12% of the book — free to read

الفاظ کی طاقت
الفاظ، یقین ، اخلاق اور سوچ کے ساتھ زندگی کا سفر
مصنفہ
طوبیٰ ایمن

داستان پبلشرز
کاپی رائٹ ۲۰۲۲ء داستان
جملہ حقوق بحق مصنفہ اور ناشر محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر
چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں
میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
مدیرہ: نرمین سرھیو
سرورق: طوبیٰ ایمن
اشاعت اوّل: ٢٠٢۲ء
978-969-696-744-6 آئی ایس بی این:
مطبع: پکسلز پرنٹنگ سولیوشن
ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان
www.daastan.com
اظہارِتشکر
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ پوری دنیا کا خالق ہے۔ بے پناہ حکم و دانائی کا بادشاہ ہے۔ میں اللہ کی بہت شکر گزار ہوں کہ اس کی بے پناہ رحمت اور فضل کے بغیر میری ذات اور یہ کتاب کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ کتاب اللہ کی توفیق ہے اور اسی کی کرم نوازی اور رحمت کی وجہ سے میں یہ کتاب میں لکھ پائی ہوں۔ اس میں لکھا گیا ایک ایک لفظ سب کی بھلائی کی نیت سے ہے۔ اگر اس میں کوئی بھی کوتائی ہوئی ہو تو وہ ہم انسانوں کے انسان ہونے کی دلیل ہے۔
اس کتاب کے لیے میں اپنے والدین اور اہل خانہ کی بے حد مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھے وہ ذہنی و قلبی سکون فراہم کیا جس کی وجہ سے میں اپنی سوچ اور سمجھ کے ساتھ یہ کتاب لکھ سکی۔ میں شکر گزار ہوں ان سب کی جنہوں نے مجھے برے وقت میں آگے بڑھنا سکھایا اور ہر برے وقت میں میری اصلاح کی۔
میری دعا ہے کہ اللہ اس کتاب میں برکت ڈال دے اور اپنے تمام قارئین کو مثبت انسان بننے، با اخلاق اور با آداب انسان بننے، دنیا اور آخرت کی بھلائی کے لیے جدوجہد کرنے والا انسان بنا دے۔ آمین!
انتساب
میرے والدین کے نام
جنہوں نے زندگی کے ہر قدم پر میری رہنمائی کی۔
مجھے نظم وضبط کے ساتھ جینا سکھایا۔
مجھے بے لوث محبت اور خود اعتمادی سے نوازا۔
میں اپنے والدین کی بہت شکر گزار ہوں کہ،
انہوں نے مجھے زندگی کا وہ سبق دیا،
جس نے میری زندگی کے حقیقی مقصد سے مجھے روشناس کروایا۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ میرے والدین کو لمبی اور صحت و تندرستی والی زندگی عطا کرے اور ان کا سایہ ہمیشہ میرے سر پر قائم رکھے۔ آمین!
فہرست
تعارف
میری یہ کتاب الفاظ کی طاقت کے متعلق ہے۔ الفاظ کا استعمال تو ہم سب جانتے ہیں لیکن ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو الفاظ کے اثرات کے متعلق نہیں جانتے اور اگر جانتے بھی ہیں تو اس پر عمل نہیں کرتے ہیں۔ "الفاظ" سننا تو بہت معمولی سا لگتا ہے۔ شاید کسی کو لگتا ہو کہ الفاظ ہی تو ہیں لیکن یہ الفاظ کیا کیا کر سکتے ہیں یہ ہم نہیں جانتے۔ آج کل انہیں الفاظ کی وجہ سے ہی ہماری زندگیاں اتنی مشکل ہیں۔ انہیں الفاظ کی وجہ سے ہی ہمارے رشتے کمزور ہیں اور محبت کہیں چھپ گئی ہے۔ اپنی زندگی کو آسان بنانے کے لیے ہمیں الفاظ کی طاقت اور اس کے اثرات کا علم ہونا بہت ضروری ہے۔ میری اس کتاب میں الفاظ کے وہ تمام پہلو میں نے بیان کیے ہیں جن کا علم ہونا ہمارے لیے ضروری ہے اور ہر شخص کو اس کا علم ہونا بھی چاہیے۔ امید کرتی ہوں کہ میری یہ کتاب آپ سب لوگوں کے لیے پڑھنا بہتر ثابت ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ بہت سے لوگوں کو میری اس کتاب سے اپنے رشتوں میں اور اپنی زندگی میں بہتر سے بہترین ہو سکیں۔
تو چلیں جانتے ہیں الفاظ کے متعلق، کہ الفاظ کیا ہیں؟
الفاظ کی طاقت کیا ہے؟
کیا الفاظ واقعی طاقتور ہوتے ہیں؟
ہماری لسانی صلاحیت ہماری صلاحیتوں اور صلاحیتوں کے دائرہ کار میں ہماری وضاحت کرنے میں کیوں مدد کرتی ہے؟ ہم الفاظ اور ان کی طاقت کو اپنے فائدے کے لیے کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟
ہم اپنی زبان کے ساتھ جو انتخاب کرتے ہیں وہ ہماری زندگی کے پیرامیٹر طے کرتے ہیں۔ ہمارے پاس اظہار کی مہارت ذاتی اور پیشہ ورانہ طور پر کامیاب ہونے کی ہماری صلاحیت کے بہت سے پہلوؤں میں حصہ ڈال سکتی ہے۔ الفاظ میں اصل طاقت ان کے معنی اور اس کی تشریح ہے اور زندگی کی اصل طاقت بھی یہی ہے۔
مطلوبہ معنی کے عین سایہ کو ظاہر کرنے اور کسی جملے یا جملے کی تال کی ساخت میں فٹ ہونے کے لیے کسی لفظ کی تاثیر ہی اس کی تشریع کرتی ہے۔
الفاظ میں توانائی اور طاقت ہوتی ہے جس میں مدد کرنے، شفا دینے، رکاوٹ ڈالنے، تکلیف پہنچانے، نقصان پہنچانے، ذلیل کرنے اور عاجزی کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اس طاقت کے بارے میں سوچیں جو ہم استعمال کرتے ہیں اور اگر ہم اپنی ذات کی حوصلہ افزائی کے بارے میں مزید سوچیں تو ہم کیا اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ صحیح الفاظ تمام تر چیزوں کا فرق کرتے ہیں۔
الفاظ، جب کہے اور صحیح طریقے سے بیان کیے جائیں تو وہ کسی کا بھی ذہن بدل سکتے ہیں۔ وہ کسی کا عقیدہ بدل سکتے ہیں۔ آپ کسی کو زندگی کی کچی بستیوں سے نکال کر کامیاب انسان بنانے کی طاقت رکھتے ہیں یا صرف اپنے الفاظ استعمال کر کے کسی کی بھی خوشی کو تباہ کر سکتے ہیں۔ کیا یہ سچ ہونے کے لئے تھوڑا بہت اچھا لگتا ہے؟
'لفظ' کا سادہ انتخاب کسی کے آپ کے پیغام کو قبول کرنے یا انکار کرنے کے درمیان فرق کر سکتا ہے۔ آپ کے پاس کہنے کے لیے ایک بہت ہی خوبصورت بات ہو سکتی ہے، لیکن اسے غلط الفاظ میں کہو گے تو اس کا اثر ختم ہو جائے گا۔ الفاظ میں طاقت ہوتی ہے۔
وہ تباہ اور تخلیق کر سکتے ہیں۔کبھی کبھی ایک لفظ سب کچھ بدل سکتا ہے۔
کیا آپ کو وہ الفاظ اور اچھے کام یاد ہیں جنہوں نے آپ کو جوان ہونے میں حوصلہ دیا تھا؟ وہ کون کون سا شخص تھا جس نے آپ کی زندگی میں بات کی؟ شاید کسی استاد، کوچ، یا کسی رشتہ دار نے، جنہوں نے اپنے الفاظ سے آپ کی زندگی کا رخ بدل دیا ہو، یہ سب کچھ صرف آپ سے بات کرنے کے انداز سے ممکن ہے۔ امید ہے کہ اس نے محبت اور قبولیت کے مثبت الفاظ کہے جس سے آپ کی حوصلہ افزائی ہوئی اور آپ کی زندگی میں مثبت تبدیلی آئی۔
اکیسویں صدی کے ایک یہودی ربی نے الفاظ کی طاقت کے بارے میں یہ حیرت انگیز بیان بتایا ہے
کہ۔۔۔۔۔۔۔
"الفاظ واحد طور پر انسانیت کے لیے دستیاب سب سے طاقتور قوت ہیں۔"
ہم حوصلہ افزائیT کے الفاظ کے ساتھ اس قوت کو تعمیری طور پر استعمال کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں یا مایوسی کے الفاظ کو تباہ کن طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ الفاظ ہماری طاقت بھی ہو سکتے ہیں اور ہماری کمزوری بھی ہو سکتے ہیں۔ اچھی طرح سے منتخب کردہ الفاظ کی طاقت دوسروں کو مطلع کرنے، کسی کی زندگی پر اثر انداز کرنے، کسی کو تعلیم دینے اور کسی کی تفریح کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔
الفاظ مواصلات کے مختلف طریقوں سے اندرونی اور بیرونی جذبات کی بھر پور تصاویر کو پیدا کر سکتے ہیں۔ مختلف کہانیوں، نظموں، مضامین وغیرہ میں الفاظ کی طاقتوں کا مؤثر اور جذباتی اظہار ہوتا ہے۔
الفاظ انسانیت کی طرف سے استعمال ہونے والی سب سے طاقتور دوا اور ہتھیار ہیں۔ الفاظ وہ ہیں جو ہم اپنے نفس یعنی اپنے آپ کے لیے، اپنے خیالات اور اپنے احساسات کے اظہار کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ہم اپنی زندگی کے ہر شعبے میں الفاظ کا استعمال کرتے ہیں اس لیے الفاظ کی طاقت بے پناہ ہے۔ ہم روزانہ تقریباً ہزاروں، لاکھوں الفاظ بولتے ہیں اور مختلف لوگوں پر الفاظ کا اثر بھی مختلف ہوتا ہے کیونکہ یہ ان کی سمجھ اور ان کے تصور پر منحصر ہوتا ہے۔
عام طور پر جب ہم کسی سے بات چیت اور اظہار خیال کرنا چاہتے ہیں تو الفاظ کو استعمال کرتے ہیں، الفاظ کے استعمال کے بغیر ہم نہ تو کسی سے بات کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اسی لیے تو الفاظ سب سے زیادہ طاقتور ہیں اور ان کا اثر بھی بہت گہرا ہے لیکن ان کا استعمال اتنا ہی آسان ہے۔
کسی دوسرے کے الفاظ ہمیں بہت سے طریقوں سے متاثر کر سکتے ہیں جیسے کہ ہمیں خوش کرنے، غمگین کرنے، جذباتی کرنے وغیرہ میں اور بہت سے طریقوں سے ہم پر اثر بھی ڈالتے ہیں۔ کچھ الفاظ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے استعمال سے اور ان کے اثر سے زندگی کو متاثر کیا جا سکتا ہے اور زندگی کو بدلا بھی جا سکتا ہے۔ الفاظ کو ہم کتنی ہی کثرت سے استعمال کریں یہ بہت اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ وہ زندگی کو تشکیل دے سکتے ہیں اور اس کو بدل بھی سکتے ہیں۔
الفاظ آج کی دنیا میں بقا کا ایک اہم زیور ہیں اور ان کا اظہار مختلف طریقوں اور اندازوں میں ہوتا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو ان الفاظ کے معنی کو سمجھنے کے لیے ان کو سیکھنے کی ضرورت ہے۔
" لفظ" سننے کو بہت ہی سادہ سا اور چھوٹا سا لگتا ہے لیکن ایک لفظ صرف حروف یا آوازوں کا مجموعہ نہیں ہوتا ہے بلکہ ایک ایسا ذریعہ ہے جو خیالات کو شکل دینے میں مدد کرتا ہے۔ ہم سب سوچتے بھی ہیں اور بولتے بھی ہیں۔ ہماری زبان ہمارے لیے خدا کا خاص تحفہ ہے۔ دنیا میں ہر شخص اپنے خیالات کے اظہار کے لیے کم از کم ایک زبان تو لازمی بولتا ہے۔
الفاظ رابطے کا شاندار ذریعہ ہیں، یہ ہماری زندگی کو تشکیل دیتے ہیں کیونکہ الفاظ میں وہ توانائی ہے جو سب بدلنے کی ہمت رکھتی ہے۔ ان کے معنی ایسے انتشارات کو قائم کرتے ہیں جو ہمارے روئیوں کو ترتیب دیتے ہیں، ہمارے کردار کو نیویگیٹ کرتے ہیں اور آخر کار ہماری زندگیوں کو قائم کرتے ہیں۔ الفاظ انتہائی طاقتور اوزار ہیں جنہیں ہم اپنی سوچ کو بنانے، ہمت کو بڑھانے اور اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، حالانکہ ہم اکثر ان الفاظ کے بارے میں ہوش میں نہیں ہوتے ہیں جو ہم بولتے، پڑھتے اور الفاظ کے ذریعے خود کو بے نقاب بھی کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ دوسروں کے الفاظ بھی ہماری زندگی کو آسانی سے متاثر کر سکتے ہیں۔
ہم بولتے یا لکھتے ہوئے اپنے خیالات اور احساسات کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ دماغ ہمارے خوبصورت خیالات کا ذریعہ ہے لیکن یہ خیالات اکثر غیر فعال اور مقفل رہتے ہیں۔ ہم ان خیالات کو الفاظ کے ذریعے اپنے دماغ سے نکال بھی سکتے ہیں۔
ہم الفاظ کا استعمال تاریخ کو شامل کرنے، فطری کائنات کی عکاسی کرنے کے لیے، اور یہاں تک کہ ان چیزوں کے عملی تصورات کو قابو کرنے کے لیے کرتے ہیں جو صرف تخیل میں غالب ہیں۔ الفاظ کے ذریعے ہی ہماری تاریخ کے اہم اہم واقعات کو ہم جاننے اور ان کو پڑھنے کا شعور رکھتے ہیں۔ صدیوں سے لیکر اب تک الفاظ کو اتنا اہم سمجھا جاتا ہے کہ وہ زندگیاں بنا بھی سکتے ہیں اور تباہ بھی کر سکتے ہیں۔
الفاظ نہ صرف خیالات کا آلہ ہوتے ہیں بلکہ ان پر قابو کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنے الفاظ کا انتخاب دوسروں سے بات کرنے سے پہلے احتیاط سے خود کرنا چاہیے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو الفاظ ہم اپنے لیے بولتے ہیں وہ مثبت، مہربان، اچھے، حوصلہ افزا اور سکون بخش ہونے چاہئیں کیونکہ زندگی میں کامیاب ہونے کی ہمت سب سے پہلے آپ کو خود سے ہی ملتی ہے۔ الفاظ کسی کی بھی زندگی کا رخ بدل سکتے ہیں۔
ایک لفظ کسی بھی خاندان، معاشرے یا ملک میں امن و سکون کو بنائے رکھنے یا اسے تباہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ بعض الفاظ بہت زیادہ خطرناک ہوتے ہیں، اس لیے ان کا انتخاب دانشمندی سے کرنا بہت ضروری ہے۔
********
زندگی میں ہونے والے واقعات پر الفاظ کا اثر
اپنے منہ سے الفاظ نکالنے سے پہلے ان کا ذائقہ خود ضرور چکھ لیا کریں۔ باز الفاظ تو بہت زہریلے ہوتے ہیں کسی بم کی طرح گرتے ہیں۔ امیدوں کو، تمناؤں کو، حوصلوں کو تباہ برباد کر دیتے ہیں۔
"Words have energy & power"
الفاظ بہت زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ الفاظ توڑ بھی سکتے ہیں اور بنا بھی سکتے ہیں۔ یہ الفاظ پر منحصر کرتا ہے کہ یہ بنا دیں یا توڑ دیں۔ الفاظ زخم بھی کر سکتے ہیں اور زخموں کے لیے مرحم بھی بن سکتے ہیں۔ اپنے الفاظ کے ذریعے چاہیں تو آپ پھول کھلا دیں یا کھلے ہوئے گلستان کو ویران کر دیں۔
اپنی گفتگو میں نظم و ضبط لے کر آئیں۔ ادب والے اور اچھے الفاظ کا انتخاب کریں۔ ایسے الفاظ کا استعمال کریں جن میں عاجزی اور شائستگی ہو۔
قابل اور سمجھدار انسان کی پہچان ان کے نپےتولے الفاظ ہی تو ہوتے ہیں۔ تو کبھی بھی اپنے موڈ کو اور مزاج کو آپس میں مت ملائیں۔ شدید غصے میں بھی اچھے الفاظ کا انتخاب کریں۔ غصے میں اکثر انسان اپنے الفاظ پہ غور نہیں کرتا جو وہ استعمال کرتا ہے۔ غصے میں انسان کچھ بھی بول دیتا ہے اور غصہ ختم ہونے پہ اپنے ہی بولے الفاظ پر شرمندہ ہوتا ہے۔
یاد رکھیں مزاج نیچے آجائے گا لیکن یہ الفاظ پکا نشان چھوڑ جاتے ہیں۔ زبان سے ایک بار نکلے الفاظ کبھی واپس نہیں لیے جا سکتے ہیں۔ اچھے اور مثبت الفاظ ایک سرمایہ کاری ہیں جن میں خرچہ کوئی نہیں لگتا ہے۔ اس میں صرف نفع ہی نفع ہوتا ہے۔ ان کا منافع بہت زیادہ اور دیر پا ہوتا ہے۔
بالخصوص وہ الفاظ جو آپ اپنے آپ کو کہتے ہیں یہ بہت اہم ہوتے ہیں۔ اپنے آپ کو کبھی بھی تنقید کا نشانہ مت بنائیں۔ اپنے آپ کو ملامت کرتے رہنا آپ کے حوصلے کو گرا دیتا ہے۔ کبھی دوسروں کی نظر سے اپنے آپ کو مت دیکھیں۔ کبھی یہ مت بولیں مجھے یہ کام کرنا نہیں آتا بلکہ یہ بولیں میں یہ کام کرنا سیکھ لوں گا۔
ہماری زندگی میں ہونے والے تمام واقعات، ان کے معنی کا تعین کرنا، اور با اختیار معنی تلاش کرنے کا انتخاب کرنے کی ہماری ذمہ داری، یہ کچھ ایسی اہم ترین چیزیں ہیں جنہیں ہم کبھی بھی سمجھ سکتے ہیں۔
اگر ہم غیر طاقت بخش معنی کا انتخاب کرتے ہیں تو یہ ہمارا انتخاب ہے اور اگر طاقت بخش معنی کا انتخاب کرتے ہیں تو یہ بھی ہمارا ہی انتخاب ہوتا ہے۔
الفاظ اور ان سے نکلنے والے معنی ہماری زندگی پہ بہت اثر کرتے ہیں اب یہ ہم پر منحصر کرتا ہے کہ ہم اچھے کا انتخاب کرتے ہیں یا برے کا۔
جب ہمارے ساتھ زندگی میں کچھ بھی ہوتا ہے، تو ہم شعوری طور پر اس کے پیچھے مثبت یا منفی معنی کی بنا پر اپنے فیصلے کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ کسی چیز کے بارے میں ہمارا پہلا رد عمل ہمیشہ شعوری نہیں ہوتا، لیکن پھر بعد میں جب ہم اس کو سمجھتے ہیں تو ہم اس میں اپنا قدم رکھ سکتے ہیں اور معنی کو دوبارہ ترتیب دے سکتے ہیں اور یہ ہمارے شعور میں ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر، اگر ہم کہتے ہیں کہ آپ امتحان میں ناکام ہو گئے ہیں۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ناکام انسان ہیں؟
بالکل بھی نہیں اس کا مطلب یہ ہو گا کہ آپ کو کامیاب ہونے کے لیے ابھی اور محنت کرنی ہے۔
اگر ہم کہتے ہیں آپ امتحان میں کامیاب ہو گئے ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اب آپ ان تمام چیزوں کو جان گئے ہیں اور ان تمام چیزوں کا علم رکھتے ہیں جن پر آپ کو بہتری لانے کے لیے محنت کرنے کی ضرورت ہے؟
اس کا تعین کرنا ہم پر منحصر کرتا ہے اور یہاں تک کہ ہم ابتدا میں ناکامی کو محسوس کرتے ہیں لیکن آگے چل کر ہم کامیابی میں قدم رکھ سکتے ہیں اور اپنی ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کر سکتے ہیں سوچنے کی بات یہ ہے کہ اندرونی طور پر ہمارے لیے ناکامی کا کیا مطلب ہے۔
زندگی میں ہونے والے واقعات کو لے کر ہماری سوچ کیا ہے؟ اور کیسے ہم اپنی زندگی کے تقریباً تمام واقعات کی مثبت تشریح کر سکتے ہیں؟
کچھ اسے کامیابی کی تلاش یا ان تھک رجائیت پسندی بھی کہتے ہیں۔
جب ہم بولتے ہیں، لکھتے ہیں، سوچتے ہیں، یا بصورت دیگر ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جو کسی ایسی چیز میں مشغول ہوتے ہیں جس کا ہمیں خیال رکھنا چاہیے۔ ہماری دنیا میں الفاظ کی طاقت ناقابل تردید ہے۔
ہماری لسانی قابلیت ہمیں عظیم چیزوں کو حاصل کرنے یا اپنی زندگیوں سے مایوس رہنے کے راستے پر ڈال سکتی ہے۔ پر یہ ہم پر منحصر کرتا ہے کہ ہم کون سا راستہ اپنے لیے اختیار کرتے ہیں۔
لمحہ بہ لمحہ ہم اپنی زبان کا استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ ہم اپنی پرورش سے وہی لیتے ہیں جو ہم جانتے ہیں جس کا ہمیں علم ہے اور جو ہمیں سکھایا جاتا ہے، جو ہم اپنی زندگی میں باقاعدگی سے دیکھتے اور سنتے ہیں۔ وہ الفاظ جو ہم سنتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کو استعمال کر کے ہم اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ ان الفاظ کے انتخاب میں کافی فعال کردار ادا نہیں کرتے ہیں۔ وہ الفاظ جن کا ہم اظہار کرتے ہیں اور جو ہماری زندگی میں آتے ہیں اور ہم پہ اثر انداز ہوتے ہیں اور ہماری اصلاح کرتے ہیں۔ ہم اکثر کسی نہ کسی سے بے پناہ باتیں کرتے ہیں اور اپنے زبان سے نکلنے والے الفاظ پر غور کیے بغیر بولتے ہیں۔ اکثر ہم دوسروں کے الفاظ کی طاقت کو خود پر اثر انداز ہونے دیتے ہیں اور خود میں ہر قسم کی جذباتی توانائی لاتے ہیں جو ہمیں متاثر کرتی ہے۔
یہ ہم پر منحصر کرتا ہے کہ کیسے ہم اس تناؤ کے لمحے میں چیزوں کو دھندلا کر سکتے ہیں یہ ہماری اندر کی ہمت اور سمجھ ہے کہ الفاظ کے منفی اثرات کو ہمیں کیسے ہضم کر کے زندگی میں آگے بڑھنا ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگ الفاظ کی طاقت کا شکار ہیں۔ لوگوں سے ایسے الفاظ سنتے ہیں جو منفی اثرات رکھتے ہیں اور ان کو اپنی سوچ میں شامل کر لیتے ہیں۔ پھر زندگی میں ہونے والے مثبت لمحات سے بھی قاصر رہتے ہیں۔
ہم میں سے اکثر زبان کے قوانین کو سمجھے بغیر زندگی کی مشقت میں غیر فعال طور پر حصہ لے رہے ہیں تو کچھ سمجھتے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم زیادہ سے زیادہ اظہار خودی اور خود سے محبت کی بنیاد کے طور پر اپنی ذخیرہ الفاظ کی تعمیر اور توسیع پر توجہ مرکوز کر سکتے ہیں۔ احتیاط سے یہ چننا کہ ہم کن الفاظ کا اظہار کرتے ہیں اور کس جذباتی قوت کے ساتھ ان کو منتقل کرتے ہیں۔ یہ چیز بہت اہم ہے، اس بات کا خاص خیال رکھنا کہ ہمارے الفاظ لوگوں پر کیا اثر کرتے ہیں۔
دوسری طرف یہ کہ دوسروں کے الفاظ ہم پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں اس کے لیے ہمیں اپنی چوکسی میں بھی سرگرم رہنا چاہیے۔ ہم اپنے جذباتی تاثرات کی بنیاد پر دوسروں کے الفاظ کی غلط تشریح کر سکتے ہیں۔ لیکن ہم دوسروں کے غلط الفاظ کو خود پر برداشت بھی کر سکتے ہیں کہ ہم اس کو بے نقاب نہ کریں اور اندرونی طور پر اس کو ظاہر بھی نہ کریں اور اپنے آپ پر اثر انداز بھی نہ ہونے دیں۔
الفاظ کے اکثر ایک یا ایک سے زیادہ معنی ہو سکتے ہیں، جیسے کسی امتحان میں ناکام ہونا۔ تاہم الفاظ میں وہ متحرک حد اور خرابی نہیں ہوتی جو ہماری زندگی کی تشریح کرتی ہے۔ ایک پھول کی تعریف پورے درخت کی تعریف سے مختلف ہے اور کوئی بھی اسے تبدیل نہیں کر سکتا۔ لہٰذا ہمارے پاس الفاظ کے مقابلے میں واقعات سے با اختیار معنی کا تعین کرنے کے لیے زیادہ صلاحیت ہو سکتی ہے۔ کبھی کبھی کچھ الفاظ کا مطلب ایک ہی ہوتا ہے اس کا مطلب کسی اور لفظ سے بدلا نہیں جا سکتا جیسے کہ بدصورت کا مطلب بدصورت ہوتا ہے، بدصورت کا مطلب کبھی بھی خوبصورت نہیں ہو سکتا ہے۔
الفاظ کی طاقت ان اوقات میں کام آتی ہے جب ہم اپنی حقیقت کی وضاحت کرتے ہیں۔ اپنی شناخت کو بیان کرنے کے لیے جو الفاظ ہم اپنے ذہنوں میں بار بار استعمال کرتے ہیں وہ ہماری زندگی کی سب سے طاقتور قوتیں ہیں۔
اگر ہم اپنے اندرونی مکالمے میں مسلسل خود کو فرسودہ زبان بولتے ہیں تو ہم الفاظ کی طاقت کو اپنے خلاف کام کرنے دیتے ہیں۔ اپنے آپ کو یہ بتانا کہ ہم موٹے، کمزور، بیکار یا بیوقوف ہیں، اس سے ہم ہمارے تجربات سے مثبت معنی تلاش کرنے کی اپنی طاقت کو ضائع کر سکتے ہیں۔ اگر ہم خود کو کہتے ہیں کہ ہم بہت بیوقوف ہیں، تو جب ہم کسی امتحان میں ناکام ہو جاتے ہیں تو ہم شاذو نادر ہی اس تناظر کو دیکھ سکتے ہیں کہ اس ناکامی کو کامیابی میں بھی بدلا جا سکتا ہے۔
ہم اپنے عقیدے کی تصدیق کے لیے اسے استعمال کرنے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں کہ ہم بیوقوف ہیں۔ "دیکھو میں ناکام ہو گیا "۔ اس کے برعکس جب ہم خود سے کہتے ہیں کہ کوئی بھی مشکل آئے میں اس کو حل کر لوں گا تو بڑی سے بڑی مشکل سے بھی آپ با آسانی نکل سکتے ہیں۔
الفاظ طاقتور ہوتے ہیں۔ پھر بھی بہت سے لوگ ان کے نتائج کے بارے میں سوچے بغیر الفاظ کو بول دیتے ہیں اور کسی کی زندگی پر اس کے اثرات کے بارے میں سوچے بغیر الفاظ کو منہ سے نکال دیتے ہیں۔ یہ سمجھے بغیر کہ ان الفاظ کے سننے کے بعد دوسرے پہ کیا اثر ہو سکتا ہے۔ کسی سے ایک لفظ کہنے کے لیے صرف زبان کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لیے ہر کسی کا اپنا نقطہ نظر بالکل مختلف ہوتا ہے۔
آپ کے بات کرنے کے بعد اس شخص پر منحصر کرتا ہے کہ وہ آپ کی بات کو کیسے لیتا ہے۔ اس شخص پہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو دیکھنے کے انداز کو بدل دے یا وہ آپ سے کیسے برتاؤ کرے۔کسی کا اپنے بارے میں مکمل تصور منٹوں میں بدلا جا سکتا ہے۔ الفاظ کی طاقت کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
اس کے بارے میں سوچیں جب ہم کسی کو شرمندہ کرتے ہیں۔ ہم اپنے الفاظ سے اگلے بندے کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر وہ بندہ ایک مشہور شخصیت ہے، تب بھی وہ جذبات رکھتا ہے۔ وہ چاہے کوئی بڑی شخصیت ہے لیکن وہ ابھی بھی ایک انسان پہلے ہے۔
آج کل تو باڈی شیمنگ بہت عام ہے۔ ہر طرف بس لوگ اس میں لگے ہیں کہ کیسے کسی دوسرے کو برا بھلا کہا جائے۔ کسی کی بھی باڈی شیمنگ کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ موٹے، بڑے، دبلے پتلے، چھوٹے، کالے، جیسے الفاظ استعمال کرنا بالکل ٹھیک نہیں ہے۔ ان الفاظ کے نتیجے میں منفی تعلقات بن سکتے ہیں اور مختلف ذہنی مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
اگر کسی کو موٹا ک
You have read 12% of الفاظ کی طاقت - Alfaz ki Taqaat- Communication Skills Book. The full e-book picks up right where this stopped.