ان کے بے زبان ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان پر ظلم کیے چلے جاتے ہیں۔

کبھی بھی ہم نے یہ نہ سوچا كہ اگر کوئی اسی طرح کا سلوک ہم انسانوں سے کرے تو ہمیں کیسا لگے گا؟ہمیں کیسا لگے گا اگر جانوروں كے ہجوم میں ہمیں بندر کی طرح ڈگڈگی پر نچایا جائے یا پِھر کسی گدھے کی طرح ہم پر سامان ہی سامان لاد دیا جائے؟اگر ہماری صحت کا خیال رکھے بغیر بس ہم سے اپنا کام نکلوایا جائے؟اگر ہم خود کو ایک بے زبان جانور کی جگہ رکھ کر سوچیں تو کیا کوئی شخص اپنے ساتھ ایسا ظلم برداشت کرے گا؟

ایسی ہی کہانیاں جہانگیر بدر نے اپنی کتاب ”لکی انسانی سرکس“ میں بیان کی ہیں۔ اِس کتاب کی چھوٹی چھوٹی کہانیاں انسان کو ہر جانور کی جگہ رکھ کر بڑی مہارت سے لکھی گئی ہیں۔ مصنف نے یہ بہت ہی الگ موضوع چنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بہت ہی بہترین انداز میں اس موضوع کو کہانیوں کی صورت میں بیان کیا ہے۔ یہ کتاب پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے كہ جانوروں پر ظلم انسانوں کا معمول بن چکا ہے اور ہمیں بطورِ انسان یہ ظلم محسوس بھی نہیں ہوتا۔

اِس کتاب میں چوبیس مختلف پرندوں اور جانوروں کی جگہ پر انسان کو رکھا گیا ہے اور بتایا گیا ہے كہ ہم ان کے ساتھ کیسا کیسا سلوک کر جاتے ہیں، بظاہر تو یہ ساٹھ صفحات پر مشتمل ایک چھوٹی سی تحریر ہے، لیکن ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اس کتاب میں Illustrations بہت ہی عمدہ طریقے سے تحریر سے ریلیٹ کی گئی ہیں۔ کہانی پڑھ کر بہت سے سبق سیکھنے کو ملتے ہیں۔ میں جہانگیر بدر کی شکرگزار ہوں کہ انھوں نے مجھے اسے پڑھنے کا موقع دیا اور اس کتاب کی کامیابی کے لیے دعاگو ہوں۔

حریم فاطمہ

رائیٹر

 

لکی انسانی سرکس جہانگیر بدر کی ایک ایسی کتاب ہے جس میں جانوروں پر انسانوں کی جانب سے ہونے والے مظالم کا ذکر ہے۔ انسان معاشرتی حیوان ہے۔ یہ صرف ایک بات ہے مگر انسان نے اپنی عادات و اطوار اور چال چلن سے اپنے اردگرد بستی مخلوق کو کافی حد تک متاثر کیا ہے۔

اس نے جانوروں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر رویہ اپنایا ہے۔ احساس لفظ جیسے اس جنس میں نایاب ہوگیا ہے جیسے کتاب میں ذکر ہوا ہے کہ تمام جانور بھی اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ آیا انسان انسانیت کے تقاضوں کو پورا کرکے انسان کہلانے کا حق دار ہے بھی کہ نہیں۔ اگر معاشرتی برتاؤ اور بے زبان جانوروں کے ساتھ سلوک کی بات کی جائے تو شاید بہت سے انسان انسانیت کے کسی درجے پر پورے نہ اتریں۔ انسان نے بے زبان جانوروں پر مظالم ڈھاکر خود کو طاقتور ثابت کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔

طاہرہ رائے

شاعرہ (سرگودھا)

 

جہانگیر بدر کی کتاب کا نام ہی اپنے اندر عجیب جاذبیت رکھتا ہے جس میں ”ایرانی“ کی جگہ اِنسانی لکھ دیا گیا ہے جو قاری کی حسِ تجسّس کو بیدار کرتا ہے۔ مزید برآں یہ تبدیلی کہانیوں کے مضمون کے بارے میں بھی اشارہ کرتی ہے۔ کہانیوں کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان میں Inversion کی تکنیک کا استعمال ہے۔ ان کہانیوں میں جانوروں کے ساتھ انسانی رویوں کی نوعیت پر تنقید کرنے کے لیے انوکھا طریقۂ کار اپنایا ہے جس میں انسان اور جانور کے رشتے کو اُلٹ کر دیا ہے۔ اول یہ کہ اس سے اِنسانی غلط رویوں پر طنز کم تلخ محسوس ہوتا ہے۔ یعنی اس طرح اس کو Euphemism کی ایک قسم کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ دوم یہ مختلف کہانیاں پڑھتے ہوئے قاری جب خود کو گدھے، گھوڑے، اونٹ، کتے، اور ریچھ کی جگہ رکھ کر محسوس کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے جانور کا درد اور اُس کی مشکلات بہت زیادہ اور قریب سے محسوس ہوتی ہیں۔ اس طرح مصنف نے کمال مہارت سے اپنی سادہ کہانیوں میں حیرت انگیز اثر پیدا کیا ہے۔ چناں چہ یہ کتاب اپنی نوعیت کی ایک انوکھی اور بہت اہم کتاب ہے۔ کیوں کہ اس سے قبل جانوروں کے بارے میں زیادہ نہیں لکھا گیا اور اگر Ted Hughes جیسے شعرا نے لکھا بھی ہےتو اُن کا مطمع نظر بطورِ خاص آدمی اور جانور کا تعلق نہیں رہا۔ جانور اور ارسطو کے معاشرتی جانور کے مابین تعلق کی بہتری کے لیے یہ کتاب ایک بہت صحت مند اور خوش آئند اقدام ہے اور امید کی جاتی ہے کہ اردو ادب میں یہ سلسلہ مزید آگے بڑھے گا۔ بقول شاعر:

دے رہے ہیں اس لیے جنگل میں دھرنا جانور
ایک چوہے کو رہائش کے لیے بل چاہیے

قاری کبھی ہنسنے پرمجبور ہوتا ہے لیکن دفعتاً قہقہے کو غم یا فکر کی رو آ لیتی ہے۔ اس سے انور مسعود صاحب کی ایک بات یاد آتی ہے جب وہ کہتے ہیں کہ، ”مزاح نگار کو ایسا قہقہہ پیدا کرنا چاہیے جسے نچوڑ کر دیکھو تو آنسو نکلیں۔ “ لہٰذا بدر صاحب کی یہ کتاب سادہ اور برجستہ زبان میں ایک اعلیٰ ادب ہے۔

اللہ نواز

پنجاب یونیورسٹی، لاہور

 

دیباچہ

اللہ نے انسان کو اشرف المخلوق بناکر زمین پر بھیجا مگر انسانوں نے زمین پر اتنی ظلم اور فساد کی داستانیں رقم کیں کہ جانور بھی شرمندہ ہوئے بغیر نہ رہے سکے۔ یہ انسانی ٹولا آہستہ آہستہ انسانوں سے جانور بنتا گیا۔ گدھا، گھوڑا، شیر، ہاتھی، اونٹ، کتا، بلی، ریچھ، بکرا، ہرن ہویا چیتا یہ سب انسان سے ڈسے ہوئے ہیں، تاریخ گواہ ہے کہ انسانوں نے ان کو اپنے مفاد کی حد تک استعمال کیا اور جب ان کی بقا کےلیے کچھ کرنے کی باری آئی تو۔۔۔خدانخواستہ اس زمین پر انسانوں کی جگہ ان جانوروں کی حکومت آجائے تو یہ جانور انسانوں سے کیسے پیش آئیں گے؟بالکل یہی آپ یہاں پڑھیں گے۔

محمد جہانگیر بدر

مصنف

 

گدھے کا انسان پر ظلم

یہ انسان کا بچہ چھوٹا تھا تو میں اس کو اپنے گھر لے آیا۔ اب تو یہ جوان ہوگیا ہے۔ جیسے جیسے اس کی عمر بڑھتی گئی یہ کام چور بنتا گیا۔ کسی زمانے میں ہماری پوری گدھوں کی بستی میں ہر گھر میں ایک انسان نظر آتا تھا۔ اب تو اکا دکا رہ گئے ہیں۔ پہلے والے انسان تو بہت ہی شریف النفس ہوا کرتے تھے۔ ایک ہی گدھا بیسوں انسانوں کو اکیلے ہانکتے ہوئے، سو سو اینٹیں ایک انسان پر لاد کر پانچ چھ کلومیٹر کا سفر کرلیتا تھا۔ اب تو بہت کم انسانوں کو ہی انسان گاڑی کھینچتا دیکھتے ہیں، ورنہ کیا زمانہ تھا جب ایک ایک انسان پچاس ساٹھ من وزنی ریڑھی آرام سے کھنچتا تھا۔ میرا انسان ہمیشہ الٹے کام کرتا ہے، اس لیے جب ہم کشتی پر اس کو سوار کرتے ہیں تو اس کو خشکی کی طرف کھنچتے ہیں تو یہ فوراً الٹے پاؤں کشتی پر سوار ہوجاتاہے اور جب دوسرے کنارے پر پہنچتے ہیں تو اس کو کشتی کی طرف کھینچتے ہیں تو الٹی کھوپڑی الٹے کام، یہ فوراً کنارے پر جمپ لگا دیتاہے۔ کبھی کبھی تو یہ صورتِ حال بنتی ہے کہ جلدی بازی میں یہ پانی کے اندر ہی جمپ لگا دیتاہے اور ایسا عموماً سردیوں میں ہوتاہے۔ اب اس کی بے وقوفی میں میرا کیا قصور!پھرخود ہی سردی میں ٹھٹھرتا رہتاہے۔ مجھے تو سردی کا صرف بہانہ لگتا ہے تاکہ اسے کام نہ کرنا پڑے۔ جب کہ ہم تو ان کے بنائے گئے اصولوں کو ہی مانتے ہیں؛ ”کام، کام اور صرف کام“ تو پھر اس کو کام کی کیسی چھٹی؟انسانوں کا کیا لینا دینا جمعہ یا اتوار سے؟میرے بزرگوں کو اس پر بہت ترس آتا ہے، وہ کہتے ہیں کہ اس کو روٹی پانی وقت پر دیا کرو اور زیادہ وزن بھی نہ لادا کرو۔ بھلا انھیں کیا پتا کہ یہ دن میں چھ روٹیاں کھا جاتا ہے اور پانی تو چار پانچ لیٹر پی جاتا ہے، اورپھر زیادہ وزن کہاں ہوتا ہے؟پچاس ساٹھ من وزن اٹھانا کون سی بڑی بات ہے۔ اور میں کون سا ہر وقت سامان کے ساتھ ساتھ خود اس پر سوار ہوتا ہوں، جب سفر تھوڑا لمبا ہوتا ہے بس تبھی تو میں انسانی گاڑی میں سوار ہوتا ہوں۔


 

سرکاری کتے

ہمارے محلے میں ایک نہیں سات آٹھ، انیس بیس گریڈ کے کتوں کے گھر ہیں۔ ان کا رعب و دبدبہ اتنا ہے کہ پورا محلہ ان سے ڈرتا ہے مگر اس کے باوجود بھی انھوں نے اعلیٰ نسل کے انسان اپنے گھر کی حفاظت پر مامور کیے ہوئے ہیں۔ کوئی بھی کتا اگر ان کے گھر کے آس پاس غلطی سے بھٹک جائے تو یہ انسان اپنی خوفناک آواز میں بھونک بھونک کر پورے محلے میں خوف کا ماحول پیدا کردیتے ہیں۔

That’s the end of the free sample

You have read 30% of لکی انسانی سرکس - Lucky Insani Circus. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Muhammad Jahangeer Badar earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 200

See all editions, reviews and details

لکی انسانی سرکس - Lucky Insani Circus Buy — Rs 200