12% of the book — free to read

خواب برحق ہیں
(حرفِ گمنام سے حرفِ آشکار تک)
دوسری جلد
امبر رضوان

داستان پبلشرز
جوکہنے جگ کے بکھیڑوں میں کود آئی تھی
وہ بات آج تلک بیچ میں ہی رہ گئی ہے!
کاپی رائٹ © ۲۰۲۲ء داستان
جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔تنقیدی مضامین اور تبصروں میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
اشاعت اوّل: ٢٠٢۲ء
ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان
مدیرۂ اعلیٰ
نرمین سرھیو
مدیرۂ معاون
فریال زہرا
سرورق
نرمین سرھیو
(سرورق کے جملہ حقوق داستان کے نام محفوظ ہیں)
فہرست
مرے سخن میں ندرت و کمال پیدا ہو
زوال جس کو نہیں وہ جمال پیدا ہو
تشفی سب کی ہو ایسا جواب دے یہ قلم
پریشاں ذہنوں میں جو جو سوال پیدا ہو
برف سی مصلحت کی جس پہ ڈھک گئی وہ ذوق
پکڑلے ولولہ ایسا ابال پیدا ہو۔۔۔
کہ راہ تکتے ہوئے کل، کی تو اک عرصہ ہوا
تھام لوں ”آج“ کو اب یہ مجال پیدا ہو
خیال موتی ہوئے جاتے تھے جنہیں پاکے
ان ہی کے دل میں مرا کچھ خیال پیدا ہو
لگن سے پکا کیا برسوں جس گھروندے کو
ذرا سی چوک سے ہی اس میں بال پیدا ہو
خود اپنے حق کے لیئے بات اٹھانا ایسا ہے
کہ جیسے جگ کے سکوں میں وبال پیدا ہو
مرے ادیب کی وارث مری نسل میں اگر
کوئی ہو تو وہ خدارا نہال پیدا ہو
افق کے مہر کی مانند گر زمیں پہ کوئی
ہو آفتاب تو وہ لازوال پیدا ہو
مجھ کو آتی نہیں جذبات کی صرّافہ گری
کھرا ہے بس جو وہی اب سے مرا پیشہ ہے
نہ کسی جیت کے خمار کی مستی ہے چڑھی
نہ کسی ہار کا اب کے مجھے اندیشہ ہے
محض خسارے کا سودا ہے محبت جس کی
لپیٹ میں مرے اس تن کا ریشہ ریشہ ہے
گرنے لگ جاؤں گی تو مجھ کو سنبھالے گا وہی
چھوڑا جس ”رب“ پہ میں نے پہلے سب ہمیشہ ہے
میرا چوٹی کے لکھاری سے کیا تقابل ہے؟
فرش پر بکھرے ہوئے میں تو سپنے چنتی ہوں!
ثقیل لفظوں کا انبار نہیں میرےپاس
من وعن دل میں جو آتا ہے سو لکھ دیتی ہوں!
نابلد ہوں میں جو تحریر کی آرائش سے
اپنی حساسیت سے کام چلا لیتی ہوں!
فکر کے ہاتھ لگ گئے ہیں جو بھی خواب و خیال
انہی سے رشتہ اپنا خوبی سے برتتی ہوں!
گھر سے ہوکر شروع گھر پر ہی ختم ہوتی ہے
یہی دنیا ہے مری جس کو جذب کرتی ہوں!
وقف کرتی ہوں سارے لفظ بس محبت کو
اسی جذبے کی میں شب روز مالا جپتی ہوں!
اب کسی کو لگے بے سود شغل یہ تو لگے
میں تو معراجِ لیاقت اسے سمجھتی ہوں!
آپ اپنا کروں تسخیر یہ حق چاہتی ہوں۔۔۔
کرنا روشن ذات کے چودہ طبق چاہتی ہوں
میرے رہزن کی نظر دیکھ کے چندھیائے جسے
اپنے جوہر میں سبھی مثلِ شفق چاہتی ہوں
شب کو ٹک جائیں جس پہ فن کے مرے سب انجم
عارضی ہی سہی پر ایسا افق چاہتی ہوں
خود کو جی لینا ہو تھوڑا سا میسر جس میں
ایسے جیون کی میں شدت سے رمق چاہتی ہوں
مری تعمیر کے آڑے نہ جہاں آئے کوئی
You have read 12% of خواب برحق ہیں (جلد دوم) - Khuwab Barhaq Hain (Volume 2). The full e-book picks up right where this stopped.