20% of the book — free to read

زندگی اِک گلدستۂ کتاب
ماہیؔ شاہین

داستان پبلشرز
کاپی رائٹ ۲۰۲۲ء داستان
جملہ حقوق بحق مصنفہ اور ناشر محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر
چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں
میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
مدیرہ: نرمین سرھیو
سرورق: نرمین سرھیو
اشاعت اوّل: ٢٠٢۲ء
مطبع: پکسلز پرنٹنگ سولیوشن
ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان
انتساب
اکیسویں صدی کے ان مرد و خواتین کے نام جو اپنے مقصدِ زندگی کو بھول کر ان عشق و عاشقی کے معاملات میں الجھ جاتے ہیں اور معاملاتِ زندگی میں ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔
سنوارنا چھوڑ دیا خود کو
کسی دور میں ہم بھی کمال تھے
ماہیؔ
٭٭٭٭٭٭
محبت
محبت ہےہمیں اس سے یہ بتا نہیں سکتے
کہ زمانے کی تلخیاں کبھی ملنے نہیں دیتیں
ماناکہ یہ اور بات ہے کہ اظہار آتا نہیں کرنا
کہ مجبوریاں جینے نہیں دیتیں
ماہیؔ
٭٭٭٭٭٭
لوگ تو کئی ملے اس دل کو
مگر جودل کو بھائےوہ خاص ہوتا ہے
ماہیؔ
کسی کو تو راس آئیں گے ہم
کوئی تو ہو گا سادگی پسند
ماہیؔ
٭٭٭٭٭٭
اچھا کردار آپ کوزندہ رکھتا ہے
دلوں میں بھی اور لفظوں میں بھی
ماہیؔ
میرے دیکھے ہوئے خواب دیکھے گا
تیرے نصیب میں لکھا ہوا شخص
ماہیؔ
٭٭٭٭٭٭
ایک شام
کچھ ایسا ہو یہ شام ڈھلے
کوئی ہاتھ میں تھامے ہاتھ میرا
کوئی لے کے مجھ کو ساتھ چلے
کوئی بیٹھے میرے پہلو میں
میرے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ دھرے
اور پونچھ کے آنسو آنکھوں سے
وہ دھیرے سے یہ بات کہے
یوں تنہا چلنا ٹھیک نہیں
چلو۔۔۔۔ ہم بھی تمہارے ساتھ چلیں
ماہیؔ
٭٭٭٭٭٭
یکم ہے پہلے مہینے کی اور ساتھ ہو تم
میں اگلے تین سو چونسٹھ دنوں کی سوچتا ہوں
ماہیؔ
بےمثال
وہ نگاہ الفت جو تیری پڑی ہم پر
ہائے کمال کر گئی
ایک عام سے انسان کوبےمثال کر گئی
ماہیؔ
٭٭٭٭٭٭
یہ جانتے ہوئے بھی کہ یار روٹھا ہوا ہے
ساری تلخیاں بھلاتے ہوئےاُسے منا لیناکمال یہ ہے
ماہیؔ
کسی کو پسند آنا بہت آسان ہے
لیکن ہمیشہ اس کی پسند بنے رہنابہت مشکل ہے
ماہیؔ
٭٭٭٭٭٭
ہم تو بیٹھے تھے فریاد لیےان کی خاطر ماہیؔ
وہ آئے اور کنارہ کیےہمیں خود سے بے دخل کر گئے
ماہیؔ
٭٭٭٭٭٭
ترستی آنکھیں،اداس چہرہ،نحیف لہجہ،بغیر تیرے
بکھری زلفیں،لباس اُجڑا،وجود خستہ،بغیر تیرے
ماہیؔ
چھت پر چل رہی ہوں ہاتھ میں موبائل ہے
آجا ملنے یارتجھ سے ملنے کی آج خواہش بڑی ہے
ماہیؔ
٭٭٭٭٭٭
وعدہ
وفا نبھانے کا ارادہ کر کے
چھوڑ کر نہ جانے کا وعدہ کر کے
آنکھوں پہ اعتماد کی پٹی باندھ کر
گلے لگ کر بچھڑنےکا اشارہ کر کے
چل دیا وہ شخص اپنے ہی وعدوں سے کنارہ کر کے
ماہیؔ
اوجھل
آپ کی نظروں سے اوجھل ہو جائیں گے ہم
دور فضاوں میں کہیں کھو جائیں گے
میری یادوں سے لپٹ کر روئیں گے آپ
جب زمیں اوڑھ کر خود پرسو جائیں گے ہم
ماہیؔ
٭٭٭٭٭٭
ایک چاند ہےجو تاروں کی بھیڑ میں ہے
ایک ہم ہیں جو ستاروں کی بھیڑ میں بھی تنہا ہیں
ماہیؔ
گلہ
میرے دوست مجھ سے گلہ کرتے ہیں
کہ ہم ان سے کم ملا کرتےہیں
وہ نادان اتنا نہیں سمجھتے
کہ ستارے دور سے ہی روشنی دیا کرتے ہیں
ماہیؔ
٭٭٭٭٭٭
حد نگاہ دوڑاوجہاں تک ہو سکے
پھر نہ کہنا کہ قاتل بن کر نظریں چرالیں ہم نے
ماہیؔ
فریاد
کرنی مجھے خدا سےفریاد ابھی باقی ہے
ہمیں ان سےکہنی کچھ بات باقی ہے
موت آئے گی تو کہہ دیں گے
ابھی میری دوست سےایک ملاقات باقی ہے
ماہیؔ
غزل
محبتوں میں کچھ ایسے بھی حال ہوتے ہیں
خفا ہوں جن سے ،انہی کے خیال ہوتے ہیں
مچلتے رہتے ہیں ذہنوں میں، وسوسوں کی طرح
حسین لوگ بھی جان کا وبال ہوتے ہیں
تیری طرح میں دل کے زخم چھپاِؤں کیسے
کہ تیرے پاس تو لفظوں کے جال ہوتے ہیں
بس ایک تو ہی تو نہیں سبب اداسی کا
طرح طرح کے دلوں کو ملال ہوتے ہیں
سیاہ رات میں جلتے ہیں جگنوؤں کی طرح
دلوں کے زخم بھی محسن کمال ہوتے ہیں
غزل
کبھی بن برسے بادل نظر آتے ہیں
کبھی آشیانے میں جھرمٹ نظر آتا ہے
کبھی لہجوں کی تپش بھی اتنی ہوتی ہے
کبھی رگوں میں مٹھاس نظر آتی ہے
کبھی رویوں سے تکلیف ہوتی نظرآتی ہے
تو کبھی اُن رویوں میں بھی کچھ خاص نظر آتا ہے
کبھی الفاظوں میں تیر نظر آتے ہیں
تو کبھی اندازوں میں بھی نشان نظر آتے ہیں
ماہیؔ
غزل
سوالوں پر میں نقشہ کھینچوں بھی کیسے
کچھ پر تو میں کچھ کہوں بھی کیسے
فارسی و عربی میں بولوں بھی کیسے
انگریزی و اُردو میں تجھے کچھ کہوں بھی کیسے
بلبل و چڑیا کو بُلاؤں بھی میں کیسے
چرند و پرند کو میں اُڑاؤں بھی کیسے
سیرت پر میں تمہارے نقشہ کھینچوں بھی کیسے
نہ صورت دیکھی تو سیرت بیان کروں بھی تو کیسے
پرندوں کی بولی میں بولوں بھی کیسے
حیوانوں کو اپنا بناؤں بھی کیسے
اپنوں کو اپنا بناؤں بھی کیسے
دھوکے دئیےہوؤں کو بھلاؤں بھی کیسے
جنوں و چڑیلوں کافرق بتاؤں بھی کیسے
انسانوں کی سیرت کو جانوں بھی کیسے
ماہیؔ
٭٭٭٭٭٭
یوں مسکرایا نہ کرو
ہم بڑے گستاخ ہیں صاحب
اک پل میں ملتے ہیں تو
دوسرے لمحے ہنسی چرا لیتے ہیں
ماہیؔ
غزل
جب یاد آئیں گی میری
وفائیں تم کو
ہرشخص کو چاہت سے
دیکھا کرو گے تم
آج میری تنہائیوںپر
ہنس رہے ہو تم
مجھ سے بچھڑکر اسی بات پہ
رویا کرو گے تم
اپنے ہی عکس میں
ڈھونڈا کرو گے تم
ہر سانس کے ساتھ مجھے
سوچا کرو گے تم
تم چھوڑنا بھی چاہو گے مجھ کو
تو چھوڑو گے کیسےتم
میری ہر ادا بھی یاد
کیا کرو گے تم
You have read 20% of زندگی اِک گلدستۂ کتاب - Zindagi Ik Guldasta e Kitaab- Poetry Book About Love. The full e-book picks up right where this stopped.