Check out our most recent publications
خواب برحق ہیں (جلد دوم) - Khuwab Barhaq Hain (Volume 2)
Free sample · no sign-up

خواب برحق ہیں (جلد دوم) - Khuwab Barhaq Hain (Volume 2)

by Amber Rizwan

You are reading the first 12% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

12% of the book — free to read

 

خواب برحق ہیں

(حرفِ گمنام سے حرفِ آشکار تک)

دوسری جلد

 

امبر رضوان

 

داستان پبلشرز

 

جوکہنے جگ کے بکھیڑوں میں کود آئی تھی

وہ بات آج تلک بیچ میں ہی رہ گئی ہے!

 

کاپی رائٹ © ۲۰۲۲ء داستان

 

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔

 

اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔تنقیدی مضامین اور تبصروں میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔

 

اشاعت اوّل: ٢٠٢۲ء

 

ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان

www.daastan.com

 

مدیرۂ اعلیٰ

نرمین سرھیو

 

مدیرۂ معاون

فریال زہرا

 

سرورق

نرمین سرھیو

(سرورق کے جملہ حقوق داستان کے نام محفوظ ہیں)

 

فہرست

 

12

خود سے باتیں، رب سے دعائیں

14

مجھ کو آتی نہیں جذبات کی صرّافہ گری (A declaration)

15

میرا چوٹی کے لکھاری سے کیا تقابل ہے (Another declaration)

17

غزل

19

غزل

20

غزل

22

غزل

24

غزل

26

غزل

28

اے وادی کشمیر ہم شرمندہ ہیں!

31

تعاقب

32

قرنطینیہ اور Illuminati

37

غزل

39

غزل

41

چند اشعار (ایک ملاقات کے بعد)

42

غزل

44

چند اشعار (ایک میت سے واپسی پر)

45

شعر کا جواب شعر سے (فی البدیہہ)

46

شعر کا جواب شعر سے (فی البدیہہ)

47

شعر کا جواب شعر سے (فی البدیہہ)

48

شعر کا جواب شعر سے (فی البدیہہ)

49

شعر کا جواب شعر سے (فی البدیہہ)

50

شعر کا جواب شعر سے (فی البدیہہ)

51

غزل

53

غزل

55

سوزِ تماشا

57

محض وہم یا ایک دعا کا تذبذب

63

غزل

65

غزل

67

چند اشعار

69

غزل

70

(Mid night stories)

71

Routine Prayers

72

غزل

73

غزل

75

”معصومہ یعقوب علی“ کی نیابت میں

77

شعر کا جواب شعر سے

78

شعر کا جواب شعر سے

79

غزل

81

غزل

83

غزل

85

غزل

87

Promise

88

فرمائش

89

غزل

91

غزل

93

غزل

95

غزل

97

بقائمی ہوش و ہواس

99

غزل

101

غزل

103

Take it easy!

104

رونقِ محفل (آج کی ڈائری)

106

سالگرہ

107

اضطراب

108

غزل

110

غزل

112

بنام ابّی

118

غزل

120

غزل

122

ایک رات خواب میں(A dream situation)

127

دامِ ہوس (ایک کمزور تبصرہ)

133

غزل

134

غزل

136

حرفِ سروپ

138

غزل

140

زمین پر رب (On 11th May Mother’s day)

144

تو جو نہیں ہے میرے برابر

147

جب کسی پری وش کو دیکھ کر رشک آتا ہے

149

ایک نظم ایک التجا

151

اتمامِ نعمت

153

مامتا

153

(A Universal emotion)

155

لوری (A cradle song dedicated to My Kids!)

157

حرف تاسّف

159

غزل

160

غزل

162

کچھ قافیے، کچھ المیے

164

بچپنا (امجدؔ اسلام امجدؔ کی ایک نظم سے متاثر ہو کر)

167

غزل

169

شہرِ بے اماں سے

172

حرفِ ملامت

175

گلہ

177

عکس یا پہیلی

178

غزل

180

دعا

182

نصیبو (A prose poem)

185

حق یا مجبوری

186

ایک ماں جائے کے نام

189

آبرو (حوا کی بیٹیوں کے نام)

194

سوال

196

ٹیبلو (A discussion by innocent minds)

200

Interval

201

فرد اشعار

 

خود سے باتیں، رب سے دعائیں

مرے سخن میں ندرت و کمال پیدا ہو

زوال جس کو نہیں وہ جمال پیدا ہو

تشفی سب کی ہو ایسا جواب دے یہ قلم

پریشاں ذہنوں میں جو جو سوال پیدا ہو

برف سی مصلحت کی جس پہ ڈھک گئی وہ ذوق

پکڑلے ولولہ ایسا ابال پیدا ہو۔۔۔

کہ راہ تکتے ہوئے کل، کی تو اک عرصہ ہوا

تھام لوں ”آج“ کو اب یہ مجال پیدا ہو

خیال موتی ہوئے جاتے تھے جنہیں پاکے

ان ہی کے دل میں مرا کچھ خیال پیدا ہو

لگن سے پکا کیا برسوں جس گھروندے کو

ذرا سی چوک سے ہی اس میں بال پیدا ہو

خود اپنے حق کے لیئے بات اٹھانا ایسا ہے

کہ جیسے جگ کے سکوں میں وبال پیدا ہو

مرے ادیب کی وارث مری نسل میں اگر

کوئی ہو تو وہ خدارا نہال پیدا ہو

افق کے مہر کی مانند گر زمیں پہ کوئی

ہو آفتاب تو وہ لازوال پیدا ہو

 

مجھ کو آتی نہیں جذبات کی صرّافہ گری
(A declaration)

مجھ کو آتی نہیں جذبات کی صرّافہ گری

کھرا ہے بس جو وہی اب سے مرا پیشہ ہے

نہ کسی جیت کے خمار کی مستی ہے چڑھی

نہ کسی ہار کا اب کے مجھے اندیشہ ہے

محض خسارے کا سودا ہے محبت جس کی

لپیٹ میں مرے اس تن کا ریشہ ریشہ ہے

گرنے لگ جاؤں گی تو مجھ کو سنبھالے گا وہی

چھوڑا جس ”رب“ پہ میں نے پہلے سب ہمیشہ ہے

 

میرا چوٹی کے لکھاری سے کیا تقابل ہے
(Another declaration)

میرا چوٹی کے لکھاری سے کیا تقابل ہے؟

فرش پر بکھرے ہوئے میں تو سپنے چنتی ہوں!

ثقیل لفظوں کا انبار نہیں میرےپاس

من وعن دل میں جو آتا ہے سو لکھ دیتی ہوں!

نابلد ہوں میں جو تحریر کی آرائش سے

اپنی حساسیت سے کام چلا لیتی ہوں!

فکر کے ہاتھ لگ گئے ہیں جو بھی خواب و خیال

انہی سے رشتہ اپنا خوبی سے برتتی ہوں!

گھر سے ہوکر شروع گھر پر ہی ختم ہوتی ہے

یہی دنیا ہے مری جس کو جذب کرتی ہوں!

وقف کرتی ہوں سارے لفظ بس محبت کو

اسی جذبے کی میں شب روز مالا جپتی ہوں!

اب کسی کو لگے بے سود شغل یہ تو لگے

میں تو معراجِ لیاقت اسے سمجھتی ہوں!

 

غزل

آپ اپنا کروں تسخیر یہ حق چاہتی ہوں۔۔۔

کرنا روشن ذات کے چودہ طبق چاہتی ہوں

میرے رہزن کی نظر دیکھ کے چندھیائے جسے

اپنے جوہر میں سبھی مثلِ شفق چاہتی ہوں

شب کو ٹک جائیں جس پہ فن کے مرے سب انجم

عارضی ہی سہی پر ایسا افق چاہتی ہوں

خود کو جی لینا ہو تھوڑا سا میسر جس میں

ایسے جیون کی میں شدت سے رمق چاہتی ہوں

مری تعمیر کے آڑے نہ جہاں آئے کوئی

That’s the end of the free sample

You have read 12% of خواب برحق ہیں (جلد دوم) - Khuwab Barhaq Hain (Volume 2). The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Amber Rizwan earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 350

See all editions, reviews and details

خواب برحق ہیں (جلد دوم) - Khuwab Barhaq Hain (Volume 2) Buy — Rs 350