27% of the book — free to read

ننھا کنول
ڈاکٹر نعیم الدین کنول ؔ


ڈاکٹر نعیم الدین کنولؔ ہمارا قومی اثاثہ ہیں اور یہ بچوں کے اعلیٰ ترین شاعر ہیں اور میں ان کو بہت بہت مبارک باد دیتا ہوں ان کی پہلی کتاب کی اشاعت پر۔
احمد شاہ
صدر برائے آرٹس کونسل پاکستان

داستان پبلشرز
کاپی رائٹ ۲۰۲۲ء داستان
جملہ حقوق بحق ناشر اور مصنف محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروںمیں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
آئی ایس بی این

سرورق: ڈاکٹر نعیم الدین کنولؔ
مدیرہ: نرمین سرھیو
مرکزی خیال: فریال زہرا
اشاعت اوّل:دسمبر ٢٠٢۲ء
مصوری: عبد الباری
مطبع: پکسلز پرنٹنگ سولیوشن
ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان (www.daastan.com)
***
یہ کتاب ڈاکٹر شمائل ضیاء کی زیرِ نگرانی ترتیب دی گئی ہے اور اس کی اشاعت میں اُن کا اہم کردار رہا ہے۔
اِس کتاب میں موجود تمام نظمیں ریڈیو پاکستان کراچی کے پروگرام ”بچوں کی دنیا“ میں نشر ہو چکی ہیں۔ اس پروگرام کا اہم حصہ ڈاکٹر نعیم الدین کنولؔ کے ساتھ ساتھ ریڈیو پاکستان کراچی اسٹیشن کے ڈائریکٹر ”اقبال اعظم فریدی“، پروڈیوسر ”سیما رضا“ اور موسيقار ”لعل محمد“ بھی ہیں۔ ان سب کی محنت کی بدولت یہ شاہکار اب ہمارے سامنے کتابی صورت میں موجود ہے۔
***
اِس کتاب کی فروخت سے جو منافع حاصل ہوگا اس میں سے ایک کثیر رقم ”شہید میجر عدیل شاہد فاؤنڈیشن“ اور ”نورِ ضیاء کنسلٹنٹ کلینک“ کو عطیہ کی جائے گی۔
شہید میجر عدیل شاہد فاؤنڈیشن شہید میجر عدیل شاہد کے نام پر تعمیر کی گئی ہے اور یہ فاؤنڈیشن کئی شہداء کے اہل و عیال کی معاشی مشکلات میں مدد کا سبب بنی ہے۔ اسی طرح ”نورِ ضیاء کنسلٹنٹ کلینک“ متوسط علاقوں میں اپنی ہیلتھ کئیر خدمات کم سے کم قیمت میں فراہم کر رہا ہے۔
انتساب
اس کتاب کا انتساب پانچ لوگوں کے نام ہے!
میرے عزیز پوتیوں، پوتے اور نواسے کے نام!
سمجھدار نواسی ”زرم ضیاء“
پیاری نواسی ”نیہا ضیاء“
پیارے سا پوتا ”انزم ضیاء“
لاڈلا نواسا ”سید حُسن حُسین“
اور آخر میں میرا پیارا بھتیجا ”شہید میجر عدیل شاہد“، جو اپنے ملک کی حفاظت کرتے ہوئے شہادت کا رتبہ پا گیا۔

نیہا ضیاء انزم ضیاء زرم ضیاء سید حُسن حُسین


شہید میجر عدیل شاہد
”ننھا کنول“ پڑھنے کا موقع ملا۔ دی گئی نظموں کے موضوعات اور فوائد پڑھ کر محسوس ہوا کہ ننھے بچوں کے لیے لکھی گئی یہ کتاب بچوں کو، جو کہ فطرت سے پہلے ہی قریب ہوتے ہیں، مزید قریب کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ بچوں کو ان کے فطری ماحول سے ہم آہنگ رکھنے اور ان کے اندر مطالعے کا شوق بڑھانے میں بھی یہ کتاب نعمت کی حامل ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کی تربیت اور نشوو نما کا آغاز کرنا ہو تو فطری ماحول میں ہی کیا جاسکتا ہے۔ خوب صورت لفظوں سے جوڑے گئے نظموں کے اشعار اور وہ بھی کہانی کے پیرائے میں ڈال کر کتاب کو مزید خوب صورت اور بامقصد بنایا گیا ہے۔ اس کتاب میں نظموں کے ساتھ ساتھ رنگوں سے مزیّن قدرتی مناظر کی ڈرائینگ بچوں کی دلچسپی میں اور اضافہ کر رہی ہے۔ کنولؔ صاحب کی پہلی نظم ”نمی کی تتلی“ میں تتلی سے جڑی بچوں کی دلچسپی کو صفائی کے پیغام سے جوڑ کر فطری مشاہدات سے زندگی کا مطلب نکالنے کی اچھی ترکیب پیش کی گئی ہے۔ دوسری نظم ”سمندر کی لہریں“ میں پوشیدہ رازِ زندگی سے روشناس کروایا گیا ہے گویا زندگی سمندر کی مانند ہے اور ہم انسان سمندر کی لہروں کی مانند۔ لہریں مختصر وقت کے لیے کنارے کی طرف آتی ہیں اور پھر جلد ہی واپس بھی چلی جاتی ہیں۔ کنول ؔ صاحب نے ”وقت کی پابندی کی اہمیت“ کو سمجھانے کے لیے اس استعارہ کا بھرپور اور خوب صورت استعمال کیا ہے۔
کنول ؔ صاحب فرماتے ہیں،
موج کنارے سے ٹکڑا کر
اتنی دور سفر سے آ کر
واپس کیوں ہو جاتی ہو تم
سانس نہیں لے پاتی ہو تم
ایک اور نظم ”گلہری“ کو لیجیے۔ گلہری کی زندگی سے ہمہ وقت چوکنا رہنے کا سبق ملتا ہے۔ ”سورج اور شعائیں“ پڑھیں تو خاموش خدمت اور بے لوث خدمت کا مطلب سمجھ آتا ہے۔
المختصر ڈاکٹر نعیم الدین کنول ؔ کی لکھی گئی یہ کتاب داستان پبلشرز کی طرف سے بچوں کے لیے ایک خوب صورت تحفہ قرار دی جاسکتی ہے۔ ڈاکٹر نعیم الدین کنول ؔ اور داستان کے لیے نیک تمنائیں!
کمال الدین کمالؔ (شاعر)
اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ تعلیم
قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی، گلگت
*—————————————————————————————*
پاکستان میں بچوں کے ادب کے فروغ کے لیے ”ننھا کنول“ کتاب ایک خوب صورت کاوش ہے۔ ایسے حالات میں جہاں نصاب سے ہٹ کر چنداں چنداں ہی کتب کا ذخیرہ موجود ہے، وہاں ”ننھا کنول“ کتاب ایسی کیاری کی آبیاری کرتی نظر آتی ہے کہ جس سے ہمارے ننھے منے کنول کتاب دوستی کو پروان چڑھائیں گے۔
یہ کتاب معمولی کتاب نہیں، نظموں کے ساتھ ساتھ دلکش تصاویر نے تخیل کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔ یہ کتاب نہ صرف تخیل کے علمی تقاضوں کو پورا کرتی ہے بلکہ ہر نظم اپنے اندر ایک سیکھ، ایک سبق لیے ہوئے ہے جسے ہر نظم کے آخر میں رقم بھی کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر نعیم الدین کنول ؔ نے ہر ممکن کوشش سے بچوں کو اچھی باتیں، آداب، تہذیب اور اخلاقیات سِکھانے کی جسارت کی ہے اور ان کی یہ جسارت قابلِ تحسین بھی ہے اور قابلِ ستائش بھی۔
لفظوں کی بُنت سے لے کر ردیف اور قافیہ تک اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ نظمیں دلچسپ بھی ہوں اور آسان فہم بھی۔
امید ہے آپ کے ننھے کنول کو ”ننھا کنول“ پسند آئے گی۔ یقیناً بچوں کے لیے یہ ایک خوب صورت تحفہ ہے۔
عاطفہ ضیاء (شاعرہ)
لیکچرار، شعبۂ انگریزی
یو ایم ٹی(یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی)، لاہور
*—————————————————————————————*
نظموں کی دنیا بھی کیا پیاری دنیا ہے کہ اس کے اشعار چھوٹے، بڑے اور ہر ذوق کے لوگوں کو جلد یاد ہو جاتے ہیں۔
اردو زبان میں نظم کے میدان میں کم شعراء نظر آتے ہیں اور خاص طور پر بچوں کے لیے ایسی نظمیں تو مدت بعد نظر آئیں جو خاص طور پر چھوٹے بچوں کے لیے لکھی گئی ہوں۔
پاکستان بننے سے کئی سال پہلے اسماعیل میرٹھی کی وجۂ شہرت نظم ہی تھی، خصوصاً ان کی وہ نظمیں جو ایک اخلاقی پیام لیے ہوئے تھیں۔ ہر طالبِ علم کو جلد یاد ہو جاتی تھیں اور یہ اچھی نظم کی نشانی ہوتی ہے۔ خاص طور پر ان کی نظم ”بارش کا پہلا قطرہ“ جس میں قطرے کی بہادری اور اعلیٰ مقصد کو سامنے لاتے ہیں۔
بولا للکار کر کہ آؤ
میرے پیچھے قدم بڑھاؤ
کر گزرو جو ہو سکے کچھ احسان
ڈالو مردہ زمین میں جان
ان کی ایک اور نظم" سچ کہو " بھی اپنے وقت کی مقبول نظم رہی۔
سچ کہو، سچ کہو ہمیشہ سچ
ہے بھلے مانسوں کا پیشہ سچ
اسی طرح ہمارے قومی شاعر نے بھی بچوں کے لیے چند ہی نظمیں لکھیں لیکن اس میں اعلیٰ مقصد کا پیغام تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بچوں کے ادب میں نثر پر کام تو نظر آتا رہتا ہے لیکن نظم پر شعراء کی توجہ کم ہو رہی ہے۔
ڈاکٹر نعیم الدین کنول ؔ کی ان ننھی، پیاری نظموں کو پڑھ کر خوشگوار تاثر پیدا ہوا ہے۔ انھوں نے ایک چھوٹے بچے کے ذہن اور دلچسپی کو سامنے رکھ کر نظمیں لکھی ہیں جو تعلیم اور تربیت کی ضرورت کو پورا کرنے کی احسن کوشش ہے۔ جیسے کہ ڈاکٹر نعیم الدین کنول ؔ کے یہ اشعار ہیں،
بڑھتے رہے اور جلتے گئے
وہ یوں راکھ اور خاک ہوتے گئے
کوئی کام کرنے سے پہلے یہ سوچو
حقیقت ہے کیا اس کی بچوں یہ سمجھو
You have read 27% of ننھا کنول - Nanha Kanwal. The full e-book picks up right where this stopped.