Check out our most recent publications
دو سے ایک کا سفر  - Do se Aik ka Safar- Best Urdu Islamic Book
Free sample · no sign-up

دو سے ایک کا سفر - Do se Aik ka Safar- Best Urdu Islamic Book

by Isabel Ayesha Khalid

You are reading the first 12% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

12% of the book — free to read

 

دو سے ایک کا سفر

 

عائشہ خالد

 

داستان پبلشرز

 

کاپی رائٹ ۲۰۲۲ء داستان

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔

اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر

چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں

میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔

کریڈٹس:

مدیرۂ اعلیٰ: نرمین سرھیو

مدیرۂ معاون: فریال زہرا

ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان(www.daastan.com)

اشاعت اوّل: ٢٠٢۲ء

سرورق: عائشہ خالد (اس کے جملہ حقوق مصنفہ کے نام محفوظ ہیں)

 

دیباچہ

انسان ایسی زمیں زاد مخلوق ہے جس کے سامنے امکانات کا ایسا لامتناہی در کھلا ہوا ہے جو اسے ہمیشہ بےچین رکھتا ہے۔ وہ زمیں زاد ہوتے ہوئے بھی قیودِ زمیں سے نکلنے کا خواہشمند رہتا ہے۔ یہ خواہش اسے کبھی تو خلاؤں کا مسافر بنا دیتی ہے اور کبھی انا ربکم الاعلیٰ کا اعلان کرنے پر اکساتی ہے اور کبھی انا اللہ کا طوق گردن میں پہنا دیتی ہے۔ میں شاید اس کی بنیادی وجہ کبھی بیان نہ کرسکوں کہ ایسا کیوں ہے۔ ہاں البتہ اتنا ضرور ہے کہ انسان کو اللہ نے جو علم و آگہی کے ساتھ فکر و ادراک کی صلاحیتوں سے نوازا ہے وہ اسے ہمیشہ کائنات میں اپنا مقام متعین کرنے پر اکساتی رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے انسان کی راہنمائی کےلئے انبیاء کا سلسلہ شروع کیا جو جنابِ آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر آکر مکمل ہوا۔

میرے زیرِ نظر کتاب " دو سے ایک کا سفر" بنیادی طور پر تصوف کے موضوع پر لکھی گئی ایک ایسی تحریر ہے جو میرے فہم کے مطابق کم از کم پاکستان میں سب سے کم عمر قلم کار کے قلم سے ایک بڑی تحریر ہے۔ تصوف ہمیشہ سے ایک متنازع اور مشکل موضوع رہا ہے۔ اس پر لکھنا نہایت آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔ آسان تب جب آپ کا مقصد فقط تصوراتی اور تخیلاتی روایات کا انبار لگا کر قاری کو تخیل کے دھندلکے میں لے جانا ہو۔ اور مشکل تب جب آپ اپنے قاری کو زندگی کا ایک واضح مقصد دینا چاہیں جو اسے منتشرالخیالی سے نکال کر ایک واضح نصب العین اور سوچ عطا کرے۔ جو اس کی روح کو رنگا رنگی سے نکال کر صبغت اللہ میں رنگ دے تو پھر ہر لفظ پر غور کرنا پڑتا ہے۔

" دو سے ایک کا سفر" ایک ایسا ہی سفر ہے جو آپ کو مطالعہ قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ صوفیاء کے اقوال کی روشنی میں سنت کی پیروی کرتے ہوئے صراطِ مستقیم کا راہی بنا کر خود سپردگی کی اس حالت تک لے جاتی ہے جہاں آپ کی ہر سانس اللہ کی مرضی کے تابع ہوجاتی ہے جو کہ مقصودِ دینِ متین ہے۔

عائشہ خالد نے جس عمر میں یہ کتاب لکھی ہے عموماً یہ عمر ایسے کاموں کی نہیں۔ یہ تو ایک کھلنڈری عمر ہے۔ نت نئے کپڑے پہننے، سہیلیوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنے، خاندان کے ساتھ گھومنے پھرنے اور زندگی کی رنگا رنگیوں سے لطف اٹھانے کی عمر۔ لیکن حیرت ہے کہ اس عمر میں عائشہ نے ایسے مشکل موضوع پر ایسی شاندار کتاب لکھ ڈالی۔ جتنی بھی تعریف کروں کم ہے۔ قدرت نے مجھے اس کتاب پر مقدمہ لکھنے کا جو موقع عطا کیا میں سمجھتا ہوں وہ ایک قرض تھا جو قدرت نے اتارنے کا موقع دیا۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب میں بھی عائشہ ہی کی عمر کا تھا اور اپنے کالج کی تمام تر ادبی سرگرمیوں کا انچارج۔ ہمارے ایک استادِ ذی وقار پروفیسر ڈاکٹر فرید الدین احمد مرحوم ان تمام سرگرمیوں  کے چیف پیٹرن تھے۔ اتفاق ایسا کہ میں نے ان سے کلاس روم میں کبھی نہیں پڑھا تھا لیکن تمام سرگرمیوں میں ان کا دستِ راست تھا۔ جب شبانہ روز محنت کے بعد کالج میگزین کی اشاعت ہوئی، جس کا میں چیف ایڈیٹر تھا، تو استادِ ذی وقار نے میگزین کی جو کاپی

مجھے عطا کی اس پر جو لکھا وہ میں سمجھتا ہوں کہ ایک قرض تھا جو آج ادا ہوا۔ انہوں نے لکھا تھا کہ؛

" مطلوب الرسول قمر کےلئے جنہوں نے مجھ سے نہیں پڑھا لیکن مجھے ان کا استاد ہونے کا شرف حاصل ہے۔"

آج یہ قرض اتارنے کا موقع مل گیا۔

" مجھے عائشہ بیٹی کا استاد ہونے پر فخر ہے۔"

(مطلوب الرسول قمر)

 

اس کتاب میں، اس ناچیز نے، صرف اپنی رائے بیان کی ہے۔ ہر انسان کی اپنی رائے ہے۔۔۔ اگر چاہو تو اس سے اتفاق کرو اور چاہو تو اختلاف یہ تمہارا حق ہے۔۔۔diversity میں خوبصورتی ہےـــــــــ کسی کو بھی اس کی تحریر سے پرکھا نہ جائے۔۔۔اس وقت تم محض اس ناچیز کی تحریر کا مشاہدہ کیے ہو ئے ہو لیکن اس کے ہیچ اعمال کے شاہد نہیں۔۔۔!  

 

 

 

تصورِ واحدانیت

اس جہاں میں بلا شبہہ سب سے قادر و مطلق اگر کوئی ذات ہے تو وہ اللہ عزوجل کی ذات اقدس ہے جو کہ بانسبت ذات و صفات، وجود و قدرت الغرض ہر لہٰذ سے لا ثانی اور واحد و یکتا ہے اور اسی یکتائی کو اپنا ذریعہ تشخص بنایا ہے۔۔۔اسی کے ساتھ ساتھ شرک کو لا معافی اور ملعون قرار دیا۔۔۔آخر شرک و تصور دوئی سے اتنی حقارت کی وجہ کیا ہے۔۔۔؟  فرما دیا کہ جس نے کفر کیا اور حالتِ کفر میں مرا تو اس پر اللّٰہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔

اس سب سے پردہ اٹھانے کے لیے اولاً وحدانیت، یکتا، ایک۔۔۔قائدہ  الف کی حقیقت سے آشنا ہونا پڑے گا۔

واحد صفت کا حامل یعنی احد جس طرح با اعتبارِ صفت کسی قسم کی مشابہت کا مجاز نہیں ہو سکتا ہے اسی طرح سے اپنے وجود میں بھی کسی قسم کی غیر یکتائی کا متحمل نہیں ٹھہر سکتا ہے۔ ہر شے کا آغاز خود سے ہوتا ہے اور راہ درست ہو تو انجام  بھی آدمی

 

خود ہی ہوتا ہے۔۔۔اگر آغاز ہی درست نہ ہو تو انجام کیونکر بخیر ہو؟۔ جب تک کوئی چیز قانونِ احد پر قائم ہے کسی قسم کا اختلاف سر اٹھا نہ پائے گا وہ با اسم و صفت اور وجود ایک ہے۔۔۔اس میں نہ کوئی تفرق ہے نا کوئی تقسیم۔۔۔وہ ایک ہے۔

اس کے برعکس، تعداد باعث تفاوت و تقسیم ہے۔ مثلاً  فقط ایک نقطے کے اضافے نے محرم کو آلودہ کرکے مجرم بنا ڈالا اور احد کو خالق سے احمد مخلوق بنا ڈالا۔۔۔آخر لفظِ اللّٰہ کا راز حرف الف میں پوشیدہ کسی وجہ سے ہے۔۔۔اس سے مکمل مانوسیت ہمارے اختیار میں نہیں لیکن اس سے مکمل بیگانہ  باعث ہلاکت ہے۔۔۔مگر سواء یکتا کے یکتائی کو سمجھے کون۔۔۔؟رازِ احد سے احمد ہو واقف کیونکر۔۔۔؟ اندھیرا، اجالا کبھی ایک ہو سکے ہیں کیا؟

 

احد کا عاشق و محبوب احد

مجھے اکثر عوام الناس کی اللّٰہ سے یاری اور تصور ولایت کے متعلق انتہائی تعجب ہوتا ہے کہ جو بے جوڑ و لا مثل ذات ہے اس کی  ہمنشینی اتنا سہل ہے۔۔۔آخر کیونکر ہم یہ گمان کرنے کے مجاز ٹھہر سکتے ہیں۔۔۔؟ کیا بادشاہ کبھی گدا کا  ساتھی ہوا ہے؟ تو جو مالک و ملکِ مکان و لا مکان اور خالق کل موجودات ہے  اس کی  ہمنشینی اور ہمسری کیونکر آسان ہو۔۔۔؟جب دل کیا حاضر خدمت ہو ئے جب جی چاہا فراموش کر بیٹھے۔۔۔! اتنی انا تو کسی نادر و ضعیف میں بھی ہو گی۔۔۔اتنی بے اعتنائی اور دعوہ مسلمانی کا۔۔۔؟! احد کا ساتھی صرف احد ہی ہوا کرتا ہے۔ جو بے چارہ اپنے وجود کے تفرقہ سے آزاد نہیں وہ کیونکر ولایت کے درجے پر فائز ہو؟ کتنا ہی مزاحیہ خیز دعویٰ ہے۔۔۔جو شخص وجودی طور پر ہی ایک رائے کا متحمل نہیں وہ کیسے ایک مزہب پر قائم ہو۔۔۔؟ جب تک پانی کشتی سے باہر ہو وہ  تیری گی لیکن اسکے اندر داخل ہوتے ہی کشتی غرق ہو جاتی ہے۔۔۔اگر آئنہ توڑ دو تو ہر حصہ الگ عکس دیکھائے گا جبکہ جسدِ واحد ہی ایک عکس دکھانے پر قادر ہو گا۔

اسی تمثيل کی مثل وہی شخص اپنے محبوب کا منعكس ہو سکتا ہے جو کہ وجودی و اعتقادی لہٰذ سے یکتا ہو۔۔۔اور دوئی کا ایک مزہب کیونکر ہو۔۔۔احمق نقتہ نظر ہے۔۔۔! سائل اگر سوال کرے کے آپ کا وجود کیا ہے تو کیا کہیں گے؟ سیل، ایٹم، اورگن، ہڈی۔۔۔ All is absurd

اسی طرح سے اللّٰہ ربّ العزت نے اپنے عشاق کو ترغیب دیتے ہیں، اور ہم اللّٰہ کے رنگ میں رنگ گئے تو کیا اللّٰہ کے رنگ سے احسن کوئی رنگ ہے؟ اللّٰہ کی صبغت یکتائی اور اس کی  واحدانیت ہے، الغرض، اس کا محبوب اور عاشق بھی یکتا ہوا کرتا ہے، جو کہ حرفِ الف سے واقفیت کے بنا ممکن نہیں۔۔۔

 

تقاضائے عشق

عشق کا حق یہ ہے کہ عاشق محبوب کے رنگ میں اس طرح رنگ جائے اور اس طرز سے مسک ہو جائے کہ معشوق کے سواء اس کا کوئی وجود نہ ہورنگ۔۔۔ کوئی پہچان نہ ہو۔۔۔ وہ خود محبوب بن جائے۔۔۔آخر ابو منصور الحلاج نے بے جا نہ کہا، "اے اللّٰہ اگر میرے اور تیرے درمیان میں ہوں تو مجھے ہٹا دے" اہلِ نظر کے واسطے اس میں بہت بڑا سبق پوشیدہ ہے۔

عشق کی ڈیکشنری لفظ "میں" سے ناواقف ہے اسی وجہ سے عاشق لفظ میں، میرا، میرے لیے، وغیرہ سمجھنے سے قاصر ہے اور اس کو اس سے کوئی غرض بھی نہیں کیونکہ وہ "تو" کے منطق کو ماننے والا ہوتا ہے۔۔۔ محبوب کے سوأ اس کا کوئی مزہب کوئی منزل نہیں،  یہاں تک کہ اسکے وجود میں ما سواء محبوب کے کچھ باقی نہیں رہتا۔۔۔ تو نے مجھے اپنے اس قدر قریب کھینچ لیا کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ میں ہی تو ہوں۔۔۔ اگر آپ اللّٰہ سے اس کی   باران نعمت کے بعد مشکل گھڑی میں اس سے شکوہ کناں ہو جائیں تو یہ اللّٰہ سے محبت نہیں بلکہ نعمت و آسائش کا عاشق ہے۔۔۔Materialistic۔

اللّٰہ کے عاشق کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کس حال میں ہے۔ اسے بس ہر حال میں اللّٰہ چاہیے۔۔۔ہر ایک کا آزمانے کا اپنا طریق ہوتا ہے اسی طرح اللّٰہ کا بھی اپنے عشاق ہونے کے دعویداروں کے لیے اپنا طرز ہے۔ اللّٰہ جب کسی سے محبت کرتا ہے تو اسے آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے یہ دیکھنے کے لیے کہ بندہ حقیقی معنوں میں عاشقِ خدا ہے یا عاشقِ آرائیش۔۔۔؟ لہٰذا اللّٰہ سے دعویٰ حب سے پہلے ایک مرتبہ ضرور سوچ لیں۔۔۔عشق کم ہمتوں کے لیے نہیں۔۔۔آج تک کوئی دل نہیں جو راہِ عشق سے سالم لوٹا ہو۔۔۔عشق ٹوٹے دل کا مسکن ہے جو دل کے ٹوٹے دراڑوں سے ہی داخل ہوسکتا ہے

بے جا نہیں کہ شیخِ اکبر محی الدین ابن العربی نے فرما دیا اگر دکھ اللّٰہ عزوجل کا سب سے خوبصورت تحفہ نہ ہوتا تو وہ ہر گز اپنے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیتا ۔۔۔اللہ حکیم ہے اور اس  کا کوئی امر ایسا نہیں  جو حکمت سے خالی ہو۔۔۔افسوس کہ ہم ہی اس کی  پوشیدہ حکمت جاننے سے قاصر ہیں۔۔۔

عشق شدم بی خبر حزن

عشق تو ساختهم غم ستون

میں جب میدانِ عشق میں آئی تو غم سے بے خبر تھی۔ پھر تیرے عشق نے مجھ کو غم کا ستون بنا دیا۔۔۔

 

صبر اور توکل

عشق بنا صبر و توکل کے ممکن نہیں۔ دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔۔۔ صبر ثبوتِ عشق، جبکہ توکل کنجی ہے صبر کی۔۔۔ لہٰذا بن توکل صبر نہیں۔۔۔ شمس تبریز فرماتے ہیں کہ، صبر کے معنی ہیں کانٹے کو دیکھ کر گلاب کا سوچنا، رات کو دیکھ کر دن کا سوچنا۔۔۔۔ یہ صرف اور صرف دور اندیش ہی کرسکتا ہے جسے یقین ہو کہ ہر خزاں کے بعد ایک وقت بہار کا بھی ہے۔۔۔ رات خواہ کتنی ہی تاریک و طویل ہو، ایک روز صبح و طلوع آفتاب کا بھی ہے لیکن جو شاخ فصلِ خزاں میں درخت سے علیحدگی اختیار کر لے، اسکے واسطے کوئی بہا نہیں۔۔۔

ع پیوستہ رہ شجر سے امید   بہار رکھ

اللّٰہ سے محبت رکھنے والا، اس بات سے بخوبی واقفیت رکھتا ہے کہ دنیائے فانی کے عارضی خزاں کے بعد آخرت کی دائمی بہار ہے۔۔۔ اور حیاۃ الدنیا بے شک صریح دھوکا ہے!۔۔۔تو کیا آپ اس دھوکے میں پڑنا چاہتے ہیں یا نہیں۔۔۔؟ جاننے کے باوجود دھوکے  میں پڑنے والے  کے لیے، ان للہ کے سواء اور کچھ نہیں کیا سکتا ہے۔۔۔!

توکل کے دو پہلو ہیں۔۔۔ توکل اور رجاء۔ توکل، از جانب اعمالِ صالح کی مکمل کاوش کرنا اور اللّٰہ سے اس کاوش کی قبولیت اور احسن انجام کا حسنِ ظن کھنا، یہ طریقِ مومن کا ہے۔ اسکے برعکس کچھ کیے بغیر ہی جنت کی امید لگانا رجاء کے زمرے میں آتا ہے۔ اس کی  سخت مذمت کرتے ہوئے اللّٰہ فرماتا ہے، کیا وہ لوگ جنہوں نے اعمالِ سیّات کیے گمان رکھتے ہیں کہ انکا انجام انہی کے مثل ہو گا جنہوں نے اعمالِ نیک کیے۔۔۔؟  بہت برا ہے جو یہ گمان رکھتے ہیں۔۔۔!

لہٰذا وہ لوگ جو کچھ کیے بنا ہی آس لگائے بیٹھے ہیں اور اس کو اپنا اور اللّٰہ کا معاملہ ظاہر کرتے ہیں انکے لیے بہتر ہے کہ اللّٰہ کا فیصلہ جان لیں۔۔۔ اور تم اللّٰہ کی سنت میں ہرگز تغیر نہ پاؤ گے۔۔۔

عمل سے بنتی ہے زندگی جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ نناری

 

سیپ کے موتی

(۱)

دنیائے بے ثبات کا مزاج ہے کہ جو شے وافر مقدار میں ہو، اس کی قیمت، اس کے بل مقابل کہیں کم ہے جو کہ بنسبت مقدار میں قلیل و پوشیدہ ہو اور اس کا حصول مشکل ہو۔۔۔اسی طرح، اللّٰہ کا بھی ایک خاص امتیاز ہے۔۔۔جو عمل اس کی  خاطر خاموشی سے بجا لایا جائے اس سے کہیں بیش بہا ہے، جس کی شاہد اعوام الناس ہو۔۔۔ جس کی آفرین اور داد کے واسطے لوگوں کی کثیر فہرست ہو۔۔۔اللّٰہ جس طرح ہر زاویے سے اصول احد کا تائید ہے عشق میں جسی طرح کی شراکت داری کو برداشت کرسکے گا۔۔۔؟ حسانات چپکے سے کیے جاتے ہیں جبکہ احسانات اعلانیہ کیے جاتے ہیں۔۔۔اگر حسانات میں کسی اور کو بھی رازدار بنایا جائے تو گویا الف کا اضافا یعنی لفظِ حسانات کی آلودگی احسانات کے تغیر و تحقیر  کی صورت میں۔۔۔ اور اللّٰہ احسان جتانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔۔۔اگر ہم احسان جتانے والوں کو کم ظرف مانتے ہیں تو

 

اللّٰہ کیونکر محبت کرے گا۔۔۔!آخر اللّٰہ عزوجل کو ہم نے سمجھ کیا رکھا ہے۔۔۔؟!

اسی طرز سے، ہمارے انسان ہونے کے ناطے ایموشن ہوتے ہیں۔ جہاں ہر میدان میں ملّا اور مجاہد کی اذاں منفرد ہو احساسات کے معملات میں یکسوئی کیونکر ہو۔۔۔؟ مضبوط کردار کے معنی محض افسردگی میں نالہ و شکوہ کناں ہونے کے نہیں۔۔۔صبر تو اس سے کہیں وسیع پیمانے کا ہے۔۔۔ یہ بلا شبہ کم ہمتوں کا شیوہ نہیں۔۔۔ ہرگز نہیں۔۔۔! مولانا روم فرماتے ہیں، باش چو شطرنج روان خامش و خود جمله زبان۔۔۔ شطرنج کے کھلاڑی کی طرح خاموش ہو جاؤ! ۔۔۔ شطرنج میں دلچسپی رکھنے والوں کو خوب علم ہے کہ جس طرح آپ شکست کے دوران ظاہر نہیں ہونے دیتے اسی طرح جیتے وقت بھی مسرت دل میں پیوست کیے یوتے ہیں ہیاں تک کہ۔۔۔ شے۔۔۔!

جو شخص ہر بات پہ رونا دھونا شروع کر دے، اس کی  گریا کی اہمیت کم ہونے لگے گی۔ بلکل اسی طرح، اہلِ ایمان بھی زبان بندی کے رسم کے تائید ہوتے ہیں۔۔۔ جب محبوب سمیع البصیر ہو تو کیونکر کسی اور سے اظہار کی ضرورت۔۔۔؟ اگر اللّٰہ سے اظہارِ

 

خیال یا کتھارسیس نہیں ہو پاتی، تو جان جائیں، اللّٰہ آپکا محبوب نہیں۔۔۔عاشق تو معشوق کی رگ رگ سے واقف ہوتا ہے۔۔۔آپ بھلا کیسے عاشق ہوئے جو محبوب کی آواز سننے سے عاجز ہیں۔۔۔؟ سب غلط فہمی ہے۔۔۔نہایت ہی قابلِ رحم ہیں، ایسے لوگ۔۔۔!

عشق کا مرکز دل ہے تو جو دل کی کیفیت سمجھے سے عاری ہو وہ کیونکر عشق کرسکتا ہو؟۔۔۔دل کا اپنا مزاج اور اپنی فطرت ہے۔۔۔اسے آپکی فطرت سے کوئی غرض نہیں لیکن اگر آپ اس کو سمجھے سے غرض نہیں رکھتے تو گویا موت کے پروانے پر دستخط کر دیے۔۔۔

 

(۲)

کچھ موتی اپنے بہا کے لہٰذ سے اس قدر نایاب و قیمتی ہوا کرتے ہیں کہ زمیں و آسماں کے تمام تر خزائن ان کے بل مقابل ہیچ ہو جاتے ہیں۔ یہ اپنے اندر ایسی ٹھنڈی تاثیر رکھتے ہیں کہ آتشِ دوزخ کو ایک ہی بوند سے نابود کردیں۔ آخر اس قدر بیش بہا موتی کہاں سے میسر ہوں۔۔۔؟

یہ آنسو عاشق ہے، جسکا مادہ دل کی آتشِ فراق میں بھنا اور روح کی مسلسل تڑپ و گریا سے تیار ہو۔۔۔ جسے فراق یار نے جلایا ہو، اس کو آتشِ جہیم بھی ٹھنڈی لگے اور جس نے اس آگ سے دامن بچا لیا وہ صبح و شام نظرِ آتش کرنے کو تیار رہے۔۔۔

کیا ایک بار کا مرنا ہر لمحے جلنے سے بہتر نہیں۔۔۔؟ کیا ایک دفع کی موت ہمیشہ کی موت سے بہتر نہیں۔۔۔؟ تو اس سب میں سوچنا کیسا؟

عاشق کا ایک آنسو گریا کے دس ہزار سال سے بہتر ہے، زہن نشین کر لیجئے، عشق مقدس جزبہ ہے، جو کہ ہر قسم کی ریاکاری سے پاک ہے تو عاشق کے آنسو میں دکھاوا کیسا۔۔۔؟

عاشق کے آنسو تین قسم کے ہوتے ہیں:

۱) انتظارِ یار کے آنسو جو کہ دورِ فراق میں وقتِ وصال تک جاری رہتے ہیں۔ یہ سب سے زیادہ اذیت ناک ہے۔ ابو القاسم قشیری لکھتے ہیں:

فأحيا بالمني وأموت شوقاً

فكم أحيا عليك وكم أموت

میں امید کے ساتھ زندہ ہوا  اور انتظار کے ساتھ مرتا ہوں

میں تمہارے لیے کتنی بار زندہ ہوں گا اور کتنا مروں گا؟

آخر کیوں گریا یعقوب کو اتنی برتری اور مقام و منزلت سے نوازا گیا۔۔۔؟ یہ انسان کہ مومن سے عاشق، ملّا سے مجاہد، سونے سے کندن۔۔۔الغرض دو سے ایک بناتا ہے۔ لیکن اس سے قبل عاشق کو دو اور نایاب موتیوں کا سامان کرنا ہوتا ہے اور وہ ہیں:

۲) آنسو کی دوسری قسم، شرمندگی اور ندامت سے نکلنے والے گوہر ہیں۔ جب ہم کوئی گناہ سرزد کرتے ہیں، تو ہمارے دل میں ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے، جو کہ دل میں نجاست و کینہ کو پروان چڑھاتا ہے۔ اس سیاہ داغ کو دھونے کے واسطے دل خون کے لیے، دل روتا ہے، جو کہ آنکھ کی سیپ سے موتی کے اخراج کا سبب بنتا ہے۔ اب داغ جتنا گہرا آنسوؤں کی لاگت اسی کے لہٰذ سے ہو گی، تو انکی روانگی پر جشن منائیں، کہ یہ ہر کسی کے نصیب میں نہیں۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اللّٰہ جسے بخشنے کا ارادہ کرتا ہے صرف اسے توبہ کی توفیق عطا کرتا ہے

۳) اس کے بعد کا موتی جزبہ خیرخواہی سے آتا ہے۔۔۔اس سے قطع نظر کہ وہ آپ کے ساتھ کیسی روش کا متحمل ہو۔ انسان اپنے اندر کا منعکس ہوتا ہے، اگر کسی کے اندر برائی ہو، وہ بے چارہ اچھائی کیونکر کرے۔۔۔اس کی  اپنی شخصیت ہے اور آپکی اپنی۔۔۔صرف ضعیف شخصیت کے حامل پر ہی دوسروں کی روش اثر انداز ہوا کرتی ہے۔

 

وجہِ رنج

کوئی بھی ایسا ابرہیم نہیں گزرا، جسے راہِ عشق میں اپنے اسماعیل کی قربانی نہ دی ہو۔ ہر انسان کے واسطے اس کا اسماعیل اور نوعیت قربانی اسماعیل منفرد ہے، جسے عاشق، محبوب کے حصول کے واسطے، قربان کرنے میں زرا بھی دریغ نہیں کرتا۔ ہمارے سر پہ جس کا خیال غالب رہتا ہے، وہی ہمارے لیے سب سے اہم ہوتی ہے۔ اگر آپ کو معلوم کرنا ہو کہ کیا چیز آپ کو سب زیادہ اہم ہے، تو اپنے تخیل پر غور فرمائیے، کہ آپ کا شعور و لاشعور کس کی یاد میں صرف ہے۔۔۔ محبوب کو کسی صورت گوارا نہیں، کہ اسکے عاشق کے سر پہ اسکے سوا کوئی اور سوار ہو تو وہ اسی کی قربانی کا متمنی ہو جاتا ہے۔ عاشق کو  اپنے قول کی تصدیق کے لیے اسماعیل کے گلے پہ خنجر چلانا پڑتی ہے۔ یہ ممکن نہیں، کہ کوئی راہِ عشق میں بدلا نہ ہو۔ عشق آپکے باطن سے تغیر کا سوال کرتا ہے۔ اور رنج کے بغیر کیونکر ممکن ہو۔۔۔؟ عاشق کے لیے، سب سے کڑا امتحان محبوب کی جدائی ہے۔ اب اس کے دو ہی طرز ہیں، جن میں سے ایک اپناتا ہے۔

  • فراق یار میں دن و رات ایک کردے، اور اپنا تمام تر وقت اس کی یاد میں صبر و استقامت اور اس کو منانے کے لیے گریا کرے۔ جدائی اپنا طرز رکھتا ہے، اور اسالیبِ بیان سے بخوبی واقفیت رکھتا ہے۔ یہی ہمیں عاشق بنا کر محبوب کو منانے کے واسطے مختلف نت نئے انداز سکھاتا ہے۔ یہ اندر کے الفاظ جب ظاہری وجود سے قلم بند ہوتے ہیں تو اپنے اصل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ وہ اصل ہے جس کو ہم فراموش کر دیں تو غافل اور پا لیں تو عاشق کہلاتے ہیں۔۔۔اسی کو پہچاننے کے واسطے ہمیں غم و رنج سے گزرنا پڑتا ہے۔۔۔ سونا جب تک پگلے نہ کندن کیسے بنے گی۔۔۔؟ عشق عاشق کو جلا جلا کر ایسی آگ بنا دیتی ہے جسے کوئی آگ نہ جلا سکے۔۔۔ اسی کو کہتے ہیں موت کے بعد زندہ ہونا

عزلت نفسي الشوق لك

غرقت روحي في حزنك

هل هذه تمنيك لك

وجع قلب الحبيب لك

أنا مقيد بالحب لك

أنا لا شيء بدونك

أنت حبي لا أحد سواك

كيف لى ان اعيش بدونك

That’s the end of the free sample

You have read 12% of دو سے ایک کا سفر - Do se Aik ka Safar- Best Urdu Islamic Book. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Isabel Ayesha Khalid earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 500

See all editions, reviews and details

دو سے ایک کا سفر - Do se Aik ka Safar- Best Urdu Islamic Book Buy — Rs 500