12% of the book — free to read

کھڑکی
(افسانے)
شاہین کمال
کتاب : کھڑکی
مصنفہ : شاہین کمال
سرورق : سعدیہ راشد
زیرِنگرانی : حمزہ ابن وصی - شکیل حسین خان
پروف ریڈنگ : شیخ فرحان - حمزہ ابن وصی
اشاعت : دسمبر 2022ء
ناشر : Team Moxie Publications
تعداد : 500
آئی ایس ابی این: ٓ 978-969-23573-3-3
جملہ حقوق بہ حق Team Moxie محفوظ ہیں
پبلی کیشن کی جدید ٹیکنالوجی کے مطابق کتاب کی اشاعت کے لیے رابطہ کے لیے
Team Moxie 0334 2981432
Shaheenkamal333@gmail.com
انتساب
اپنی چاروں پیاری بیٹیوں
بتول
یسرا
ایمن
سعدیہ
کے نام، کہ میں آج جو کچھ بھی ہوں انہی چاروں کی مرہون منت ہوں۔
فہرست
|
6 |
1 |
|
|
2 |
||
|
3 |
||
|
4 |
||
|
5 |
||
|
6 |
||
|
7 |
||
|
8 |
||
|
9 |
||
| 10 | ||
| 11 | ||
| 12 | ||
| 13 | ||
| 14 | ||
|
15 |
میرا نام شاہین کمال ہے۔
جنم بھومی بنگال کی سحر کار زمین۔ ہم وہاں تب سکونت پذیر تھے جب میرے پیارے اور حسین بنگال پر سبر ہلالی پرچم لہرایا کرتا تھا۔ پھر انیس سو اکہتر میں لال آندھی آئی اور ملک دو لخت ہو گیا۔ سقوط مشرقی پاکستان کے بعد ہم لوگ انیس سو تہتر میں مغربی پاکستان پہنچے اور نئے سرے سے زندگی کی شروعات کی۔ کراچی میں میٹرک سے ایم ایس سی تک تعلیم حاصل کی۔
کچھ عرصہ ICI میں کام کیا۔
پھر آرمی پبلک اسکول اور سینٹ پیٹرکس گرلز اسکول میں عرصے تک درس و تدریس میں منہمک رہے۔
پھر وقت کی ایک کروٹ نے کراچی سے ہجرت پر مجبور کیا اور اب عرصے سے کینیڈا کے خوب صورت شہر کیلگری میں مقیم ہیں۔
لکھنا میرا شوق اور باعث سکون بھی۔ میری کہانیاں اسی معاشرے کے چلتے پھرتے اور ہمارے اطراف سانس لیتے کردار ہوتے ہیں۔ ہر شخص کی زندگی کہانی ہے بس دل کی آنکھ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
مجتبیٰ صاحب میں کینٹین جا رہا ہوں، جلدی سے آ جائیں بہت بھوک لگ رہی ہے۔
ہاں تم پہنچو! میں بس آیا کہ آیا۔ میں نے تیزی سے فائل سمیٹتے ہوئے جواب دیا۔
آج کیا ہے خاصے میں جناب؟
یار عظیم تم بہت لکی ہو، کیا کھانا بناتی ہیں بھابھی۔مزے ہیں بھئی تمہارے ۔
خیر آپ ناشکری نہ کریں ۔بھابھی بھی کم مزے کا نہیں بناتیں۔عظیم نے مسکراتے ہوئے بدلہ چکایا اور ہم دونوں نے اپنا اپنا ٹفن کیرئیر کھول کر ٹیبل پر سجا دیا۔
یوں سمجھئے کہ کینٹین کی ٹیبل پر یہ میری اور عظیم کی روز کی گفتگو تھی۔ہم دونوں کھانا گھر سے لاتے تھے۔اس مہنگائی میں باہر کا کھانا سفید پوش کب افورڈ کر سکتے ہیں؟ شکر ہے ہماری مِل میں کھانا سبسڈی ریٹ پر ملتا تھا پھر بھی جیب پر اضافی بوجھ پڑ ہی جاتا تھا، اسی پیسے میں گھر کی کئی ضروریات پوری ہو جاتیں۔
میں نے تو مارے کفایت کے فاطمہ کی پیدائش کے بعد سگریٹ اور کبھی کبھار کا شوقیہ پان کھانا بھی چھوڑ دیا تھا۔بس دو بچوں کا باپ کیا بنا کہ دل مارنے کا فن خود بخود آ گیا۔اولاد کی محبت بڑی جان دار ہوتی ہے کیا کچھ کروا لیتی ہے۔ اپنی ماؤں کے شہزادے باپ بنتے ہی اپنی اولاد کے لیے ٹانگے کا گھوڑا بن جاتے ہیں۔ میری شریک حیات شائستہ ، بس یہاں ایک گڑبڑ ہے جب تک اس نیک بی بی کو غصہ نہیں آتا تب تک بلاشبہ شائستہ لیکن جو جلال چڑھ گیا تو جناب ساری شائستگی گئی بحرِ اوقیانوس میں۔شائستہ بتاتی ہیں کہ ان کے اجداد جلال آباد سے تھے۔اس بیان پر اگر میں لمحے بھر کو بھی شک کروں تو یقیناً کافر کیونکہ ان کا جلال واقعی جلالی ہے۔خیر کی بات بس یہ تھی کہ ذوجہ شورٹ ٹمپر تو ہیں پر اس ٹمپر کا دورانیہ بھی شورٹ ہی رہتا ہے۔ مجھے نہیں یاد کہ اس اڑتیس سالہ رفاقت میں ہم دونوں کے جھگڑوں نے کبھی دوسری صبح کا منہ بھی دیکھا ہو۔شائستہ کی سب سے اچھی عادت یہ تھی کہ رات سونے سے پہلے ہر بکھیڑا سمیٹ کر سوتی، چاہے وہ بکھرا ہوا گھر ہو یا ہمارا آپس کا جھگڑا۔بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ اس نے مجھے اتنا پیمپر کیا تھا کہ میں کبھی کبھی بے وجہ بھی اس سے روٹھ جاتا تھا تا کہ وہ مجھے منائے گویا
میں تیرا حسن تیرے حسنِ بیاں تک دیکھوں
اب تو خیر دونوں ہی بوڑھا گئے ہیں سو نہ وہ طنتنہ رہا ہے اور نہ وہ جلال اب سب ہی کچھ ہے روبہ زوال۔ ہماری تو خاموشی بھی اب گویائی رکھتی ہے۔ وہ جب پلنگ پر میرے استری شدہ کپڑے رکھتی ہے تو میں کپڑوں کے رکھنے کے انداز سے ہی اس کی اندرونی کیفیت بھانپ لیتا ہوں اور وہ میری چال اور منہ کے زاویوں سے میرا دفتر میں گزارے سارے دن کی روداد جان لیتی ہے ۔ اس کے مزاج کی دھار بھی اب کند ہوگئی ہے پر راز کی بات بتاؤں وہ غصے میں اس قدر بامحاورہ گفتگو کرتی تھی کے سننے میں مزہ آتا تھا۔ اچھی گزر گئی ہم لوگوں کی۔
شائستہ کھانا تو اوسط بناتی تھیں پر گھر کی صفائی ستھرائی اور بچوں کو کچھ بنانے کے جنون میں مبتلا تھیں۔میرا بڑا ساتھ دیا اس نے۔گھر پر ٹیوشن کی، سلائی بھی کی اور اس اضافی آمدنی کو اس نے بچوں کی تعلیم پر خرچ کیا۔احمد نے سیفی پولی ٹیکنک سے ڈپلومہ لیا اور فاطمہ نے بھی گورنمنٹ کالج سے بی۔ایس۔سی کیا۔دوسرا سب سے اچھا فیصلہ شائستہ کا کہ فاطمہ کی ڈگری مکمل ہونے سے پہلے کسی قیمت پر بھی وہ اس کی شادی کے لیے راضی نہیں ہوئی حالانکہ میرے چچازاد بھائی اور بڑے بھیا اس وجہ سے ناراض بھی ہوئے۔ خاندان میں بدمزگی بھی ہوئی مگر یہ اپنے موقف سے ایک انچ نہیں ہٹی۔میں مرد ہوتے ہوئے اتنے دباؤ پر گھبرا گیا تھا مگر شائستہ کی ایک ہی ضد تھی کہ ٹھیک ہے اگر فاطمہ کا نکاح کرنا ہے تو میں تیار ہوں مگر رخصتی ڈگری سے پہلے نہیں ہو گی۔ اب میں سوچتا ہوں کہ واقعی اس نے صحیح فیصلہ کیا۔ آج فاطمہ اسکول میں وائس پرنسپل ہے، بی۔ایس۔سی کے بعد اس نے فاطمہ کو بی۔ ایڈ کے لیے بھی راضی کر لیا تھا۔جب فاطمہ کی شادی ہوئی ، اس وقت فاطمہ بی۔ایڈ کر رہی تھی اور شائستہ نے فاطمہ کے سسرال والوں سے طے کروا لیا تھا کہ فاطمہ بی۔ایڈ مکمل کرے گی۔ اس دوران میرا نواسہ سرمد پیدا ہوا، شائستہ نے ہی اسے پالا تاکہ فاطمہ آسانی اور یکسوئی سے اپنی تعلیم مکمل کر سکے۔پھر فاطمہ نے ماں کے تعاون سے ایم۔اے اور ایم۔ایڈ بھی کر لیا۔ اسی طرح شائستہ بہو بھی بڑی اچھی چن کر لائی، نگہت لائق اور سمجھدار لڑکی ہے۔گھر بسانے والی سلجھی طبیعت کی۔اللہ کے کرم سے میری بیٹی اور بیٹا دونوں اپنی اپنی ازدواجی زندگیوں میں خوش ہیں۔
میری مدح سرائی سے آپ لوگوں کواندازہ ہو ہی گیا ہو گا کہ میں شائستہ سےobsessedہوں۔گوڈے گوڈے اس کے عشق میں مبتلا۔ ہم لوگوں کی شادی کا قصہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔میری ماموں زاد بہن یاسمین کی شادی تھی۔اماں اور میں ابھی ماموں کی ڈیوڑھی پر پہنچے ہی تھے کہ ایک رکشہ پھٹپھٹاتا ہوا دروازے کے سامنے آ کر رکا۔اس میں سے شائستہ کی اماں، بہن اور شائستہ برآمد ہوئیں۔میری نظر شائستہ پر پڑی اور پھر "گویا چراغوں میں روشنی نہ رہی"۔اسی وقت اس کے قریب سے ایک لڑکا جان بوجھ کر اس کے شانے سے رگڑ کھاتا ہوا گزرا۔غصہ تو مجھے شدید آیا مگر میرے کچھ بھی سوچنے سے پہلے ہی یہ بجلی طرح کڑکی اور کھینچ کے ایک تھپڑ لگایا اس لفنگے کو۔یہ سارا منظر اماں نے بھی دیکھا۔اندر جا کر پتہ چلا کہ یہ یاسمین کی بچپن کی سہیلی ہے۔شائستہ کی خوش مزاجی اور بیاہ کے کاموں میں بھرپور مدد اور سلیقے طریقے نے اماں کو موہ لیا اور انہوں نے ممانی سے شائستہ کا سارا حدود و اربعہ معلوم کرلیا اور تو اور شائستہ کی اماں سے بھی سکھیاپا بھی جوڑ لیا۔ جناب اماں نے بھی ہتھیلی پر سرسوں جمانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔جھٹ منگنی پٹ بیاہ رچا دیا میرا۔اماں کا یہ فیصلہ میرے حق میں بہترین تھا۔اماں بھی جب تک حیات رہیں، انہیں بہو سے ایسی کوئی بڑی شکایت نہ تھی۔اماں کی کوششوں سے شائستہ کے کھانوں میں بھی ذائقہ آ چلا تھا۔
میں اماں کی پانچویں اولاد تھا۔ مجھ سے پہلے اماں کے چار مِس کیرِج ہوچکے تھے۔ دادی نے بچے کی زندگی کی حفاظت کے خیال سے اماں کو تعویذوں سے لاد دیا تھا۔ پر میری باری میں جانے اماں کے جی میں کیا آیا کہ ایک دن اٹھیں اور ساری تعویذات اور دھاگے اتار دیے اور دو نفل پڑھ کر سجدے میں گریں اور زار زار رو کر اپنے بچے کی سلامتی کی دعائیں مانگی۔بس اللہ تعالیٰ کو بھی رحم آ گیا اور میری ولادت ہو گئی۔اماں نے اپنی حیات کے آخری دن تک میری زندگی کے شکرانے کے دو نفل پڑھے۔ روز میری زندگی کے لیے شکرانے کے دو نفل پڑھنا ان کا معمول تھا اور مرتے ہوئے یہ زمہ داری وہ شائستہ کو سونپ گئیں کہ ان کے بعد شائستہ ہر روز میری زندگی کے لیے شکرانے کے دو نفل پڑھے۔یہ مائیں بھی کیا چیز بنائی ہے مالک نے۔ان کی محبتوں کا حساب ممکن ہی نہیں۔یہ ایسا ادھار ہے جسکا سود اولاد کبھی چکتا کر ہی نہیں سکتی۔ یہ بہی کھاتہ تو اماں حوا کے وقت سے کُھلا ہے اور شاید روز حشر ہی بند ہو۔
اب تو ہماری نَیَّا بھی گھاٹ آ لگی ہے اور پار اترنے کا سمے آ گیا ہے۔میری دعا تو یہی ہے کہ میں پہلے جاؤں کہ شائستہ کے بغیر تو میں کچھ بھی نہیں کر سکتا، قطعی معذور ہوں۔گو کے یہ میری خودغرضی ہے، مگر میں واقعی اس کے بغیر لاچار ہوں۔مگر یہ چالاکو بھی یہی دعا مانگتی ہے کہ وہ سہاگن اٹھے۔اب دیکھئے مولا کس کی سنتے ہیں۔
لیجیے کہانی عظیم کی سنانی تھی اور میں الجھ گیا اپنی کَتھَا میں۔
عظیم اور میرا آٹھ سال کا ساتھ ہے۔وہ سینیئر کلرک ہے اور میں اب مینیجر۔عظیم کم گو اور لیے دیے رہنے والا انسان ہے۔ٹھہر ٹھہر کر بات کرتا ہے اور اس کی باتوں میں دانش اور درویشی ہوتی ہے۔ ایک دن لنچ بریک میں مجھے کینٹین میں کہیں جگہ نہیں ملی بس عظیم کی ٹیبل پر ایک کرسی خالی تھی۔اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا اور اس کے اخلاق کا گرویدہ ہو گیا۔ پھر یہ معمول ہو گیا کہ ہم ساتھ ہی کھانا کھاتے اور جب ہم نے آپس میں کھانا شیئر کرنا شروع کیا تو میں تو اس کے کھانوں کے ذائقے کا اسیر ہو گیا۔عظیم کی بیگم زہرہ بلاشبہ اپنے فن میں طاق تھیں ۔اس کے دو بچے تھے۔بیٹی بیاہ کر کوئٹہ چلی گئی تھی اور اس کے ساتھ اس کا بیٹا بہو اور دو پوتے اور ایک پوتی رہتے تھے۔عظیم بھٹو کالونی میں رہتا تھا۔عظیم کی جو سب سے اچھی بات مجھے لگتی تھی وہ اس کا اپنی فیملی سے بے انتہا لگاؤ۔ وہ اپنے گھر والوں کا ذکر ایک جذب کے عالم میں کرتا تھا۔
مجھے بھی شائستہ اور بچوں سے بہت محبت ہے مگر عظیم کا تو لیول ہی الگ تھا۔وہ مجھ سے کوئی چار پانچ سال چھوٹا ہوگا مگر میں واقعی اس کے جذبہِ محبت سے بہت انسپائر تھا۔ایک آدھ دفعہ میں نے اسے اپنے گھر آنے کی دعوت دی مگر وہ ٹال گیا، سو میں سمجھ گیا کہ وہ دوستی دفتر تک ہی محدود رکھنا چاہتا ہے مگر میرے دل میں اس کے خاندان سے ملنے کی خواہش ضرور تھی۔ عظیم اپنے کنبے کی چھوٹی سے چھوٹی باتیں بھی مجھ سے شیئر کرتا تھا ، مثلاً ایک دن کہنے لگا کہ مجتبیٰ آج دفتر سے فارغ ہو کر بازار جانا ہے تیمور (چھوٹا پوتا)کے لیے سائیکل لینے۔ ایک دن بہت خوبصورت سویٹر پہنا ہوا تھا(عموماً وہ سردیوں میں کوٹ یا واسکٹ پہنتا تھا)سویٹر پر محبت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے بتایا کہ بیٹی نے کوئٹہ سے بھیجا ہے۔اکثر سردیوں میں بیٹی کے یہاں سے آئے ہوئے بہترین پستے سے میری تواضع کرتا تھا۔زہرہ بھابھی سنیما بینی کی شوقین تھیں اور وہ دونوں مہینے دو مہینے پر فلم ضرور دیکھا کرتے تھے۔ مجھے اس کی فیملی سے لگاؤ بڑھتا جا رہا تھا۔اس کے بیٹے حارث، بہو انجم اور پوتے بلال، تیمور اور نادیہ سے میں اتنا آشنا ہو چکا تھا کہ انہیں محسوس کرتا تھا۔وہ اگر کہیں راستے میں ملتے تو میں انہیں بِنا کسی تعارف کے پہچان لیتا۔
زندگی اپنی مخصوص تیز رفتاری سے گزر رہی تھی۔ہر شخص جانے کس چیز کی جلدی میں تھا، ایسے میں عظیم کی طبیعت کا سکون اور ٹھہراؤ بہت متاثر کن تھا۔
یہ میرے ریٹائرمنٹ سے کوئی دو مہینے قبل، سنیچر کی برستی شام تھی۔ میری بہو پکوڑیاں تَل رہی تھی اور پورے گھر میں دَم پہ رکھی چائے کی خوشگوار مہک تیرتی پھر رہی تھی۔میں برآمدے میں کرسی ڈالے برستی بارش سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ شائستہ کمرے سے آتی نظر آئیں۔
آئیے جنابِ من کہاں غائب ہیں آپ اس قدر حسین موسم میں؟ شائستہ نے سنی ان سنی کرتے ہوئے فون میری جانب بڑھایا اور کہا کہ مستقل بج رہا تھا۔دیکھئے کون ہے؟
میں نے نمبر دیکھا، کوئی انجان نمبر تھا۔میں نے ڈائل کیا تو کسی نے بتایا کہ عظیم صاحب ہسپتال میں ہیں اور ان کے فون میں یہی نمبر سیو تھا لہذا وہ مجھے کال کر کے بتا رہا ہے۔ میں احمد کے ساتھ بھاگم بھاگ سول ہسپتال پہنچا۔ وہاں حارث نے بتایا کہ صبح بازار جاتے ہوئے عظیم کو ایک موٹر بائیک والے نے بری طرح ٹکر مار دی اور ان کو زخمی چھوڑ کر موقع پر ہی فرار ہو گیا۔ محلے والوں نے حارث کو بتایا اور یہ ان کو لے کر ہسپتال آیا۔ اب چونکہ رات سر پر ہے تو اس کو گھر جانا ہے کہ بیوی بچے اکیلے ہیں۔مجھے حیرت تو ہوئی کہ کیسا بیٹا ہے کہ باپ کو اس بے کسی اور بے ہوشی کے عالم میں چھوڑ کر جارہا ہے؟ مگر مجھے عظیم نے بتایا تھا کہ بہو کے یہاں چوتھے بچے کی آمد آمد ہے۔سو میں نے سمجھا کہ غالباً اس وجہ سے اسے جانا پڑ رہا ہے۔میں نے اسے تسلی دی کہ بے فکر ہو کرجاؤ میں رات میں عظیم کے پاس رُک جاؤں گا۔ چلتے وقت میں اس کو رخصت کرنے وارڈ کے دروازے تک آیا، اس نے مصافحہ کرتے ہوئے میرا شکریہ ادا کیا اور کہنے لگا کہ چچا بہت بھلے آدمی ہیں اور آپ کے آجانے سے مجھے بہت ڈھارس ہوئی ہے۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ تم اپنے باپ کو چچا کہتے ہو؟ اس کے چہرے پر بے پناہ حیرت عود آئی، باپ؟ آپ کو شاید کچھ غلط فہمی ہے۔ چچا میرے گھر میں عرصے دراز سے کرائے دار ہیں۔ یہ دس سال پہلے سکھر سے کراچی آئے تھے اور ان کی خستہ حالی دیکھ کر میں نے ان کو نیچے کے حصے کا آدھا پورشن کرائے پر دے دیا تھا ۔ یہ نہایت منکسرالمزاج اور شریف آدمی ہیں اور ہمیں آج تک ان سے کوئی شکایت نہیں ہوئی۔یہ غالباً دنیا میں تنہا ہیں اور یہ کم ہی کسی سے گھلتے ملتے ہیں۔یہ کہہ کر وہ چلتا بَنا اور میں حق دق کھڑے کا کھڑا رہ گیا۔
احمد نے آ کر میرے کندھوں پر ہاتھ رکھا تو میں حقیقی دنیا میں لوٹ آیا۔میں نے احمد سے کہا کہ تم گھر جاؤ، صبح ناشتہ لے کر آنا۔احمد نے بہت ضد کی کہ رات وہ رک جاتا ہے اور میں صبح آجاؤں مگر میں نہ مانا۔
احمد کے جانے کے بعد میں کرسی گھسیٹ کر عظیم کے نزدیک بیٹھ گیا اور غور سے اس کا زرد سُتا ہوا چہرہ دیکھتا رہا۔وہ پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا اور ڈرپ قطرہ قطرہ اس کی نسوں میں تھکی ہوئی زندگی کو دوبارہ رواں کررہی تھی۔میں نہیں جانتا کہ یہ بے ریا اور مخلص انسان دوہری زندگی کیوں گزار رہا تھا مگر مجھے اس پر غصے کے بجائے بے انتہا ترس آ رہا تھا۔فجر کے قریب عظیم نے ایک کراہ کے ساتھ آنکھیں کھولی۔ میں جلدی سے بھاگ کر ڈاکٹر کو بلا لایا۔عظیم ابھی بھی کچھ ہوش اور بیہوشی کے درمیان تھا۔ نو بجے احمد ناشتہ لیکر آیا تو میں نے اس سے کہا کہ جائے اور بڑے ڈاکٹر سے اس کی حالت پوچھے کہ میں عظیم کو پرائیویٹ ہسپتال میں منتقل کرنا چاہتا تھا۔دوپہر تین بجے تک یہ کاروائی مکمل ہو گئی اور میں اس کو انڈس ہسپتال لے آیا۔ اب عظیم پورے ہوش میں تھا مگر اس نے مجھے کسی بات سے نہیں روکا۔احمد کو اس کے پاس چھوڑ کر میں گھر آیا، نہا دھوکر اپنی اور اس کی درخواست لکھی اور شائستہ کو تاکید کی کہ کل دفتر جاتے ہوئے احمد دونوں درخواستیں فیکٹری میں دیتا جائے۔
مغرب کی نماز کے بعد میں ہسپتال پہنچا۔عظیم خاصہ بہتر تھا۔حال احوال ہوا پھر ہم دونوں کے درمیان ایک گونجتی خاموشی در آئی۔تھوڑی دیر کے بعد عظیم نے کہا تم مجھ سے کچھ پوچھو گے نہیں؟
میری خاموشی پر ایک طویل وقفے کے بعد ایک ٹرانس کی کفیت میں عظیم نے بولنا شروع کیا کہ اس کو اپنی اوائل جوانی میں ہی احساس ہو گیا تھا کہ وہ نارمل نہیں ہے، میں ایک نامکمل انسان تھا ۔ رہی سہی کسر رازداری کے چکر میں اناڑی حکیموں نے پوری کر دی تھی۔نوکری لگنے کے بعد جب ماں کی طرف سے شادی کا دباؤ بڑھا تو میں نے ماں کو شریک راز کرلیا۔ اماں نے ڈاکٹر سے مدد لینے کے سلسلے میں بڑے بھائی سے مشورہ کیا اور یوں یہ بات کھلتی چلی گئی۔ڈاکٹروں نے مجھے لاعلاج قرار دیا۔شروع میں، میں خاندان میں قابل رحم اور پھر طنز و مزاح کا ہدف بن کر رہ گیا۔ یہ دکھ اور بے بسی مجھے تنہائی پسند اور گوشہ نشین کرتی چلی گئی۔مگر تم تو جانتے ہو نا مجتبیٰ کہ اپنوں کا وار کتنا کاری ہوتا ہے۔وہ دکھتی رگ دبانا بخوبی جانتے ہیں۔
مجھے جو بھی دشمنِ جاں ملا وہی پختہ کارِ جفا ملا
نہ کسی کی ضرب غلط پڑی، نہ کسی کا تیر خطا ہوا
میں جیسے تیسے سکھر میں دن گزار رہا تھا۔ بس اماں کے مرتے ہی ان کے سوئم کے دن سکھر چھوڑ دیا۔ اسٹیشن پر کراچی کی گاڑی تیار کھڑی تھی اس پر بیٹھ کر کراچی پہنچ گیا۔اسٹیشن پہنچ کر ٹیکسی والے سے قریب ترین سرائے کا پتہ پوچھا اور اللہ والا سرائے میں دو مہینے مقیم رہا۔وہ سرائے حارث کے چچا کی تھی۔اس بیچ مجھے اللہ کے فضل سے نوکری بھی مل گئی اور سرائے والے مشکور صاحب کی سفارش پر حارث کے نچلے آدھے پورشن پر کرائے کا گھر بھی۔میں لوگوں سے بہت خائف تھا اس لیے میرا ملنا جلنا نہ ہونے کے برابر تھا۔پھر کراچی جیسے مصروف شہر میں ویسے بھی "تو کون، میں کون"۔میں باآسانی اس درویش شہر میں بس گیا۔نہ میں نے اپنے گھر والوں سے رابطہ کیا اور نہ ہی وہاں سے کبھی کوئی میری تلاش میں آیا۔ میں نہیں جانتا کہ کب آہستہ آہستہ میرے ذہن نے حارث کی فیملی کو اڈاپٹ کر لیا اور میں نے اپنا تصوراتی گھر بسالیا۔جہاں زہرہ میری بیوی اور حارث کا خاندان میرا خاندان بن گیا۔کبھی کبھی میں چاہتا تھا کہ کسی ماہر نفسیات سے مدد لوں مگر یقین کرو مجتبیٰ میرا تصوراتی گھر اتنا بھرپور اور خوبصورت تھا کہ میں خود میں اسے توڑنے کی ہمت نہیں پاتا تھا۔میری یہ خیالی دنیا کسی کو نقصان بھی تو نہیں پہنچا رہی تھی۔ہاں مگر یہ تصوراتی گھر میرے تپتے دل کے لیے مرہم تھا، میرا نخلستان تھا۔
جب تم دفتر میں میرے پکائے ہوئے کھانوں کی تعریف کرتے تھے تو یقین جانو مجھے ایسا لگتا تھا جیسے زہرہ کے سگھڑاپے اور سلیقے کی تعریف ہورہی ہے۔پھر میں نے زہرہ کے لیے ساڑھیوں کی شاپنگ بھی کی ۔جب میں فلم دیکھنے جاتا تھا تو دو ٹکٹ خریدتا تھا ۔میرے برابر کی سیٹ مجھے زہرہ کے وجود سے بھری بھری محسوس ہوتی اگر کبھی کوئی اس سیٹ پر بیٹھ جاتا تھا تو میں پکچر ادھوری چھوڑ کر اٹھ جاتا تھا ۔میں کبھی کبھار اپنے آپ کو حارث اور بیٹی کی طرف سے تحائف بھی دیتا تھا۔
میں جسمانی طور پر ایک نامکمل مرد ہوں۔ہاں میں نامرد ہوں مگر کیا کروں ؟ اس نامکمل وجود میں کمبخت دل مکمل ہے۔اللہ جب جسم ادھورا بناتا ہے تو دل کیوں مکمّل بناتا ہے مجتبیٰ ؟ خواہشات اور ارمان کیوں دل میں ڈیرہ ڈال لیتے ہیں، کیوں مجتبیٰ کیوں؟
بتاؤ نا!
چاہے جسم ادھورا ہو یا دل۔ اس سے بڑا آزار دنیا میں اور کوئی نہیں۔ادھورا پن انسان کو کھا جاتا ہے۔اس کا شمار نہ زندوں میں ہوتا ہے اور نہ ہی مرُدوُں میں۔
وہ اپنے ہاتھوں میں اپنا چہرہ چھپا کر بِلک بِلک کر روتا رہا۔
میں ایک ٹِک اسے دیکھتا رہا۔میرے پاس نہ اسے دلاسا دینے کی ہمت تھی اور نہ ہی اس کے کسی سوال کا جواب۔
……٭……
You have read 12% of کھڑکی - Khirki. The full e-book picks up right where this stopped.