30% of the book — free to read

حوالۂ عشق
سلمان ظہور

داستان پبلشرز
تیرا عشق مجھ پہ فرض ہے
میری ذات اِس کا قرض ہے
پابندِ وفا رکھیو مجھے اپنا
شکستہ لبوں کی یہ عرض ہے
میں جہاں بھر سے ہوں ٹھکرایا ہوا
تٌو ہی مالکِ فلک و ارض ہے
سکھا دے سلیقہ اپنی بندگی کا
مجھے اور کچھ نہیں غرض ہے
کاپی رائٹ © ۲۰۲۲ء داستان
جملہ حقوق بحق مصنف اور ناشر محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر
چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔تنقیدی مضامین اور تبصروں
میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
اشاعت اوّل: ٢٠٢۲ء
ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان
مدیرۂ اعلیٰ
نرمین سرھیو
مدیرۂ معاون
فریال زہرا
سرورق
سلمان ظہور
(سرورق کے جملہ حقوق مصنف کے نام محفوظ ہیں)
فہرست
|
9 |
|
|
10 |
|
|
11 |
|
|
12 |
|
|
13 |
|
|
15 |
|
|
16 |
|
|
17 |
|
|
18 |
|
|
19 |
|
|
20 |
|
|
21 |
|
|
22 |
|
|
23 |
|
|
24 |
|
|
25 |
|
|
26 |
|
|
27 |
|
|
30 |
|
|
31 |
|
|
33 |
|
|
34 |
|
|
36 |
|
|
38 |
|
|
39 |
|
|
41 |
|
|
43 |
|
|
44 |
|
|
45 |
|
|
47 |
|
|
49 |
|
|
51 |
|
|
52 |
|
|
55 |
|
|
56 |
|
|
58 |
|
|
60 |
|
|
62 |
|
|
64 |
|
|
65 |
|
|
66 |
|
|
67 |
|
|
68 |
|
|
69 |
|
|
70 |
|
|
72 |
|
|
74 |
|
|
76 |
|
|
77 |
|
|
80 |
|
|
81 |
|
|
82 |
|
|
83 |
|
|
85 |
|
|
86 |
|
|
87 |
|
|
88 |
|
|
89 |
|
|
91 |
|
|
92 |
|
|
93 |
|
|
95 |
|
|
96 |
|
|
97 |
کہاں میں، کہاں وہ حضورِﷺ باری ہیں
ان کے در کے فرشتے بھی درباری ہیں
بادشاہ ہوں کہ گدا ہوں، فقیر ہوں کہ رئیس
سبھی پھرتے اس گلی میں بن کے سوالی ہیں
بلایا خود سدرہ پہ رب نے انھیں دیدار کی خاطر
اللہ اللہ وہ محفل! میزباں بھی اعلیٰ مہمان بھی عالی ہیں
کیا شان ہو گی زہرا ؑ کے شہزادوں کی
خواجۂ دَوسراﷺ بھی جن کی بنتے سواری ہیں
اس خاک سے کیا ادا ہو حق مدحِ مصطفیﷺ کا
اٌن کی تعریف میں اتری آیاتِ قرآنی ہیں
مولا محشر میں کرم کرنا، اپنے محبوب کے صدقے
ہیں عصیاں پُرکندہ، اعمال نیکیوں سے خالی ہیں
خیرُ البشر، خیرُ الانبیاء، محمد الرسول اللہؐ
ساقیِ کوثر، محبوبِ کِبریا، محمدُ الرسول اللہؐ
اے غریبوں کے والی! اے مظلوموں کے ملجا!
ہے ذات تِری سراپا وفا ہی وفا، محمدُ الرسول اللہؐ
ہادیِ اِنس و جاں، وجہِ وُجودِ کون و مکاں
رحمتُ الِلعالمیں، خاتم الانبیاء، محمدُ الرسول اللہؐ
مغرب کی جسارتیں ساری غارت ہی جائیں گی
خدا کرتا ہے تِرا ذکر ورفعنا، محمدُ الرسول اللہؐ
حبیبِ من، طبیبِ جاں، راحتِ بے کس و کسلاں
زیرِ قدم ہے تِرے سدرۃُ المنتہیٰ، محمدُ الرسول اللہؐ
والضحٰی چہرہ تِرا، والیل ہیں زلفیں تِری
واللہ! یہ حُسنِ خیرُ الورٰی، محمدُ الرسول اللہؐ
یہ آنکھیں کریں نظارہ اُن سنہری جالیوں کا
کبھی اذن ہو ہم کو بھی خدارا، محمدُ الرسول اللہؐ
محبت میں کب نسبتوں کے حوالے کام آئے
راہ جو کھٹن ہوئی پاؤں کے چھالے کام آئے
مدت بعد ہوئی تھی اس سے ملاقات سو
غمِ فراق میں اشک جو سنبھالے، کام آئے
دنیا والے کب کرتے ہیں قدر وفاؤں کی
تیرے در پہ پہنچے تو میرے نالے کام آئے
کون جانتا تھا ہمیں اس اکرام سے پہلے
ہماری شہرت میں عشق کے حوالے کام آئے
سمجھ ہی گیا وہ ہماری آرزوئے شوق آخر
پڑے تھے زباں پہ جو تالے کام آئے
اس شگفتہ حالی کی کچھ وجہ تو نہ تھی
بس ارمان دل میں تھے جو پالے، کام آئے
ہم تاک باندھے تھے دشمن سے وار کی مگر
اس ہنر میں بھی دوست نرالے کام آئے
کیا اسی کشمکش کا نام زندگانی ہے
اک پل خوشی، دوجے پل پریشانی ہے
اس ٹھاٹھ باٹ پہ جو پھرے ہے اتراتا
کیا تو نے نہیں سنا، موت برحق آنی ہے
تھا کبھی یہ بھی رنگینیوں میں مچلتا
اب تو خانۂ دل میں برسوں کی ویرانی ہے
دل کہ بضد تھا ان سے آغازِ گفتگو کو
کر بیٹھے تو اب، اسی بات پہ پشیمانی ہے
لوگ کر جاتے ہیں سمجھوتہ حالات سے
محبت کبھی نہیں مرتی، یہ جاودانی ہے
جینا تو حق کے لئے، مرنا تو حق پر مرنا
یہی حاصلِ زیست، یہی حقیقی کامرانی ہے
چلو آج شاعری میں کلام کرتے ہیں
اک غزل ان کے نام کرتے ہیں
چھیڑیں تذکرہ ان مژگاں کا
سرِ شام بزم کا اہتمام کرتے ہیں
بنیں گے آج وہ ہماری رونقِ محفل
سو رقیبوں کو یہ پیغام کرتے ہیں
کیا کہیے اس سراپا شباب کا کہ خود
حسن والے جھک کے سلام کرتے ہیں
چاند شامل ہے اس کے پرستاروں میں
بام سے اتر کر ستارے کلام کرتے ہیں
اس کے ترکش نما ہونٹوں کی سرخی کا
بہاروں کے کھلتے گلاب احترام کرتے ہیں
وہ روشن چہرے پہ لے لہاتی سیہ زلفیں
جیسے دن پہ چھائے بادل شام کرتے ہیں
رکھ دیں وہ اپنا دستِ مسیحائی اگر
تو تڑپتے مریض بھی آرام کرتے ہیں
اس کے چہرے پہ سجی مسکراہٹ سے
برگ ریزاں گلستاں بھی دوام کرتے ہیں
اس کی آنکھوں کے گرد لپٹے سیاہ حلقے
بیان قصہ گزری راتوں کا تمام کرتے ہیں
گئے دن ہوئے ہم بھی تھے ان قدردانوں میں
جن پہ نثار وہ اپنی چشمِ اکرام کرتے ہیں
کھڑے ہیں جو تیری دہلیز پہ سوالی بن کر
تو منصف ہے انھیں انصاف دے حکمرانی نہ کر
کیا ہو گا تجھ سے میرے غموں کا علاج
پینے دے زاہد یہاں وعظ بیانی نہ کر
کون سنے گا تیری ان خود غرضوں کی بستی میں
یوں ہر کسی سے بیاں اپنی زبوں حالی نہ کر
کب سے کر لی یہ تو نے اپنے بندوں سے آڑ
منگتا ہوں میں تیرا مجھے در در کا سوالی نہ کر
تجھ سے اور تو کچھ نہیں مانگتے ہمدم
ہمیں مسکرا کے مل، یوں روگردانی نہ کر
کب تک تو رہے گا اس کی یادوں کو سینچتا
چھوڑ اب اس اجڑے گلستان کی رکھوالی نہ کر
تجھ سے بچھڑنے کا یوں احتمال ہوتا ہے
جیسے خزاں میں گلشن پر چھایا زوال ہوتا ہے
رکھ دیتا ہوں سجدے میں سر، وہ ہے سنبھالتا
جب بھی میرا دل غموں سے نڈھال ہوتا ہے
پہلے سی وہ مانوسیت اب نہیں تجھ سے
آگہی کا بھی حد سے گزرنا وبال ہوتا ہے
مجھے ہے بس اس لمحے جینے کی خواہش
جس لمحے میں آرزؤں کا وصال ہوتا ہے
دور رہ کر بھی وہ میری سانسوں کے ساتھ ہے چلتا
عشق کی راہوں میں یہی تو کمال ہوتا ہے
وطن کی خدا خیر کرے کہ بنے ہیں وہ بھی رہبر
جن کی ایما پر غریبِ شہر کا استحصال ہوتا ہے
محبت! تجھ سے بھی سِوا ہیں دنیا میں غم
غمِ دوراں، غمِ روزگاراں، غمِ رفتگاں اور ہم
بس کر اےزندگی! اور کتنا کرے گی ستم
تیرے بوجھ تلے اب میرا نکلے جاتا ہے دم
میں تو شاید کب سے ہار جاتا حوصلہ
نا امیدی سے بچاتا ہے فقط تیرا کرم
کیوں جھکائیں خود کو وہ خدا تو نہیں ہے
سو رکھتے ہیں اپنی ذات کو مقدم اس پہ ہم
خواہشوں پہ موقوف نہیں زندگی کا سفر
تکیہ کیا ہو جن پہ اکثر توڑتے ہیں بھرم
بے کیف موسم میں یہ وحشتِ ویرانیِ دل
بے اختیار اُسی در کی جانب بڑھتے ہیں قدم
پھر اُس کی یادوں سے کھینچا تانی کرتے
یہ رات بھی گزری ہے خود کلامی کرتے
گر بچانا ہو رشتوں کو تو ذرا جھک جانا
ٹوٹ جاتے ہیں لوگ انا کی غلامی کرتے
توڑ گیا وہ خود جنہیں جاتے جاتے
گزری ہے عمر اس عہد کی پاسبانی کرتے
ہنساتے ہیں جو لوگوں کو بھری محفل میں
دیکھ ان کو خلوت میں اشک فشانی کرتے
الجھے بال، وحشتِ اضطراب، چشمِ پُر آب
میرے حالات ہیں میرے دل کی ترجمانی کرتے
اُس یک طرفہ تعلق میں ہر سو تفاوت تھی
مرے مُروتاً مسکرانے پر بھی وہ بد گمانی کرتے
رنج میں راحت کا سامان ہونے لگا
میں جو شدتِ غم سے نڈھال رونے لگا
مجھ کو ستاتے ہیں حالات میرے
ناصح تو بتا کس بات پہ رونے لگا؟
کر دی پھر سے اس کی یادوں نے یلغار
میں جو تھک ہار کے تھا سونے لگا
وہ چہرہ ہے کہ فلک پہ چمکتا ماہتاب
زمانہ جس کے سحر میں ہے کھونے لگا
میری آنکھوں سے ہے جھلکتی اُس کی تصویر
کیا کہا! مجھے ہے عشق ہونے لگا؟
کون سنتا رہے تجھ سے قصۂ آہ و فغاں
یہ کہہ کر حلقۂ احباب بھی دور ہونے لگا
کون دیکھے گا اب یہ لہو دریدہ دامن
یہی سوچ کر میں داغِ پیرہن دھونے لگا
رگِ جاں سے پیارے لوگ
کیا ہوئے وہ سارے لوگ
بھلا کسی اور کو کیا پاتے
اپنی ذات سے ہارے لوگ
لبِ تشنگی بڑھتی ہی گئی
بیٹھے رہے بحر کنارے لوگ
محبت کے اس کارِ زیاں میں
اٹھائیں سب خسارے لوگ
حیاتِ شکستہ کا بوجھ لئے
ڈھونڈتے رہے سہارے لوگ
کیں برائیاں مجھ سے منسوب
خود ہیں عرش سے اتارے لوگ
رہتے ہیں اپنے ہی سوگ میں
ہم خواہشوں کے مارے لوگ
دو روزہ دیوانگی، عاشقی نہیں
راہِ عشق نے دار پہ وارے لوگ
گئے دن ہوئے ہمیں اس سے شناسائی تھی
چھوڑ گئی آخر جسے دعوئ ہم نوائی تھی
مجھے یوں خیالوں میں ڈوبا دیکھ کر
جانے وہ کیا سوچ کے مسکرائی تھی
آج پھر بیٹھے ہیں ہم جی کو بہلانے
آج پھر تیری یاد شدت سے آئی تھی
سنا ہے پابندِ سلاسل ہے اب وہ شہنشاہ
ابھی کل یہاں جس کی خدائی تھی
یہ داغِ زخم عنایت ہیں ان چارہ گروں کے
جن ہاتھوں سے ہمیں توقعِ مسیحائی تھی
میری داستانِ حیات ہیں یہ اشعار میرے
جنہیں تم سمجھی مبالغہ آرائی تھی
خفت جو تھی پرانی مٹانے آئے ہیں
ہم سمجھے وہ ہمیں منانے آئے ہیں
لائے ہیں رقیب کو ہمراہ اپنے
کیا دل ہمارا جلانے آئے ہیں؟
چھیڑ تارِ سنگیت کہ اے ساقی!
تیری محفل میں آج دیوانے آئے ہیں
رات کے اس پہر تجھے سوچتے ہوئے
یاد پھر کئی زخم پرانے آئے ہیں
ہماری بانہیں تھیں اور ان کے رخسار
ہمیں بھی کیا خواب سہانے آئے ہیں
حضرت! یہاں تو سبھی ہیں چاک دامن
آپ کس کا قصہ سنانے آئے ہیں
یہ عاشقی تجھے برباد کر دے گی
آج احباب ہمیں سمجھانے آئے ہیں
عشق میں ایسا کوئی امکاں نہیں ہوتا
محبوب کو بھول جانا آساں نہیں ہوتا
اوروں پر تو بہت ہے نظرِ عنایت اس کی
ظالم بس ہم پر ہی مہرباں نہیں ہوتا
وحشتوں کے ہیں یہاں صدا سے ڈیرے
غم کب دل میں مہماں نہیں ہوتا
بسے ہوں سانسوں میں جو زندگی کی مانند
ان کو بھولنے کا کبھی گماں نہیں ہوتا
قابلِ دید ہے اس شخص کی دیدہ دلیری
جو اپنی جفاؤں پہ بھی پشیماں نہیں ہوتا
کیا کریں گلہ اس کی بے رخی کا کہ جب
یاں میسر کسی کو سارا جہاں نہیں ہوتا
تھی جو تجھ سے توقعِ طرفداری اب نہیں
سو تیرے رویے پہ اب میں حیراں نہیں ہوتا
رنج میں راحت افزا ہے تیری یاد
اک جھونکا بادِ صبا ہے تیری یاد
بیمارِ عشق کو چارہ گر سے کیا کام
ہمارے لئے آب شفا ہے تیری یاد
کرے جو اجالا تاریک راہوں میں
ایسا اک روشن دِیا ہے تیری یاد
میرے گمانوں میں ہر وقت تیرا خیال
میری سوچوں کی انتہا ہے تیری یاد
مثلِ فلک میرا دل، چاند جیسی تیری صورت
اور چمکتے تاروں کی ضیا ہے تیری یاد
شام ہوتے ہی آنگن میں لوٹ آتی ہے
میری مصروفیات سے آشنا ہے تیری یاد
میں نے جذبات کو شاعری میں پرویا
اور پھر ان لفظوں کو کہا ہے تیری یاد
You have read 30% of حوالۂ عشق - Hawala e Ishq. The full e-book picks up right where this stopped.