Check out our most recent publications
کیا اپ نے سوچا ہے؟
Free sample · no sign-up

کیا اپ نے سوچا ہے؟

by AFSHAN HUMA

You are reading the first 12% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

12% of the book — free to read

 

 

کیا آپ نے سوچا ہے

مضامین

 

 

Contents

والدین کی محبت.. 4

آج کا محنتی انسان. 6

پروفیشنلزم 8

جو بو یا ہے وہ ہی کاٹنا ہو گا 11

صفائی نصف ایمان ہے.. 13

ہم کہ ٹھہرے مسلمان. 15

تعلیمی بحث.. 17

تعلیمی کانفرنسز. 19

کانفرنسز برائے کانفرنسز. 21

صدیوں کا سفر. 23

اکیسویں صدی کے تعلیمی چیلنج. 25

ہم وہ نہیں جانتے جو ہم نہیں جانتے۔۔۔ 28

تیرا پاکستان ہے نہ میرا پاکستان ہے۔۔۔ 30

تعلیم میں اور میرے طلبہ. 32

ہم خوش رہ سکتے ہیں. 35

سیاسی شعور سے ذہنی امراض تک... 37

خود پسندی سے ہمگدازی تک... 39

تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارہ ہے۔۔۔ 42

آج کا دن -۱۶ دسمبر. 44

ہم آپ کے ہیں کون۔۔۔؟. 47

ہماری کم علمی کی بڑی وجوہات۔۔۔ 50

فروری میں پیدا ہونے والے افراد 53

اکیسویں صدی کی تعلیم 55

جینے دو. 56

ہم میں بڑا ٹیلنٹ ہے۔۔۔ 59

کوئِی نہیں۔۔۔ 61

تعلیم سب کے لیے.. 62

بین الشعبہ جاتی تحقیق. 64

ہماری تہزیب.. 67

وقت نہیں ہے۔۔۔ 70

بعد میں آئیے گا 73

عید الاضحی مبارک.. 75

سلام ٹیچر. 77

نو جوان نسل اور مالی محتاجی. 80

ایکٹر ان لا کے بعد۔۔۔ایکٹرز ان ٹیچنگ۔۔۔ 83

نیا سال پرانے لوگوں کو مبارک ہو. 85

کیا ہم محفوظ ہیں۔۔۔ 87

خوشیوں کے کاروبار. 90

ہم تو ہیں پردیس میں. 93

یوم آزادی.. 96

ارادے باندھتے ہیں. 98

واپسی. 100

سڑک کنارے.. 102

جدید نصاب کی ضرورت.. 105

امید ٹوٹنے نہ پائے.. 108

روِئیے بگڑ گئے ہیں. 110

نیا سال مبارک ہوا کیا 112

محدود سے لا محدود 114

آن لائن لرننگ... 116

انسانی رویوں میں تبدیلی. 118

سر پہ دوپٹہ کروانے سے گھر میں گھس کر مارنے تک' 121

بچے کی تربیت اور شخصیت.. 124

سونا بنانے کا نسخہ. 126

 

والدین کی محبت

خوش قسمت ہیں آپ اگر آپ نے والدین کو زندہ دیکھا، اگر اپ نے ان کی شفقت اور محبت کے سائے میں اپنی زندگی کے ماہ و سال گزارے اگر انھوں نے آپ کو جوان سالی تک اپنی حفاظت میں پہنچایا اگر انہوں نے آپ کے کھانے پینے، رہنے سہنے، تعلیم، صحت اور تربیت کا تمام تر بندوبست کیا اور آپ کو پتا تک نہ چلنے دیا کہ وہ کیسے یہ تمام سہولیات مہیا کر رہے ہیں۔ آپ نے اپنی زندگی کا نازک ترین وقت، جب آپ چلنا، بولنا ،کھانا پینا ،رہنا سہنا ،ملنا جلنا، پڑھنا لکھنا اور یہاں تک کہ سوچنا سمجھنا سیکھ رہے تھے، ان ہی کی مہربانی اور شفقت تلے گزارا۔ ذرا سوچئے اگر وہ نہ ہوتے؟ سوچ سےباہر ہو جاتا ہے یہ سب۔ میں بھی ان تمام خوش قسمت افراد میں سے ہوں جنہیں رب نے والدین جیسی نعمت دی۔ ہمارے والدین نے ہمیں کیسے اس مقام تک پہنچا دیا اور کہاں سے زندگی شروع کر کے کہاں تک لے آئے۔

میں عمر کے جس حصہ میں ہوں میرے ارد گرد وہ تمام دوست احباب ہیں جن کے بچے، بچیاں کالج اور یوینورسٹیز میں پڑھ رہے ہیں۔  میں گزشتہ پندرہ سالوں سے بیرون ملک سفر کے دوران اور واپسی پر بھی اپنی حلقہ احباب کو تمام معلومات اور احوال بیان کرتی رہتی ہوں۔ ان کی طرف سے پوچھے جانے والے سوالات عموماً ویزا، ہوائی سفر، ان ممالک میں رہائش اور دیگر سہولیات کے بارے میں ہوتے یا کچھ کھانے پینے کے شوقین وہاں کے ہوٹل اور ریسٹورنٹس کا احوال جاننا چاہتے تھے، کچھ دلکش مناظر کی تصاویر دیکھتے اور اکثر لوگ ان ممالک کے کلچر پر سوال کرتے۔ اس بار معاملہ مختلف ہے۔ میرے کزنز اور دوستوں نے ذیادہ تر سوالات یہاں کے کالجز اور یونیورسسٹیز کے بارے میں کیے۔ میں واضح طور پر دیکھ سکتی ہوں کہ میرے دوست احباب اپنا آپ بھلا کر اپنی اولاد کے مستقبل کی فکر میں لگے ہوئے ہیں۔

یہ ایک عجیب امرہے۔ والدین کسی بھی دور اور خطہ سے ہوں انھیں اپنی اولاد کے مستقبل کو سنوارنے کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے لیے سوچنا کم کرتے چلے جاتے ہیں اور اولاد کے لیے سوچنا اور فکر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ فکر ان کے دل و دماغ ہر جنون کی طرح سوار رہتی ہے۔ جوانی کے عالم میں جس جوش و جذبہ سے انھوں نے اپنے لیے کاوش کی، اب وہ اس سے دگنی کاوش اپنے بچوں کے لیے کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ہر طور یہ امر یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ان کے بچے ایک اچھی زندگی گزاریں۔اکثر بچوں کی خوشی، ان کی اپنی خوشی کے آڑے بھی آجاتی ہے لیکن وہ اپنے دلوں ہر پتھر رکھ کر بچوں کو اپنی نظروں سے دور کرنے تک کو تیار ہو جاتے ہیں۔

اولاد کبھی بھی نہیں سمجھ پاتی کہ والدین یہ سب کیوں کرتے ہیں۔ ان کی محبت اور شفقت، ان کی دعاؤں اور ان کی بے لوث کاوشوں کے ذریعے آگے بڑھنے والے بچوں میں بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو حقیقی طور پر ان کے مشکور ہوں اور اس تمام عمل میں والدین کو پہنچنے والے درد اور تکلیف کو جان سکیں۔ والدین اپنے اوپر کیا کیا جبر کرتے چلے جاتے ہیں اور اپنی اولاد کو کیا کیا سہولت نہیں پہنچاتے۔ ان کی ہر ایک سانس میں اولاد کے لیے نیک خواہشات بسی ہوتی ہیں۔ ایسے میں جب وہ اولاد کی طرف سے ناکامی کی خبر سنتے ہیں تو ان کے دل ٹوٹ جاتے ہیں۔ جب اولاد کی لا پرواہی اور بے رخی دیکھتے ہیں تو ان کی آنکھوں کے خواب مندمل ہونے لگتے ہیں۔ اولاد جب ان کے سامنے کھڑے پو کر کہتی ہے کہ آپ نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے تو وہ یک ٹک دیکھتے رہتے ہیں اور بول نہیں پاتے کہ جاؤ جا کر آئینہ دیکھو۔

میں نے پاکستان میں اکثر اور پاکستان سے باہر بھی بہت سے بزرگ والدین کو پریشان حال پایا۔ میں نے انھیں بہت عالیشان محلوں میں اکیلے اور چھوٹے چھوٹے گھروں میں کسی کونے میں تنہا دیکھا ہے۔ میں نے انھیں سڑکوں پر بھیک مانگتے اور ضعیف عمر میں چھابہ لگاتے دیکھا ہے۔ جب بھی رک کر ان سے سوال کرتی ہوں تو پتا چلتا ہے جوان اولاد نے مجبور کر دیا ۔ زندگی تو گزارنی ہے نا، جیسے تیسے زندگی کے دن پورے کر لیں گے۔ میرا دل بیٹھ جاتا ہے۔ میں گھنٹوں یہ سوچتی ہوں انھوں نے اولاد کی پیدائش پر کس قدر خوشیاں منائی ہوں گی۔ ان کے لیے کیا کیا نہ کیا ہو گا۔ کیسے کیسے سپنے دیکھے ہوں گے لیکن کہاں چلی جاتی ہے وہ اولاد۔ کیوں نہیں سمجھ پاتی کہ ان کے بوڑھے والدین کو اب کچھ بھی نہیں چاہئے سوائے ان کے ساتھ کے۔

اگر آپ کے والدین حیات ہیں اور بڑھاپے کی طرف جا رہے ہیں تو خدارا ان کا ساتھ دیجئے گا، ان کا سہارا بنئیے گا، انہوں نے زندگی میں آپ پر سختی بھی کی ہو گی، دوسرے بہین بھائیوں کی نسبت آپ پر کبھی شفقت کم بھی برتی ہو گی، کبھی نالاں بھی ہوئے ہوں گے لیکن ایک بار آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود پر نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ آپ کا تمام تر وجود ان کی وجہ اسے قائم دائم ہے۔ ان کا شکریہ ادا کیجئے۔ ان کے ساتھ رہیں۔ ان کا درد کم ہو جائے گا۔ ان کو گلے لگائیں اور ان کا ماتھا چومیں۔ کیونکہ جب وہ نہ رہیں تو زندگی کی تپش بڑی شدید ہو جاتی ہے۔ اللہ سب والدین کو اجر عظیم دے اور ہر اولاد کو ان کے لیے باٰعث راحت بنائے آمین۔  

 

آج کا محنتی انسان

 

میں ایک بے حد محنتی انسان ہوں صبح آٹھ بجے دفتر لگتا ہے اس لیے میں سوا آٹھ گھر سے نکلتا ہوں اور پھر پندرہ منٹ میں دفتر پہنچنا کس قدر کٹھن ہے اس کا اندازہ آپ نہیں لگا سکتے۔ ہر کسی کو اسی ایک گھنٹہ میں گھر سے نکلنا ہوتا ہے۔ آٹھ بجے سے پہلے نکلو تو مصیبت کیونکہ سڑکوں پو سکول کی بسوں، ویگنوں اور گاڑیوں کا رش ہوتا ہے۔آٹھ بجے کے بعد تو لگتا ہےکہ جیسے دنیا ہی امڈ آتی ہے۔ پھر کوئی راستہ ہی نہیں دیتا۔ میں نے ہر طرح سے ڈرائیو کر کے دیکھا ہے، نہ تو دائیں سے راستہ دیتے ہیں نہ بائیں سے، لیکن اللہ خوش رکھے میرے استاد کو اس نے صرف ایک ہی بات سکھائی تھی کہ بچہ کمال یہ ہے کہ راستہ لے لو چاہےکسی بھی طرح۔ میں نے آج تک نہ تو بیک ویو مرر استعمال کیا ہے نہ ہی کبھی انڈیکیٹر لگایا ہے اور سپیڈ تو کم کرنا میں ایسے سمجھتا ہوں گویا میری زندگی کے اصولوں پر سودا بازی کی جا رہی ہو۔

کسی نہ کسی طرح میں نو بجے تک دفتر پہنچ ہی جاتا ہوں اور اس پر میرا افسر اس قدر برہم ہوتا ہے کہ نہ پوچھیں۔ بھلا بتاو آٹھ بجے کون پہنچ سکتا ہے اس ٹریفک میں۔ لوگ تو نو بجے تک بھی نہیں آ پاتے۔ یہ شخص کیونکہ دفتر کے قریب رہتا ہے نا اس لیے کبھی نہیں سمجھ سکتا ہمارے مسائل کو۔ اب میں اگر دفتر میں ناشتہ منگوا لوں تو برا اور کیفے ٹیریا چلا جاوں تو نہ پوچھیں۔ کہتا ہے ناشتہ گھر سے کر کے آیا کریں۔ اس کو کوئی سمجھائے کہ میں اپنی بیوی پر یہ ظلم نہیں کرسکتا۔ وہ صبح صبح بچوں کو تیار کرتی ہے، ان کو ناشتہ کرواتی ہے اور نوکری پر جان سے پہلے انہیں سکول بھی چھوڑتی ہے۔ پھر میں گھر سے نکلتا ہوں۔ اب میں تو ناشتہ نہیں بنا سکتا نا۔

خیر دفتری کام کا تو نہ ہی پوچھیں کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ ایک کے بعد ایک فائل لے آتے ہیں یہ کلرک اور اتنی غلطیاں کرتے ہیں کہ تین تین بار پرنٹ نکلوانا پڑتا ہے۔ میں نے انھیں کئی بار تاکید کی کہ میری ای میل بھی پرنٹ کر دیا کریں مگر وہ بھی مجھے روزانہ کہنا پڑتا ہے۔ پھر میں زبانی بتا بھی دیتا ہوں کہ کیا جواب دینا ہے تو بھی کہتے ہیں سر لکھوا ہی دیں۔ چائے پینے کے لیے بھی انسان کو انتظار کرنا پڑتا پے کہ کب نائب قاصد آئے تو چائے کا ایک کپ نصیب ہو۔ یہ نئی نسل ان کا دماغ خراب کر رہی ہے۔ کہتے ہیں سر نائب قاصد دفتری کام کے لیے ہے چائے پانی پلانے کے لیے نہیں۔ اب بندہ پوچھے کیا اس کام کے لیے ملازم ہم گھر سے لائیں گے؟

اب بندہ پوچھے گھرکا بل جمع کروانا ہو تو انسان کیا کرے۔ میں نے ایک دو بار خود گاڑی نکالی تو افسر برا منا گئے کہ دفتری اوقات میں کہاں جا رہے ہو اور اگر نائب قاصد کو بھیجو تو فرماتے ہیں یہ سب ذاتی کام ہیں۔ میرا ایک کولیگ اوور سمارٹ ہے، فرماتا ہے آن لائن بل جمع کروا یا کرو۔ جس دن سائبر کرائم کا رونا روتا ہوا آَئے گا اس دن پوچھوں گا۔ میں نے تو آج تک ای ٹی ایم بھی نہیں بنوایا۔ اسی لئے تو سکھی ہوں۔ یہ نئی ٹیکنالوجی صرف سر درد ہے یا پھر اس نسل کی تبای اور بے حیائی کا زریعہ۔ اللہ بچائے اس شر سے۔ ہم تو جاہل ہی اچھے۔

اب سنیں ہمارے افسران اعلی کا حال! میں نے پچھلے سال چھٹی مانگی تو فرمانے لگے تم پہلے ہی اپنی ماہانہ میعاد سے زائد چھٹی لے چکے ہو لہذا اب مزید گنجائش نہیں، میں نے اس کا آسان حل یہی سوچا کہ میڈیکل بھجوا دیا جائے اب اس میں قصور تو ان افسران کا ہے نا جو ہمیں جھوٹ بولنے پر مجبور کرتے ہیں۔ پھر فرماتے ہیں منسٹر صاحب نے آنا ہے۔ اس لیے سب لوگ اپنی اپنی فائلیں مکمل کر کے ہی گھر جائیں۔ میں نے دیکھا تو آدھے سے ذیادہ لوگ جا چکے تھے۔ پتا چلا ان فارغ لوگوں نے پہلے ہی یہ کام کر رکھا تھا۔ ظاہر ہے بھئی افسران کے ساتھ اچھے تعلقات کا کوئی تو فائدہ ہونا ہی تھا۔ ویسے میں بھی کم نہیں ہوں۔ کونسی دفتری سہولت ہے جو میں نے نہ لے رکھی ہو۔ تمام خاندان کے میڈیکل سے لے کر قرضہ سکیم تک کا فائدہ اٹھایا ہے میں نے۔ یہ دفتر چاہے بھی تو مجھے نکال نہیں سکتا۔

مجھے آج تک سمجھ نہیں آیا لوگ اللہ کا شکر کیوں نہیں ادا کرتے میں تو درفتری خرچہ پر حج بھی کر چکا ہوں اور اس سال بھی گزشتہ تین سال کی طرح رمضان کا مہینہ سعودیہ ہی میں گزاروں گا۔ اس دنیا کے کام تو چلتے ہی رہیں گے۔ اصل تو آئندہ زندگی کا مال جمع کرنا ہے نا۔ عبادت ہی تو اصل ذریعہ ہے۔ اب تو لوگوں کو اس پر بھی اعتراض ہونے لگا ہے کہ میں لنچ بریک کے علاوہ آدھا گھنٹہ مسجد میں گزار دیتا ہوں۔ بس جی قیامت کی نشانیاں ہیں۔

میری میز پر ایک بھی فائل نہیں اور میرا افس میرے بارے میں کہتا پھرتا ہے میں کام نہیں کرتا۔۔۔محنتی بندے کی تو قدر ہی  نہیں اس معاشرے میں۔

 

 پروفیشنلزم

 

ہمارا واسطہ سارا دن مختلف کام کرنے والوں سے پڑتا ہے۔ پاکستان ایک بہت بڑی آبادی کا ملک ہے۔ یہاں باقی قدرتی وسائل اپنی جگہ، افرادی قوت بھی فراوانی میں موجود ہے۔ مختلف شعبوں میں کام کرنے والے افراد حسب توفیق اپنا اپنا کام سر انجام دے رہے ہیں۔ حسب توفیق کہنا اس لیے ضروری ہے کہ سرکاری دفاتر میں اس توفیق کا فرق فرداً

فرداً واضح نظر آتا ہے۔

شروع کرتے ہیں سڑک کی صفائی کرنے والے خاکروب سے۔ میں نے اسلام آباد میں صبح سویرے سڑکوں کی صفائی ہوتے دیکھی ہے۔ یہ وہ عملہ ہے جو انتہائی تندہی سے اپنے اپنے حصے کا بنیادی کام انجام دے کر سمجھتا ہے کہ فرض پورا ہو گیا۔ بازاروںاور گلیوں میں پڑا رہ جانے والا کوڑا کس کی زمہ داری ہے اس کا جواب ان میں سے کسی کے پاس نہیں۔

یہ ہیں ٹریفک پولیس کے اہلکار جو اس وقت تک آگے تشریف نہیں لاتے جب تک ٹریفک پھنس نہ جائے اور گزشتہ ایک ماہ میں راولپنڈی سے اسلام آباد آتے ہوئے کبھی کار اور کبھی موٹر بائیک کو سڑک پر الٹ سمت میں چلاتے افراد با رہا نظرآئے میرے لیے حیرانی صرف یہ نہ تھی کہ یہ الٹ سمت میں کیوں جا رہے ہیں بلکہ یہ تھی کہ عین اسی چوک میں ٹریفک پولیس کے چاک و چوبند اہلکار بھی موجود تھے جو شائد صرف ڈبل سواری روکنے پر معمور ہیں باقی کے قوانین کا اللہ حافظ ۔

اب ملتے ہیں گیٹ پر کھڑے چوکیداروں سے۔ ان کو یہ تو علم ہے کہ انہوں نے ہر گاڑی والے کو روکنا ہے اور ایک آلہ کی مدد سے اس کی نچلی سطح کا جائزہ لینا ہے لیکن یہ معلوم نہیں کہ اس کا جائزہ لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور نہ ہی یہ جانتے ہیں کہ گاڑی کی ڈگی اور کھڑکیوں سے بھی کبھی کبھار جھانک لینا چاہئے اور یہ کہ کسی بھی مسکراتے ہوئے افسر سے چائے کے پیسے مانگنا ان کے فرائض منصبی میں شامل نہیں۔

کیا آپ نے کسی بنک کے ملازمین سے صبح سویرے بات کر کے دیکھا ہے۔ مجھے اکثر انگلینڈ اور امریکہ کے بنک ملازمین یاد آ جاتے ہیں۔ گو کہ میں وہاں طالب علم تھی مگر وہ لوگ مجھے ایسے ملتے اور اس انداز سے سروس دیتے گویا میرا اکائونٹ ہی سب سے بڑا ہے۔ یہاں یہ حال ہے کہ اپنے اکاؤنٹ کی تفصیل لینا بھی ایسا ہے جیسا کہ میں کوئی زاتی فائدہ حاصل کر ری ہوں اور وہ بھی ناجائز۔

مجھے مہینے میں ایک بار پارلر جانے کا اتفاق ہو ہی جاتا ہے۔ پارلر میں موجود بچیاں اپنے کام میں خاص دلچسپی رکھتی ہیں اسی لیے وہ آپ کی ایک نہیں سنیں گی اور ہر کام میں اپنی تسلی کا خاص خیال رکھیں گی۔ پھر اگر آپ انہیں بتانے کی کوشش کریں تو وہ آپ کو ایسے دیکھیں گی کہ آپ ان کے کام میں دخل اندازی کر رہی ہیں۔ پس خاموشی سے جو وہ کریں اس پر صبر شکر کرِیں۔

 ہسپتال میں دیکھ لیجئے یہ ہیں نرسز اور سٹاف۔ یہ مریض کے ساتھ آنے والوں کو ایسے ہی احکامات جاری کرتی ہیں جیسے افسران ان کو جاری کرتے ہیں۔ لگتا ایسا ہے کہ مریض کے بیمار ہونے میں اس کے ساتھ آنے والوں کا قصور ہے اگر آپ پریشانی کا اظہار کر بیٹھیں یا ان کو جلدی کرنے کا کہہ ڈالیں تو آپ نے اپنی زندگی کی بہت بڑی غلطی کی ہے کیونکہ یہ اب آپ کو تمام عمر کے لیے سبق سیکھا کر ہی چھوڑیں گی۔ ٹیکہ لگانے کے بعد سوئی توڑنا کیوں ضروری ہے یہ انہیں معلوم ہے لیکن وہ کیوں نہیں توڑتی یہ پوچھنے کی غلطی آپ نہ کیجئے گا۔

فون پر ایمبولینس منگوانے کی سہولت موجود ہے یہ وہ سہولت ہے جو آپ کو ایک ایسے شخص سے بات کرنے پر ملے گی جو اردو بھی بمشکل سمجھتا ہے۔ آپ اسے گھر کا پتا سمجھانے کی کوشش کرتے کرتے خود بھی مریض ہو جائیں گے۔ پھر وہ آپ سے کہے گا کہ میں مین روڈ تک گاڑی بھیج دیتا ہوں آگے سے آپ خود ہی لے جائیے گا۔ آپ لاکھ سمجھائیں کہ آپ کے گھر پر کوئی نہیں لیکن وہ آپ کو سمجھا ہی لیں گے کہ مریض کو اٹھا کر ایمبولینس میں ڈالنا آپ ہی کی زمہ داری ہے کیوںکہ سوائے ڈرائیور کے اور کوئی نہیں آ سکتا ہے۔

اب آخر میں کسی فاسٹ فود کے سٹاف سے بھی ملتے چلئے اگر آپ کو میز پوری طرح صاف مل جائے تو غنیمت اور پھر اگر انھوں نے آپ کی پوری بات سن لی تو کمال۔ فوڈ فاسٹ ہو یا نہ ہو یہ سٹاف یقیناً فاسٹ ہے اگر آپ کو وہی کھانے کو ملا جو آپ نے آرڈر کیا تھا تو بغیر اس بات پر غور کیے کھا لیجئے گا کہ کولڈ ڈرنک کتنی کولڈ ہے۔

ان تمام باتوں کا تذکرہ کرنا صرف اس لیے ضروری تھا کہ آج جب ہم سب کرکٹ ٹیم پر تبصرے کر رہے ہیں تو ایک نظر اپنے آس پاس دوڑا لیں۔ کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ وہ پرہفیشنلزم ہے کہاں جس کی ہمیں تلاش ہے۔ کسی بھی شعبہ میں دیکھ لیں ہمیں ایک معاشرتی رویہ عام نظر آئے گا وہ یہ کہ جتنا کام کر دیا ہے اس پر شکر کریں ، مزید امید نہ رکھیں ، اور نہ ہی  ہمیں بتانے کی کوشش کریں کہ ہماری پرفارمنس میں کوئی کمی تھی ۔

 

جو بو یا ہے وہ ہی کاٹنا ہو گا

ماں باپ ہوں یا اساتذہ ہر نسل اپنے سے آگے آنے والی نسل کو برا بھلا کہنا اپنا فرض سمجھتی ہے۔  زرا دیکھیں یہ جو نسل اس وقت جوان ہو چلی ہے اس کو ہم نے سکھایا کیا ہے۔سب سے پہلے تو ہم اپنے بچوں کی پرورش گھر پر ہی کرتے ہیں نا۔ چند روز قبل میں نے ایک خاتون کو ٹیکسی میں اپنے بچے کے ساتھ جاتے دیکھا۔ بچہ مالٹا کھا رہا تھا اور والدہ چھلکے کھڑکی سے باہر پھینک رہی تھی۔ یہ وہی ماں ہے جو بچے کو بات بات پر نصیحتیں کرتی ہو گی لیکن اس کے سامنے یہی ماں کیا مثال قائم کر رہی تھی یہ اس نے نہیں سوچا۔ ایک باپ کو میں نے بچے سے کہتے سنا آئندہ مار کھا کر گھر نہ آنا۔ یہ وہی باپ ہے جو ملک میں پیدا ہونے والے امن و امان کے مسائل پر ہر کھانے کی میز پر واویلا کرتا ہو گا۔

یہی والدین اپنے بچوں کے سامنے لڑتے ہیں ان کے سامنے ان کے معتبر رشتوں کے بارے میں الٹی سیدھی گفتگو کرتے ہیں۔ جن رشتہ داروں سے ماں باپ کی نہیں بنتی وہ دنیا کے فضول ترین لوگ ہیں اوران سے ملنا یا ان کی طرف مائل ہونا ماں باپ کی نافرمانی ہو گی یعنی گناہ کے زمرے میں آئے گی۔ ایسے کئی گھرانے ہمارے آس پاس ہی پائے جاتے ہیں جہاں مائیں ساری عمر بچوں کو یہ جتلاتی ہیں کہ ان کا باپ ایک بے وفا یا شرابی ہے اور اسی باپ کے سائے میں نہ صرف بچوں کو پالتی ہیں بلکہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ باپ سے بد تمیزی کرنا کسی طرح جائز نہیں۔ پس مرد کچھ بھی کرے اس کو عزت مل جائے گی، یہ سبق وہ خود ہی اپنے بچوں کو دے ڈالتی ہیں۔

ہم جس دن سکول میں بچوں کو داخل کرواتے ہیں تو اسی دن ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ اب یہ بچہ خود سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہنے والا۔ اس نے تو ایمان لے آنا ہے اساتذہ کی کہی ہوئی بات پر، یا کتابوں میں لکھی ہوئی بات پر۔ سکول میں دس سے بارہ سال تک انہیں اندھی تقلید کا سبق روز ملتا ہے۔ وہ آنکھیں کان اور ناک بند کر کے رٹا لگاتے ہیں۔ جو کوئی انھیں خود سے کچھ سوچنے سمجھنے اور لکھنے کا بولے وہ اچھا استاد نہیں ہوتا، کیونکہ سکول کی انتظامیہ اور والدین دونوں کی نظر میں اسے پڑھانا نہیں آتا اس لیے وہ بچوں سے ہی سارا کام کروانا چاہتا ہے۔

جب یہی بچے کمرہ جماعت میں ہوتے ہیں تو ان کے روئیے اور ہوتے ہیں اور سکول کے میدان میں یا گیٹ سے باہر آتے ہی ان کی حرکات و سکنات اچانک بدل جاتی ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے اسلام آباد سے نکلنے والی گاڑیوں کے ڈرائیورحضرات فیض آباد سے اترتے ہی گاڑی کی لینز بے وجہ بدلنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان بچوں کے خیال میں تنظیم صرف صبح کی اسمبلی میں لائن میں کھڑے ہونے کو کہتے ہیں۔ بینک، بس یا ٹکٹ گھر کے باہر لائن بنانا کوئی خاص ضروری نہیں۔ سگریٹ پینا صرف اساتذہ اور والدین کے سامنے منع ہے۔ سکول کی اور گھر کی چار دیواری سے باہر اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

ہمارے ہاں ایک فقرہ اکثر سننے کو ملتا ہے اور وہ یہ کہ ہم تعلیم تو دے رہے ہیں تربیت نہیں کر رہے۔ میری ناقص رائے میں حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہم صرف تربیت کرتے رہتے ہیں۔ جس سے بچہ خاص صورتحال میں، خاص طرح کا رد عمل کرنا سیکھ جاتا ہے۔ ہم سزا اور جزا کے زریعے بچوں کو ڈراتے اور خوش کرتے ہیں ۔ ہم ان کو جانوروں کی طرح سدھانے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ یہ اشرف المخلوقات ہیں۔ ان کے پاس دل و دماغ ہیں جن پر ہم خود قفل لگاتے ہیں اور پھر شکوہ کرتے ہیں کہ آج کل کے بچے ایسے کیوں ہیں؟ ہم نے اس نسل کو صرف اسکرپٹ یاد کرنا سکھا یا ہے۔ انہیں رول ماڈل کے چکر میں ڈال کر کسی نہ کسی کی تقلید کرنے کی پختہ عادت ڈال دی ہے۔ یہ کسی کے بھی پیچھے چل پڑتے ہیں۔ پھر چاہے وہ انہیں لیاقت باغ لے جائے یا ڈی چوک، یہ سمجھے بوجھے بغیر ایک دھن کے پیچھے چلے جاتے ہیں۔ یہ سب ہمارے گھروں اور درسگاہوں کی تربیت کا نتیجہ ہے جبکہ اگر انہیں تعلیم دی جاتی تو یہ بچے مختلف حالات میں سوچ سمجھ کر خود فیصلہ کرنا سیکھتے، تنقیدی سوچ رکھتے اور رائے دہی کے قابل ہوتے۔ ہر آنے والی نسل اپنی گزشتہ نسل کے اعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ ہم نے جو بویا ہے وہی کاٹیں گے نا۔۔۔

 

صفائی نصف ایمان ہے

 

صفائی نصف ایمان ہے اورہم اپنے ایمان کے نصف  ہونے پر ہی راضی ہیں لہٰذا ہمیں کیا ضرورت پڑی ہے مزید لالچ کی۔ ایک نظر اپنے ارد گرد ڈالیں! آپ کو اس بات کا شدت سے احساس ہو گا کہ اس قوم نے اپنی موت کے سامان خود ہی کر رکھے ہیں۔ میرا گزر راولپںڈی اور اسلام آباد کی سڑکوں اور گلیوں سے ہوتا ہے۔ اسلام آباد کے دو مختلف سیکٹر میں رہائش کے بعد مجھے شدت سے احساس ہوا کہ تعلیم نے بھی اس قوم کا کچھ نہیں بگاڑا۔

راولپنڈی کی تقریباً ہر مارکیٹ اور اسلام آباد کے اکثر مراکز میں آپ فروٹ چاٹ، دہی بڑے، جوس اور ملک شیک کے اسٹال دیکھتے ہیں۔ ایک تو میری سمجھ سے یہ باہر ہے کہ ان کو کس نے اجازت دے رکھی ہے فٹ پاتھ یا پارکنگ پر قبضہ کرنے کی اور سرِراہ کرسیاں میز لگانے کی۔ دوسرا ان کے آس پاس کہیں نہ کہیں ایک گندگی کا ڈھیر بنتا نظر آئے گا جس سے یہ صاف مکر جاتے ہیں کہ یہ ان کی وجہ سے بن رہا ہے۔ تقریباً تمام بڑے دکانداروں کے ساتھ بھی یہ مسئلہ ہے کہ وہ اپنی دکان کے اندر کی چمک دمک کا تو بہت خیال کرتے ہیں لیکن باہر ان کا ملازم صفائی کے بعد کوڑا کہاں گراتا ہے اس کے بارے میں سوچنا ان کا کام نہیں۔

اب دیکھتے ہیں گلیوں اور گھروں کے اندر۔ صبح صبح گھروں کا کوڑا باہر رکھا جاتا ہے تا کہ جمعدار اسے اٹھا لیں۔ لیکن ان سے پہلے کمر پر تھیلا لٹکائے کچھ بچیاں اور بچے اس کوڑے کی تلاشی لیتے ہیں اور اسے بکھیر کر چلے جاتے ہیں۔ اس کے بعد اگر جمعدار کو مزید دیر ہو تو گلی کے کتے بلیاں اپنا فرض ادا کرتے ہیں۔ پھر جمعدار یہ سوچتا ہے کہ اس گھر والے نے ، کبھی ایک پیسہ بھی فالتو نہیں دیا تو وہ فالتو کام کیوں کرے۔ لہذاجو کوڑا بیگ میں باقی بچا ہو وہ اٹھا لیا جاتا ہے، باقی کا نصیب چلنے والی ہوا اور پانی پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

 ہفتہ اور اتوار ہی دو دن ہیں جو مجھے گھر پر گزارنے کو ملتے ہیں اور وہ بھی ہمیشہ نہیں۔ ان دو دنوں میں لگتا ہے پاکستان میں پانی کی بہت فراوانی ہے۔ ہر گھر کی خواتین یا ملازمین پانی کسی نواب زادہ کی دولت کی طرح لٹاتی ہیں۔ ہر گھر سے پانی بہتا ہوا گلی میں نکلتا ہے اور پھر اس سے آگے اس پانی کی قسمت ہے کہ گلی کا نکاسی کا نظام کیسا ہو اور گلی میں کتنے گڑھے ہوں۔ ہو سکتا ہے اگلے جمعہ تک اس پانی کو خشک ہونا نصیب ہو ہی جائے اور اگر کسی گھر کی ملازمہ صفائی کرنے کی بالکل عادی نہیں تو اس گلی میں پانی کا مستقل قیام ہو گا۔ آج کل مچھروں سے بچاؤ کی مہم جاری ہے ۔ لیکن گلیوں پر پانی کے ان چھوٹے چھوٹے تالابوں کے مچھر ہمارا منہ چڑاتے رہتے ہیں۔ آج کل میں ایک فلیٹ میں رہائش پزیر ہوں۔ کل اچانک ہمارے فائبر گلاس کے شیڈ پر ڈھیروں ڈھیر بارش ہوئی۔ پتہ چلا کہ اوپر کے فلیٹس میں رہائش پذیر افراد نہیایت صفائی پسند واقعہ ہوئے ہیں۔ ویسے میری مرحوم والدہ فرماتی تھی کہ کسی گھر کی صفائی کا معیار کار پورچ اور ڈرائنگ روم سے نہیں بلکہ واش روم اور کچن سے ہوتا ہے۔ انہیں فلیٹس میں اور گھروں میں رہنے والے جب گھر چھوڑتے ہیں تو کبھی دیکھئے گا کہ اندر کیا حالت ہے۔

ایک نگاہ اپنی کار کے اندر بھی دوڑا لیجئے۔ آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ گرمیاں شروع ہو چکی ہیں اور وہ تمام جوس کے ڈبے یا ٹشو پیپر یا کوئی بھی اور ایسی ہی قیمتی اشیا جن سے آپ کو کوئی خاص جذباتی لگاؤ ہے یا کوئی بھی اور وجہ ہے جس کے لیے آپ نے اسے سنبھال رکھا ہے۔ اب وہ کٹھن گھڑی ہے کہ اسے نکال کر پھینک دیا جائَے۔ مجھے اپنی گاڑی میں بٹھاتے ہوئے اکثر لوگ صفائی نہ ہونے کا یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ بچوں والوں کی گاڑیاں ایسی ہی ہوتی ہیں۔۔۔میں سوچتی ہوں اللہ صاف ستھرے لوگوں کو بچے دے اور انہی کو گاڑی دے۔ گاڑی پربارش کے قطرے ہم برداشت نہیں کرتے لیکن اندر سے اس کا کیا حال ہے اس سے ہمیں غرض نہیں۔

ہماری تمام تر توجہ ظاہری خوبصورتی پر ہے۔ ہم اپنی جسمانی صفائی سے بھی اسی طرح لاپرواہ ہیں۔ اکثر لوگوں کے قریب بیٹھنا تو دور، ان کے قریب سے گزرتے ہی آپ کو یہ خیال آتا ہے کہ یہ نہ تو کوئی مزدور ہے نہ دن بھرورکشاپ پر کام کرنے والا ملازم۔ یہ ایک دفتر، ہوٹل، بینک یا ایک پارلر کا ملازم یا ملازمہ ہے اگر یہ اچھی طرح صفائی ستھرائی کا خیال کرے تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ اس شخص سےایسی ہمک آئے اور تو اور شادی بیاہ کے موقع پر تیار ہوتے ہوئے بھی لوگوں کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ صرف بال بنوانا اور میک ہی لازم نہیں آپ کی ذاتی صفائی بھی ضروری ہے۔

ہم نے اپنے بچوں کو یہ تو سکھا دیا ہے کہ وہ انگریزی اور اردو میں صفائی پر مضامین لکھیں لیکن صاف رہنا اور اپنے آس پاس کے ماحول کو صاف رکھنا کیوں ضروری ہے یہ سکھانا شاید بھول گئے یا شاید بچوں نے ہماری حرکتوں سے زیادہ سیکھا اور کتابوں سے کم۔ یہ بھی ایک اہم موضوع ہے لیکن اس پر پھر کبھی بات کریں گے۔

 

 ہم کہ ٹھہرے مسلمان

 

میں ابھی اپنی والدہ کی یادوں میں گم اپنے گھر کی گلی سے باہر نکلی تو نظر سامنے پلازہ کے باہر سڑک کے کنارے زمین پر بیٹھی ایک عورت پر پڑی۔ جیسے ہی میری کار اس کے قریب پہنچی تو وہ مجھے دیکھ کر دل کھول کر مسکرائی۔ میں کبھی سڑک پر گاڑی سے بے وجہ نہیں اتری۔ اس کی مسکراہٹ نے مجھے اپنی جانب کھینچ لیا۔ میں کار سے اتری اور اس کے پاس زمین پر جا بیٹھی۔ میں نے اس بزرگ عورت سے پوچھا آپ کو یہاں کون چھوڑ گیا ہے؟ وہ صحیح سے بول بھی نہیں سکتی تھی۔ شاید دماغی توازن بھی  درست نہیں تھا۔ اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتی تھی۔ اس کے بال مکمل سفید اور منہ میں دانت بھی نہیں تھے۔ اس نے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں بتایا کہ وہ گر گئی تھی۔ اس کی ٹانگ نہیں چلتی۔ میں اس کے پاس بیٹھے رو پڑی۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ میں کیا کروں؟ جذبات کی رو میں میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اس کو کچھ پیسے دئیے۔ بوجھل قدموں سے اپنی کار میں جا بیٹھی اور پھر اسلام آباد پہنچنے تک آنسو تھے کہ تھمتے نہ تھے۔ میں یہ بتانے سے قاصر ہوں کہ اس کی معصوم مسکراہٹ تھی، بالوں کا چاندی جیسا رنگ، یا میری اپنی والدہ سے والہانہ محبت، مگر کچھ تو ضرور تھا جس نے مجھے اس عورت کے درد کا شدت سے احساس دلایا۔

That’s the end of the free sample

You have read 12% of کیا اپ نے سوچا ہے؟. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • AFSHAN HUMA earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 500

See all editions, reviews and details

کیا اپ نے سوچا ہے؟ Buy — Rs 500