Check out our most recent publications
پہلا قدم - Pehla Qadam - Sufi Poetry Book
Free sample · no sign-up

پہلا قدم - Pehla Qadam - Sufi Poetry Book

by Hakeem Ameer Ali Talash

You are reading the first 12% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

12% of the book — free to read

 

پہلا قدم

(اردو غزلیں)

 

حکیم امیر علی تلاش 

 

آئیں کہاں ہیں آج قدرداں کمال کے
کاغذ پہ رکھ دیا ہے کلیجہ نکال کے


 

کاپی رائٹ ۲۰۲۲ء داستان

جملہ حقوق بحق مصنفہ اور ناشر محفوظ ہیں۔

اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے
بغیر چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور
 تبصروں میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو
نہیں ہوتی۔

 

اشاعت اوّل: ٢٠٢۲ء

 

ناشر

داستان پبلشرز، پاکستان (www.daastan.com)

 

مدیرۂ اعلیٰ

نرمین سرھیو

 

سرورق ڈیزائننگ

نرمین سرھیو

 

عرضِ مدیرہ

کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ اچانک کوئی شخص کسی خوبی کے ساتھ متعارف ہوتا ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اپنی خوبی کے بام عروج پہ جا پہنچتا ہے۔

یہ بات اور بھی حیران کن ہے کہ اس سے پہلے اسے کوئی جانتا تک نہیں ہوتا اور منظر ِ عام پہ آنے کے بعد آناً فانا ًایک دنیا اس کے نام سے آگاہ ہو جاتی ہے۔ دراصل ہوتا یوں ہے کہ پردے پردے میں اس شخص کے اندر کسی خوبی کا لاوا پک رہا ہوتا ہے اور پھر موقع ملتے ہی بے قابو ہو کر وہ پھٹ جاتا اور چاروں جانب بہہ نکلتا ہے۔

کچھ یہی حال حکیم امیر علی تلاش ؔصاحب کے بارے میں محسوس ہوا۔ ان کے ادبی ذوق کا لاوا بھی کم و بیش پچاس سال تک پکتے رہنے کے بعد اب پھٹ کر بہہ نکلنے کے لیے بے تاب ہے۔

وہ ادب کی خدمت کرنے اور بیش قیمت ادب پارے اکٹھے کرنے میں جتنا آگے گئے ہیں، اپنا تعارف کروانے کے حوالے سے اتنا ہی پیچھے رہ گئے ہیں۔

اس لیے داستان نے حکیم امیر علی تلاش ؔ کے شعری مجموعے "پہلا قدم" کو شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امید ہے کہ ان کی اس کتاب کو ادبی حلقوں اور اہلِ ذوق دوستوں میں خوب پذیرائی ملے گی اور اسے پسند کیا جائے گا۔

نرمین سرھیو  

مدیرۂ اعلیٰ، داستان

 

ایک گمنام لیکن کام کا شاعر

میں اور حکیم امیر علی تلاش ایک ہی شہر کے رہنے والے اور عرصہ بعید سے ایک دوسرے سے آشنا ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حکیم صاحب کو کئی ایک خوبیوں سے نوازا رکھا ہے لیکن انہوں نے اپنی ساری عمر گم نامی اور گوشہ نشینی میں گزار دی ہے اور ادب پارے اکٹھے کرنے میں جتنے یہ آگے گئے ہیں تعارف کے حوالے سے اتنے ہی پیچھے گئے ہیں۔ ان کا ایک شعر ہے،

  ہیں ولی بھی رند بھی شاعر بھی کیا کیا ہیں تلاش

  حضرت والا سبھی کچھ ہیں مگر ہیں نام کے

لیکن میرے نزدیک یہ صرف نام کے ہی نہیں بلکہ بڑے ہی کام کے ہیں۔ حکیم صاحب طبعاً شاعر بھی ہیں اور درویش بھی اور غالباً انہی دو اوصاف نے ہی انہیں دنیا کی ہنگامہ آرائی سے الگ تھلگ رکھا ہے۔ اور اس میں اس علیم و حکیم ذات کی ایک حکمت یہ بھی تھی کہ اگر حکیم صاحب شروع سے ہی مشہور اور مصروف ہو جاتے تو اتنے گراں قدر ادب پارے اکٹھے نہ کر سکتے لیکن اب ان کے چھپنے کا وقت آ گیا ہے نہ کہ چھپنے کا۔ بالکل اس طرح جیسے جب ایک فصل پک جاتی ہے تو پھر اس کو پانی اور کھاد وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اسے کاٹ کر کام میں لانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اتنی کثیر اور ضخیم کتابوں کا تقاضا یہی ہے کہ اب ان کو منظر عام پہ لایا جائے۔ جب بھی حکیم صاحب کا ذکر ہو جاتا یا ان سے ملاقات ہو جاتی تو دیر تک یہ خیال دامن گیر رہتا کہ انہیں یوں بے خبری میں ضائع نہیں ہو جانا چاہیئے۔ لیکن اب ان کے عالم پیری کو دیکھ دیکھ کر تو ایک افسوس سا ہونے لگتا تھا اور خالق تقدیر کی شوخی اور بے پرواہی کا مشاہدہ کر کے ایک حیرت سی ہوتی تھی۔

   اے عشق کیا خانماں برباد اسی کو

   جس جا بھی تجھے جوہر قابل نظر آیا

اور بالآخر میں نے انہیں اور ان کے کلام کو منظر عام پہ لانے کے لئے اپنے طور کوشش شروع کر دی۔ اسی حوالے سے 2019ء میں "انجمن فیضان اقبال تاندلیانوالہ" کی بنیاد رکھی اور فکر اقبال کی روشنی میں حکیم صاحب کے مختلف مقالہ جات کو اپلوڈ کرنا شروع کر دیا۔ پھر میرے ساتھ محترم شاہد عباس شاہد صاحب بھی شامل ہو گئے اور ہماری کوششوں سے حکیم صاحب کا نام لٹ لائٹ پبلشنگ لاہور کی سی ای او محترمہ باجی حریم فاطمہ تک پہنچ گیا۔ اور اب باجی صاحبہ کی وساطت سے حکیم صاحب جناب سید عمر صاحب تک جا پہنچے ہیں۔ لگتا ہے کہ اب حکیم صاحب اپنے شایان شان مقام تک جا پہنچے ہیں اور شاہ صاحب کی چشم تلطف اور مشفقانہ توجہ سے اپنی اگلی منزلوں تک آسانی سے جا پہنچیں گے۔ "اقبال شناسی" حکیم صاحب کی شخصیت کا ایک خاص اور قابل قدر وصف ہے جو بے شک قابل ستائش ہے۔ قحط الرجال کے اس دور میں کسی اقبال شناس کا وجود غنیمت ہے۔ آخر میں میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حکیم صاحب کا حامی و ناصر ہو اور حکیم صاحب جس مقام ارفع کے حق دار ہیں وہ مقام انہیں حاصل ہو جائے۔ آمین۔

پروفیسر راشد محمود        

(گورنمنٹ گریجویٹ کالج، سمندری، پنجاب)

 

میں ہوں جہان ادب کا مسافر

شاعری کے حوالے سے میرا نقظۂ نظر بھی وہی ہے جو حضرت علامہ محمد اقبال کا تھا۔ ان کا ایک شعر ہے:

نہ بینی خیر ازاں مرد فرودست

کہ ہر من تہمت شعر و سخن بست

یعنی تو اس کوتاہ دست شخص سے بھلائی نہ دیکھے گا جس نے مجھ پر شاعری کی تہمت لگائی۔

یہ شعر کہہ کے بھی اقبال مرحوم کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا اور دربار رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جا شکایت کی۔۔۔

بہ آں رازے کہ گفتم پے نبردند

ز شاخ نخل من خرما نخوردند

من اے میر عرب داد از تو خواہم

مرا یاراں غزل خوا نے شمر دند

یعنی میں نے جو راز بیان کیا ہے لوگوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا اور میری کھجور کی شاخ سے انہوں نے پھل نہ کھایا۔ اے شاہ عرب! میں آپ سے داد چاہتا ہوں کہ لوگوں نے مجھے شاعر سمجھ لیا ہے۔

شاعری کی اصل روح کو سمجھنے والے شاعر کی سوچ ہونی بھی یہی چاہیئے۔ شاعری تو اپنے تجربات اور مشاہدات کو دوسروں تک پہنچانے کا نام ہے۔ شاعری تو قرآن و حدیث اور پاکان امت کے فرمودات کو بقول حضرت اقبال "شوخئ رندانہ" سے ادا کرنے کا نام ہے۔

   شنیدم آنچہ از پاکان امت

ترا با شوخیٔ رندانہ گفتم

یہی شوخیٔ رندانہ اور لب و لہجہ ہی تو لوگوں کو کم یا زیادہ متاثر کرتا ہے ورنہ باتیں تو سب پہلے ہی کی جا چکی ہیں۔ یعنی بقول سیف الدین سیف مرحوم:

   سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے

   ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں

جس شاعری سے کسی بھٹکے ہوئے مسافر کو راہ گم گشتہ نہ ملے، جس شاعری سے کسی کو اس کی منزل کا سراغ نہ ملے، جس شاعری سے کسی کی زندگی نہ سنور سکے، جس شاعری سے کسی غافل انسان کو اپنے مقام و مرتبے اور اپنی سطوت و عظمت کا احساس نہ ہو سکے وہ شاعری، شاعری نہیں بلکہ بقول اقبال ہی "ماتم" ہے اور افیون کی ایک ایسی گولی ہے جو کھانے والے کو غفلت کی میٹھی نیند سلا دیتی ہے۔ اچھی شاعری کو جزو پیغمبری کہا گیا ہے۔ "شاعری جزویست از پیغمبری" اگر کوئی شاعر ایسی شاعری نہیں کرتا تو وہ تو قرآن پاک میں بیان کی گئی شاعروں کے متعلق وعید کی زد میں آ جاتا ہے۔

شاعر کا فہم و شعور اور اس کی آنکھ عام لوگوں سے تیز اور دور بین ہوتے ہیں۔ وہ ایک معمولی سے منظر اور واقعہ سے بھی بہت بڑا نتیجہ اخذ کر لیتا ہے اور اپنے دل پہ گزرنے والے صدمات اور غم انگیز کیفیات کو صفحہ قرطاس پر بکھیرتا چلا جاتا ہے۔۔۔

دہر نے نشتر غم دل پہ مرے مارے ہیں

شعر رنگیں یہ نہیں خون کے فوارے ہیں

وہ خود تڑپ تڑپ کے زندگی کے شب و روز گزارتا اور مر مر کے جیتا ہے اور پھر دوسرے لوگوں کے سوئے ہوئے جذبات کو ابھارتا اور انہیں زندگی کے حقائق سے مقابلہ کرنا سکھاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اکثر شاعروں کو رنج و آلام کی بھٹی سے گزارا جاتا ہے اور دنیا اور اس کی شورش سے انہیں تقریبا الگ رکھا جاتا ہے۔ ایک اچھے شاعر کی یہ بہت بڑی خدمت اور اس کا بہت بڑا اعزاز ہے کہ وہ خود تو اپنی زندگی کانٹوں میں الجھ کر بسر کرتا ہے لیکن دوسرے لوگوں کے دامن مسرت و شادمانی کے پھولوں سے بھر جاتا ہے۔

کچھ یہی حال میرا بھی ہوا ہے۔ میں 1972 سے شاعری کر رہا ہوں۔ کاروبار دنیا میں اپنی ناکامی اور گھر میں اپنے ادبی پاروں کی فراوانی دیکھتا ہوں تو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ شاید قدرت نے مجھے شاعری کے لئے ہی پیدا کیا تھا۔ جب سے بڑھاپا طاری ہوا ہے میں یہ دیکھ کر کافی پریشان رہنے لگا تھا کہ اس شاعری میں اپنی دنیا بھی خراب کر لی اور اس سے بھی کچھ حاصل نہ ہوا۔

چھانتے اب خاک پھرتے ہیں تلاش

کوئی پوچھے شاعری سے کیا ملا

اور اگر کچھ ملا بھی تو بد نصیبی اور بے قدری کے علاوہ کچھ نہ ملا۔

   دکھ زمانے کے ہیں غریبی ہے

   روگ جو بھی ملا صلیبی ہے

   مارا مارا جہاں میں پھرتا ہوں

   شاعری ہے کہ بد نصیبی ہے

اور اگر کچھ امید تھی بھی تو اسے موبائلوں کی ایجاد نے ختم کر دیا ہے۔ کتاب خرید کر پڑھنے کی اب ضرورت ہی کہاں باقی رہ گئی ہے؟ اس پہ مستزاد یہ کہ بھلا مجھ جیسے گم نام اور بے مایا شخص کو کون اہمیت دیتا ہے اور میرا کلام اپنے خرچ پہ چھاپنے کی زحمت گوارا کرتا ہے؟

حضرت اقبال فرما گئے ہیں،

اے بسا شاعر کہ بعد از مرگ زاد

چشم خود بر بست و چشم ماکشاد

یعنی افسوس! بہت سے شاعر ایسے ہیں جو مرنے کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔ وہ اپنی آنکھیں تو بند کر لیتے ہیں مگر ہماری آنکھیں کھول جاتے ہیں۔

جب بھی یہ شعر مجھے یاد آتا اور پھر اپنی بے بسی پہ نظر پڑتی تو یہ سوچ کر چپ ہو رہتا کہ شاید میری پیدائش بھی مرے مرنے کے بعد لکھی ہوئی ہے۔

اس سے پہلے دو تین دوستوں نے مجھے میری زندگی میں ہی پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن یہ کیس ہی کافی پیچیدہ تھا لہذا وہ کامیاب نہ ہو سکے۔

خدا بھلا کرے ہمارے شہر تاندلیانوالہ کے مایہ ناز انگلش پروفیسر اور انجمن فیضان اقبال تاندلیانوالہ کے سر پرست اعلی جناب راشد محمود کا، میرے مخلص دوست اور شاگرد جناب شاہد عباس شاہد صاحب کا جنہوں نے اس کیس کو بڑی توجہ اور محبت سے ہینڈل کرنے کا فیصلہ کیا اور میرا تعارف لٹ لائٹ پبلشنگ لاہور کی سی ای او محترمہ باجی حریم فاطمہ سے کروا دیا۔ باجی صاحبہ نے پہلے میرا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا اور پھر اپنے ادارے کی طرف سے چھپنے والی ایک کتاب "قوس قزح" میں میرا کچھ کلام شامل کیا جسے خود انہوں نے اور دوسرے پڑھنے والے لوگوں نے بھی بے حد پسند کیا اور پھر باجی صاحبہ نے میرا کلام چھاپنے کی خواہش ظاہر کر دی۔ میں نے یہی سو غزلیں منتخب کر کے ان کو بھیجیں اور انہوں نے ان کو کتابی شکل دینے کی کوشش بھی کی بھی کی لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ جہان ادب میں اٹھنے والا ہمارا یہ پہلا قدم لڑکھڑا سا گیا۔

پھر محترمہ حریم فاطمہ صاحبہ نے ہی مجھے جناب سید عمر صاحب کے آستانے کی راہ دکھا دی اور میں افتاں و خیزاں یہاں (داستان) تک آ پہنچا۔

   چمک اٹھا جو ستارہ ترے مقدر کا

   حبش سے تجھ کو اٹھا کر حجاز میں لایا

سید عمر صاحب سے رابطہ کیا اور انہیں اپنی ناتوانی اور شکستہ پائی بیان کی تو انہوں نے کمال مہربانی اور شفقت سے مجھے سہارا دینے کی حامی بھر لی۔

میں سادات کا غلام اور ان کے در کا گدا ہوں اور یہ گھرانہ تو محکم قدموں کے ساتھ چلنا سکھا دینا تو رہا ایک طرف، در کے منگتے کو بال و پر عطا کر کے اسے مائل بہ پرواز بھی کر دیتا ہے، ممکن ہے مجھے بھی اس در سے قوت پرواز مل جائے۔ مجھے صاف نظر آنے لگا ہے کہ اب میری پیدائش میری زندگی میں ہی ہو جائے گی کیونکہ اب یہ کیس معتبر، مستند اور سپیشلسٹ قسم کے ڈاکٹروں اور سرجنوں کے ہاتھ میں آ گیا ہے۔

شاعر کو تو اپنا سارا کلام ہی پیارا ہوتا ہے کیونکہ اس نے اسے اپنا خون جگر پلایا ہوتا ہے۔

   میرے اشعار کی سیاہی میں

   میرا خون جگر بھی شامل ہے

تاہم ہر شخص کی افتاد طبع اور اس کا ذوق دوسرے شخص سے جداگانہ ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ ایک چیز کسی کو پسند ہو لیکن دوسرے کو وہ پسند نہ ہو۔ انسان کو ہمیشہ وہی چیز اچھی لگتی ہے جو اس کے دل کو بھا جائے۔ بلکل یہی حال شعروں کی پسند یا ناپسند کا بھی ہے۔ جو اشعار کسی شخص کے اپنے دل کی ترجمانی کریں وہی اسے زیادہ پسند آتے ہیں۔

میں نے اپنی اس کتاب کا نام "پہلا قدم" تجویز کیا ہے اور حتی المقدور کوشش کی ہے کہ اس میں موجود میری غزلیں عام فہم بھی ہوں اور یہ پڑھنے والے تمام بھائیوں اور بہنوں کے دلوں کی بات بھی ثابت ہوں اور ان کے دلوں کی تسکین اور لذت کا سامان بھی مہیا کریں۔ اگرچہ میرے منظر عام پہ آنے میں بہت دیر ہو گئی ہے لیکن اس کے لئے قدرت کی طرف سے یہی وقت مقرر تھا۔ ممکن ہے کہ ادبی اور علمی حلقوں میں میرا یہ بوڑھا تعارف "دیر آید درست آید" کے مصداق ثابت ہو۔

اور اب آخر میں شاعری کے فن کو کما حقہ سمجھنے والے دوستوں سے دست بستہ عرض کروں گا کہ اگر وہ میرے کلام میں فنی خرابیاں دیکھیں تو ان کی نشاندہی فرما دیں تاکہ آئیندہ اشاعت میں ان کو دور کر دیا جاوے۔

جہان ادب میں میرا یہ پہلا قدم کہاں تک گیا ہے؟ یہ تو اہل علم اور اہل ادب دوست ہی دیکھ کر بتائیں گے۔

 خیر اندیش    

حکیم امیر علی تلاش

 

روز باتیں بنانے لگتے ہیں
دل ہمارا بجھانے لگتے ہیں

موچ آئے، کبھی لگے مہندی
یہ تمہارے بہانے لگتے ہیں

کیوں فلک سے اتر کے دکھ سارے
میرے گھر میں ہی آنے لگتے ہیں

روک لیتا ہے دست مجبوری
جب بھی پاؤں اٹھانے لگتے ہیں

دل بغل میں اچھلنے لگتا ہے

جب بھی اٹھ کر وہ جانے لگتے ہیں

 

غم میں ڈوبا مرا فسانہ ہے

سن کے وہ مسکرانے لگتے ہیں

 

کون آتا ہے کام مشکل میں

لوگ دامن بچانے لگتے ہیں

 

گزرے جاتے ہیں اجنبی بن کر

آشنا جو پرانے لگتے ہیں

 

ڈھل کے اشکوں میں ہیں نکل جاتے

دل کے ارماں ٹھکانے لگتے ہیں

 

شاعری کا یہ فن نہیں آساں

اس ہنر میں زمانے لگتے ہیں

 

ان کو آتے تلاش جب دیکھیں

فرش دل کا بچھانے لگتے ہیں

 

مسئلہ اس کو انا کا نہ بنایا جائے

جس طرح بھی ہو اسے جا کے منایا جائے

 

کوئی دیکھے تو شب و روز تڑپنا میرا

کیا قیامت ہے نہ آئیں نہ بلایا جائے

 

گھر ہے اللہ کا اتنا تو انہیں پاس رہے

اس قدر بھی نہ مرے دل کو ستایا جائے

 

دل بھی گستاخ سہی آ کے الجھ جاتا ہے

اس مگر زلف پریشاں کو بھی سمجھایا جائے

 

کل تو جھکتے ہوئے آدم کو فرشتے دیکھے

کیوں اسے آج نگاہوں سے گرایا جائے

 

اس کی فطرت میں ہے اتنا ہی نمایاں ہونا

پیار کو جتنا زمانے سے چھپایا جائے

 

سامنے رہ کے ادائیں بھی دکھائیں اپنی

دل اگر آئے تو دامن بھی بچایا جائے

 

روز رکھتے ہیں مرے گھر میں وہ آنا جانا

اب کبھی چہرے سے پردہ بھی اٹھایا جائے

دشمن جان بھی آ جاتے ہیں اپنے بن کر

دیکھ کر لوگوں سے اب ہاتھ ملایا جائے

 

ہے تلاش اپنی جگہ ترک تعلق اپنا

کیا کیا جائے اگر وہ نہ بھلایا جائے

 

پھر رہا ہوں مارا مارا ٹھیک ہے

روز ہے گردش میں تارا ٹھیک ہے

 

کر رہے ہیں پھر ستم پہ وہ ستم

چڑھ گیا ہے ان کا پارا، ٹھیک ہے

 

مبتلائے درد الفت تھا کبھی

اب مگر یہ دل ہمارا ٹھیک ہے

 

ہر خوشی کے ساتھ غم بھی چاہیئے

زندگی کا گوشوارا ٹھیک ہے

 

ٹھیک ہے جو بھی انہیں منظور ہے

جس طرح بھی ہو گزارا، ٹھیک ہے

 

مال و دولت پر بھروسہ ہے تمہیں

خود کہو کیا یہ سہارا ٹھیک ہے؟

 

ڈر رہا ہے شورش طوفان سے

تیری کشتی کو کنارا ٹھیک ہے

 

ہار ہی جانا مری تقدیر تھا

دل مرا ہارا تو ہارا ٹھیک ہے

 

ہیں بہت سی غلطیاں مضمون میں

حاشیہ سارے کا سارا ٹھیک ہے

 

پھر وہی بہکی ہوئی باتیں تلاش

موڈ تو حضرت تمہارا ٹھیک ہے

 

ستانے غم چلے آتے ہیں شب ڈھلے کیا کیا

مریض عشق نے دیکھے ہیں رتجگے کیا کیا

 

غم حیات، غم بے بسی، غم جاناں

مرے لہو پہ مرے درد بھی پلے کیا کیا

 

قدم قدم پہ کھڑی ہیں رکاوٹیں کتنی

تمہارے ملنے کے مشکل ہیں راستے کیا کیا

 

کسی بھی کام کے قابل کہاں وہ رہتا ہے

اسیر دام محبت بھلا کرے کیا کیا

 

ہوا چلی تو زمیں بوس ہو گئے سارے

مکان میں نے بنائے تھے ریت کے کیا کیا

 

ذرا سی دیر میں کتنے بدل گئے تم بھی

لگی ہوئی تھیں امیدیں جناب سے کیا کیا

 

ملیں نہ دل تو ادھورا ہے دیکھتے رہنا

قریب رہ کے بھی رہتے ہیں فاصلے کیا کیا

 

یہی ہے پیار کہ جھگڑا نہ ہو من و تو کا

حساب کرنے سے پیدا ہوئے گلے کیا کیا

 

اٹھا کے مجھ کو کہاں سے کہاں پہ لے آئیں

ہوئے ہیں طے مری آہوں سے مرحلے کیا کیا

 

چھلکتے اشک ہیں، نالے ہیں، سرد آہیں ہیں

تری تلاش میں نکلے ہیں قافلے کیا کیا

 

ہے ہم سے حسینوں کی کوئی جان نہ پہچان

بن جاتے ہیں کیوں روز مرے دل کے یہ مہمان

 

دن رات عبارت ہیں تغیر سے سبھی کے

احوال زمانے کا بدل جاتا ہے ہر آن

 

ترغیب بتوں کی نہ پرستش کی مجھے دے

احسان یہی ہے کہ نہ کر مجھ پہ یہ احسان

 

ہر اک کو میسر سہی سامان تعیش

ہر اک کی مگر سولی پہ ہے لٹکی ہوئی جان

 

یہ وقت گزر جائے ترا حرص و ہوی میں

آرام کہاں پائے ترا قلب پریشان

 

ہر وقت اسے لذت دنیا کا ہے چسکا

حیوانوں سے بد تر ہے مرے دور کا انسان

 

اس محفل ہستی کا بھرم جن سے ہے قائم

ہیں خوار زمانے میں وہ اللہ تری شان

 

اک گونہ مداوا ہے مرے درد جگر کا

ڈھل ڈھل کے جو اشکوں میں نکل جاتے ہیں ارمان

 

وہ شخص جو کرتا ہے تجھے دنیا سے بیزار

ہے اچھا ترے حق میں تلاش اس کا کہا مان

 

کیا مجھے یاد ہے کیا یاد نہیں

اس قدر بھی تو رہا یاد نہیں

 

کیوں ہوا دل مرا برباد نہ پوچھ

کس طرح گھر یہ لٹا یاد نہیں

 

یاد ہے تو ہی غم الفت میں

اور اس دکھ کی دوا یاد نہیں

 

کیا کیا یاد اگر یاد کیا

جب تجھے نام خدا یاد نہیں

 

پھر لگا جرم محبت کرنے

کیا مرے دل کو سزا یاد نہیں

 

ہاتھ پھیلانا تو ہے یاد ہمیں

کیا ملا کیا نہ ملا یاد نہیں

 

آپ نے نام مرا پوچھا ہے

یاد میں کر لوں ذرا، یاد نہیں

 

یاد وہ مجھ کو شب و روز رہا

بھول کر جس نے کیا یاد نہیں

 

قصۂ عمر رواں بھول گیا

گردش صبح و مسا یاد نہیں

 

کون تھا وہ نہیں معلوم تلاش

چھوڑیئے، بھول گیا، یاد نہیں

 

درد پنہاں مرا خدا جانے

درد ہے کہ دوا خدا جانے

 

دل ہے الجھا کسی کی زلفوں میں

کب یہ ہوگا رہا خدا جانے

 

شوق آوارگی مرا مجھ کو

کس طرف لے چلا خدا جانے

 

راہ الفت کی سختیاں، توبہ

جانوں میں یا مرا خدا جانے

 

تیری صورت کو دیکھنے والے

کیوں پکارے خدا خدا جانے

 

ڈرتے ڈرتے جو وصل کا پوچھا

جاتے جاتے کہا خدا جانے

 

آتشی سا مزاج ہے ان کا

ہو گئے کیوں خفا خدا جانے

 

باہم عہد وفا تو باندھ لیا

آگے انجام کا خدا جانے

 

That’s the end of the free sample

You have read 12% of پہلا قدم - Pehla Qadam - Sufi Poetry Book. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Hakeem Ameer Ali Talash earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 300

See all editions, reviews and details

پہلا قدم - Pehla Qadam - Sufi Poetry Book Buy — Rs 300