12% of the book — free to read


کاپی رائٹ ۲۰۲۲ء داستان
کتاب کے جملہ حقوق بحق مصنفہ اور ناشر محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور
فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں میں مختصر اقتباسات کے
استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
اشاعت اوّل ٢٠٢۲ء
مطبع: پکسلز پرنٹنگ سولیوشن
ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان

*
مدیرہ
نرمین سرھیو
ــــــ
گرافک ڈیزائنر
نرمین سرھیو
ــــــ
سرورق کے جملہ حقوق مصنفہ کے نام محفوظ ہیں۔
یہ ناول اُن عظیم ہستیوں کے نام جنھوں نے اللہ کے بندوں سے محبت، اخلاق اور مدد کے ذریعے اپنے اللہ کی بندگی کو جان لیا اور اسے پا لیا۔
فہرست
|
7 |
|
|
26 |
|
|
45 |
|
|
82 |
|
|
98 |
|
|
128 |
|
|
170 |
|
|
198 |
|
|
226 |
|
|
257 |
|
|
291 |
|
|
327 |
|
|
367 |
|
|
388 |
|
|
405 |
|
|
415 |
|
|
428 |
|
|
443 |
|
|
462 |
|
|
476 |
|
|
484 |
|
|
499 |
|
|
510 |
|
|
524 |
|
|
538 |
|
|
563 |
|
|
572 |
|
|
598 |
باب 1
مسلسل ایک ہفتے کی بارش اور شدید سردی پڑنے کے بعد اب موسم قدرے بہتر ہوا تھا۔ سورج بھی اپنی پوری آب و تاب سے چمکنے لگا تھا۔ اُس کی کرنیں آج پوری طرح روشنی پھیلا رہی تھیں۔ اتنے دنوں بعد اُن کو بھی بادلوں کی قید سے آزادی ملی تھی۔ ماحول میں اتنے دنوں بعد سردی کا چھایا ہوا سکوت ٹوٹا تھا مگر اس کے با وجود ہوا اپنے جوبن پر تھی۔
آج ”نور پور“ گاؤں کا منظر پہلے سے زیادہ خوبصورت لگ رہا تھا۔ سر سبز اونچے پہاڑ جو کہ اتنے دنوں سے بارش اور بادلوں کی لپیٹ میں تھے آج سورج کی روشنی میں جیسے نہا کر چمک گئے تھے، اور گاؤں کے بیچوں بیچ بہتی خوبصورت ندی کا پانی بھی تیزی سے بہنے لگا تھا۔ اس میں سے ہلکا ہلکا ٹھنڈا دھواں نکل رہا تھا۔ گاؤں کے سب لوگ کتنے دنوں بعد آج روز گار کے لیے نکلے تھے۔ سب بیچارے سردی کی وجہ سے اتنے دونوں سے گھروں میں مقید تھے۔ بچے بھی آج چہرے پر معصومیت لیے اور کھلکھلاتے ہوئے نرم گرم کپڑوں میں ملبوس لال سرخ ناک کے ساتھ سکول کی طرف رواں دواں تھے۔
اسی گاؤں میں ہر طرف سفرِ زیست پھر سے جاری و ساری ہو چکا تھا۔ وہاں صبح کی رونق رواں دواں تھی مگر ایک گھر ایسا بھی تھا جہاں زندگی جیسے تھم سی گئی تھی۔ گھر کیا تھا ایک قدرے پرانی حویلی تھی، جس کی تختی پر ”صدیق حسین“ کا نام تحریر کیا گیا تھا جو کہ اب کافی مدھم پڑ چکا تھا۔ حویلی کے ایک کمرے میں لگا بڑا سا روشن دان کھلا ہوا تھا اور اُس میں سے سورج کی کرنیں کبھی اندر آجاتیں اور کبھی حویلی کے پچھلی طرف لگے بڑے سے برگد کے درخت کے پتے اُن کرنوں کو اندر آنے سے روک دیتے۔ اِن کی آنکھ مچولی یوں ہی جاری تھی مگر اسی کمرے کے ایک کونے میں بیٹھی لڑکی اس آنکھ مچولی سے بےخبر اپنے کام میں مگن تھی۔ جب یک دم ہوا کا ایک تیز جھونکا روشن دان سے اندر داخل ہو کر ”گل رعنا “ کے لمبے اور گھنے بالوں کو چھوتا تو وہ بڑی بےدردی سے اپنے بالوں کو بُری طرح جھٹک دیتی۔ اسے لگتا تھا جیسے یہ ہوا اور اس کے بال اس کے کام میں رکاوٹ ڈال رہےہیں۔ وہ سر اٹھا کر روشن دان کی طرف دیکھتی ضرور تھی مگر قدرے اونچا ہونے کی وجہ سے اس کی رسائی وہاں تک ممکن نہیں تھی کہ وہ اسے بند کر پاتی۔
اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک بوڑھا وجود اندر داخل ہوا۔ رفتہ رفتہ چلتے ہوئے وہ وجود اُس کے پاس آکر رک گیا اور کہنے لگا۔
”گل رعنا بیٹی کب سے اندر ہو۔ کیا کر رہی ہو؟“
یہ آواز ” گل رعنا“ کی نانو کی تھی جو کہ اس دنیا میں دونوں بہنوں کا واحد سہارا تھیں۔
انھوں نےنیچے کی طرف دیکھا تو اُن کا دل کٹ گیا۔ اُس نے زمین پر چادر بچھا رکھی تھی اور اس پر چار گڑ یوں کو ایک لائن میں رکھا ہوا تھا۔ اُن کے اوپر موٹی چادر اوڑھا رکھی تھی اور ساتھ ساتھ اُن کو لوری سنا رہی تھی۔
” شش!“ اُس نے جلدی سے اپنے منہ پر انگلی رکھ کے نانو کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
”نانو خاموش! سب سو رہے ہیں۔ کھیل کھیل کر تھک گئے نا۔“ اس نے ایک نظر نانو پر ڈالی اور پھر اپنے کام میں مگن ہو گئی۔ نانو نے حسرت بھری نظروں سے اسے دیکھا۔ اُن کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور وہ بےاختیار روتے ہوئے کمرے سے باہر نکل آئیں۔
”کیا ہوا خالہ؟“ نصرت جہاں نے پوچھا جو اُن کے محلے میں رہتی تھیں اور گل رعنا کی سب سے اچھی دوست کی والدہ تھیں۔ وہ کئی سالوں سے ساتھ تھے۔ نصرت جہاں کے گھر والوں نے ہمیشہ اُن تینوں نانی نواسیوں ( جن کا کوئی نہیں تھا ایک دوسرے کے علاوہ ) کا بہت خیال رکھا تھا۔
”خالہ بتاؤ نا! کیا ہوا؟“ وہ آگے بڑھیں۔
”کیا کہوں! میری بچی تو پاگل ہی ہو گئی ہے۔ میں کہاں سے اُس کے بکھرے ہوے گلشن کے پھول اکھٹے کروں۔“
”میرے بوڑھے وجود میں اب جان نہیں۔۔۔ کاش! یحییٰ کی جگہ میں مر جاتی۔“ وہ پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔
”ہماری بچی پر اتنی سخت آزمائش آ گئی ہے۔“ نصرت جہاں کی آنکھیں بھی بھیگ گئیں۔
”خالہ آپ ہمت رکھیں۔ اللہ سب بہتر کرے گا۔ اب ہم سب کو ہی اپنے دل کو مضبوط کر کے گل رعنا کو جوڑنا ہو گا۔ ابھی اُس کی عمر ہی کیا ہے؟ اور وقت نے اسے کیا کچھ نہیں دِکھا دیا۔“ وہ بھی بہت غمزدہ لہجے میں کہتے ہوئے نانو کو پھر سے تسلی دینے لگیں۔
✯✯✯
آج سیاہ بادلوں نے صبح سے ہی آسمان کو اپنی مکمل لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ ٹھنڈی سفید دھند نے زمین پر ہر طرف اپنا قبضہ جما رکھا تھا، اور اُس پر جب بجلی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ گرجتی تو ایک بار دل کانپ جاتا۔ شام کا اندھیرا اور گہرا ہوتا جا رہا تھا سردیوں کے دن تھے جس کی وجہ سے شام ہوتے ہی سناٹا چھا جاتا تھا۔ آج تو موسم کی خرابی اور ہڈیوں میں گھستی ٹھنڈ سے بچنے کے لیے ہر کوئی اپنے گھروں میں موجود کمروں کے اندرنرم گرم لحاف میں دبکا بیٹھا تھا۔
”راجپوت ٹاؤن“ میں بھی ہر جگہ سناٹا چھایا ہوا تھا۔ گہری ٹھنڈی دھند نے اس پورے ٹاؤن پر بھی اپنا راج جما رکھا تھا۔ گھروں کے باہر لگائے گئے بلب اور سٹریٹ لائیٹس بھی دھند کی لپیٹ میں آنے کی وجہ سے مدھم پڑنے لگی تھیں۔ اسی ٹاؤن میں سات گھر ایسے تھے جن میں مقیم افراد آپس میں بہن بھائی تھے۔ سب بہن بھائیوں کے بچے جب ایک جگہ اکھٹے ہوتے تو خوب رونق لگتی اور خوب محفل جمتی تھی۔ سب ایک دو گلی کی مسافت پر رہتے تھے۔
انھی سات گھروں میں سے ایک گھر میں سردی سے بچنے کے لیے زید لحاف میں گھسا بیٹھا تھا کہ اچانک اُس کے موبائل کی گھنٹی بجی۔ اُس نے کچھ دیر بعد لحاف سے منہ نکالا اور سر کو تھوڑا اونچا کر کے کن اکھیوں سے سکرین پر نمبر دیکھا۔ علی کا نمبر دیکھ کر اس نے اب ہاتھ باہر نکالنے کی جسارت کی اور سائیڈ ٹیبل پر پڑا فون اٹھا یا۔
’اچھا یہ ہے! پتا نہیں اب کیا کہے گا؟ اسے بھی سکون نصیب نہیں۔‘ اُس نے موبائل کان سے لگائے سوچا۔
”السلام علیکم! جی سر فرمائیں آپ کو کیا تکلیف پیش آ گئی؟ اس سرد اداس شام میں؟“ زید نے بُرا سا منہ بنا کر کہا۔
”وعلیکم السلام! تکلیف تو کوئی نہیں الحمد للہ! کیونکہ صبح سے تجھے نہیں دیکھا اس لیے ذرا سکون ہے۔“ علی نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔
”اچھا تکلیف موصوف کو کوئی نہیں تو پھر ہمیں کیوں اس شدید سردی میں فون اٹھانے کی زحمت دی گئی۔ آخر ایسی کیا وجہ خاص در پیش تھی جو آپ نے اس وقت یہ جسارت کر ڈالی؟“ زید اسے بھگو بھگو کر مار رہا تھا۔
”چل اب خود کو شہزادہ سلیم سمجھنا چھوڑ اور اپنے گندے کانوں کی ویکس صاف کر کے میری بات سن۔“ علی بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا۔
”یار دیکھ تجھے پتا ہے کتنی ٹف پڑھائی ہے اب اللہ اللہ کر کے کالج سے جان چھوٹی ہے چار ماہ کے لیے۔ اب ان کو ضائع نہیں کرنا! میرا دل ہے ہم سب مل کر کسی اچھی سی جگہ گھومنے چلیں۔ ہاسٹل میں رہ رہ کر اور گھڑی کی سوئی کے ساتھ چل چل کر دماغ پک گیا۔ اب ذرا سکون چاہیے۔“ علی بات کرتے کرتے بالکل روہانسا ہو گیا تھا۔
”سُن لی ہے تیری رام کہانی۔ کبھی کبھی تُو بات تو عقل کی کر جاتا ہے۔ ٹھیک ہے! مگر تیرے میرے کہنے سے کیا ہوتا ہے سب کے ساتھ پلان کرتے ہیں اور پھر سب سے مشکل گھر کے بڑوں سے اجازت۔۔۔“ زید نے خطرناک پیشن گوئی کر ڈالی۔
”مل جائے گی اجازت بھی! معصوم بچوں کو آرمی کے سکول کالج میں تو بھیج دیا جہاں کسی قسم کی کوئی آزادی نصیب نہیں!سیر کے لیے بھیجنے پر والدین کیوں ڈریں گے؟“ علی کو تپ چڑ گئی۔
”چل پھر سب کو فون کر کے بتا دے کہ کل شام کو کھانا باہر کھاتے ہیں اور پلان بھی کر لیں گے۔“ زید نے تجویز دی۔
”ہاں یہ ٹھیک ہے۔ تُو رکھ فون! میں حسان اور عبداللہ کو کال کرتا ہوں۔“علی نے پر جوش لہجے میں کہا اور فون بند کر دیا۔ یک دم فون بند ہونے پر زید منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑایا اور موبائل سائیڈ پر رکھ کر پھر کچھوے کی طرح گردن لحاف میں دے لی۔
زید سے بات کر کے علی نے فوراً عبداللہ اور پھر حسان کے گھر فون کیا اور ان کو ساری بات بتائی۔ انھوں نے بھی اپنی رضا مندی دے دی۔ اب طے یہ ہوا کہ کل شام کو وہ سب اپنے من پسند ہوٹل سے کھانا کھائیں گے اور ساتھ ہی ساتھ گھومنے جانے کے لیےسیر و تفریح کا پروگرام بھی ترتیب دیں گے۔ علی نے خوشی خوشی فون رکھا اور بےتابی سے کل کا انتظار کرنے لگا۔
وہ سب فرسٹ ائیر کے طالبِ علم تھے اور آرمی کے کالج میں زیرِ تعلیم تھے پڑھائی ٹف ہونے کی وجہ سے وہ ہاسٹل میں ہی رہتے تھے۔ آج کل وہ فائنل پیپرز کے بعد فری تھے اور دو دن پہلے ہی گھر آئے تھے۔
اگلی صبح سب جلدی سے اٹھے اور شام کا انتظار کرنے لگے۔
”علی بیٹا دھیان سے ناشتہ کرو۔“ بیگم سلیم نے علی اور حذیفہ کو جلدی جلدی ناشتہ کرتے دیکھا تو بول اٹھیں۔
”ماما آج ان کو کوئی ہوش نہیں! آج ان کے دوستوں کے ساتھ بہت پلان ہیں۔ شام میں تو انھوں نے باہر کھانے کا پلان کیا ہے۔ لوگوں نے ابھی اُس کی تیاری بھی تو کرنی ہے۔“ جویریہ آپی نے علی کی طرف دیکھ کر کہا، ”کیوں علی!میں نے ٹھیک کہا نا؟“ اس نے علی کو طنزیہ انداز سے دیکھا تو وہ تپ گیا۔
”جی آپی۔۔۔ ہے پلان! آپ کی طبیعت یہ سب سن کر کیوں ناساز ہو رہی ہے؟ اور ویسے بھی آپ کی اجازت کی ضرورت نہیں پاپا سے لے لی ہے اور آپ جو چھپ چھپ کر میری باتیں سنتی ہیں نا۔ اب ذرا دھیان سے رہیے گا۔“ اس نے دھمکی دی اور ناشتہ کرنے لگا۔
”توبہ ہے!مجھے کیا پڑی ہے؟ تم سب کے بھدے پلان سنتی رہوں۔ تم سب نے کون سا کوئی نیکی کا کام کرنا ہے؟ یا کوئی ایسا کارنامہ انجام دینا ہے جس سے تم سب کے والدین کا سر اونچا ہو؟“ جویریہ عرف جیا نے طنز کیا اور چائے کا گھونٹ بھرنے لگی۔
”ماما اُس کو سمجھا لیں۔“ علی کوغصہ آ گیا۔
”چپ کرو دونوں!صبح صبح شروع ہو گئے دونوں بڑے ہو اور عقل نام کی چیز نہیں۔“ بیگم سلیم نے ان کو ڈانٹ کر خاموش کروا دیا۔دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر منہ بسورا۔
اللہ اللہ کر کے ٹائم گزرا اور وہ سب جانے کے لیے نکل پڑے۔
”شکر ہے اللہ کا آج ٹھنڈ کا زور کم ہے ورنہ ہمارا جانا ممکن کہاں تھا؟“ عبداللہ نے کہا۔
”موسم اچھا ہی ہونا تھا میں ساری رات دعا کرتا رہا تھا۔“ حسان نے اپنی شرٹ کا کالر اکڑا کر کہا۔
”یار بس کر! اللہ کا واسطہ۔ یہ اعلان نہ کر کہ تو نے دعا کی ورنہ طوفان آجائے گا۔“ زید کی بات سن کر سب ہنس پڑے۔
علی اور حسان ایک موٹر سائیکل پر بیٹھ گئے۔ زید عبداللہ اور حذیفہ ایک پر، اور انھوں نے ہوٹل کا رخ کیا۔
”علی یار! کالج کا آخری دن یاد کر۔ پرنسپل صاحب نے کیا فرمایا تھا۔۔؟ اپنی تقریر میں؟“ وہ سب پارکنگ میں اتر کر بائیک لگا رہے تھےجب حسان نے کہا۔
”ہماری زندگی کا مقصد ہے کسی کو خوشی دینا، کسی کی مدد کرنا۔“ حسان نے علی کو چلتے چلتے یاد کروایا۔
”ہاں میرے بھائی یاد ہے مجھے!اب تم یہ مقصد پورا کر کے ہمیں خوشی دو کچھ کھلا کر۔“ علی نے حسان کو الٹا لیا۔
”چل بھاگ! میں کیوں؟ سب اپنا اپنا کھاتے ہیں مل کر۔“ حسان فوراً اپنی کہی بات سے مکر گیا۔
”آج ہوٹل کے اندر نہیں باہر بیٹھ کر کھانا ہے! بہت مزہ آئے گا۔“ زید نے کہا اور سب باہر رکھی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ سردی قابلِ برداشت تھی اور ویسے بھی باہر بھی ہیٹر کا انتظام کیا گیا تھا۔
ابھی انھوں نے کھانے کا آرڈر دیا ہی تھا کہ عبداللہ کے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا۔ اس نے بجائے پیچھے دیکھنے کے ڈر کر سامنے بیٹھے علی اور زید کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ ایک چار سال کا معصوم گول مٹول سرخ رنگت والا بچہ تھا جو اس کا کندھا تھامے کھڑا تھا۔
”عبداللہ اپنے پیچھے دیکھ!“ زید نے کہا۔
”لگتا ہے فقیر ہے؟ یہ لو پیسے!“ حسان نے دس کا نوٹ اس کی طرف کیا۔ اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔
” کیا لینا ہے پھر؟“ عبداللہ نے اس کی طرف دیکھا۔ اس نے ابھی بھی عبداللہ کی شرٹ کو مضبوطی سے تھاما ہوا تھا۔ وہ خاموش تھا یک دم اس نے عبداللہ کو چھوڑا اور دور جا کر ایک طرف بیٹھ گیا اور ان کی طرف دیکھنے لگا۔ شاید اس بچے نے دور سے آتے ویٹر کو دیکھ لیا تھااتنے میں ویٹر کھانا لے کر آ گیا۔
ابھی وہ کھانا شروع کرنے ہی لگے تھے کہ کچھ آوازیں سنائی دیں۔ علی نے سامنے کی طرف دیکھا جہاں بچہ تھا۔ ہوٹل کا منیجر اسے زور زور سے ہلا کر کچھ سنا رہا تھا۔ علی یک دم بھاگا اور اس آدمی کا ہاتھ پکڑ لیا۔
”شرم کرو! انسان ہو کہ نہیں؟ کیوں مار رہے ہو؟“
”سر یہ روز آجاتا ہے یہاں۔ تنگ کرتا ہے سب کو۔ ہمارے کام میں دخل دیتا ہے۔“ مینجر تپا ہوا تھا۔
”ماں باپ پیدا کر کے سڑک پر پھینک دیتے ہیں۔“ اس کا غصہ کم ہی نہیں ہو رہا تھا۔ وہ ایک طرف ہو کر کھڑا ہو گیا۔
”آپ جاؤ یہاں سے۔“ علی نے مینجر کو کہا اور بچے کی طرف متوجہ ہوا۔
”کیا بات ہے بھوک لگی ہے؟“ علی اس کے قریب ہوا اور پیار سے پوچھا۔ بچے نے فوراً سر اثبات میں ہلایا۔
”اچھا آؤ میرے ساتھ۔“ اس نے انگلی آگے کی تو اس بچے نے فوراً تھام لی اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر چلنے لگا اس کے ساتھ علی نے اسے لا کر ایک کرسی پر بٹھا دیا۔
”بھوکا ہے بیچارا۔“ علی نے ان سب کو بتایا۔
”کھانا کھاؤ۔“ زید نے اس کے آگے چیزیں کیں۔ وہ کھانے پر ٹوٹ پڑا۔ ساتھ ساتھ اس کے گول مٹول گالوں پر آنسو بہنے لگے۔ وہ سب کھانا چھوڑ کر اسے دیکھتے گئے۔ وہ حیران تھے کہ آخر یہ معاملہ کیا ہے؟
وہ سب اپنے کھانے سے غافل کبھی اُسے یوں کھاتا دیکھتے اور کبھی سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کو تکنے لگتے۔ جب اس نے پیٹ بھر کر کھانا کھا لیا تو اسے احساس ہوا کہ پاس بھی کوئی چیز ہے! اس نے باری باری سب کی طرف دیکھا اور آرام سے اٹھنے لگا مگر اسے ویٹر سامنے سے آتا دکھائی دیا جس کا رخ ان کی طرف ہی تھا۔ اسے دیکھتے ہی وہ اپنی جگہ پر پھر دبک گیا۔
”سر یہ آپ کا بل۔“
اُس نے زید کے آگے کارڈ رکھا اور بچے کو گھورنے لگا۔
زید نے اسے مسلسل معصوم بچے کو گھورتے دیکھا تو اس کی آنکھوں کے آگے ہاتھ لہرا کر بولا، ”ہاں بھئ! کوئی مسئلہ ہے اس بچے سے؟“ ويٹر یک دم چونک گیا پھر قدرے خفگی سے کہنے لگا۔
"مسئلہ تو ہے۔“
”آج تین دن ہو گئے اس مصیبت کو یہاں سڑک کے کنارے۔ یہ روز شام کو آجاتا ہے۔ کوئی نہ کوئی اِسے کھانا کھلا دیتا ہے اور ہمارے حصے کی ٹپ بھی اُس کو مل جاتی ہے۔ اندر تو مالک آنے نہیں دیتا اسے۔ پتا نہیں کون ہے یہ۔ میرا دل تو کرتا ہےکہ ایک دوں اسے۔“ وہ غصے سے اُس بچے کی طرف بڑھا تو علی نے فوراً آگے ہاتھ کر لیا۔
”ذرا آرام سے میرے بھائی۔ اتنا غصہ اچھا نہیں ہوتا۔ پہلی بات تو ہے کہ یہ بھی اللہ کا بندہ ہے اور وہ اپنے بندے کو بھوکا نہیں چھوڑتا، اور دوسری بات یہ کہ لو اپنی ٹپ اور بھاگو یہاں سے۔“ علی نے اسے پیسے دیئے اور کھڑا ہو گیا۔ باقی سب بھی کھڑے ہو گئے۔ وہ بھی ان سب کو کھڑے ہوتے دیکھ کر ان کے ساتھ کھڑا ہو گیا، اور علی کا ہاتھ یک دم تھام لیا۔ وہ سب حیران ہوئے پھر چلتے چلتے پارکنگ میں آ گئے۔
”یار یہاں تک تو ٹھیک تھا اب یہ بتاؤ اس کا کیا کریں؟“ حسان نے بچے کی طرف اشارہ کیا جو علی کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔
”یہاں سے تو باہر نکلو پہلے۔ یہاں پارکنگ میں اس طرح کھڑے رہے تو سامنے جو سیکورٹی گارڈ بیٹھا ہے وہ ہمیں مشکوک سمجھے گا۔“ عبداللہ نے سیکورٹی گارڈ کی طرف نگاہ ڈالی جو مسلسل ان سب کو غور سے دیکھ رہا تھا۔
”ارے وہ سیکورٹی گارڈ!“ حسان نے بڑے انداز سے اس کی طرف اشارہ کیا پھر کہا۔
”ارے میرے گدھے دوستو پلس بےکار کزنوں! میرے ساتھ رہ رہ کر بھی نکمے ہو۔ وہ جو ہمیں گھور گھور کر دیکھ رہا ہے وہ یہ سوچ رہا ہے کہ کتنے نیک لڑکے ہیں بھوکے بچے کی مدد کی اسے کھانا کھلایا وہ بیچارا تو ہم پر فخر محسوس کر رہا ہے۔“
”فٹے منہ تے نالے بےشمار! وہ اس لیے دیکھ رہا ہے کہ ان لڑکوں سے اس بچے کا تعلق کیا ہے؟ بقول ویٹر یہ بچہ تو تین دن سے یہاں آتا ہے اور ہم آج آئے اور وہ ہمیں آتے ہوئے بھی دیکھ چکا ہو گا اس سے پہلے کوئی کام بگڑے چلو یہاں سے۔“ حذیفہ نے بات پوری کی اور چلنے لگا ساتھ حسان کا بازو بھی پکڑ کر کھینچا۔
”اب کیا مطلب اس کو ساتھ گھر لے جانا ہے؟“ عبداللہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
”ارے نہیں!! گھر کیسے لے جا سکتے؟ اور کیا کہنا ہے جا کر۔ لگتا ہے گم گیا ہے یہ کچھ بول بھی نہیں رہا۔ڈرا ہوا ہے بیچارا۔“ علی نے اس کی طرف دیکھا تو اسے بےاختیار اس کی معصومیت پر پیار آگیا۔ علی نے اس کے گول مٹول گال پر پیار کیا اور پہلے سے زیادہ مضبوطی سے اس کا ہاتھ تھام لیا اور کہا، ”جو بھی ہے ہمیں ہر حال میں اس کی مدد کرنی ہے۔ ان شاء اللہ۔“
”اپنی مدد تو ہو نہیں رہی! اس کی پہلے کر لو۔ اچھا بھلا پلان کرنا تھا کہ کہاں اور کب گھومنے جانا ہے مگر اِس کی وجہ سے اس موضوع پر بات ہی نہیں کی۔“ حذ یفہ نے غصہ سے کہا۔
”سچ بولا! اِس سے پہلے ہم اپنی مدد تو کر لیں۔ گھومنے جانے کے لیے اجازت تو لے لیں گھر والوں سے۔“ عبداللہ نے بھی اس کا ساتھ دیا۔
”وہ بھی ہو جائے گا پہلے اس کا کچھ کریں۔ چلو سامنے ایک پارک ہے وہاں بیٹھ کر کچھ سوچتے ہیں۔“ علی سب کو پارک کی طرف لے گیا۔
پارک میں جگہ جگہ مدھم مدھم روشنی تھی وہ ایک پرسکون سی جگہ پر آ کر بیٹھ گئے۔ ابھی وہ سب بیٹھے ہی تھے کہ یک دم دو آدمی قدرے گھبرائے ہوئے ان کے پاس آگئے اور ان میں سے ایک بچے کی طرف بڑھا۔ وہ سب کھڑے ہو گئے۔
”کیا ہے؟کون ہو تم؟“ علی آگے بڑھا۔
”یہ بچہ ہمارا ہے مم مم مم۔۔۔ میں اِس کا چاچو ہوں۔“ وہ آدمی اٹک اٹک کر بتانے لگا۔
”چاچو ہے تو اتنا خوف سے بات کیوں کر رہا ہے۔“ زید کو شک ہوا۔
”نہیں جی اس کی زبان ہی ایسی ہے۔ یہ بچہ ہمارا ہے گم گیا تھا۔“ دوسرا آدمی بھی بول اٹھا۔
”تمھارا ہے؟ ہم کیسے مان لیں۔ کوئی ثبوت دو۔“ حسان آگے ہوا۔
”جی اس کا نام گل خان ہے اور یہ ہمارے بھائی کا بچہ ہے۔ وہ گاؤں میں ہے اور یہ ہمارے پاس کچھ دن کے لیے رہنے آیا تھا۔ آؤ بچے!آؤ اپنے انکل کے پاس۔“ اس آدمی نے بڑے اعتماد سے کہا پھر بچے کو دیکھا۔ پہلے تو وہ بچہ گھبرایا پھر ان کے پاس چلا گیا۔
”آپ کا نام گل خان ہے؟“ حذیفہ نے جھک کر بچے کی طرف پیار سے دیکھ کر تصدیق چاہی۔ اس نے ایک نظر اُس آدمی پر ڈالی جس نے اُس کا ہاتھ تھام رکھا تھا پھر حذیفہ کی طرف دیکھ کر اثبات میں سر ہلا دیا۔
اُن سب نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
”بچہ ان کا ہی ہے ورنہ کیوں ان کے پاس جاتا۔“ عبداللہ نے کہا۔
”جی ہمارا ہی ہے اب یقین ہو گیا نا آپ سب کو۔چلو بیٹا۔“ وہ اسے لے کر آگے بڑھنے ہی لگے کہ زید کہنے لگا۔
”ایک منٹ ذرا رکنا!! اگر یہ بچہ تمھارا ہے تو روز سامنے ہوٹل کے پاس آ کر کیوں بیٹھ جاتا تھا؟“ زید کی بات سن کر ایک پل تو اُن کا رنگ پھیکا پڑا پھر ایک نے جلدی سے کہا۔
”وہ اصل میں ہم مزدور لوگ ہیں۔ رات کو گھر آتے ہیں تو یہ روز شام ہوتے ہی یہاں آجاتا ہے۔ بھوک لگتی ہے اس لیے دو تین دن سے یہ ایسا ہی کر رہا ہے۔ اب اسے چھوڑ آئیں گے گاؤں۔ ہم دونوں صبح کام پر جاتے ہیں تو پیچھے یہ اکیلا رہ جاتا ہے۔ ضد کر کے گاؤں سے ہمارے ساتھ آ گیا تھا۔“ اس آدمی نے اتنی لمبی کہانی سنا ڈالی پھر وہ بچے کو لے کر تیز تیز چلنے لگے۔ گل خان بار بار پیچھے دیکھتا تھا اس کے چہرے پر گھبراہٹ تھی۔
”یہ بچہ ان کا نہیں!! کوئی نہ کوئی بات ضرور ہے۔ چلو دیکھتے ہیں۔“ علی کو انجانا سا خوف ہونے لگا۔
”مجھے تو لگتا ہے اس گل خان کی امی تم ہو۔ یہ تمھارا گمشدہ بچہ ہے۔“ حسان کو علی کی گھبراہٹ پر ہنسی آ رہی تھی۔
”مذاق نہ کرو!! مجھے بھی کچھ خطرہ لگ رہا۔ دیکھتے تو ہیں۔“ زید بھی اٹھ گیا اور وہ سب ان کے پیچھے چل پڑے۔
✯✯✯
مصعب عثمان شاہ جو کہ ایک بہت ہی قابل ہارٹ سرجن بن چکا تھا۔اُس نے اپنی تمام تعلیم امریکہ کے بہت ہی عمدہ سکول، کالج اور یونیورسٹی سے مکمل کی تھی۔ اپنی محنت اور ذہانت کے دم پر آج وہ ایک قابل سرجن تھا۔ وہ بہت ذہین قابل ہونے کے ساتھ ساتھ بہت مغرور اور انا پسند انسان تھا۔ اسے لگتا تھا کہ وہ آج جس مقام پر تھا وہ اپنی ذہانت کی وجہ سے تھا اور اُس پر اُس کا جاذبِ نظر ہونا اور پُر وقار شخصیت اس کے حسن کو اور چار چاند لگا دیتے تھے۔ابھی اسے کچھ ماہ ہی ہوئے تھے کہ اسے امریکہ کے ایک بہت بڑے ہسپتال سے بہت ہی عمدہ جاب کی آفر ہوئی اور آج وہ امریکہ کے بہت بڑی سیاسی شخصیت کی سرجری کرنے میں مصروف تھا۔ اس کے ساتھ اور بھی قابل ڈاکٹرز کی ٹیم تھی مگر وہ اکیلا ہی اس ٹیم میں مسلم تھا۔یہ سرجری اُس کے کرئیر کے لیے بہت اہمیت کی حامل تھی۔ ایک تو یہ اُس کی پہلی سرجری تھی اور دوسرا یہ بہت بڑے سیاسی لیڈر اور اس ہسپتال کے مالک کی تھی۔ آج اسے ہر حال میں کامیاب ہونا تھا۔ وہ بڑے اعتماد کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ جیسے ہی سرجری مکمل ہوئی اور سب کچھ اوکے ہوا تو انھوں نے چہرے سے ماسک اتارے اور ٹیم کے سب سے بڑے سینیڑ ڈاکٹر نے آگے بڑھ کر مصعب کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور مسکرا کر کہا۔
”بہت خوب ڈاکٹر مصعب!! یہ ایک بہت مشکل سرجری تھی ہم سب بھی پریشان تھے مگر آپ نے بہت ہمت اور حوصلہ سے یہ سب کیا۔ ہمیں فخر ہے کہ آپ اس وقت ہمارے ساتھ ہیں اور اس سے بڑھ کر یہ کہ آپ اس ہسپتال میں کام کر رہے ہیں۔ یہ ہم سب کی بہت بڑی کامیابی ہے۔“
”شکریہ ڈاکٹر برک! مجھے بھی آپ سب کے ساتھ کام کر کے بہت اچھا لگا۔“ اس نے بھی جواباً مسکرا کر جواب دیا اور باہر نکل گیا۔ وہ جیسے ہی باہر آیا تو دروازے کے باہر میڈیا کے کچھ لوگ موجود تھے وہ سب جاننا چاہتے تھے کہ اب اندر موجود اُن کے لیڈر کی حالت کیسی ہے۔ وہ سب مصعب کو دیکھتے ہی آگے بڑھے اور سب نے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی۔
”سر مارک کی سرجری کامیاب رہی ہے اور اب وہ ٹھیک ہیں۔ کچھ دن تک وہ مکمل صحت یاب ہوں گے۔“اُس نے اتنا کہا اور آگے بڑھ گیا۔ وہ سب حیران تھے کہ وہ پاکستانی ڈاکٹر اِس قدر پُراعتماد تھا اور اُس کے غرور پر بھی، وہ کسی کو زیادہ خاطر میں ہی نہیں لاتا تھا۔
وہ جیسے ہی اپنے روم میں داخل ہوا اسے سامنے اپنے دوست کرسیوں پر براجمان نظر آئے۔
”مبارک ہو مصعب! پہلی کامیاب سرجری وہ بھی اتنے اہم بندے کی۔“ عدیل نے مسکرا کر کہا۔ وہ اُس کا بہت پرانا دوست تھا۔
”سرجری تو کامیاب ہونی ہی تھی۔ مصعب عثمان شاہ جو کر رہا تھا۔“ اس نے متکبر لہجے میں کہا اور اپنی جگہ پر آکر بیٹھ گیا۔
”اب بس رات کی نیوز میں تمھارا چرچہ شروع اور مارک سر ٹھیک ہوتے ہی تم پر اور مہربان ہو جائیں گے۔“ اس کا دوسرا دوست کہنے لگا۔
”ہاہاہا! بس میرا آج ایک خواب تو پورا ہوا۔ اب بس ایک خواب رہ گیا کہ ابھی تو میں اس ہسپتال میں جاب کر رہا ہوں۔ کل کو اس سے بھی بڑا میرا اپنا خود کا ہو۔“ اس نے کچھ سوچ کر کہا۔
”ہاں! بالکل کیوں نہیں ہو سکتا ہے۔ اگر تم چاہو تو۔۔۔“ یک دم پنکی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔ وہ مصعب کی بات سن چکی تھی۔
”تم؟ کیسی ہو اور یہاں؟“ مصعب نے اسے دیکھ کر کہا۔
”کم آن یار مصعب! سب سے پہلے مجھے ہی یہاں ہونا چاہیے تھا تمھاری کامیابی کو ویش کرنے کے لیے مگر میں لیٹ ہو گئی بس۔“ اس نے مسکرا کر جواب دیا اور بیٹھ گئی۔
”چلو اب ہمیں بتاؤ۔ پارٹی کب اور کہاں دینی ہے۔“ عدیل نے مصعب کی طرف دیکھ کر کہا۔
”جہاں جس جگہ کہو مل جائے گی۔“ اس نے جواب دیا اور سگریٹ نکال کر جلانے لگا۔
”مصعب تم پاپا سے کب ملو گے؟ ہمارے بارے میں کب بات کرو گے؟“ پنکی نے اُس کی طرف دیکھا۔
”تم جانتی ہو ابھی مجھے اپنا خواب پورا کرنا ہے اور تمھیں انتظار کرنا ہو گا۔“
”تم خود کو کیوں مشقت میں ڈالتے ہو؟“
”پاپا نے آفر کی ہے نا کہ وہ تمھیں بالکل ایسا ہی ہسپتال بنوا کر گفٹ دیں گے۔“ پنکی نے پھر اپنے باپ کی دولت کا رعب ڈالنا چاہا مگر اس کے مقابل مصعب عثمان شاہ تھا جو کسی کی مدد تو کر دیتا تھا مگر کسی سے لیتا نہیں تھا اور اس کے سب دوست یہ بات خوب جانتے تھے۔
”میں کافی منگواتا ہوں۔“ اس نے پنکی کی بات کو نظر انداز کر دیا۔ پنکی نے اس کی اس حرکت پر اسے گھور کے پہلو بدلا۔
✯✯✯
وہ سب قدرےدھیمی رفتار سے اُن کا پیچھا کر رہے تھے کہ اُن کو شک نہ گزرے۔ ابھی وہ سب پارک سے نکل ہی رہے تھے کہ زید کا فون بج اٹھا۔
”لو جی! آگیا گھر سے فون۔ یار اب بتاؤ کیا کہوں پاپا کو؟“ زید نے علی کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
”کچھ بھی کہو۔ بس چلو جلدی۔“ علی موٹر سائیکل پر بیٹھ چکا تھا۔ اس کی نگاہ اُن آدمیوں کے تعاقب میں تھی۔ اس نے زید کی طرف بنا دیکھے کہا۔
”اچھا میں بات کرتا ہوں۔“ زید نے فون آن کیا اور بولتا بولتا تھوڑا ایک طرف آگے کو چل پڑا۔
”تم لوگ تو بیٹھ جاؤ اپنی بائیک پر بلکہ تم تینوں ان کے پیچھے جاؤ۔ میں اور زید آتے ہیں۔“ علی نے ان آدمیوں کو دیکھا تو وہ پارک کے گیٹ سے باہر نکل رہے تھے۔
”جلدی بھی کرو۔ اب جاؤ بھی۔“ علی نے ان تینوں کو گھورا۔
”زید یار آجاؤ اب۔“ علی نے زید کو آواز دی۔
”نا تم مجھے یہ بتاؤ کہ کبھی آج تک جمعہ اور عید کے علاوہ کوئی نماز تو پڑھی نہیں۔ نہ کبھی کوئی خاص اچھا کام کیا۔ آج پھر یہ دورہ کیوں پڑ گیا نیکی کرنے کا۔ جن کا بچہ تھا وہ لے گئے۔ اب تجھے کیا دکھ لگ گیا ہے؟ بلا وجہ ہمیں بھی خوار کر رہا ہے۔بس اب گھر چلو اور جا کر اپنے اپنے والدین کے قدموں میں گر کر اجازت لو گھومنے جانے کی۔“ حسان نے اتنی لمبی تقریر کے بعد علی کی طرف دیکھا تو علی کو اپنی طرف گھورتے دیکھ کر فوراً خاموشی سے بائیک پر بیٹھ گیا۔
عبداللہ اور حذیفہ جو اوپر اوپر سے بائیک پر ٹکے ہوئے تھے یک دم نیچے گرے اور ان کے اوپر حسان آ ٹپکا۔
”ارے! ان کو کیا ہوا؟ یہ کیوں ذلیل ہو رہے ہیں؟“ زید جو کہ آ چکا تھا انھیں دیکھ کراس نے مسکرا کر کہا۔
”ان کو ہونے دے ذلیل۔ ان کی قسمت میں ذلت ہی ہے۔ تُو چل یار وہ لوگ دور نہ نکل جائیں۔ ویسے تُو نے انکل سے کیا کہا؟“ علی نے بائیک اسٹارٹ کی اور پوچھا۔
”پا پا کو کہا گھنٹے تک آتا ہوں۔ تُو چل۔ آجاؤ تم بھی۔“ زید نے ان تینوں کو اٹھتا ہوا دیکھا تو پھر سے مسکرانے لگا۔
ان تینوں نے کھڑے ہو کر کپڑے جھاڑے اور بائیک پر بیٹھ کر ان کے پیچھے نکل پڑے۔
✯✯✯
علی کے گھر میں بیگم سلیم جیا کو پکار رہی تھیں۔ جیا علی کی بڑی بہن تھی۔
”جیا جیا!کہاں ہو؟ ذرا علی کو فون کرو ابھی تک آئے نہیں دونوں بھائی۔ تمھارے پا پا آنے والے ہیں۔“ بیگم سلیم نے کہا۔
”ماما پہلے کیا تھا۔ علی نے کہا کہ گھنٹے تک آتے ہیں۔ وہ سب ساتھ ہی ہیں۔“ جیا نے جواب دیا اور پھر فون سے لگ گئی۔
✯✯✯
وہ دونوں آدمی اب مین سڑک پار کر کے ایک کچی آبادی کی طرف آگئے تھے جہاں چھوٹے چھوٹے گھر تھے، اور تنگ تنگ گلیاں تھیں۔ ایک تو ہلکی ہلکی دھند پڑنا شروع ہو گئی تھی اور سردی کی وجہ سے ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا۔
علی بھی ان کے پیچھے تھا مگر قدرے دھیمی رفتار سے۔
”یار جلدی چل آگے سردی ہے اوپر سے تیرے نخرے۔“حسان نے اپنی بائیک علی کی بائیک کے ساتھ چلاتے ہوئے کہا۔
”اچھا رک جا ایک منٹ۔ میں اُن سے آگے نکل کر اُن کو کہتا ہوں میں تمھارا پیچھا کر رہا ہوں تاکہ پکڑ لیں ہمیں۔“ علی نے حسان کو گھورتے ہوئے کہا۔
کچھ تنگ گلیوں سے گزر کر وہ ایک مکان کے آگے ٹھہر گئے۔ ان میں سے ایک نے اتر کر تالا کھولا بچے کو اندر دھکیلا اور پھر سے تالا لگا کر ایک طرف کھڑا ہو گیا۔ دوسرا بھی بائیک سے اترا اور بائیک دروازے کے ساتھ کھڑی کر کے دونوں پیدل سامنے کی طرف چل پڑے۔
”یہ کیا؟ خود اندر نہیں گئے۔ میں نے کہا تھا نا کہ کچھ گڑ بڑ ہے۔ کیسے بچے کو اندر دھکیل دیا۔ ان کی تو۔۔۔“ علی نے بائیک کھڑی کی اور غصے سے آگے بڑھنے لگا مگر زید نے اس کا ہاتھ تھام کر روک دیا۔
”آرام سے ٹھنڈے دماغ سے سُن۔ ان کے پاس اسلحہ ہو سکتا ہے۔“ زید نے سمجھایا۔
”یار گلی بھی ساری سنسان ہے۔ لگتا ہے سب لوگ گھر میں آرام کر رہے ہیں۔“ زید نے اِدھر اُدھر دیکھا۔
”چل زید ہم اُن کے پیچھے چلتے ہیں۔ اور تم تینوں گھر پر نظر رکھو۔“ علی یہ کہہ کر آگے بڑھنے لگا تو حسان نے اسے تھام لیا اور کہا۔
”تم تینوں گھر پر نظر رکھو۔“ حسان نے علی کی نقل اتاری پھر کہنے لگا، ”کسی نے دیکھ لیا تو ہمیں کٹ پڑ جائے۔ واہ!کیا پلان ہے تیرا۔“
”دفع ہو!! تجھے پکڑ کر کسی نے کیا کرنا ہے۔ اب جو کرنا ہے جلدی کرو۔ سردی سے جان نکل رہی ہے۔ تم دونوں جاؤ۔“ عبداللہ نے علی اور زید کی طرف دیکھا۔
وہ دونوں آدمی گلی کے نکڑ پر جا کر مڑ گئے تھے اور ساتھ ہی ایک چائے کا ڈھابہ تھا، وہاں رکھی پلاسٹک کی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ تین چار اور بھی لوگ وہاں بیٹھ کر چائے پی رہے تھے۔ علی اور زید گلی کے بالکل نکڑ پر کھڑے ہو کر چھپ کر ان کی بات سننے کی کوشش کرنے لگے۔
”چھوٹے دو چائے لا جلدی۔“ ایک آدمی نے سامنے لڑکے کو آواز دی۔
وہ دونوں آرام سے اُن کو سن سکتے تھے۔
”شکر کر مل گیا وہ گل خان! ورنہ ہم کو جان سے مار دیتا منیر۔ تجھے کتنی بار کہا تھا باہر سے تالا لگا کر جایا کر۔ دیکھا یہ بچہ روز نکل جاتا تھا اور اب اسے عادت ہو گئی تھی اتنی دور جانے کی۔ اب جتنی جلدی ہو اُس کو کل رات یہاں سے لے کر جانا ہے۔ میں نے کل رات بارہ بجے کی بس کی ٹکٹ لے لی ہیں۔“
”یار سیفی! ویسے یہ زیادتی ہے اپنے ساتھ!خود تو بلا بھائی لاکھوں لیتا ہے بچوں کے، اور ہمیں بس ہزاروں پر ٹرخا دیتا ہے۔“ دوسرے آدمی نے کہا۔
”تُو فکر نہ کر یہ جو ہے نا گل خان۔ بس اِس کو لے گئے تو سمجھ لاکھوں ہی لاکھوں۔ اب غور سے سن۔۔۔“ سیفی آگے ہوا تو دوسرا کہنے لگا۔
”یار میں اونچا سنتا ہوں۔ اونچا بول ذرا۔“
”بس گاؤں کا پتا اور پیسے کالے بیگ میں ہیں۔ بلا بھائی نے آڈیو میسج کیا تھا۔ اب بس کل رات نکل جانا ہے۔“
علی نے جو اُن سے ذرا دور ایک سائیڈ پر کھڑا سب سن رہا تھا زید کو آنکھوں سے کچھ کہا۔ دونوں واپس بھاگے۔
حسان نے جیسے ہی دروازے سے کان لگائے تو اندر سے رونے کی آواز آئی۔
”عبداللہ، حذیفہ سنو! اندر لگتا ہے وہ بچہ رو رہا۔“
ابھی وہ کھڑے ہی تھے کہ علی اور زید آگئے اور انھیں سب بتا دیا۔
”چلو پولیس کو بتائیں۔“ حسان یہ بولتے ہی بھاگنے لگا۔
”نہیں پہلے اُس بچے کو نکالنا ہے۔ پر کیسے؟“ علی پریشان ہوا۔
ابھی وہ سوچ رہے تھے کہ عبداللہ کے گھر سے فون آگیا۔ ساتھ ہی علی اور زید کے گھر سے بھی۔ سب کے فون ایک ساتھ بجنے لگے۔
”یار بس چلو! جو کرنا ہے کل کریں گے اس سے پہلے کہ۔۔۔“ حسان نے گھبرا کر کہا۔
”ہاں علی اب مشکل ہے!!صبح کچھ کرتے ہیں۔ ویسے بھی ان لوگوں نے کل رات کو نکلنے کی بات کی۔“ زید نے بھی کہا۔
گھر سے مسلسل فون آنے کی وجہ سے ان کو جانا پڑا۔
”صبح منہ کھول کر سوئے نہ رہنا۔ نو بجے آجانا سب میری طرف۔“ علی نے سب کو دیکھا اور وہ سب روانہ ہو گئے۔
اپنے اپنے گھر واپس آ کر کسی نے کوئی بات نہیں کی۔
”زید مجھے فون کارڈ لا دو پلیز۔“ رافعہ عرف فیا نے کہا۔
”آپی میں نے نہیں جانا اب تھک کر آیا ہوں۔ پہلے ہی سردی ہے اتنی۔“ زید نے ہیٹر کے آگے پاؤں رکھ کر کہا۔
”ہاں تم تو جیسے کوئی جنگ کر کے آئے ہو نا۔ کبھی کسی کے کام نہ آنا۔“ فیا کی بات سے زید کو یاد آگیا کہ اسے تو علی سے رابطہ کرنا ہے اور اس کے پاس بھی فون میں بیلنس نہیں۔
”سوری آپی دیں پیسے میں جاتا ہوں۔“ زید فوراً کھڑا ہو گیا اور فیا نے اوپر سے نیچے تک اسے بغور دیکھا۔ وہ حیران تھی کہ یک دم یہ کایا کیسے پلٹ گئی۔
رات گئے تک وہ سب ایک دوسرے کے ساتھ میسج پر پلان بناتے رہے، اور پھر سب فائنل کر کے صبح کا شدت سے انتظار کرنے لگے۔
اسے سوتے میں یوں محسوس ہوا جیسے کوئی اسے زور زور سے ہلا رہا ہے۔ کئی بار ایسا محسوس ہونے پر سوتے سوتے اس کے دماغ میں خیال آیا کہ یہ زلزلہ نہ ہو؟ وہ یک دم تیزی سے اٹھی اور بیٹھ کر یہاں وہاں دیکھنے لگی پھر اپنی آنکھیں رگڑنے لگی۔ اچانک اس کی نظر زید پر پڑی جو اس کے سر پر مسلط کھڑا تھا۔
" تت۔۔۔تم؟“ اس نے ایک بار پھر آنکھوں کو بند کیا اور پھر سے کھولا تو سامنے واقعی زید تھا۔
” آپی پلیز اٹھ جاؤ نا۔ کب سے آواز لگا رہا ہوں۔ مجھے ناشتہ دے دو جلدی۔ کہیں جانا ہے علی لوگ آتے ہی ہوں گے۔“ وہ مسلسل بولے جا رہا تھا جب کہ بیا کے لیے اس بات کو ہضم کرنا ہی مشکل ہو رہا تھا کہ، ’زید اتنی صبح اٹھ کیسے گیا؟‘
اس نے جب پختہ یقین کر لیا کہ یہ زید ہی ہے تو وہ بجلی کی سی تیزی سے بستر سے اٹھی۔ پاؤں میں الٹے سیدھے جوتے پھنسائے اور ٹیرس کی طرف بھاگی۔ ٹیرس کا دروازہ کھول کر باہر آئی اور آسمان کی جانب نظر دوڑانے لگی پھر دوسری طرف بڑھی اور ایسے ہی کیا۔ زید جو اس کے پیچھے آیا تھا اپنی آپی کو اس طرح کی حرکتیں کرتے دیکھ کر زچ ہونے لگا۔
” آپی اللہ کا واسطہ ہے۔ کیا کر رہی ہو؟“
”میں دیکھ رہی ہوں کہ سورج آج مغرب کی طرف سے تو نمودار نہیں ہو گیا مگر اس کی سمت تو ٹھیک معلوم پڑ رہی مگر میرے بھائی کی حالت کچھ ناساز لگتی ہے جو اتنی صبح بیدار ہو گیا۔“ پھر مزید کہنے لگی، ”لگتا ہے تمھیں بخار ہے اور سر پر چڑھ گیا ہے۔ اس لیے تم کہیں جانے وانے کی باتیں کر رہے ہو۔“ اس نے آگے بڑھ کر زید کے ماتھے پر ہاتھ رکھا جو کہ ٹھنڈا تھا۔
”آپی نہیں بنا کر دینا ناشتہ تو نہ دو۔ میں جا رہا ہوں۔“ وہ غصے سے پیر پٹختا نیچے چلا گیا۔
وہ بھی اس کے پیچھے آئی۔ منہ ہاتھ دھو کر کچن میں گئی اور اس کے لیے ناشتہ بنا کر باہر ٹیبل پر رکھا۔ زید وہاں پہلے سے موجود بیٹھا تھا۔ اُس نے ناشتہ شروع کیا۔ بیا دوبارہ سے اپنے لیے ناشتہ بنانے چلی گئی اور جب تک وہ واپس آئی زید غائب ہو چکا تھا۔
’اللہ جانے آج اِس لڑکے کے دماغ میں کیا چل رہا؟ خیر مجھے کیا!‘ اس نے کندھے اچکائے اور ناشتے میں مصروف ہو گئی۔ ابھی دوسرا نوالہ توڑا ہی تھا کہ گھنٹی کی آواز آنے لگی۔
”لو جی آ گئی کام والی ماسی۔“ اس نے سوچا اور اٹھ کر باہر جانے لگی۔ اس نے مین گیٹ کے نیچے دیکھ کر اندازہ لگایا کہ یہ تو تین چار لوگ ہیں۔ وہ آگے بڑھی اور پوچھنے لگی،”کون؟“
”آپی میں حذیفہ۔دروازہ کھولیں۔“ اُس کی آواز پر وہ آگے بڑھی اور دروازہ کھولا۔ پہلے حذیفہ پھر اس کے پیچھے عبداللہ، حسان اور سب آگے یکے بعد دیگرے اندر داخل ہوئے۔
”السلام علیکم! آپی زید جاگ گیا ہے کیا؟“ عبد اللہ پوچھتا ہوا آگے بڑھ گیا مگر اپنے سوال کا جواب نہ پا کر جب اس نے پیچھے دیکھا تو آپی ابھی تک کھلے ہوئے دروازے کو پکڑ کر ساکت کھڑی اُن سب کو دیکھ رہی تھی۔
”لگتا ہے سردی کی وجہ سے آپی جم گئی ہیں۔ میں دیکھتا ہوں۔“ حسان اس کے پاس گیا اور اس کی آنکھوں کے آگے چٹکی بجائی تو وہ چونکی۔
”آپی کیا ہوا؟“ حسان نے پوچھا۔
”۔۔ نن نن نن۔۔۔ نہیں کچھ بھی نہیں۔ تم لوگ چلو زید اندر ہے۔“ وہ بھی آگے بڑھی۔
وہ سب اندر جا کر صوفے پر بیٹھ گئے۔
” زید کہاں ہو؟“ عبداللہ نے آواز لگائی۔
"اوپر ہوں۔ بس آیا۔“ اس نے اوپر سے ہی جواب دیا۔
”تم سب کے لیے ناشتہ بناؤں؟“بیا نے پوچھا۔
”نہیں شکریہ ہم سب ناشتہ کر کے آئے ہیں۔“ حذیفہ نے مسکرا کر جواب دیا۔ اتنے میں زید تیار ہو کر آ گیا اور وہ سب بیا کو ”اللہ حافظ آپی!“ کہہ کر نکل گئے۔
”دروازہ زور سے بند کر جانا۔“ اس نے کہا اور خود بیٹھ گئی اور سوچنے لگی۔
’یہ دنیا جہان کے نکمے اکھٹے ہو کر کہاں چل پڑے؟‘ اُسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ حسان کے گھر فون کر کے خالہ سے پوچھے یا علی اور حذیفہ کے گھر کال کر کے مامی کو بتائے۔ یا اپنی امی کے سکول فون کر کے امی کو اطلاع دے یا چھوٹے ماموں کو عبداللہ کے بارے میں باخبر کرے۔
’ آخر ان سب کے لعل اتنی صبح جا کہاں رہے تھے؟‘ اس نے کچھ سوچا اور ایک بار پھر ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گئی۔
✯✯✯
”ماما! ماما! میری جیکٹ کہاں ہے؟ جلدی دیں۔ زید لوگ آ جائیں گے۔“ علی نے چیخ چیخ کر سارا گھر سر پر اٹھا رکھا تھا۔
”ایک تو مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اِن لڑکوں کو ہو کیا گیا ہے؟ آنا جانا لگایا ہوا ہے صبح سے۔ ایک آتا ہےایک جاتا ہے۔ ایک تو سوئے نہیں ساری رات اوپر سے آج تو نماز بھی جماعت کے ساتھ ادا کی ہے۔ ہائے میں مر گئی لگتا۔ کہیں میرا خواب تو نہیں پورا ہونے والا کہ میرے بچے صبح صبح اٹھ کر جماعت کے ساتھ نماز ادا کریں گے۔ مجھے تو خوشی سے چکر آنے لگے ہیں۔“ علی کی ما ما نے اپنا گھومتا ہوا سر بمشکل تھاما اور علی کی جیکٹ ڈھونڈنے لگیں۔
دروازہ زور زور سے اور مسلسل بجتا جا رہا تھا جیسے کوئی بڑی مصیبت میں مبتلا ہو۔ حفصہ کا روم مین گیٹ کے کچھ فاصلے پر تھا۔ اس کی یک دم آنکھ کھل گئی۔ اسے سخت تپ چڑھی۔ وہ اٹھ کر دروازے کی طرف لپکی۔
”لگتا ہے گھر میں باقی سارے اونچا سننے لگ گئےہیں۔“ وہ بڑبڑاتے ہوئے دروازے تک آئی۔
”کیا تکلیف پیش آگئی ہے؟ صبر نام کی کوئی چیز اللہ نے عطا فرمائی ہے کہ نہیں۔ کون بدتمیز ہے؟“ اس نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا اور سامنے عبداللہ، حسان، زید اور حذیفہ کو دیکھ کر اس کا پارا اور چڑھ گیا۔اس کا بس نہ چلا کہ ان سب کو مار ڈالے۔
”ایسی بدتمیزی سے تم لوگ ہی دروازہ بجا سکتے ہو۔ کیا تکلیف ہے؟ کتے تو پیچھے نہیں لگ گئے؟“ وہ مزید تپ گئی۔
”چل زید اب خیر نہیں ہم سب کی۔ صبح صبح اس کا منہ دیکھ لیا ہے اب ہم نیک کام انجام دینا تو دور کی بات سوچ بھی نہیں سکتے۔“ عبداللہ نے افسوس والے انداز سےزید کو دیکھا۔
”منحوس ہو تم سب کے سب! کرنے کیا آئے ہو صبح صبح۔ لگتا ہے گھر والوں نے تنگ آ کر نکال دیا ہے۔“ حفصہ نے ایک نظر سب پر ڈالی اور اندر جا کر پھر سے سو گئی۔
”یہ اور رابی ہر وقت جنگلی بلیاں بنی رہتی ہیں۔“ حذیفہ نے کہا اور سب اندر چلے گئے۔
وہ اندر آئے ہی تھے کہ علی بالکل تیار کھڑا تھا۔ وہ تھوڑا آگے آیا اور حسان کے کان میں سرگوشی کی۔
" اب ماما کے سامنے کچھ بک نہ دینا۔“
”یہ تم سب کہاں کی تیاری میں ہو؟“ بیگم سلیم سامنے سے آئیں تو دیکھ کر پوچھنے لگیں۔
”وہ ہم نے کھیلنے جانا ہے۔“ عبداللہ نے اٹک اٹک کر جواب دیا۔
”شاباش ہے! ایسا کون سا کھیل ہے جو اتنی سردی اور دھند میں تم نے کھیلنا ہے؟“
”مامی اس کھیل کا نام ہے نیکی کا کھیل۔“ یک دم حسان کے منہ سے نکلا۔ اس سے قبل وہ اور کچھ کہتا علی نے اسے بازو سے پکڑا اور باہر دھکیلنے لگا۔
”اچھا ماما چلتے ہیں۔“ وہ سب جلدی سے نکل گئے۔
”ہائے اللہ یہ کون سا کھیل ہے؟ کیا کر رہے یہ سب۔ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔“ وہ حیران تھیں۔
✯✯✯
آج سردی بھی اپنے عروج پر تھی اور دھند بھی اب کافی تھی پاس کھڑا انسان مشکل سے نظر آ رہا تھا۔ موٹر سائیکل پر ان سب کو اور بھی زیادہ ٹھنڈ لگ رہی تھی کہ منہ سے آواز تک نہیں نکل رہی تھی مگر اس کے باوجود وہ اپنی ایسی منزل کی طرف رواں دواں تھے جس کا راستہ بہت خطرناک تھا۔ اسی گھر سے کافی دور انھوں نے موٹر سائیکل کھڑی کر دی اور پیدل چلنے لگے تھے۔
”یار علی۔ ویسے اگر تیرا دل ہے کہ ہم مر جائیں تو ایک بار گولی مار دے۔ قسم سے فوراً مر جائیں گے۔ منہ سے اف تک کرے بنا مگر اتنا ظلم مت کر۔ سردی سے نہ مار ہم معصوم بچوں کو۔ آخر تجھے مصیبت کیا ہے اُس بچے کی؟“ حذيفہ نے کانپتے ہونٹوں سے کہا۔
”نہیں میرے بھائی! یہ ہمیں گولی سے کیوں مارے وہ تو ایک بار کی تکلیف ہے نا!! یہ ہمیں بار بار اذیت دے کر مارے گا۔ اس خطرناک سردی میں کوئی اپنے بچے کے لیے باہر نہ جائے اور اسے دیکھو پتا نہیں کس کا بچہ ہے جس کے لیے ذلیل کر رہا ہے ہمیں۔“ حسان نے اپنے ہاتھ رگڑتے ہوئے بغل کے اندر کیے اور علی کو کھا جانے والی نظر سے دیکھا۔
”تم دونوں کی بکواس بند ہو گئی ہو تو سن لو! پہلے ہم یقین کر لیں کہ گھر کے باہر تالا ہے اور وہ دونوں آدمی ہوٹل میں ہیں پھر ہم بچے کو دیکھیں گے۔ حسان اور عبداللہ تم دونوں ہوٹل کی طرف جاؤ اور ہم تینوں بچے کو دیکھتے ہیں۔“ علی نے اپنی بات ختم کی اور جب یقین کر لیا کہ تالا ہے تو کہنے لگا، ”اور سب کچھ دھیان سے کرنا ہے۔“
”تمھارا پلان اچھا ہے مگر احتیاط سے۔ ہو سکتا ہے ان کے علاوہ کوئی اور بھی ہو جو اس دن ان کے ساتھ نہ ہو۔“ زید نے کہا۔
وہ سب آگے بڑھ گئے اور تالا دیکھ کر پلان کے مطابق عمل کرنے لگے۔ حسان اور عبداللہ ہوٹل کی طرف گئے اور کچھ ہی دیر بعد حسان نے آکر آدمیوں کی ہوٹل پر موجوگی کا بتایا۔
”میں یہ دیوار پھلانگ کر اندر جاتا ہوں اور جیسے ہی میں کہوں تم لوگ تالا توڑنا۔“
”رک جاؤ علی! ضروری تو نہیں کہ بچہ اندر ہو؟ کوئی اور بھی اندر ہوا تو۔۔۔“ زید کو فکر ہوئی۔
مگر علی نے اللہ کا نام لیا اور اندر کود گیا۔ اسے ہر طرف عجیب سی خاموشی اور سناٹا لگا۔ صحن کے آگے برآمدہ تھا اس کے ساتھ دو کمرے تھے۔ ایک کا دروازہ تھوڑا بند تھا اور ایک کو کنڈی لگی تھی۔ دھند کی وجہ سے صاف نظر بھی نہیں آرہا تھا۔ وہ آگے بڑھا اور جس کمرے کا دروازہ تھوڑا بند تھا اس کے اندر دیکھا، وہ خالی تھا۔ پھر دوسرے کمرے میں جالی والی کھڑکی سے اندر دیکھا تو اس کے ہوش اڑ گئے۔ اس نے ایک منٹ ضائع کیے بنا کنڈی کھول دی اور تیزی سے آگے بڑھا۔ بچہ جو کہ کرسی کے ساتھ رسیوں سے باندھا ہوا تھا، اسے جلدی سے کھولا اور اس کے منہ سے رومال باہر نکالا۔ بچے کو لے کر نکلنے لگا تو اسے ایک بیگ نظر آیا۔ اس نے وہ بھی اٹھا لیا۔ وہ فوراً باہر آیا اور زید کو آواز دی۔
وہ سب جیسے اس کے انتظار میں تھے۔ فوراً تالا توڑا اور حرکت میں آگئے۔
”چلو! یار بھاگو۔“
”زید! تُو چل اور حسان تم اِن دونوں کو لے کر جلدی آؤ ہمارے پیچھے۔“
”اوکے! تم دونوں جاؤ جلدی۔“ حسان نے ان کو روانہ کیا اور خود عبداللہ اورحذیفہ کی طرف جانے ہی لگا کہ وہ بھاگتے ہوئے آئے۔
”جلدی بھاگو ان کا ناشتہ بس ختم ہونے والا ہو گیا۔“ انھوں نے تیزی سے کہا۔
”کام کیا؟“ عبداللہ نے پوچھا۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
”ارے کہاں جا رہے ہو؟ کیا اسے تم اپنے گھر لے جاؤ گے پاگل ہو گیا کیا؟“علی کو موٹر سائیکل کا رخ اپنے گھر کی طرف موڑتے دیکھ کر زید نے کہا۔
”یار آج ماما لوگوں نے نانو کے گھر جانا ہے اور شام کو آنا ہے۔ پاپا بھی رات کو آتے ہیں۔ ایک بار چلو تو پھر دیکھیں گے۔“ علی کی سردی کی وجہ سے آواز کانپ رہی تھی۔
جیسے ہی وہ سب گھر آئے تو دروازے پر گاڑی دیکھ کر کھٹک گئے۔
”ارے پاپا گھر جلدی تو نہیں آگئے؟“ علی نے نے دھیمی آواز میں کہا۔
”تم اندر جا کر جائزہ لو پھر بتاؤ۔ میں ذرا آگے کھڑا ہوجاتا ہوں۔“ زید نے علی سے موٹر سائیکل لی اور اسے کہا۔
علی اندر داخل ہوا تو ساتھ ہی پیچھے وہ تینوں بھی آگئے۔ سب کو دیکھ کر بیگم سلیم جو تقریباً تیار تھیں، کہنے لگیں۔
”شکر ہے! علی تم لوگ آگئے۔ ہم جا رہے ہیں۔ کھانا بنا دیا ہے اور گھر پر رہنا۔ گھر گندا نہ کرنا ہم شام کو آئیں گے اور۔۔۔“ ابھی اگلا لفظ ان کے منہ کے اندر ہی تھا کہ علی بول پڑا۔
” ما ما آپ جائیں فکر نہ کریں۔“ وہ جلدی جلدی سب کو جانے کا کہنے لگا۔
”ماما میں آپ کو کہہ رہی ہوں یہ لڑکے کچھ الٹا سیدھا کر رہے ہیں۔ میرا دل کہتا ہے۔“ جیا نے ان پر ایک گہری نگاہ ڈالی۔
”تمھارا دل پاگل ہے! اب جاؤ۔“ حسان نے جیا کو گھورا۔
وہ سب جیسے گاڑی میں بیٹھے۔ علی کی ما ما کی نظر سامنے پڑی مگر دھند کے باعث صاف نظر نہ آیا۔
“جیا مجھے لگتا سامنے موٹر سائیکل پر زید ہے۔“
”ماما پلیز! مانا کہ آپ کی نظر ماشااللہ بہت اچھی ہے مگر دھند کی وجہ سے آج کچھ کام نہیں کر رہی۔ سامنے جو لڑکا ہے زید جیسا لگتا ہے پر ہے نہیں۔ کیونکہ اس کے آگے ایک بچہ بیٹھا ہے اور ویسے بھی اس لڑکے کا فیس کوَر ہے ماسک سے۔“
”تو اس میں کیا ہے؟ زید کا بچہ نہیں ہو سکتا کیا؟“ حفصہ کے معصوم سوال پر بیگم سلیم نے اسے بس ایک نظر ہی دیکھا اور ڈرائیور کو چلنے کو کہا۔ جیسے ہی گاڑی چلی علی نے زید کو فون کیا۔
اندر داخل ہوتے ہی اس نے روم میں دیکھا جہاں وہ تینوں ہیٹر کے آگے لیٹے تھے۔
”دفع دور ہو جاؤتم لوگ!اس بیچارے کو آگے آنے دو۔ نہیں تو مر جائے گا۔“ اس نے بچے کو قریب کیا جو سردی سے کانپ رہا تھا۔
اتنے میں علی سب کے لیے چائے لے آیا۔ ساتھ ابلا ہوا انڈا اور برگر تھا۔
”میں جانتا تھا!علی کو احساس ہے کہ مجھے اِس کی ضرورت تھی۔“ حسان سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور برگر کی طرف ہاتھ کیے۔
”اوئے سدا کے بھوکے انسان! شرم کر۔ یہ برگر اس معصوم کا ہے۔ کچن میں پڑے ہیں سب کے۔ لے آؤ۔“
”بھوک لگی ہے آپ کو؟“ عبداللہ نے بچے کو دیکھا جو لال سیب کی طرح لگ رہا تھا۔ بچے نے اثبات میں سر ہلایا۔ اب اس کی گول اور نیلی آنکھوں سے پانی بہنے لگا تھا۔
جیسے ہی عبداللہ نے برگر اس کی طرف بڑھایا۔ تو بھوک کی وجہ سے بچے نے فوراً اسے کھانا شروع کر دیا۔
”تمھارا نام کیا ہے؟“ زید نے پیار سے پوچھا۔
”میں دُل تھان ہوں۔“ اس کے معصوم انداز پر سب مسکرائے۔
”اچھا آپ گل خان ہو۔“ حذيفہ نے اس کی تصحیح کی۔ اس نے اثبات میں سر جھکا دیا۔
”آپ کا گھر کہاں ہے؟“ اب علی نے سوال پوچھا۔
”دوور۔۔۔سارا ہے میرا دھر۔(دوور۔۔۔ سارا ہے میرا گھر۔)“ اس نے اپنی دونوں بازوں کو کھول کر ”دور“ لفظ کو بہت لمبا کر کے بتایا۔ اب وہ ان سب سے کچھ مانوس ہو رہا تھا۔ پہلے جیسا خوف اب ختم ہو رہا تھا۔
”اچھا یہ بتاؤ! کہ آپ اب جس گھر میں تھے وہ آدمی جو وہاں ہوتے تھے وہ آپ کے ابو کے دوست ہیں؟“ عبداللہ کے اس سوال پر اس نے پہلے اسے دیکھا پھر کچھ دیر خاموشی کے بعد جواب دیا، ”میرے ابو نہیں ہیں۔“
” وہ جو دو تھے انتل، ان دونوں میں سے اندر جو ایک تھا اس نے مجھے بارا بھی۔(وہ جو دو تھے انکل،ان دونوں میں سے اندر جو ایک تھا اس نے مجھے مارا بھی۔)“ یک-دم وہ روہانسا ہو گیا۔
حذيفہ نے نوٹ کیا کہ وہ بار بار اپنے پاؤں کے ٹخنے کی طرف ہاتھ کرتا تھا۔ اس نے گل خان کا پاجاما تھوڑا اوپر کیا تو اس کے ٹخنے پر کافی گہرا زخم تھا جو کہ سردی کی وجہ سے کچھ نیلا ہو کر جم گیا تھا۔
”او مائی گاڈ!“ اس نے بےساختہ آگے بڑھ کر زخم کو چھوا تو گل خان چیخ اٹھا۔ اسے درد ہونے لگا تھا۔
”اتنا گہرا زخم۔ توبہ!“ عبداللہ زخم دیکھ کر سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
گل خان کا پاؤں سردی سے سن تھا۔ اب جیسے ہی گرمائش ملی تو اسے درد کا احساس ہوا۔ حسان جو کہ ابھی سب کے لیے برگر لے کر کمرے میں داخل ہوا تھا۔ وہ بھی اب فکر مند ی سے سب کو دیکھنے لگا۔
انھوں نے اس کا زخم صاف کیا پھر مرہم لگایا۔ اسے گرم دودھ پینے کو دیا۔ کچھ دیر بعد وہ سو گیا۔ پھر علی نے وہ بیگ کھولا اور سب نے اس میں رکھی رقم دیکھی۔ ایک کاغذ پر اس کے گاؤں کا پتا تھا اور ایک پر کچھ اور باتیں لکھی تھیں جو سمجھ نہیں آ رہی تھیں۔
دو گھنٹے کی محنت کے بعد ان لوگوں نے ایک فیصلہ کر لیا کہ جیسے بھی ہو گل خان کو اس کے گاؤں چھوڑ کر آنا ہے۔ یہ کام اتنا آسان نہ ہوتا اگر ان سب نے پہلے سے گھومنے کا پلان نہ کیا ہوتا!
اب فرق صرف یہ تھا کہ پہلے ان کی منزل کچھ اور تھی اور اب بالکل مختلف سمت ہو چکی تھی۔
”یار اب دو مسائل ہمارے سامنے ہیں۔ ایک یہ کہ ہمیں جلدی نکلنا ہو گا اور دوسرا اسے رکھنا کہاں ہے؟“ علی کے چہرے پر پریشانی واضح تھی۔
”آج جمعرات ہے اور ہمیں ہر صورت ہفتے کو جانا ہو گا۔ آج میں اسے رکھ لیتا ہوں کل زید رکھ لے۔“ علی نے سوالیہ نظروں سے زید کو دیکھا۔
”اب جو بھی ہو اس کی مدد ضرور کرنی ہے اللہ کے حکم سے۔“
”ویسے کیوں نہ ہم اس کے بارے میں پولیس کو بتا دیں؟“ عبداللہ نے مشورہ دیا۔
”سب سے پہلے تو میری جان اب ہم پولیس تک گئے تو کوئی یہ سب چیزیں اور بچے کو دیکھ کر یقین نہیں کرے گا کہ ہم نے اسے آزاد کروایا ہے اور دوسرا یہ کہ اب تک وہ آدمی فرار ہو چکے ہوں گے۔ تو ہم ثبوت کہاں سے دیں گے۔“حسان نے گہرا سانس لیا اور پھرمزید کہنے لگا، ” بس اب اللہ کا نام لے کر کر گزرتے ہیں۔ اللہ ہم سب کو کامیاب کرے گا ان شاء الله۔“ حسان کی بات پر سب نے آمین کہا۔
”یار حسان تُو نے تو اب اس بات کو سیریس لے لیا۔“ حذيفہ کی بات پر باقی سب ہنس پڑے۔
✯✯✯
وہ دونوں ناشتہ کر کے جیسے ہی گھر کے دروازے پر آئے اور تالا کھولنے لگے تو تالا پہلے سے ہی ٹوٹا پڑا تھا۔ انھوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور فوراً اندر لپکے۔
گھر کا کونا کونا چھان مارا مگر انھیں نہ تو گل خان ملا اور نہ ہی بیگ۔
”یہ کیا ہو گیا؟ آخر یہ سب کیا کس نے؟ کیا کوئی جانتا تھا کہ ہم۔۔۔“ ان میں سے ایک نے گھبراہٹ سے کہا۔
”یہ تو جو ہوا سو ہوا اب یہ سوچو کہ ہمیں منیر اور بلا بھائی سے کون بچائے گا۔ یہ بچہ ان کے لیے سونے کی چڑیا تھا۔ انھوں نے سب بچوں کو بیچ دیا جو یہاں لائے گئے تھے مگر اسے رکھ لیا اور واپس لانے کو کہا تھا۔ میں نے آج تک بلا بھائی کو دیکھا نہیں پر سنا ہے کہ وہ بندے کو تڑپا تڑپا کر مارتا ہے۔ اب کیا کریں؟“ دوسرے آدمی نے جس کا نام سیفی تھا، ڈرتے ڈرتے کہا۔
”کیا کوئی جانتا تھا یہ سب؟یا جس نے بھی یہ سب کیا اسے پتا کیسے چلا؟ اب۔۔۔ چھوڑ ان باتوں کو چل دیکھتے ہیں ہو سکتا ہے کوئی سراغ مل جائے۔“ وہ باہر جانے لگا تو سیفی نے کہنے لگا۔
”سن! اگر گل خان نہ ملا اور ہم خالی ہاتھ وہاں گئے تو بلا بھائی مار دے گا۔ اس سے اچھا ہے ہم کہیں بھاگ جائیں۔“ وہ بُری طرح خوف زدہ تھا۔
”یار اچھا بھلا اپنا چھوٹا موٹا چوری ڈاکے کا کام تھا۔ اس منیر نے پھنسا دیا اتنے پیسوں کا لالچ دے کر۔ نہ اس کی بات میں آتے نہ آج مرتے۔ چل نکل باہر تلاش کرتے ہیں۔“ وہ دونوں باہر کی طرف لپکے۔
✯✯✯
”علی یار! پچھلے تین گھنٹے سے گل خان سو رہا ہے۔ جا کر دیکھو تو سہی۔“ زید کو فکر لاحق ہوئی۔
”ہاں! تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔ ایک بار اسے دیکھ لیں تو پھر ہم چلتے ہیں۔“ حسان نے بھی کہا۔ جیسے ہی علی اس کے پاس گیا اور اسے ہاتھ لگایا تو اسے کرنٹ لگا۔ بچے کا جسم آگ کی طرح تپ رہا تھا اور چہرہ لال ٹماٹر کی طرح۔
” زید۔۔۔ حسان۔۔۔ جلدی آؤ سب۔“ علی بُری طرح گھبرا گیا۔
جب وہ اندر آئے تو اسے بخار میں جلتا دیکھ کر پریشان ہو گئے۔
”اب کیا کریں؟ اس کی حالت تو بہت خراب ہے۔“ حسان نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔
”کرنا کیا ہے؟ اسے ڈاکٹر کے پاس لے چلتے ہیں۔“ علی کھڑا ہوا۔
”نہیں رک جاؤ!“ زید نے یک دم علی کا بازو پکڑ لیا اور اس کی طرف دیکھ کر کہنے لگا۔
”اگر ڈاکٹر نے اسے داخل کر لیا تو کون رات رک پائے گا اس کے پاس؟“
”ہاں یار یہ ٹھیک کہہ رہا ہے۔“ حذیفہ کو بھی تشویش ہوئی۔
”اچھا یوں کرتے ہیں میں اسے گھر لے جاتا ہوں اور بھابی سے کہتا ہوں کہ یہ میرے دوست کا بھائی ہے۔ کچھ بھی کہہ کر میں اسے چیک کروا لیتا ہوں۔“ زید نے کچھ سوچنے کے بعد ایک منٹ میں فیصلہ کر کے کہا۔ اس کے بڑے بھائی رفیع الدین کی بیوی ”اشمام بھابھی“ ڈاکٹر تھیں اس لیے اس کے ذہن میں فوراً ہی یہ آئیڈیا آیا تھا۔ اب زید بچے کو اٹھانے کے لیے جھکا۔
”مگر بھابی پوچھیں گی نہیں کہ اسے ہسپتال کیوں نہیں لے گئے؟ یہاں کیوں لے آئے؟“ حسان نے فکر مندی ظاہر کی۔
”یار تُو بھی نا! وہ ڈاکٹر ہیں اور گھر میں کلینک اسی لیے ہی کھولا ہے کہ مریض وہاں آئیں۔ اور میں کچھ بھی بتا دوں گا۔ ابھی بس چلو۔“ زید نے جلدی سے گل خان کو اٹھانے کے لیے اس کی طرف قدم بڑھائے۔
”حسان تم اس کے ساتھ جاؤ۔ اگر ہم سب گئے تو بھابی کو شک ہو گا۔“ عبد اللہ نے تجویز پیش کی۔
حسان اور زید ایک منٹ کی تاخیر کیے بنا اسے لے گئے۔
کچھ دیر بعد وہ دروازے پر تھے۔ حسان نے گھنٹی بجائی اور بجاتا چلا گیا۔
’’یہ حرکت زید کے علاوہ اور کوئی نہیں کر سکتا۔‘‘ بیا نے اندر بیٹھے اندازہ لگایا۔ اس کے برابر رابی بیٹھی جمائی لے رہی تھی۔ سردی کی وجہ سے کوئی دروازہ کھولنے کے موڈ میں نہیں تھا مگر مسلسل بجتی گھنٹی سے تنگ آکر رابی غصے سے دروازے کی طرف لپکی۔
”آج تو اِس زید کو چھوڑوں گی نہیں۔ صبح سے گھر سے نکلا ہے اب آگیا۔ پاپا اور بھائی گھر نہیں ہیں اس لیے اتنا۔۔۔“ اس نے بولتے بولتے دروازہ کھولا اور سامنے کا منظر دیکھ کر بُری طرح حیران رہ گئی۔
زید نے ایک خوبصورت سے بچے کو بازو میں اٹھا رکھا تھا۔ رابی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
”پیچھے ہٹ جاؤ اور جلدی سےبھابی کو بلاؤ۔ میں اسے کلینک میں لے جاتا ہوں۔“ زید تیزی سے آگے بڑھ گیا اور رابی وہیں کی وہیں سکتے کی حالت میں کھڑی رہی۔
حسان دوڑ کر اندر گیا اور بھابی کو اطلاع دی۔
”بھابی جلدی اپنے کلینک آ جائیں۔ ایک بچے کی حالت بہت خراب ہے اور۔۔۔“ ابھی الفاظ اس کے منہ میں تھے کہ اشمام فوراً کلینک والے کمرے کی طرف بھاگی۔ وہ شام میں گھر میں کلینک چلاتی تھی۔ جب وہ کمرے میں آئی زید اسے بیڈ پر لِٹا چکا تھا۔
”بھابی یہ میرے دوست کا بھائی ہے۔ اس کی امی بیمار تھیں اور میرا دوست شہر سے باہر ہے۔ اس کے والد بھی نہیں ہیں۔۔۔“ زید کے دماغ میں جو جو آتا گیا وہ بولتا گیا۔ ساری بات بتا کر وہ ایک طرف ہٹ کر کھڑا ہو گیا۔
”او مائی گاڈ!! اتنا تیز بخار ہے اسے تو۔۔۔ اسے بُری طرح ٹھنڈ لگ گئی ہے۔“ بھابھی نے سارا چیک اپ کیا اور زید کو دوا لانے کو کہا۔ حسان نے آگے ہو کر پرچی لی اور بھاگا۔
”تم اس کے پاس رک جاؤ۔“ اُس نے زید کو اشارہ کیا۔
اتنے میں زید کی امی، بیا اور رابی بھی اندر آگئیں اور اتنے پیارے بچے کی یہ حالت دیکھ کر روہانسی ہو گئیں۔
”میں اسے ہوش میں لانے کی کوشش کرتی ہوں۔ تم اس کے لیے گرم دودھ لے آؤ پلیز۔“ بھابی نے بیا کی طرف دیکھا تو وہ فوراً کچن کی طرف لپکی۔
”کیسا پیارا معصوم بچہ ہے! ہائے اس کی ماں کا کیا حال ہو گا؟“ زید کی امی روتی جا رہی تھیں اور ساتھ ساتھ اس پر دم بھی کر رہی تھیں۔
”امی آپ تو اندر جائیں۔ اب آپ کا رونا شروع ہو گیا۔“ زید کو تاؤ آیا۔
”تم بکواس بند کرو۔ اس کی ماں کا نہ جانے کیا حال ہو گا۔ جب تک اسے ہوش نہیں آتا میں یہاں سے نہیں جانے والی۔“ انھوں نے اسے بُری طرح ڈانٹ دیا۔
آدھے گھنٹے بعد اسے ہوش آیا تو اس نے یہاں وہاں دیکھا۔۔۔ مگر انجان چہروں کو دیکھ کر گھبرا گیا اور رونے لگا۔ اسے روتا دیکھ کر سب قریب ہوئے۔
”کیا ہوا بیٹا! کیسے ہو؟“ اشمام نے اسے پیار سے پکارا۔ اس کے رونے میں شدت آ گئی۔ رابی زید کو بلا لائی۔ زید اور حسان کے آتے ہی وہ خاموش ہو گیا۔ زید نے اس کا زخم بھی بھابی کو دِکھایا۔ انھوں نے اس کی بھی مرہم پٹی کر دی۔
”تم اس کی امی کو فون کر دو۔ آج رات اسے رکھنا پڑے گا۔ کل بخار کم ہوا تو چھوڑ آنا۔ پھر میں اس کے گھر جا کر چیک کر لیا کروں گی اور ان سے پیسے مت لینا۔“
”ٹھیک ہے بھابی میں کہہ دیتا ہوں۔ ویسے ان کو اعتراض نہیں ہو گا۔“
زید نے حسان کی طرف دیکھا۔ دونوں پرسکون ہو گئے کہ آج کی رات کا انتظام اللہ نے کر دیا ہے۔
حسان نے باہر نکل کر سب کو فون کر کے اطلاع دی۔
”بیا آپی! میں ذرا سونے لگا ہوں۔ تھک گیا ہوں۔ آپ گل خان کو دیکھتی رہنا۔“ زید نے بیا کے روم میں داخل ہو کر کہا۔ حسان بھی اپنے گھر جا چکا تھا۔
”اچھا تم فکر مت کرو میں جاتی ہوں۔“ وہ جیسے ہی روم میں داخل ہوئی تو اسے معصوم بچے پر بےاختیار پیار آگیا اور وہ کتنی دیر اس کے پاس بیٹھی رہی۔ اشمام بھی ہر تھوڑی دیر بعد اس کا بخار چیک کرتی رہی۔
زید کی آنکھ فون کی گھنٹی بجنے سے کھلی۔ سکرین پر علی کا نمبر دیکھ کر وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔
”ہاں علی بولو؟“ وہ ابھی بھی نیند میں تھا۔
”شاباش! تو یہاں نیند پوری کر رہا ہے اور مجھے فکر ہو رہی کہاں ہے وہ؟“ علی پھٹ پڑا۔
”اس کے پاس سب ہیں۔ آج پاپا اور بھائی بھی نہیں ہیں گھر پر۔ امی، بھابی اور باقی سب اس کا بہت خیال کر رہے ہیں۔ مجھے بےفکری ہوئی تو سو گیا۔ اب تمھارے فون سے آنکھ کھلی ہے میری۔“ زید نے جمائی لیتے ہوئے کہا۔
”میں نے ایک تو گل خان کا پوچھنا تھا دوسرا تجھے بتانا تھا کہ آج پاپا جلدی آگئے تھے تو میں نے اور حذيفہ نے ان کو منا لیا۔ اجازت مل گئی اور عبداللہ کو بھی مل گئی ہے۔ اب تم اور حسان بھی پوچھو اور پھر ہم نکل جائیں کل شام تک۔“
”چل ٹھیک ہے!! میری پاپا سے فون پر بات تو ہو گئی تھی۔ بس امی کو راضی کرنا ہے پھر بتاتا ہوں۔“ زید نے فون رکھ دیا اور گل خان کو دیکھنے کی غرض سے بستر چھوڑ کر بھاگا۔ سب ٹی وی لاؤنج میں ہی بیٹھے تھے۔
”امی مجھے ایک بات بہت حیران کر رہی ہے ویسے تو زید بلکہ زید کیا یہ سب لڑکے ہل کر پانی نہیں پی سکتے۔ دنیا جہان کے نکمے ہیں۔ بھلا یہ کیسے اس بچے کو یہاں لے آیا۔“ رابی کو ابھی تک یہ بات ہضم نہیں ہو رہی تھی۔
”بس بیٹا اللہ جس سے نیکی کا کام لینا چاہے۔ ہم انسان تو بہت کمزور ہوتے ہیں فوراً دوسرے انسان کو غلط یا صحیح بنا دیتے ہیں مگر میرا اللہ جانتا ہے کہ کون کیسا ہے۔ کس سے کیا کام لینا ہے۔ مجھے تو بہت خوشی ہوئی آج کہ ان لڑکوں میں احساس زندہ ہے۔“ زید کی امی کافی مطمئن تھیں۔
”آنٹی آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ بچے کی حالت بہت خراب تھی اور اس کے پاؤں کا زخم گہرا تھا۔ اللہ اِن لڑکوں کو اجر دے گا۔“ اشمام بھابی کی بات پر سب نے آمین کہا۔
رات کے کھانے میں زید نے جیسے ہی امی سے جانے کی بات کی ان کا تو میٹر گھوم گیا۔
”بالکل نہیں! سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے! تم سب لڑکے اکیلے پہاڑوں پر جاؤ۔ اتنے گندے راستے ہیں۔ میں تمھارے باپ کو بتاؤں گی۔“
”امی میری پاپا سے بات ہوئی ہے۔ وہ مان گئے ہیں اور ہم سب ساتھ ہی ہوں گے۔ میں نے ہر صورت جانا ہے۔“ اس نے ضد کی۔ اس سے پہلے کہ امی اور کچھ کہتیں بھابی اور بیا نے اسے اجازت دلوا کر ہی دم لیا۔
”جو مرضی کرو تم سب بھاڑ میں جاؤ۔“ امی بولتے بولتے اٹھ گئیں۔
زید نے خوشی خوشی ان سب کو اطلاع دی۔ کچھ دیر بعد حسان نے بھی اپنے جانے کی خبر سنا دی اور پھر ان سب نے کل رات کو دو بجے گھر سے روانہ ہونے کا پلان بنا لیا۔
ساری رات زید کی امی گل خان کے پاس رہیں۔ وہ نیم بےہوشی میں تھا مگر بخار کافی حد تک اتر گیا تھا۔صبح ہوتے ہی اشمام نے اسے پھر چیک کیا۔
”بھابی اسے کب چھٹی ہو گی۔ اس کی امی کا فون آیا تھا۔“ زید نے کمرے میں داخل ہو کر پوچھا۔
”ہاں زید یہ اب کافی بہتر ہے۔ بس تم آج شام کو چھوڑ آنا اسے۔ویسے دل نہیں کر رہا۔ اتنا پیارا بچہ ہے دل کرتا ہے اسے یہاں رکھ لوں۔“ اشمام نے اسے پیار کیا۔سویا ہوا وہ اور بھی پیارا لگ رہا تھا۔
دوپہر تک وہ کافی بہتر ہو گیا۔ اب وہ ان سب کے ساتھ کچھ کچھ مانوس ہو گیا تھا۔ دوپہر میں سب نے اسے بہت اچھے اچھے تحفے بھی دیئے۔وہ خوش ہو گیا۔
رابی نے سب کو گل خان کے بارے میں بتایا۔ سب اس سے ملنے آئے تھے۔ چھوٹے بچوں مناہل، منثاء، عبدالرحمن اور حنظلہ کا تو وہ دوست بن گیا تھا۔ وہ اس کے لیے کافی چیزیں لائے تھے۔
چار بجے اشمام نے اسے آخری بار چیک کیا تو بخار بالکل ٹھیک تھا مگر کمزوری بہت تھی۔
”زید یہ کچھ دوائیاں ہیں اسے لے دینا اور کچھ پھل بھی لے دینا۔“ اشمام نے پیسے اسے دیئے۔
”اب بےشک اسے چھوڑ آؤ۔ اس کی امی پریشان ہو رہی ہوں گی۔ میں کل اسے جا کر اس کے گھر چیک کر لوں گی۔“
”اب کیسا ہے بیٹے کا زخم؟“ زید کی امی اندر آئیں تو اسے بیٹھا دیکھ کر پیار سے پوچھا۔ اس نے پہلے ان کو دیکھا پھر آہستہ سے اپنی زبان میں بتانے لگا۔
”دل خان کو انتل نے زور سے باراتھا۔ درد ہوئی۔ (گل خان کو انکل نے زور سے مارا تھا۔ درد ہوئی۔)“ ابھی وہ بول ہی رہا تھا کہ زید آگے بڑھا۔
”امی اب یہ ٹھیک ہے۔“
”ہائے! اس کی بات تو سننے دو کچھ کہہ رہا تھا۔“ زید کی امی اس کے قریب ہوئیں۔
”امی اسے دیر ہو رہی ہے۔ اس کی امی پریشان ہیں۔ جانے دیں۔“ اس نے جلدی سے اسے گود میں لیا اور باہر نکل گیا۔
بظاہر تو زید سب کے سامنے باہر نکل کر گیا تھا مگر گھر کی دوسری طرف سے وہ سیڑھیاں چڑھ کر سب سے اوپر والی منزل پر چلا گیا جہاں حسان اور حذیفہ پہلے سے موجود تھے۔ انھوں نے آج گل خان کو یہاں ہی چھپانا تھا۔ اوپر کمرے میں انھوں نے انتظام کر لیا تھا۔
پلان کے مطابق حذيفہ نے آج زید کی طرف رہنا تھا۔
شام سات بجے کے قریب علی، عبداللہ اور حسان کے گھر والے سارے یہاں آگئے۔ عبد الرافع صاحب، فاروق صاحب اور شریف ڈوگر صاحب بھی فیملی کے ساتھ پہنچ گئے تھے۔ کافی رونق لگ گئی تھی۔ سب بڑے انھیں طرح طرح کی نصیحت کر رہے تھے۔ سب خواتین سب کے لیے رات کا کھانا بنانے کے لیے کچن میں چلی گئی تھیں۔ سب مرد باتیں کرنے لگے۔ باقی سب لوگ اپنے اپنے کمروں میں تھے۔ سردی کی وجہ سے کوئی بھی باہر نہیں نکل رہا تھا۔ جیا، بیا، اور فیا جو کہ اِن لڑکوں سے بڑی، سب کی آپیاں تھیں ایک کمرے میں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔ ان کے ساتھ اشمام بھابھی بھی تھیں جو کہ ان سے چند ہی سال بڑی تھیں اور جن سے ان سب کی اچھی دوستی تھی۔
رابی اور حفصہ اچھی دوستیں اور ہم عمر ہونے کی وجہ سے ایک ساتھ گھر میں اِدھر اُدھر گھوم رہی تھیں جب اچانک بیا کو اپنی کتاب یاد آئی جو وہ دوپہر کو اوپر ہی رکھ آئی تھی۔
”رابی پلیز اوپر سے میری کتاب ہے لا دو۔“
”ہائے چھت پر! میں اس وقت اکیلی نہیں جاؤں گی۔ آپی مر نہ جاؤں میں۔“ رابی مرنے لگ گئی۔
”توبہ ہے رابی۔ اتنی سی بات۔ چلو میں ساتھ چلتی ہوں تمھارے۔“ حفصہ بہادر بنی!
وہ دونوں سیڑھیاں چڑھ کر اوپر گئیں۔ ابھی انھوں نے چھت کی طرف کھلتا دروازہ کھولا ہی تھا کہ سامنے چارپائی پر لیٹے بچے کو دیکھ کر دونوں کی حالت غیر ہو گئی اور وہ شور کرتی نیچے بھاگ آئیں۔ ان کی آواز سے سب کمرے سے نکلیں۔
”کیا ہوا؟“ فیا نے پوچھا۔
”بھوت بھوت۔۔۔ نہیں بچہ۔۔۔بھوت۔“ حفصہ کے منہ سے آدھے آدھے الفاظ نکل رہے تھے اور رابی کی حالت اس سے بھی زیادہ خراب تھی۔ یہ تو شکر تھا کہ لڑکیوں (رابی اور بیا) کا روم دوسری منزل پر تھا۔ ان دونوں کی آوازیں نیچے تک نہیں گئیں ورنہ سب بڑے آجاتے اور پھر بھانڈا پھوٹ جاتا۔
”دماغ خراب ہے ان دونوں کا! میں اوپر تھا۔“ حسان فوراً بھاگتا ہوا ان کے پیچھے آیا۔ اسے اچھا خاصا سانس چڑھا ہوا تھا۔ آتے ہی اس نے وضاحت دی۔
”دونوں پاگل سی ہیں۔“ بیا ڈانٹ کر اندر چلی گئی۔
”نہیں بھابی وہ گل خان تھا۔“ رابی نے اشمام کو یقین دلوایا۔
”میں جانتی ہوں وہ سب کو بہت اچھا لگا تھا۔ بہت پیارا تھا۔ مجھے بھی بہت یاد آ رہا ہے۔آجاؤ میری جان۔“ بھابی ان دونوں کو اندر لے گئیں۔
”یہ گل خان کون ہے؟“ جیا نے پوچھا۔
جیا اپنی نانو کے گھر ہی رہ گئی تھی اس لیے وہ کل نہیں آ سکی تھی۔ آج وہ ان کی طرف آئی تھی۔
”اندر آؤ۔ تمھیں بتاتی ہوں۔ پہلے پانی پی لوں۔“ اور پھر رابی نے اسے پوری کہانی سنا ڈالی۔
”ہائے کتنا کیوٹ لگ رہا ہے وہ بچہ۔ تم ایک پک ہی لے لیتیں۔“ جیا نے رابی کو گھورا۔
”اس کا بس چلتا تو یہ گل خان کے ساتھ ساری رات ٹک ٹوک بناتی رہتی۔ وہ تو امی نے اس کا موبائل چھپا دیا تھا کہ بچہ بیمار ہے اسے تنگ مت کرے۔“ بیا نے ہنس کر رابی پر چوٹ کی۔
زید اور علی اوپر بھاگے اور جا کر گل خان کو دیکھا۔ وہ بھی سہم گیا تھا۔ حسان کی کلاس ہو گئی کہ وہ کہاں غائب تھا۔
جب کسی نے بھی رابی اور حفصہ کی بات پر یقین نہ کیا تو ان دونوں نے اسامہ بھائی سے بات کرنے کا سوچا مگر وہ نیچے سب بڑوں کے درمیان ہدایات سن رہا تھا۔ حسان میں جتنا مسخرہ پن اور نخرہ تھااس کا بڑا بھائی اسامہ اتنا ہی عقل مند اور سمجھ دار تھا۔ سب نے فیصلہ کیا کہ ان سب لڑکوں کے ساتھ اسامہ کو جانا چاہیے۔ عبد الرافع صاحب (زید کے پاپا) نے ان کے لیے ایک ڈرائیور کا انتظام بھی کر دیا تھا جو بہت تجربہ کار تھا۔
رابی اور حفصہ نے اسامہ کو الگ سے بلایا۔ ساری بات بتائی اور اوپر چلنے کو کہا۔ وہ مان گیا اور وہ ڈرتے ڈرتے اوپر گئیں اور اسامہ ان کے پیچھے پیچھے تھا۔ وہ دروازے کے پاس جا کر رک گئیں۔ اندر سے ہلکی ہلکی آوازیں آ رہی تھیں۔ وہ دروازے کے ساتھ کان لگا کر کھڑی ہو گئیں اور ان کی بات سمجھنے کی کوشش کرنے لگیں۔ یک دم دوسری طرف سے دروازہ کھلا تو دونوں زمین بوس ہو گئیں۔ حفصہ نیچے اور رابی اس کے اوپر گری تھی۔
دونوں کو دیکھ کر وہ سب آگے بڑھے۔ اس سے قبل وہ دونوں پھر سے چلاتیں اسامہ نے ان کو چپ رہنے کو کہا اور پھر ”مرتے کیا نہ کرتے“ انھیں اسامہ، رابی اور حفصہ کو سب بتانا پڑا۔
آدھے گھنٹےکی محنت کے بعد وہ سب لڑکے اسامہ اور دونوں لڑکیوں سے یہ وعدہ لینے میں کامیاب ہو گئے کہ وہ ان کا راز راز ہی رکھیں گے۔
ان کے نکلنے میں آدھا گھنٹہ رہ گیا تھا جب اسامہ کے ایک دوست کا فون آگیا کہ اسے ایک ضروری کیس کے سلسلے میں کل ہی اسلام آباد روانہ ہونا ہے اس لیے اسامہ نے جانے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے گاڑی میں سامان رکھنے کے بہانے گل خان کو بھی گاڑی میں بٹھا دیا۔ ڈرائیور چونکہ ابھی گیسٹ روم میں چائے پی رہا تھا تو انھوں نے اچھا موقع جان کر اس کا سامان بھی رکھ دیا۔ پھر بہت سا کھانے کا سامان اور بڑوں کی دعائیں لے کر وہ سب رخصت ہو گئے۔
(ایک ماہ قبل)
آج شام سے ہی ”سیف ہاوس“ کے خوبصورت بنگلے کے بڑے سے لان کو سجایا گیا تھا۔میوزک کے بڑے بڑے سپیکر جگہ جگہ فٹ کیے گئے تھے۔ اور ساتھ ہی ٹیبل اور کرسی پر ڈی جے اپنے عجیب و غریب حلیے میں پوری تیاری کے ساتھ موجود تھے۔ ہر طرح کا انتظام کیا گیا تھا۔
پورے کا پورا مغربی رنگ اس دعوت میں نمایاں تھا جو کہ خاص آج پنکی نے مصعب شاہ کے لیے اپنے بنگلے پر رکھی تھی اور اِس دعوت میں اُس نے اپنے سارے دوستوں کو مدعو کیا تھا۔
کروڑ پتی باپ کی اکلوتی اولاد ہونے کا اُسے سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ وہ جسے چاہتی اور جب چاہتی اپنا گرویدہ بنا لیتی مگر وہ تو کالج سے ہی خود مصعب شاہ کی گرویدہ ہو چکی تھی۔ اُن دونوں نے ساتھ ہی تعلیم مکمل کی تھی اور حال ہی میں مصعب نے اپنی ایک کامیاب سرجری کی تھی۔ وہ بہت ہی جلد اپنی ذہانت اور قابلیت کی بدولت ایک بہترین سرجن بن چکا تھا مگر اسے جو چیز سب سے نمایاں اور غرور میں مبتلا کرتی تھی وہ اُس کی چارمنگ پرسنیلٹی اور ہینڈ سم ہونا تھا۔ اس کی شخصیت سب سے مختلف تھی۔ پڑھائی کے ہر دور میں لڑکیاں اس پر دل و جان سے فدا تھیں لیکن اس نے کسی کو بھی کبھی گھاس نہیں ڈالی۔ اسے لگتا تھا کہ سب لڑکیاں ہی دل پھینک ہوتی ہیں۔ وہ بس دوستی کی حد تک رہتا تھا۔ یہ بات اسے لڑکوں میں سب سے الگ کر دیتی تھی اور یہ غرور اور انداز اس پر سجتا بھی بہت تھا۔
”ارے پنکی! جس دشمنِ جاں کے لیے تم نے اتنا زبردست انتظام کیا ہے آخر وہ ہے کہاں؟“ اس کے کالج کا سارا گروپ آچکا تھا۔ سب کو اب مصعب کا انتظار تھا۔ کرن نے پنکی سے پوچھا جس کی نظریں خود دروازے پر ٹکی ہوئی تھیں۔
پنکی نے ایک نظر کرن پر ڈالی جو کہ آدھے لباس میں ملبوس خود کو کوئی حور سمجھ رہی تھی پھر کہنے لگی۔
”یہ مصعب شاہ کی شان کے خلاف ہے کہ وہ جلدی آجائے اور وہ جب آئے گا محفل میں رنگ بھی تب ہی جمے گا۔“ اُس نے ایک ادا سے کہا۔
”کیا بات ہے! آج تو تم نے کمال کی ڈریسنگ کی ہے۔“ عمران نے پنکی کو اوپر سے نیچے تک معنی خیز نظروں سے دیکھا۔ وہ کالج ٹائم سے ہی اسے پسند کرتا تھا مگر پنکی اسے گھاس تک نہیں ڈالتی تھی۔
اچانک مصعب لان میں داخل ہوا اور اُس کے آتے ہی رونق سی آگئی۔ سب دوست اُس کے قریب گئے اور اسے مبارکباد پیش کی۔ وہ بھی بڑے انداز سے تحائف قبول کرتا رہا۔
پھر وہ وقت آیا جب پنکی نے اپنے گفٹ کا اعلان کیا۔ اس نے ایک بہت ہی خوبصورت سی گاڑی اسے گفٹ کی جو لان کے دوسری طرف خوبصورتی سے سجائی گئی تھی۔ سب کا دیکھ کر منہ کھل گیا مگر مصعب نے نارمل انداز میں اسے بھی قبول کر لیا۔ پنکی کو اچھا خاصا بُرا محسوس ہوا مگر وہ نارمل رہی۔
پھر میوزک چلا اور جو طوفانِ بدتمیزی شروع ہواتو وہ کھانے تک جاری رہا۔
”یار مصعب سنا ہے تم گھر جا رہے ہو۔“ وہ سب اب کھانا کھا رہے تھے جب عدیل نے بظاہر تو مصعب سے سوال کیا مگر اس کی نظر پنکی پر تھی جس کا رنگ اس کی بات سنتے ہی اڑ گیا تھا۔
مصعب نے ایک نوالہ منہ میں ڈالا اور کہا۔
”ہاں کچھ دن کے لیے جانا ہے۔ ابھی کنفرم نہیں ہوا کہ کب جانا ہے۔“
”کیا مطلب۔۔۔ تم جا رہے ہو؟“ پنکی یک دم کھڑی ہوئی، ”ایسے کیسے مجھے بنا بتائے تم جا سکتے ہو؟“ وہ غصے سے لال ہوئی۔
”وٹ ڈو یو مین ( کیا مطلب ہے تمھارا)؟ مجھے بتائے بنا؟ کیا میں اب اپنے گھر تم سے پوچھ کر جاؤں گا۔ کم آن یار پنکی۔“ وہ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگا۔
پنکی نے ہاتھ میں پکڑا چمچ زمین پر دے مارا اور اندر کی طرف بڑھ گئی۔
”اوئے ناراض ہو گئی۔“ اس کی دو تین فرینڈز اس کے پیچھے گئیں۔
”کر دیا نا ناراض اسے۔ آج ہی اتنی مہنگی گاڑی گفٹ کی ہےتجھے اُس نے۔“ فہد نے مصعب کو گھورا۔
”اچھا یہ بات ہے۔ چل پھر ایسا کرتے ہیں کہ۔۔۔۔ یہ گاڑی تم لے لو اور اسے منا لو جا کر۔“ اس نے گاڑی کی چابی یک دم اس کی طرف پھینکی جس نے فوراً اسے کیچ کر لیا۔
”مصعب شاہ کسی کے پیچھے نہیں گیا کبھی۔“ وہ مسکرایا اور اس کی یہ بات سچ تھی۔
کچھ گھنٹوں بعد پنکی خود ہی اس کے پاس آگئی۔ سب دیکھ کر حیران تھے کہ آخر پنکی جیسی مغرور اور ضدی لڑکی مصعب شاہ کے پیچھے کیسے پاگل ہے۔ مگر پھر کندھے اچکا کر رہ گئے۔
✯✯✯
( ایک ماہ بعد)
”ثانیہ! ارے ثانیہ!آنکھیں کھولو۔ بات تو سن لو نا میری۔ مجھے جانا ہے۔ ذرا اٹھ جاؤ۔“ وہ تیزی سے اپنے جانے کی تیاری کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ اپنی بیوی کو آوازیں دے رہا تھا جو گہری نیند سو رہی تھی۔
اِن آوزوں پر یک دم اس نے آنکھ کھولی اور گھبرا کر بیٹھ گئی۔ سامنے لگی گھڑی کو دیکھ کر اسے جیسے کرنٹ لگ گیا۔
”ریان! یہ رات کے بارہ بجے ہیں یا دن کے؟“ اس نے اپنے خاوند کو دیکھا جو کہ اب کرسی پر بیٹھا جرابیں پہن رہا تھا۔
”شہزادی صاحبہ! رات کے بارہ ہیں۔ مجھے اچانک منیر کا فون آگیا ہے۔ اُن کا مال لے کر جانا ہے جلدی۔ اس لیے تمھیں اٹھا رہا تھا کہ ایک تو دروازہ بند کر لو اچھی طرح اور دوسرا مجھے دیر بھی ہو سکتی ہے۔ رات کے نو بج جائیں گے۔ ذرا دور جانا ہے۔“ وہ اپنی دھن میں بولتا جا رہا تھا اور ثانیہ کا آدھا منہ کھلا تھا اور آنکھیں پوری کی پوری۔ اُس نے اپنی تیاری پوری کر کے جیسے ہی اس کی طرف دیکھا تو حیران رہ گیا۔ وہ ابھی تک اسی کیفیت میں تھی۔ اس نے آگے بڑھ کر اس کا کندھا ہلایا۔
”ہاں ہاں۔“ وہ یک دم چونکی پھر جلدی سے بیڈ سے اتر کر جوتے پہنے اور کہنے لگی، ”دس منٹ رک جائیں۔“
وہ اس کے لیے گرم چائے، ابلا ہوا انڈا اور کیک رس لے آئی۔
”یہ جو آپ کا بلا بھائی ہے نا! مجھے ذرا نہیں پسند۔ اچھا انسان نہیں لگتا مجھے۔ آپ کیوں اس کا مال لے جاتے ہو؟ جب کہ آپ کو اور بہت اچھے اچھے کام مل جاتے ہیں۔ اسے دفع کر دو۔“ وہ بولتے بولتے پھر کچن کی طرف بڑھ گئی۔ دوبارہ آئی تو اس کے ہاتھ میں تھرماس تھا جو کہ دودھ پتی سے بھرا ہوا تھا۔ ریان اسے دیکھ کر ہنس پڑا۔
”زیادہ ہنسنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے پتا ہے آپ کو ہوٹلوں والی سڑی ہوئی چائے پسند ہے مگر مجھے یقین ہے جب تک یہ آپ کے پاس ہو آپ اُس چائے کو دیکھتے بھی نہیں۔“ وہ تھرماس رکھ کر بیٹھ گئی۔
”سنیں ریان!“ اس نے آہستہ سے اسے پکارا۔
”جی حاضر جناب۔“ اس نے پیار بھری نظروں سے ثانیہ کو دیکھا۔
”میری چھٹی حس کہتی ہے کہ یہ بندہ ٹھیک نہیں، اور۔۔۔“
”یار تم ایسے ہی فکر کرتی ہو!“ ریان نے اس کی بات کاٹ دی، ”پلاسٹک کے ڈبے بنتے ہیں ان کی فیکٹری میں اور مجھے اس کے کردار سے کیا لینا۔ مال لے جاتا ہوں، معاوضہ لے لیتا ہوں اور پہلے بھی دو بار لے گیا تھا۔ مجھے ایسا کچھ نظر نہیں آیا۔ اب تمھاری چھٹی حس کا میں کیا کروں؟ ابھی مجھے دیر ہو رہی ہے۔ رات کا سفر ہے۔ اپنا دھیان رکھنا۔ بابا ہو سکتا ہے صبح آجائیں۔ اگر نہ آئیں تو نومی کو کھانا دے کر بھیج دینا۔“ وہ جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا اور ثانیہ بھی دروازہ بند کرنے کی غرض سے اٹھ گئی۔
✯✯✯
اس کی بڑی سی گاڑی کشادہ سی سڑک پر رواں دواں تھی۔ موسم بھی خطرناک حد تک ٹھنڈا تھا مگر اس کے اندر کا موسم اداس، پریشان اور بےرونق تھا۔ اس کے لیے پاکستان بالکل نیا تھا۔ وہ بہت چھوٹا تھا جب اپنے گھر والوں کے ساتھ آیا تھا پھر جیسے ہی وہ بڑا ہوا تو پڑھائی کے لیے باہر چلا گیا۔ آج وہ پتا نہیں کتنے سالوں بعد اِس ملک میں واپس آیا تھا وہ بھی کسی بہت اپنے کی تلاش میں۔۔۔!
مصعب عثمان شاہ ایک ایسی انجان منزل کی طرف رواں دواں تھا جس کے بارے میں اس نے صرف سنا ہی تھا۔ اس کے پاس کوئی ایڈریس نہیں تھا بس ایک امید تھی اور یقین تھا جس کے بھروسے وہ اپنے بڑے بھائی یحییٰ عثمان شاہ کی تلاش میں آیا تھا۔
”آہ! وقت کیسے بدل جاتا ہے۔“ اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔
بیرسٹر عثمان شاہ کا دبئی میں ایک بہت اونچا مقام تھا۔ ہر کوئی اُن کی عزت کرتا تھا۔ ان کا خاصا رعب تھا۔ وہ ایک ایماندار انسان تھے مگر اصولوں کے بہت پکے تھے۔ ان کے دو ہی بیٹے تھے۔ بڑا بیٹا ”یحییٰ عثمان شاہ“ جو کہ اپنے بابا کی طرح نرم مزاج اور ایماندار تھا اور چھوٹا بیٹا ”مصعب عثمان شاہ“ جو کہ شوخ مزاج تھا، اسے اپنے حسنِ دولت پر بہت غرور تھا۔ اپنے والد کی طرف سے ملنے والی ذہانت اور والدہ کی طرف سے ملنے والی خوبصورتی اور پھر سب کی طرف سے ملنے والے لاڈ نے اسے اچھا خاصا خودسر بنا دیا تھا۔ رہی سہی کسر بیرونِ ملک رہنے سے پوری ہو گئی تھی۔
اسے وہ دن اچھی طرح یاد تھا جس دن ان کے گھر میں بڑی سی دعوت کا اہتمام کیا گیا تھا۔
اُن دنوں یحییٰ عثمان شاہ اپنی تعلیم مکمل کر کے بہت بڑی کامیابی کے ساتھ واپس آیا تھا۔ اب اس کا ارادہ پاکستان میں زمین لے کر اپنی فیکٹری لگانے کا تھا۔ بیرسٹر عثمان شاہ نے اس دعوت میں اپنے بہت پرانے دوست ”بولان خان عرف بلا بھائی “ کو بھی مدعو کیا ہوا تھا، وہ دراصل ان کے دور کے رشتہ دار بھی تھے۔ ان کی بیوی اور بیٹی بھی ان کے ساتھ تھے اور وہ لوگ اس دعوت کے لیے پاکستان سے دبئی آئے تھے۔
بنگلے کے لان میں انتظام کیا گیا تھا۔ دعوت میں نامور لوگ مدعو تھے۔ جیسے ہی عثمان شاہ کے دونوں بیٹے لان میں داخل ہوئے سب انھیں دیکھ کر حیران رہ گئے۔
لڑکیوں کا ایک جھنڈ ایک طرف کھڑا تھا، ان میں سے ایک نے کہا۔
”کمال ہے! لگتا ہے سارا حسن ان دونوں بھائیوں نے لے لیا۔“
”ہاں بھئی! میرے دیور ہیں ہی بہت پیارے۔ ما شاء اللہ!“ قریب سے گزرتی ندا بھابی نے کہا جو کہ مصعب اور یحییٰ کے پھپھو زاد بھائی عمیر کی بیوی تھی۔
”آؤ مصعب اور یحییٰ۔ اِن سے ملو۔“ عثمان شاہ نے آگے بڑھ کر دونوں کو بولان خان سے ملوایا۔
یحییٰ اُن سے بہت اچھے سے ملا جب کہ مصعب سرسری سا مل کر آگے بڑھ گیا۔ یہ اس کی ادا تھی کہ وہ کسی کو کچھ نہ سمجھتا تھا۔
”دیکھو ذرا اِس پر نخرہ کتنا سوٹ کرتا۔“ لڑکیوں کی نظر مصعب پر تھی مگر اسے پروا ہی نہیں تھی۔
دعوت کے بعد جیسے ہی سب مہمان گئے تو سب گھر والے اکھٹے بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔
”بیٹا جی پھر کیا آپ ہمارے ساتھ جا ئیں گے پاکستان؟“ بولان صاحب نے یحییٰ کی طرف دیکھ کر سوال کیا۔
”جی انکل ارادہ تو ہے۔ میں جلد از جلد زمین دیکھنا چاہتا ہوں۔“
”اچھی بات ہے بیٹا۔ تم اِن کے ساتھ جاؤ اور کچھ دیر ثمن کے ساتھ بھی گزارو۔ میرا دل ہے کہ تم دونوں ایک دوسرے کو جان لو۔“ عثمان شاہ کی بات سن کر بولان خان کی بیٹی ثمن جو کہ قریب ہی بیٹھی تھی، شرما گئی۔
”واہ ثمن جی تو آپ شرماتی بھی ہیں۔“ مصعب نے ہنس کر کہا۔
ابھی کچھ گھنٹے پہلے ہی وہ اس شوخی ثمن کی حرکتیں دیکھ چکا تھا۔
”چلو پھر طے ہوا کل شام کی فلائٹ ہے ہماری۔ تم بھی ساتھ کروا لو۔“ بولان خان نے کہا۔
”چلو یار بھیا۔ آپ تو جائیں پاکستان اور ہم چلے اپنے امریکہ واپس۔ آپ کو پاکستان کی مشرقی لڑکی مبارک ہو۔ ویسے اِن عورتوں سے بچ کر ہی رہنا چاہیے۔“ مصعب نے یحییٰ کے کان میں سرگوشی کی اور اٹھ کر آگے بڑھ گیا۔
یک دم اسے بہت تیز آواز آئی تو وہ خیال سے چونکا۔ اس نے دیکھا کہ سامنے ٹریفک تھی۔ وہ بھی کچھ دیر کےلیے رک گیا۔
✯✯✯
ان کو گھر سے روانہ ہوئےگھنٹہ ہو گیا تھا۔ اِس دوران کوئی دس بار اُن سب کے گھروں سے فون آ چکا تھا۔ بہت زیادہ دھند تھی۔ گاڑی بےشک اندر سے پُرسکون اور گرم تھی مگر باہر کے شیشے دھند کی وجہ سے گیلے ہو رہے تھے۔
”غفور چاچا! گاڑی تھوڑی تیز چلائیں نا۔ آپ کو نہیں لگتا سفر زیادہ ہے۔“ علی جو کہ آگے بیٹھا تھا آخر اتنی سست رواں سپیڈ پر بول پڑا۔
”نہیں بیٹا! بہت زیادہ دھند ہے اوپر سے رات کا سفر۔ ہم بھلے دیر سے منزل پر پہنچیں مگر بس خیریت سے پہنچیں۔ ہم نے کون سا تھوڑا سا سفر کرنا ہے۔ اچھا خاصا سفر ہے اسے آرام سے کرنا ہی مناسب ہے۔“ انھوں نے تسلی سے جواب دیا۔
”غفور چاچا! آپ کبھی گئے ہیں اِن جگہوں پر؟“ زید نے پوچھا۔ وہ جانتا تھا کہ غفور چاچا بہت تجربہ کار بندے ہیں۔ وہ کچھ ماہ پہلے ہی اُس کے پاپا کے دفتر میں بھرتی ہوئے تھے۔
”جی زید بیٹا! میں ہر جگہ گیا ہوں۔ بہت سفر کیا ہے اِن پہاڑوں کا۔ اِس نور پور گاؤں کا سنا ہوا ہے لیکن کبھی دیکھا نہیں ہے۔ سنا ہے بہت اچھا خوبصورت گاؤں ہے۔ تم لوگوں نے سیر کے لیے اچھی جگہ چنی ہے مگر وہاں کا راستہ کافی خطرناک قسم کا ہے۔ بس اللہ پاک کی طرف سے خیر ہو تو جگہ تو بہت حسین ہے اور قدرتی مناظر سے مالا مال ہے۔“ انھوں نے مسکرا کر کہا۔
”جی انتل جی۔میرا داؤں بہت پارا ہے۔ اش میں بڑے پارہیں۔ اوپر سے مانی آتا تھا اور ہم سب بچے ناتےتھے اور۔۔۔ (جی انکل جی۔ میرا گاؤں بہت پیارا ہے۔ اس میں بڑےپہاڑ ہیں۔ اوپر سے پانی آتا تھا اور ہم سب بچے نہاتے تھے اور۔۔۔ )“
اس سے قبل گل خان اور کچھ بولتا عبداللہ نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔
”غفور چاچا! آپ کو گرم گرم چائے ڈال دوں؟“حسان نے جلدی سے پوچھا۔
” ہاں بیٹا! یہ تو میرے دل کی بات کر دی۔“ عبداللہ نے حسان کو تھپکی دی کہ کس خوبصورتی سے بات کو کوَر کر لیا۔
” اب نہیں بولنا۔ انتل غصہ کرتے ہیں۔“ حذیفہ نے گل خان کے کان میں سرگوشى کی۔ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
وہ سب گھر سے روانہ ہونے سے قبل اس بات کا مشورہ کر کے آئے تھے کہ سب ایک ساتھ نہیں سوئیں گے۔ اُن کو فکر تھی کہ کہیں گل خان غفور چاچا کو سب بتا نہ دے۔ وہ سب پہلے چاچا کو اعتماد میں لے کر پھر سب بتانا چاہتے تھے۔
✯✯✯
ریان کو فیکٹری آئے پورا گھنٹہ ہو چکا تھا اور اب تقریباً سارا مال بھی ٹرک میں لوڈ ہو گیا تھا۔ وہ اندر کمرے میں بیٹھا کھڑکی سے سب دیکھ رہا تھا مگر دو باتیں اسے بہت تنگ کر رہی تھیں۔ ایک یہ کہ بلا بھائی کے بندوں کے پاس بندوقیں کیوں تھیں؟ دوسرا وہ فیکٹری کے ساتھ بنی حویلی کو دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ اتنی سنسان جگہ پر اتنی پیاری حویلی کیوں بنائی گئی ہے؟ آدھے گھنٹے کی مسافت پر ہی تو نور پور گاؤں تھا۔ ’پر مجھے کیا!‘ اُس نے اپنی سوچ کو جھٹکا اور موبائل کو دیکھنے لگا۔
✯✯✯
”ہاں بھئی ریان! ٹرک لوڈ ہو گیا ہے اور سُن اِس دفعہ تمھارے ساتھ دو آدمی جائیں گے۔ وہ وہاں ہی رک جائیں گے۔ تم مال کی رسید مجھے دے کر پھر گھر جانا۔ بہت ضروری ہے۔“ منیر بلا بھائی کا خاص آدمی تھا۔ اُس نے کچھ پیسے بھی نکال کر ریان کو دیئے۔
”یہ بھی رکھ لو۔ بلا بھائی تم سے خوش ہیں کہ مال دو بار ٹائم پر ڈلیور ہوا ہے۔ اور ہاں کب تک آؤ گے واپس؟“
” سولہ گھنٹے کا سفر ہے۔ آٹھ جانے میں آٹھ آنے میں باقی دو گھٹنے وہاں۔۔۔ ان شاءاللہ رات آٹھ بجے تک آجاؤں گا۔ آپ کو رسید دے کر جاتا ہوں۔“ ریان پُر جوش ہو کر بتانے لگا۔
” ٹھیک ہے پھر چلنے کی تیاری کرو۔“ منیر باہر نکل گیا۔
”واہ بلا بھائی! تم نے تو خوش کر دیا۔ محنت کم پیسے زیادہ۔۔۔ اور وہاں جہاں پہلے کام ہوا کرتا تھاوہاں تو سامان بھی خود لوڈ کرنا پڑتا تھا۔ محنت اور سفر بھی زیادہ اور پیسے کم۔ شکر ہے اللہ تیرا۔“ اس نے پیسے جیب میں رکھے اور باہر نکل گیا۔
✯✯✯
وہ لوگ مزید دو گھنٹے کا سفر بہت اچھے طریقے سے کر چکے تھے۔غفور چاچا سچ میں ایک تجربہ کار ڈرائیور تھے۔ اتنی دھند کے باوجود گاڑی بہت عمدہ طریقے سے چلا رہے تھے۔وہ سب بھی ہلکی پھلکی باتوں میں مگن تھے۔ سفراچھا گزر رہا تھا۔ سامنے ہی ایک مارٹ اور ہوٹل بنا ہوا تھا جس کے برابر مسجد بھی تھی۔
”بیٹا!! میرا خیال ہے کہ نمازِ فجر میں پونا گھنٹہ رہ گیا ہے اور ہمیں اِس ہوٹل پر رُک جانا چاہیے جو اب آرہا ہے کیونکہ اگلا بہت دور ہے۔ نماز بھی پڑھ لیں گے اور ناشتہ بھی ہو جائے گا۔ کیا خیال ہے؟“ انھوں نے علی کی طرف دیکھا۔
”جی بالکل ٹھیک ہے۔“
علی کے جواب پر پیچھے سے حسان نے زید کے کان میں سرگوشی کی، ”سُن ذرا کتنا فرمانبردار بن رہا ہے ورنہ اس نے فجر کی نماز کبھی ٹائم پر نہیں پڑھی۔“ حسان خود ہی اپنی بات پر ہنسنے لگا۔
”اُس نے تو ٹائم پر نہیں پڑھی۔ تو نے تو کبھی پڑھی ہی نہیں ہے۔“ عبداللہ نے جواب دیا۔
کچھ ہی دیر میں گاڑی رک گئی۔
”چلو بچو! آجاؤ۔“ چاچا نے اپنی گرم ٹوپی سر پر لی اور نکل گئے۔
”ماما نے کہا تھا بالکل سردی سے بچنا ہے اور پانی ٹھنڈا ہو گا اس میں ہاتھ نہیں ڈالنے۔ میرے بیٹے کو جلدی زکام ہو جاتا ہے۔ اس لیے تم سب جاؤ میں ذرا گل خان کے ساتھ آرام کر لوں۔“ حسان نے بڑی سی جمائی لی۔
”اوئے کمینے! اب تو سفر میں ہے۔ آج تو نماز پڑھ لے۔ ہو سکتا ہے ہدایت مل جائے۔“ حذیفہ نے اسے بازو سے پکڑا۔ باقی بھی اترنے کی تیاری کرنے لگے۔
”میں اِس معصوم کو کسی صورت اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔ اتنا سنگ دل نہیں ہوں میں۔“ حسان نے احتجاج کیا۔
”حتھان ڈائی مجھے بھی ممازپڑھنی ہے۔ امی تے سات پڑھتا تھا تو اللہ تعالیٰ روز تافی دیتے تھے اور نانو تہتی تھیں جو بچہ مماز نہیں پڑھتا اللہ اس سے ناض ہو جاتا ہے اور سزا دیتا ہے۔ میں نے جب ممازنہیں پڑھی تو اللہ نے اماں کو دم تر دیا۔ (حسان بھائی مجھے بھی نماز پڑھنی ہے۔ امی کے ساتھ پڑھتا تھا تو اللہ تعالیٰ روز ٹافی دیتے تھے اور نانو کہتی تھیں جو بچہ نمازنہیں پڑھتا اللہ اس سےناراض ہو جاتا ہے اور سزا دیتا ہے۔ میں نے جب نماز نہیں پڑھی تو اللہ نے اماں کو گم کر دیا۔)“ گل خان کی معصومانہ بات سن کر سب سکتے میں آگئے۔
”یار اِس نے تو غیرت ہی جگا دی۔ قسم سے کیا چیز ہے یہ؟“حسان کی بات نے سب کا سکوت توڑا۔
”چل یار گل خانا! میں بھی پڑھ لوں۔ اللہ مجھے بھی ٹافی دے گا کیا؟“ اس نے گاڑی سے نکل کر گل خان کا بازو پکڑ لیا۔
”ہاں آپ بڑے ہو آپ تودو مل جائیں دی۔(ہاں آپ بڑے ہو آپ کو دو مل جائیں گی۔)“ گل خان نے حسان کو مسکرا کر کہا۔ حسان نے بھی پیار سے اسے دیکھا اور مضبوطی سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
انھوں نے نماز کے بعد ناشتہ کیا اور پھر کچھ اور سامان خرید لیا۔ آگے انھوں نے لگاتار چھے سات گھنٹے کا سفر کرنا تھا۔ گاڑی میں بیٹھ کر علی اور زید جو ساری رات کے جاگے ہوئے تھے سو گئے۔ باقی تینوں غفور چاچا سے باتیں کرنے لگے۔ گل خان اپنے کھلونے دیکھنے لگا جو اسے سب نے زید کے گھر دیئے تھے۔ گاڑی ایک بار پھر اپنے سفر کی طرف گامزن ہو گئی۔
ان سب کو خبر بھی نہیں ہوئی کب اُن کی آنکھ لگ گئی اور گاڑی میں یک دم سناٹا چھا گیا۔
غفور چاچا نے سامنے لگے شیشے سے پیچھے دیکھا تو صرف گل خان جاگ رہا تھا۔ اُن کو وہ معصوم سا بچہ بہت پسند آیا۔
”بیٹا تم کس کے بھائی ہو؟“ انھوں نے پیار سے اسے پکارا۔
”انتل میں اپنے ڈائی کا ڈائی ہوں۔ (انکل میں اپنے بھائی کا بھائی ہوں۔)“ گل خان نے جواب دیا۔
”تمھارا نام کیا ہے؟“ انھوں نے پہلے جواب کو نظر انداز کر دیا۔
”میں دُل تھان ہوں۔“ اس نے اُن کی طرف دیکھا۔
چاچا نے خاموشی سے گاڑی چلانا ہی بہتر سمجھا کیونکہ اُس کی بات انھیں کچھ سمجھ نہیں آئی تھی۔یک دم اُن کا موبائل بجنے لگا۔ انھوں نے فون اٹھایا تو دوسری طرف عبد الرافع صاحب تھے۔
”جی جی سر!سفر آرام سے اچھا جا رہا ہے۔ کوئی مشکل نہیں ہوئی۔“ پھر وہ خاموش ہوئے دوسری طرف عبد الرافع صاحب کچھ کہہ رہے تھے۔
”جی سر!ہاں جی سب لڑکے تو سو رہے ہیں۔ بس چھوٹا بچہ جاگ رہا ہے۔“ انھوں نے شیشے میں گل خان کو دیکھا جو اُن کی باتیں سن رہا تھا۔
”چھوٹا بچہ؟؟؟کون چھوٹا بچہ؟“ دوسری طرف سے حیرانگی سے بھر پور سوال کیا گیا۔
اس سے قبل کے غفور چاچا کوئی جواب دیتے اچانک حسان کا بازو ساتھ سوئے ہوئے زید کے منہ پر لگا اور وہ اٹھ گیا اور چاچا کے ہاتھ میں فون دیکھ کر پوچھنے لگا، ”کیا ہوا چاچا؟ کون ہے؟“
”بیٹا آپ کے پاپا ہیں بات کر لو۔“ زید نے فوراً سے پہلے فون پکڑ لیا۔
”جی پاپا! کیسے ہیں آپ؟ کیا ہو رہا؟ ہم ٹھیک ہیں۔ اچھا سفر جا رہا ہے۔“ اس نے ایک سانس میں ہی بہت کچھ بول دیا۔
”بیٹا یہ غفور چاچا کس چھوٹے بچے کی بات کر رہے؟“ پاپا کی بات پر زید کو یک دم کھانسی آگئی، ”پاپا!وہ پاپا! ہاں وہ چاچا حسان کی بات کر رہے ہیں۔ آپ کو تو پتا ہے حسان کتنی شرارت کرتا ہے۔ بچہ بن جاتا ہے۔“ زید نے مشکل سے بات کنٹرول کی اور پھر کچھ باتوں کے بعد فون بند کر کے اپنی سانس درست کرنے لگا۔ چاچا نے خاموشی سے سامنے والے شیشے سے زید کو دیکھا۔
”آخر اس نے اپنے پاپا سے جھوٹ کیوں بولا؟“ وہ حیرانگی سے سوچنے لگے پھر کچھ دیر بعد بولے۔
”بیٹا اِن سب کو اٹھا دو۔ گیارہ بج رہے ہیں۔ میرا دل ہے میں اب دو تین گھنٹے سو لوں کیونکہ آگے راستہ مشکل ہے اور نیند نہیں آنی چاہیے۔کیا خیال ہے؟“ انھوں نے زید سے کہا۔
پھر کچھ ہی دیر میں سب جاگ گئے۔ آج کتنے دن بعد سورج نے بادلوں کی اوٹ سے اپنا منہ دکھایا تھا اور ہلکی ہلکی دھوپ اچھی لگ رہی تھی۔ غفور چاچا نے گاڑی روک دی۔ وہ اب بُری طرح تھک چکے تھے۔
”چاچا میرا خیال ہے یہاں ابھی دور دور تک کوئی ہوٹل نہیں ہے۔ آپ گاڑی سائیڈ پر کھڑی کر کے سو لیں۔ ہم ذرا دھوپ کا مزہ لے لیتے ہیں۔“
”ہاں بیٹا بالکل! آپ سب وہاں سامنے جو میدان سا ہے وہاں بیٹھ جاؤ۔ میں ذرا کمر سیدھی کر لوں۔“ چاچا نے سیٹ پیچھے کی اور سیدھے لیٹ سے گئے۔
وہ سب کھانے کی چیزیں اور چٹائی لے کر باہر نکل گئے۔ پھر صاف سی جگہ پر چٹائی بچھائی اور اس پر بیٹھ گئے۔
”یار ہم سب گھوڑے بیچ کر سو رہے تھے جب پاپا کا فون آیا۔“ زید نے کینو چھیلتے ہوئے کہا اور ساری بات بتائی۔
”یار ہمیں چاچا کو سب بتانا ہو گا ورنہ مشکل ہو جائے گی۔“ عبداللہ نے تجویز دی۔
”تم سب میری مان جاؤ۔ یہ بچہ ہمارے گلے پڑ جائے گا۔ جیسے نیکی پڑتی ہے۔“ حسان نے کھیلتے ہوئے گل خان کو گھور کر دیکھا۔
”اوئے گل خانا! یہاں آؤ۔“ اسے نہ جانے کیا سوجھی جو اسے آواز دے دی۔ وہ دوڑ کر اس کے پاس آیا۔
”جی تھان ڈائی (حسان بھائی)۔“ اس نے بڑے معصومانہ انداز سے کہا۔
”بیٹے تیرے چکر میں اور تو کسی کا پتا نہیں میرا تھان ضرور بن جائے گا اور اسے زید کے پاپا ڈائی بھی کروا دیں گے۔ تھان ڈائی کا بچہ!“ حسان کو غصہ زید پر تھا۔ اُس نے اپنے پاپا کے سامنے حسان کا نام جو لیا تھا۔ اب حسان اپنا غصہ گل خان پر اتارنے لگا تھا۔
”اس پاگل کو چھوڑو۔ تم یہاں میرے پاس آؤ۔“ حذیفہ نے اسے پیار سے اپنے پاس بلا لیا اور وہ جو سچ میں حسان سے خوف کھا رہا تھا فوراً حذیفہ کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔
”اچھا یہ بتاؤ۔ تمھیں اپنا گھر یاد ہے؟ کون کون رہتا تھا اُس میں؟“ حذیفہ نے گل خان کا دھیان حسان کی طرف سے ہٹایا۔
”اس دھرمیں میری بہنا اور میرے اتتے(اتنے) ڈائی تھے۔“ اس نے تین انگلیاں کھڑی کر دیں، ”اور اماں، میری بڑی نانو جو ہم تھب تو اللہ تعالی کا تھبق دیتی تھیں اور میرے بابا تھے، اچھے بابا۔ (اور اماں، میری بڑی نانو جو ہم سب کو اللہ تعالی کا سبق دیتی تھیں اور میرے بابا تھے، اچھے بابا۔)“ بابا کے نام پر اس کی آنکھوں میں چمک بھر گئی۔
”پھر بابا کو سب متی (مٹی) کے اندر رکھ آئے تھے اور ہم تو (کو) ایک انتل نے کہا آؤ ماما کے پاس لے چلوں۔“ اس نے ساری بات حذیفہ کو دیکھتے ہوئے مکمل کی۔
”کیا تمھارے بہن بھائی اس وقت تمھارے ساتھ تھے؟“ علی نے پوچھا۔
”نئیں!“ گل خان نے پلکیں جھپکا کر نفی میں سر ہلایا۔
وہ سب اسے غور سے سن رہے تھے۔ انھیں بےساختہ اس کی معصومیت پر پیار بھی آیا تھا۔
”اچھا تم جاؤ کھیلو!“ اس نے اپنی بات پوری کی تو علی نے اسے جانے کو کہا اور اس کے گال پر پیار کیا۔ وہ اٹھ کر دوسری طرف بھاگ گیا۔
”یار لگتا ہے معاملہ کچھ اور ہی ہے یا پھر اسے کچھ یاد نہیں۔“ اب کے زید نے فکرمندی سے کہا۔ وہ تھوڑی دور بھاگ کر جانے والے گل خان کی طرف دیکھ کر کہنے لگا۔
”ہو سکتا ہے کہ یہ سارے بہن بھائی ہی گم گئے ہوں؟ اگر ایسا ہے اور بقول اس کے کہ اس کے بابا بھی اس دنیا میں نہیں تو پھر اب تک تو اس کی ماں۔۔۔“
عبداللہ کو ایک جھرجھری آگئی۔ ’اللہ نہ کرے۔‘اس نے خود اپنی سوچ کو جھٹک دیا۔
”ویسے ہم اس کام میں پڑ تو گئے ہیں وہ بھی کسی بڑے کو بتائے بغیر اور آگے خدا جانے کیا ہو گا؟ اب ہم کیسے اتنے سے بچے پر یقین کر سکتے ہیں بقول اس کے کہ اس کا باپ مر چکا ہے اور ممکن ہے کہ اس کے بہن بھائی اِس کی طرح ہی لا پتا ہیں۔ بات سمجھ سے باہر ہے۔“ عبداللہ کے منہ سے یہ بات سن کر سب اسے دیکھنے لگے۔
”یار تیرے منہ سے یہ بات سن کر مجھے افسوس ہوا۔ اگر حسان یا حذیفہ ایسی بات کرتے تو چلو مان لیتے مگر تُو۔۔۔“ زید بات کرتے کرتے چپ ہو گیا پھر افسوس سے سر ہلاتے ہوئے کہنے لگا۔
”جا یار! تُو نے تو ہمت ہی ہار دی۔“
”بات ہمت کی نہیں میرے بھائی۔ ہمت ہے تو یہاں تک آ گئے ہیں۔ بات یہ ہے کہ اگر تو سچ میں اِس گل خان کی کہانی یہ ہی ہے جو وہ بیان کر رہا ہے تو پھر تو آخری سانس تک اس کا ساتھ دیں گے اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہوا تو پھر اپنا اپنا انجام سوچ لو۔ ابھی تو آغاز ہے ہم خوش ہو کر جا رہے ہیں۔ جوش بھی ہے۔ آگے چل کر نہ جانے کیا ہوگا۔“ حذیفہ نے وضاحت کی۔
وہ سب اسی طرح باتیں کرتے رہے اور باتوں میں وقت کا پتا بھی نہ چلا۔ دو تین گھنٹے گزر گئے۔
”وہ دیکھو چاچا آ رہے ہیں۔“ عبداللہ نے کہا۔
”چلو بچو! میں نے تو نیند پوری کر لی۔ میرا خیال ہے اب چلا جائے۔ آگے جو بھی پہلا ہوٹل آیا وہاں نماز بھی ادا کر لیں گے اور کھانا بھی کھا لیں گے۔“
”جی چاچا! میں وہ ہی تو موبائل سے چیک کر رہا تھا کہ کتنا دور ہے ہوٹل مگر سگنل نہیں۔“ علی نے بتایا۔
”اب ہم جیسے جیسے آگے کا سفر طے کریں گے اس طرح سگنل نہیں ہوں گے کسی کسی جگہ۔پہاڑوں کا سلسلہ شروع ہو گا۔“ چاچا نے مسکرا کر کہا۔ وہ سب بھی اٹھ گئے اور چیزیں سمیٹنے لگے۔ بمشکل ایک گھنٹے کے سفر کے بعد ایک ہوٹل آیا۔ انھوں نے کھانا کھایا، نماز ادا کی اور پھر تین بجے وہاں سے روانہ ہو گئے۔
”اب تین بج گئے ہیں میرے اندازےکے مطابق اگر ہم اب رکے بغیر چلتے رہے تو اللہ کے فضل سے رات نو بجے تک پہنچ جائیں گے۔“ چاچا نے اپنا اندازہ بتایا۔
”واہ چاچا زندہ باد! ہمارا اندازہ تو رات بارہ بجے تک کا تھا۔“زید نے کہا۔
”بس بیٹا اللہ کی طرف سے خیر ہو۔ گاڑی بہت اچھی ہے اور موسم نے بھی ساتھ دیا ہوا ہے۔ مگر آنے والے وقت کا کوئی پتا نہیں۔ بس اللہ پاک کی طرف سے خیر ہو۔۔۔ اللہ ھو اکبر!“ چاچا نے لمبی سانس لی اور گاڑی آگے بڑھا دی۔
”لگتا ہے دھند پھر سے بن رہی ہے آہستہ آہستہ۔“ حسان نے باہر دیکھ کر کہا۔
پھر دیکھتے ہی دیکھتے دھند بڑھنے لگی۔ ساتھ کالے بادلوں کی آمد بھی ہونے لگی۔ وہ اپنے سفر کی طرف رواں دواں تھے جب ان کو سڑک کے ایک طرف گاڑی کھڑی نظر آئی اور ایک لڑکا فکر مندی کے آثار چہرے پر لیے کھڑا تھا۔ چاچا نے گاڑی تھوڑی آگے کر کے روکی اور خود باہر نکل گئے۔ وہ کچھ قدم چل کر اس لڑکے کے پاس قریب گئے۔
”کیا ہوا بیٹا؟“
”ایکچولی گاڑی اچانک بند ہو گئی ہے۔ اسٹارٹ نہیں ہو رہی۔ لگتا ہے ہیٹ کر گئی ہے۔“ چاچا نے چیک کی پھر اپنی گاڑی سے پانی لا کر ڈالا۔ کچھ دیر کے بعد اسٹارٹ ہو گئی۔
”اب چلا کر دیکھو بیٹا۔“وہ فوراً گاڑی میں بیٹھ کر چلانے لگا تو چل پڑی۔
”بہت شکریہ انکل۔“ وہ باہر نکلا اور چاچا سے کہا۔
”کوئی بات نہیں بیٹا میرا فرض تھا۔“ انھوں نے مسکرا کر جواب دیا اور واپس گاڑی میں آ کر بیٹھ گئے اور گاڑی آگے بڑھا دی۔
مصعب نے ان کو جاتے دیکھا ابھی وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے ہی لگا تھا کہ اس کا فون بج اٹھا۔ اس نے سکرین پر عاصم کا نمبر دیکھا تو فوراً اٹھا لیا۔
”جی عاصم بھائی؟“
”کیسے ہو یار صبح سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا۔ ہم اتنے پریشان ہیں سب!آخر کہاں پر ہو؟“ وہ فکر مندی سے پوچھنے لگا۔
”بھائی پتا نہیں یہ کون سا علاقہ ہے۔ بس اتنا پتا ہے کہ ابھی آگے منزل ہے اور یہاں سروس کا بھی ایشو ہے۔ آپ پریشان مت ہوں۔ میں ٹھیک ہوں۔“ وہ اس سے بات کرتے کرتے گاڑی کی طرف بڑھا اور دروازہ کھول کر سگرٹ نکال کر پینے لگا۔
”کہا تھا تمھیں مجھے ساتھ لے جاؤ۔ بےشک کہ اتنا تفصیل سے راستہ میں بھی نہیں جانتا مگر گیا تو تھا نا ایک بار۔ خیر چھوڑ اب۔ مجھے بتاؤ اُس نمبر پر رابطہ کیا؟“ عاصم نے اسے یاد دلایا۔
”نہیں بھائی ابھی نہیں کیا۔ ابھی کروں گا۔“ وہ جلدی جلدی بےپروائی سے کہنے لگا۔
”چلو اپنا خیال رکھنا اور مجھے بتاتے رہنا۔“
”بھائی آپ ماما اور بابا کا دھیان کرنا۔عمیر بھائی لوگ پتا نہیں کب واپس آئیں گے۔“ وہ فکر مندی سے کہنےلگا۔
”فکر مت کرو۔ میں دفتر سے واپسی پر جاؤں گا۔ اللہ تمھیں کامیاب کرے میرے دوست کو لے کر آنا واپس۔“ عاصم کے لہجے میں نمی تھی۔
”اوکے اللہ حافظ!“ اس نے یک دم فون بند کر دیا۔
عاصم یحییٰ کا واحد اور سب سے اچھا دوست تھا۔
عاصم نے فون بند کیا اور سامنے کھڑکی کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا اور سوچنے لگا۔
”کاش میں یحییٰ کو چھوڑ کر واپس نہ آتا۔ مجھے پتا ہے مصعب مجھ سے خفا ہے کہ میں نے اسے سب کچھ کیوں نہیں بتایا تھا مگر میں کیا کرتا یحییٰ نے مجھے منع کر دیا تھا کہ مصعب سب سن کر فوراً پڑھائی ادھوری چھوڑ کر آجائے گا۔“
”کتنا پیار ہے نا دونوں بھائیوں میں۔ اللہ جلدی سے ملوا دے اِن کو۔ جب مصعب یحییٰ کے پیارے پیارے بچے دیکھے گا تو راضی ہو جائے گا۔ اس کا سارا غصہ ختم ہو جائے گا۔ کتنے پیارے ہیں نا یحییٰ کے بچے۔ اب تو بڑے ہو گئے ہوں گے۔ اتنا عرصہ جو ہو گیا ہے۔“ وہ زیرِ لب مسکرایا اور واپس آ کر اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔
✯✯✯
جیسے جیسے دھند بڑھتی جا رہی تھی گاڑی کی رفتار آہستہ ہوتی جا رہی تھی۔ اب تو باقاعدہ بجلی چمکنے لگی تھی۔ بادل کی تیز گرج کے ساتھ طوفانی بارش شروع ہو گئی تھی۔ ارد گرد پہاڑ تھے۔ روڈ تقریباً خالی تھا۔ کبھی اِکا دکا کوئی گاڑی یا ٹرک پاس سے گزر جاتا۔
”لگتا ہے بارش تیز ہے۔ گاڑی اس راستے پر چلانامشکل ہو جائے گا۔ ہمیں کسی جگہ قیام کرنا ہو گا جب تک موسم ٹھیک نہیں ہوتا۔“ چا چا نے کہا۔
”بالکل ہم تب تک آگے نہیں جائیں گے جب تک موسم ٹھیک نہیں ہوتا۔“ حسان اور حذیفہ کو ڈر سا محسوس ہوا۔ بارش کا زور اتنا تھا کہ چاچا کوہر تھوڑی دیر بعد دس پندرہ منٹ کے لیے گاڑی کھڑی کرنی پڑتی تھی۔ مزید دو گھنٹے کا سفر کرنے کے بعد پہاڑوں کا سلسلہ کچھ ختم ہوا تو خالی میدان آگیا۔ باہر اندھیرا تھا مگر جب بجلی کی چمک ہوتی تو سارا منظر صاف نظر آتا۔تھوڑا اور آگے چلنے کے بعد ان کو سڑک کی دوسری جانب ایک پیلا سا بلب روشن نظر آیا۔
”چاچا وہ دیکھیں میرا خیال ہے وہاں کچھ ہوٹل ہیں۔ وہاں گاڑی روک کر دیکھ لیں۔“ عبداللہ نے اندازہ لگایا۔
”اب مناسب بھی نہیں کہ آگے سفر جاری رکھا جائے۔تم سب یہاں ہی رکو! میں جا کر دیکھتا ہوں آگے کا معاملہ۔“ چاچا نے گاڑی ایک سائیڈ پر لگائی اور خود گرم چادر لینے لگے۔ جیسے ہی انھوں نے باہر جانے کے لیے دروازہ کھولا ایک خوفناک آواز کے ساتھ طوفانی ہوا کا جھونکا اندر داخل ہوا۔ سب نے یک دم جھرجھری لی۔ چاچا فوراً نکل کر دروازہ بند کر کے سامنے کی طرف بھاگے۔
وہ لوگ کچھ دیر یونہی لگے رہے۔ جب بھی وہ ساتھ ہوتے تھے ہنسی مذاق اور نوک جھوک چلتی رہتی تھی۔ کچھ دیر بعد عبداللہ نے کہا۔
”یار ہمیں چاچا کو اکیلے نہیں جانے دینا چاہیے تھا۔“ عبداللہ نے تشویش ظاہر کی۔
”ہاں ٹھیک کہا تم نے مگر وہ بہادر اور سمجھ دار ہیں۔ اللہ خیر کرے گا۔“ علی نے تسلی دی۔ اس نے تھوڑی سی کھڑکی کھول کر باہر دیکھنا چاہا تو بجلی کی تیز کڑک نے اسے فوراً کھڑکی بند کرنے پر مجبور کر دیا۔
”یار موبائل کے سگنل بالکل نہیں آ رہے ہیں کیسی جگہ آگئے ہیں ہم۔“ حذیفہ کو خوف سا محسوس ہو رہا تھا۔
”علی یار کم از کم اندر سے گاڑی تو لاک کر دے۔ جب چاچا آئیں گے تو کھول دینا۔“ حسان کے توجہ دلوانے پر علی نے جیسے ہی لاک کی طرف ہاتھ بڑھایا یک دم باہر سے دروازہ کھل گیا۔
✯✯✯
وہ اسی طرح بنا رکے اپنا سفر جاری رکھے ہوا تھا۔ اچانک اسے کچھ یاد آیا تو اس نے موبائل پکڑا اور ایک ہاتھ سے کوئی نمبر تلاش کرنے لگا۔ کچھ ہی دیر میں اس کے سامنے ایک نمبر تھا۔
اس نے نمبر ڈائل کیا۔ جب کچھ دیر انتظار کے بعد کسی نے فون نہ اٹھایا تو اس نے کال بند کر دی۔ ابھی وہ موبائل رکھنے ہی لگا تھا کہ سکرین چمکنے لگی۔ وہ یک دم اسے اٹھانے ہی لگا تھا کہ سامنے سکرین پر پنکی کا نمبر دیکھ کر فون کو سائیڈ پر رکھ دیا۔ اس کا ذہن بُری طرح ماؤف تھا۔
فون پر فون بجتا جا رہا تھا۔ اس نے غصے سے موبائل اٹھایا، آف کیا اور ساتھ والی سیٹ پر پھینک دیا۔
”پتا نہیں یہ عورت ذات چیز کیا ہے؟ جان ہی نہیں چھوڑتی۔“ وہ غصے سے بڑبڑایا۔
”عورت واقعی خطرناک بلا ہے اپنے جال میں پھانس لیتی ہے۔ جیسے اُس عورت نے میرے بھائی کو۔۔۔“ اس نے سوچا اور گاڑی کی رفتار تیز کر دی۔
”میں اس لیے اُن عورتوں کو منہ نہیں لگاتا۔ یہ بس دل لگی کے ہی قابل ہیں۔ پتا نہیں بھائی کو کیا ہو گیا تھا۔“ اُسے عجیب عجیب خیال آرہے تھے۔
”ایک بار بھائی مل جائیں تو میں انھیں اِس عورت سے واپس لے آؤں گا۔“ اس نے خطرناک حد تک رفتار بڑھا دی گاڑی کی۔
”مصعب عثمان شاہ تم ٹھیک کرتے ہو۔ ان عورتوں سے دوستی کی، اور پھر چھوڑ دیا۔ یہ ہوتی ہی اسی قابل ہیں۔“ ایک طنزیہ مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آگئی۔
✯✯✯
تیز برستی بارش، سیاہ گھنے بادلوں کے درمیان زور دار گرجتی بجلی اور ساتھ ہی ساتھ چلتی طوفانی ہوا نے ماحول کو اچھا خاصا خوف ناک بنا رکھا تھا۔ گاڑی کے اندر وہ سب لائٹ آن کر کے دبکے بیٹھے تھے۔سب کی بولتی تقریباً بند ہی تھی۔ علی بار بار موبائل کی طرف متوجہ ہوتا رہا۔ وہ سروس نہ ہونے سے پریشان تھا۔
”یار موبائل کے سگنل بالکل نہیں آ رہے ہیں کیسی جگہ آگئے ہیں ہم۔“ حذیفہ کو خوف سا محسوس ہو رہا تھا۔
”علی یار کم از کم اندر سے گاڑی تو لاک کر دے۔ جب چاچا آئیں گے تو کھول دینا۔“ حسان کے توجہ دلوانے پر علی نے جیسے ہی لاک کی طرف ہاتھ بڑھایا یک دم باہر سے دروازہ کھل گیا۔
یک دم زور دار بادل کی کڑک سنائی دی ساتھ ہی تیز ہوا کے جھونکے نے اتنی بڑی گاڑی کو بُری طرح ہلا ڈالا۔ وہ سب اچھے خاصے ہل گئے۔
”یا اللہ خیر!“ ان کے منہ سے ایک ساتھ نکلا۔
” ہائے اللہ جی۔۔۔ بچا لیں۔۔۔ آ گیا بھوت۔۔۔ بھوت آ ہی گیا آخر۔“ حسان نے چلانا شروع کر دیا۔ اس کی آواز سے گھبرا کر گل خان عبدااللہ کی گود میں دبک گیا۔ عبداللہ نے اسے ڈرے ہوئے دیکھا تو فوراً ساتھ لگایا اور گھور کر حسان کی طرف دیکھا۔
”در فٹے منہ تیرا حسان! یار کچھ شرم کو ہاتھ مار۔“ زید کو اُس کی حرکتوں پر غصہ آ رہا تھا۔
”بھائی میرے! شرم ہو گی تو ہاتھ مارے گا نا۔“ حذیفہ نے اسےخود سے دور ہٹایا۔ وہ ڈر کے مارے اس کے ساتھ چپک رہا تھا۔
”بھوت پاگل کا بچہ ہے جو تیرے پاس آئے گا۔ تجھ سے بڑا بھوت بھی کوئی ہے۔ تیز ہوا کا جھونکا تھا وہ۔ طوفانی بارش میں ایسا ہی ہوتا۔“ زید جو کھڑکی کے ساتھ ہی بیٹھا تھا جھلا کر کہنے لگا۔ وہ ساتھ ساتھ باہر کا حال بھی دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا مگر ناکام رہا۔
”ہاں نا اس طوفانی بارش میں ہی تو ہوا کے جھونکوں کے ساتھ پریاں آتی ہے اور مجھے یقین ہے اگر کوئی پری آگئی تو مجھ پر ضرور عاشق ہو جائے گی اور میں پھر اسے کیسے چھوڑ کر جا سکتا ہوں۔ میں بےوفا نہیں بن سکتا۔“حسان نے اپنےبالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
” کسی پری کو کیا پڑی ہے کہ تیرے جیسے لنگور پر عاشق ہو۔ پریوں کی نہ تو آنکھیں خراب ہوتی ہیں نہ عقل۔ وہ دیکھ سامنے شیشے میں اپنی شکل۔“ حذیفہ نے اس کی گردن اوپر کر کے سامنے لگے شیشے کی طرف کی۔ حسان نے پہلے غور سے دیکھا پھر تھوڑا شرما کر کہنے لگا۔
”پہلی بات کہ اس شیشے میں منہ صاف نظر نہیں آتا اور دوسری بات یہ مسٹر حذیفہ۔“ اس نے حذیفہ کی طرف منہ کر کے اس کے نام پر زور دیا۔
”دوسری بات یہ کہ میری امی کہتی ہیں میرا بیٹا شہزادہ ہے اس کے لیے کوئی پری ہی آئے گی۔“
”ہاہاہا ہاہا!“ اس کی بات پر سب ہنس پڑے۔
”پتا ہے مجھے دنیا میں سب سے مجبور مخلوق کون سی لگتی ہے؟“ حذیفہ نے باری باری سب کی طرف دیکھا جن کے چہروں پر حیرانگی تھی۔
”اب بکو بھی!“ حسان نے گھورا۔
”مجھے ماں دنیا کی سب سے مجبور اور بہادر مخلوق لگتی ہے جو ہر حال میں ”ہر طرح سے“ اپنے ہر طرح کے بچے کو نہ چاہتے ہوئے بھی حسین بول دیتی ہے۔“ حذیفہ کا لہجہ دکھی تھا۔
”کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے کہ میں خالہ کو خراجِ تحسین پیش کروں جس نے حسان جیسے کو اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔“ زید کی بات پر پھر سب ہنسنے لگے۔
”تاریخ گواہ ہے کہ حسین لوگوں سے ہمیشہ دنیا جلتی رہی ہے۔“ حسان نے گردن اکڑا کر کہا۔
”پتا نہیں یہ کس کیلنڈر کی تاریخ ہے۔ اچھا یار دفع کرو ان سب باتوں کو اتنا ٹائم ہو گیا لیکن چاچا جی ابھی تک نہیں آئے۔“ علی کے یاد کروانے پر یک دم سب کو فکر لاحق ہوئی۔
”میں دیکھ کر آتا ہوں یار! موسم بہت خراب ہے۔“ علی دروازہ کھولنے لگا ہی تھا کہ حسان نے اسے پیچھے سے پکڑ لیا۔
”خ۔۔۔خ۔۔خبردار ج۔۔۔ج۔۔۔ج۔۔۔ جو کسی نے دروازہ کھولا تو۔ چپ کر کے بیٹھے رہو۔“اس نے کانپتے ہوئے لہجے میں کہا۔
ابھی زید نے کچھ کہنے کے لیے منہ ہی کھولا تھاکہ آگے کا دروازہ کھل گیا۔ سامنے چاچا تھے جو اچھے خاصے بھیگ چکے تھے۔
”چلو بچوں اللہ پاک نے ہماری سن لی۔ اچھا انتظام ہو گیا ہے۔ آجاؤ کچھ دیر جب تک بارش نہیں تھمتی۔ یہاں وقت گزر جائے گا۔ اپنا ضروری سامان لے لو سب۔“ انھوں نے سب کو مخاطب کر کے کہا۔
وہ سب جلدی جلدی اترے۔ بارش اور تیز طوفانی ہوا کی وجہ سے چلنا مشکل ہو رہا تھا۔ انھوں نے تقریباً بھاگ کر موبائل کی روشنی میں یہ مختصر سا سفر کیا اس کے باوجود کہ انھوں نے سروں کو ڈھانپ رکھا تھا بھیگ چکے تھے۔ برآمدہ عبور کر کے سامنے بنے ایک کمرے میں وہ جیسے ہی داخل ہوئے انھیں سکون سا محسوس ہوا۔ علی نے گل خان کو گود سے اتارا اور جھک کر اس کے جوتے اتارنے لگا۔ ابھی وہ سب اپنے جوتے ہی اتار رہے تھے کہ پیچھے سے یک دم آنے والی آواز پر چونک گئے۔
”بسم اللہ۔۔۔آؤ بچو!“ انھوں نے مڑ کر دیکھا تو ایک سفید کپڑوں میں ملبوس نورانی چہرے والے باریش بزرگ کھڑے ان کی طرف دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔
”کہا تھا نا! یہ جگہ ٹھیک نہیں ہے۔کہا تھا میں نے۔ لو اب دیکھ لو یہ جو سامنے اتنے خوبصورت بابا جی ہیں نا! یہ اصل میں جن ہی ہیں۔ ابھی یہ اپنی اصل شکل میں آ کر ہم سب کا ایک ہی نوالہ بنائے کھا جائیں گے۔“ حسان نے کانپتی آواز کے ساتھ بالکل ساتھ کھڑے عبداللہ کے کان میں سرگوشی کی۔ عبدااللہ نے اسے بُری طرح گھورا اور جوتے اتارنے لگا۔
”آجاؤ بچو اندر!“ انھوں نے اندر کی طرف اشارہ کیا۔ وہ سب جوتے اتار کر اندر داخل ہو گئے مگر گھبراہٹ کے مارے حسان سے جوگرز کے تسمے نہیں کھل رہے تھے۔ اچانک بابا جی کی نظر اس پر پڑی تو وہ اس کے قریب آئے اور کہنے لگے۔
”بیٹا جی میں کچھ مدد کروں آپ کی۔“ اس نے یک دم سر اوپر کیا اور وہ جو گھٹنے کے بل بیٹھا تھا اپنے سر پر کھڑے بزرگ کو دیکھ کر یک دم گر پڑا۔
”نن۔۔۔۔نہیں جی! بس ہو گیا۔“ اس نے جلدی سے تسمے کو کھینچا اور اندر کو بھاگا۔
”کمینوں مجھے تو ساتھ لےآتے۔“ اس کی سانس پھولنے لگی۔ زید اسے دیکھ کر زور زور سے ہنسنے لگا۔
انھوں نے گیلے کپڑے تبدیل کیے اور بیٹھ گئے۔ ابھی ان کو بیٹھے کچھ ہی دیر گزری تھی کہ بابا جی ایک بڑی سی ٹرے میں چائے اور مختلف چیزیں لے آئے اور دستر خوان بچھانے لگے کہ زید فوراً اُن کی مدد کے لیے آگے بڑھا۔
”ہو گیا اب یقین تمھیں۔ اب بیٹا مرنے سے پہلے یہ سب کھا لو۔ یہ چیزیں ان کے جن ہونے کی نشانی ہیں ورنہ ایسی ویرن جگہ پر ایسا گھر اور اتنی چیزیں۔۔۔“ ایک بار پھر حسان نے سرگوشی میں کہا جسے صرف حذیفہ، علی اور عبداللہ سن سکے۔
”یار میں اِس کا کیا کروں۔“ علی کو تپ چڑ ھ گئی۔ وہ جیسے کچھ ڈھونڈنے کے لیے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔
”اوئے یہاں دیکھ میری طرف۔“ عبداللہ نے اسے اپنی طرف دیکھنے کو کہا۔ جیسے ہی اس نے دیکھا۔ اس نے گل خان کی گیلی جرابیں جو وہ اتار رہا تھا، علی کی طرف پھینکیں اور جھلا کر کہنے لگا۔
”اس کے منہ پر رکھ دے تاکہ کچھ دیر یہ بےہوش ہو جائے۔ ہمیں سکون کا سانس آئے۔“ علی نے فوراً جرابیں پکڑیں۔ اس سے قبل کہ وہ کچھ کرتا حسان اٹھ کر چائے کی طرف بڑھ گیا۔
بابا جی چائے رکھ کر باہر گئے اور کچھ دیر بعد واپس آئے تو اُن کے ہاتھ میں گرم انگیٹھی تھی۔ انھوں نے انگیٹھی درمیان میں رکھ دی اور سب کو نزدیک آنے کو کہا۔
”آ جاؤ بچو! کافی سردی ہے۔ اپنے ہاتھ گرم کر لو اور اس معصوم کو بھی قریب کرو ٹھنڈ نہ لگ جائے۔“ انھوں نے شفقت بھری نظروں سے گل خان کو دیکھا جو بسکٹ چائے میں ڈبو رہا تھا۔ وہ خود بھی وہاں بیٹھ گئے اور غفور چاچا کی طرف دیکھ کر مخاطب ہوئے۔
”آپ لوگ کس طرف جانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟“
”جی بزرگو!ان بچوں کو چھٹیاں ہوئیں تو گھومنے کے لیے یہاں آگئے۔ نور پور گاؤں جائیں گے۔ سنا ہے بہت خوبصورت جگہ ہے مگر۔۔۔“ وہ کچھ دیر رکے پھر چائے کا گھونٹ بھر کرمزید کہنے لگے۔
”مگر یہاں تو موسم کافی خراب ہے اور گاؤں بھی ابھی دور ہےشاید۔“ انھوں نے سوالیہ نظروں سے بابا جی کو دیکھا۔
”جی بیٹا! نور پور گاؤں تو بہت حسین ہے۔ لوگ دور دور سے دیکھنے آتے ہیں اور یہاں سے تقریباً گھنٹے کا سفر ہے۔ آپ گھبرائیں نہیں۔ موسم ٹھیک ہو جائےگا۔“ بابا جی نے تسلی دی۔
”آپ یہاں ہی قیام فرماتے ہیں؟“ زید نے سوال کیا۔خان بابا تھوڑا سا مسکرانے کے بعد گویا ہوئے۔
”نہیں بیٹا جی میرا گھر تو یہاں سے بیس منٹ کے فاصلے پر ہے۔ میرا ایک بیٹا اور بہو ہے۔ جب سے شریکِ حیات نے ساتھ چھوڑا تو میں خود کو بہت تنہا محسوس کرنے لگا تھا۔ پھر میں نے سوچا کیوں نا جو باقی زندگی بچی ہے خدمتِ انسانیت کے لیے وقف کر دوں۔ تو تب میں نے یہاں چھوٹا ساکمرہ بنوایا ساتھ ہی چھوٹا سا برآمدہ جہاں پر آکر مسافر کچھ دیر آرام کر لیتے ہیں۔ چونکہ یہ جگہ ذرا ویران ہےاور اکثر موسم کی خرابی یا سفر کی تھکان کے بعد یہاں تک سفر کرنے کے بعد لوگ تھک کر رک جاتے ہیں۔ تو اب رفتہ رفتہ یہاں رونق لگ گئی ہے۔ اب یہ ایک قسم کی آرام گاہ بن گئی ہے۔“ بابا جی کچھ دیر رکے پھر کہنے لگے، ”پہلے تو بیٹا میں سب اکیلے کر لیتا تھا۔ اب میرے بیٹے اور بہو کے بہت زور دینے پر دو لڑکے رکھ لیے ہیں جن کو معقول تنخواہ دے دیتا ہوں۔ وہ رات کو کبھی چلے جاتے ہیں، کبھی رک جاتے ہیں۔ دنیا میں اللہ پاک نے بہت سے لوگ پیدا کیے ہیں اور وہ خوش نصیب ہوتے ہیں جو کہ اللہ کے دیئے ہوئے مال سے اس کے بندوں کی مدد اور خدمت کرتے ہیں۔ سبحان اللہ!“ خان بابا کچھ سوچ کر مسکرانے لگے۔
”بزرگوار تو آپ کو اس کاروبار میں منافع بھی ہوتا ہے کیا؟“ غفور چاچا کو یہ سب اچھا لگا تو پوچھنے لگے۔
”منافع کیسا بیٹا!یہ تو اللہ کا گھر ہے۔ ادھر جو آتا ہے اس کا مہمان ہوتا ہے۔ میں بس اس کی مدد سے اس کے مہمان کی خدمت کر دیتا ہوں۔ وہ ہے نا اوپر بیٹھا خود ہی رزق دیتا ہے۔ پہلے پہل تو میں اور میرا بیٹامل کر اخراجات پورے کرتے تھے پھر کوئی عرصہ پہلے کی بات ہے یہاں کچھ لڑکے آئے تم لوگوں کی طرح جوان اور خوبصورت۔“ خان بابا نے سب کی طرف باری باری دیکھا، ”اس دن بھی موسم خراب تھا۔ انھوں نے یہاں رات گزاری اس وقت صرف ایک کمرا تھا پھر نہ جانے اللہ نے اُن کے دل میں کیا ڈالا کہ جاتے جاتے وہ ایک کثیر رقم دے گئے۔ ان میں سے ایک بچے نے یہ سب تعمیر کروایا۔ اللہ اسے خوش رکھے۔ یہی نہیں وہ ہر ماہ آج تک اچھی خاصی رقم دے جاتا تھا مگر وہ خود آج تک دوبارہ نہیں آیا۔ آگے کبھی فون پر بات کرتا تھا۔“ بابا جی یک دم افسردہ ہو گئے۔
”لو بچو! باتوں باتوں میں وقت کا اندازہ نہیں ہوا۔ اس سے قبل کہ عشاء کا وقت ہو جائے کچھ کھا لیا جائے۔“ بابا جی اٹھنے لگے تو وہ سب بھی، جو ان کی باتوں میں کھوئے ہوئے تھے یک دم چونکے۔
”آپ کوئی تکلف نہ کریں پلیز۔ ہمیں بھوک نہیں ہے۔“ علی نے کہا۔
”بیٹا موسم پتا نہیں صبح تک ٹھیک ہو۔ ابھی تو سفر کرنا بھی مناسب نہیں۔“ بابا جی باہر جانے ہی لگے کہ دروازہ بجنے کی آواز پر سب چونکے۔
”ارے گھبراؤ نہیں! میرا بیٹا ہو گا اس وقت آتا ہے مگر آج کیوں آیا اِس موسم۔۔۔“ وہ خود کلامی کرتے کرتے باہر نکل گئے۔
”یار یہاں تو موبائل بھی نہیں چل رہا۔ گھر والے پریشان ہوں گے۔“ عبداللہ نے خدشہ ظاہر کیا۔
وہ سب پریشان تھے کہ نہ جانے کب موسم ٹھیک ہو گا۔
کچھ دیر میں خان بابا اندر آئے اور مسکرا کر کہنے لگے، ”لو بھئی اللہ پاک نے کھانا بھی بھیج دیا۔ میرے بیٹے نے بچھوایا ہے۔ اسے معلوم تھا آج کوئی نہ کوئی مہمان آئے گا۔“ انھوں نے کھانے کا شاپر چٹائی پر رکھا تو علی نے آگے بڑھ کر برتن اُن کے ہاتھ سے پکڑ لیے اور کھانا ڈالنے لگا۔
✯✯✯
”میں نے کہا تھا کہ مت جانے دیں بچوں کو مگر کسی نے بھی میری بات نہیں مانی۔ اب جان پر بن گئی نا سب کی۔“ بیگم عبدالرافع غصے سے لال ہو رہی تھیں۔ عبد الرافع صاحب (زید کے پاپا) اور سلیم صاحب ( علی کے پاپا) سب کے نمبرز ملا رہے تھے مگر سب کے نمبرز مسلسل بند تھے۔
”آپ لوگ فکر نہ کریں وہاں اکثر سروس نہیں آتی ورنہ وہ خود رابطہ کرتے۔“ اسامہ نے تسلی دی۔
”تم سے کہا تھا ساتھ چلے جاؤ۔ سب نکمے اکھٹے کر کے بھیج دیئے۔“ اسامہ کی ماما (بیگم ارشد) اسی پر غصہ کرنے لگیں۔
اپنی اپنی جگہ سب پریشان تھے۔
”مجھے لگتا ہے کہ ہمیں ان کے پیچھے جانا چاہیے۔“ عبد الرافع صاحب نے تجویز دی۔
”آگے ان کی فکر کیا کم ہے اوپر سے آپ بھی! کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اپنے اس غفور کو فون کریں۔“ بیگم عبدالرافع حد سے زیادہ پریشان تھیں۔
رابی جو کہ کچھ لینے آئی تھی سب کی باتیں سن کر اوپر اپنے کمرے میں جا کر حفصہ کو کال کرنے لگی۔ کچھ ہی دیر میں دوسری طرف سے اس کی آواز سن کر بےچینی سے کہنے لگی۔
”یار سب اتنے پریشان ہیں۔ مجھے لگتا ہے ہمیں سب کو بتا دینا چاہیے کہ وہ کس مقصد کے لیے گئے۔۔۔“
”نہیں رابی ابھی نہیں! کل تک دیکھتے ہیں۔ ابھی کیا پتا وہاں سگنل نہ ہوں، بس تم دعا کرو سب ٹھیک ہوں۔“ حفصہ نے سمجھ داری سے کہا۔
✯✯✯
آج جامعہ کی سب طالبات اور استانیاں بہت خوش تھیں آج ان کے جامعہ میں ایک بڑی سی تقریب تھی۔ سب اپنی اپنی تیاری میں مگن تھیں۔ چار منزلہ عمارت پر مشتمل یہ بنات(لڑکیوں) کا جامعہ تھا جہاں مختلف جگہوں سے آئی ہوئی بچیاں زیرِ تعلیم تھیں۔
اچانک دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی تو آمنہ باجی نے سامنے دیکھا اورکہا، ”آ جاؤ!“
”السلام علیکم باجی!“ ایک چھوٹی بچی اندر داخل ہوئی تو آمنہ باجی اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگیں۔
”جی بیٹا کیا بات ہے؟“
”باجی جان۔ یہ عالمیہ کلاس کی طرف سے ہے۔ باجیوں نے باجی تجریان کے لیے پرچی دی ہے۔“ وہ ڈرتے ڈرتے آگے بڑھی اور پرچی پکڑا کر فوراً بھاگ گئی۔
آمنہ باجی نے مسکرا کر پرچی پکڑی اور کہنے لگیں۔
”بھئی تجریان آجاؤ واش روم سے باہر۔ ایک اور محبت نامہ آگیا۔“ انھوں نے اونچی آواز میں کہا۔
”واہ بھئی لگتا ہے پھر کوئی پیغام آگیا ہے باجی تجریان کے لیے۔“ سلمیٰ باجی نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا۔
”آخر کو تجریان پھر تجریان ہے نا! سب کے دل جیت لینے والی۔“ ثوبیہ باجی بھی ابھی ابھی کمرے میں داخل ہوئی تھیں۔ انھوں نے آمنہ باجی کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا۔
”یہ دل جیتنا نہیں ہوتا تجریان نے ویسے ہی ساری بچیوں کو بگاڑ کر رکھا ہوا ہے۔ ورنہ ہم بھی اتنے عرصے سے یہاں ہی ہیں۔ کسی کی مجال نہیں سامنے سے گزر بھی جائے۔“ سلمیٰ باجی نے تیوری چڑھائی۔
”یہ ہی تو فرق ہے نا باجی! آپ اپنے غصے اور رعب کے لیے مشہور ہیں اور وہ اپنی نرم مزاجی کے لیے۔ اور آج کل کا دور ایسا ہے کہ کوئی غصہ برداشت نہیں کرتا۔“ ثوبیہ باجی اپنے نام کی ایک تھیں۔ کہاں سن سکتی تھیں تجریان کے بارے میں کوئی بات۔
”اچھا ذرا پرچی پڑھو تو۔ کیا لکھا ہے۔“ انھوں نے سلمیٰ باجی کو نظر انداز کیا اور آمنہ باجی سے کہا۔
”جی تو لکھا ہے۔ پیاری باجی جان! آج ہماری تقریب ہے۔ پھر ہم پتا نہیں یہاں رہیں نہ رہیں۔ آپ ہماری فرمائش پر آج لال جوڑا پہن لینا جو ہم سب نے آپ کو گفٹ کیا تھا۔ اللہ آپ سے راضی ہو۔“ آمنہ باجی مزے لے لے کر پڑھ رہی تھیں کہ تجریان بھی آ گئی۔
”بُری بات ہے۔ کسی کی پرچی نہیں پڑھتے۔“ اس نے ہلکا سا مسکرا کر آمنہ باجی کو دیکھا۔
”ہم پر حلال ہے تمھاری ہر چیز۔ آخر کار سات سال کا ساتھ ہے۔ اب بچیوں کی فرمائش پوری کر دینا۔“ ثوبیہ باجی نے مسکرا کر کہا۔
”ہاں اب نیا قانون نکلے گا کہ طالبات کی فرمائش پر استانیاں کپڑے زیب تن کریں گی۔“ سلمیٰ باجی نے جل کر کہا اور باہر نکل گئیں۔
اُن کی بات سے تجریان کی آنکھیں نم ہو گئیں، وہ بھی باہر نکل گئی۔
”توبہ ہے! اِس سلمیٰ باجی کو اللہ پوچھے۔ کیوں اس کے پیچھے پڑی رہتی ہیں۔ سات سال ہو گئے ہمیں یہاں۔ ایک بھی دن جو اِس لڑکی نے کسی کو جواب دیا ہو یا کسی کا بُرا چاہا ہو۔ اتنا صبر۔ آفرین ہے اِس پر۔“ ثوبیہ نے آمنہ کی طرف دیکھ کر کہا۔
”سچ کہہ رہی ہو اور پورے تین سال ہونے کو آئے ہیں۔ گھر بھی نہیں گئی۔ آپا جان نے بھی ساری ذمہ داری اس پر ڈال رکھی ہے۔ دیکھنا اللہ اسے بہت اجر دے گا۔“ آمنہ باجی نے دعا دی۔
”آمین یا رب عرش عظیم! اللہ اس کے نصیب بہت روشن کرے۔ ویسے اس بار کہہ تو رہی ہے کہ گھر جانا ہے۔“ ثوبیہ باجی نے کہا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
✯✯✯
کھانے کے بعد خان بابا کے ساتھ علی اور زید نے برتن اٹھائے اور باہر لے گئے۔
”چلو بیٹا یہ رکھ دو یہاں۔ میں دھو دیتا ہوں۔“ وہ کچن میں داخل ہوئے تو خان بابا نے علی سےبرتن پکڑنے کے لیے ہاتھ آگے کیے۔
”کیا! ارے نہیں بابا۔ آپ اندر جائیں میں دھو لیتا ہوں۔“ وہ برتن سنک میں رکھنے لگا۔
”نہیں میرے بچے! تم مہمان ہو میرے۔“
”آپ ہمیں بھی کچھ خدمت کا موقع دیں۔ آپ اندر جائیں ہم کر لیتے ہیں۔“ اب کے زید بھی آگے ہوا تو خان بابا دونوں کی بات سن کر مسکرا ئے اور باہر نکل گئے۔ وہ اذان دینے کے لیے ایک طرف بنائی گئی چھوٹی سی پیاری سی مسجد میں چلے گئے۔ باقی سب بھی اذان کی آواز سن کر وضو کرنے کے لیے اٹھ گئے۔ موسم مزید خراب ہوتا جا رہا تھا۔
حسان ابھی ابھی وضو کر کے آیا تھا اور ٹھنڈ سے اس کے ہاتھ جمنے لگے تھے۔ وہ انگیٹھی کے سامنے آکے بیٹھا اور تپے ہوئے انداز میں کہنے لگا، ”یار کیا مصیبت ہے!لگتا ہے کہ ہم سچ میں پھنس گئے ہیں اِس گل خان کے پیچھے۔“
”اب نماز جو پڑھنی پڑ رہی ہے اتنی سردی میں اس لیے اپنے اندر کی گرمی اِس گل خان معصوم پر نکال رہا ہے۔“ عبداللہ اور حذیفہ کو حسان کی شکل دیکھ کر ہنسی آ رہی تھی۔
گل خان سو رہا تھا۔ عبداللہ نے اسے ایک طرف کر کے اسے چھوٹا کمبل اوڑھایا اور خود وہ بھی سب کے پیچھے نماز کے لیے چلا گیا اور جا کر صف میں کھڑا ہو گیا۔ خان بابا نے نماز شروع کروائی، ”اللہ ھو اکبر۔“
✯✯✯
زور زور سے دروازہ بجا توثانیہ یک دم ڈر گئی۔ وہ پہلے ہی خراب موسم اور گھر میں تنہا ہونے کی وجہ سے بُری طرح گھبرائی ہوئی تھی۔ پہلے تو وہ اگنور کرتی رہی کہ پتا نہیں کون ہو گا۔ اتنا تو اسے یقین تھا کہ اس وقت ریان یا بابا جان نہیں ہوں گے۔ جب دروازہ مسلسل بجنے لگاتو وہ ہمت کر کے سر پر تولیہ لیے باہر برآمدے تک آئی۔کچھ دیر سانس روک کر کھڑی رہی پھر پوری ہمت جمع کر کےپوچھا۔
”کون ہے؟“
”ثانیہ میں ہوں ریان۔ جلدی دروازہ کھولو۔“ اس نے جیسے ہی ریان کی آواز سنی بجلی کی سی تیزی سے بھاگ کر دروازہ کھولا مگر دروازہ کھولتے ہی اسے جیسے کرنٹ لگا ہو۔ کچھ دیر تو وہ تیز برستی بارش میں کھڑی سکتے کی کیفیت میں ریان کو دیکھنے لگی۔ اس نے دو چھوٹے چھوٹے بچوں کو اٹھا رکھا تھا۔ وہ ریان کی گود میں بچے دیکھ کر بت بن گئی۔
”ارے اندر تو آنے دو۔“ وہ اسے پیچھےکر کے تیزی سے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا وہ جو بےجان بت بنی کھڑی تھی یک دم ہوش میں آئی۔ دروازہ بند کر کے وہ اندر بھاگی۔ اس کے اندر پہنچنے تک ریان بچوں کو بیڈ پر لِٹا چکا تھا۔ اب وہ ان کو کمبل اوڑھا رہا تھا۔
”یہ۔۔۔ بچے؟ کس کے بچے ہیں؟ کیا تم نے شادی کر رکھی تھی؟“ اس سے پہلے کہ وہ اور کچھ کہتی ریان نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا۔
”چپ ہو جاؤ یار! میں پہلے ہی۔۔۔“ وہ چپ ہوگیا، ”مجھے۔۔۔ مجھے تو خود پتا نہیں کہ یہ کون ہیں؟ یہ سب بعد کی باتیں ہیں کہ یہ کون ہیں؟ کس کے ہیں؟ پہلے ان کو ہوش میں تو آنے دو پھر میری عدالت بعد میں لگا لینا تم۔۔۔تم پلیز جاؤ یار۔ ان کے لیے کچھ لے آؤ۔ پتا نہیں کب سے بھوکے ہیں۔“ وہ فکر مندی سے انھیں دیکھنے لگا۔
You have read 12% of نورِ سحر - Noor e Sehar- Romantic Novel in Urdu. The full e-book picks up right where this stopped.