12% of the book — free to read
اٹھارویں صدی کے اوائل سے شمالی ہندوستان کے زرخیز اور مردم خیز خطے اودھ میں ایک ایسی تہذیب نے جنم لیا ۔ جو انیسویں صدی کے وسط تک اپنے پو رے قد سے کھڑے ہو کر چہار دانگ عالم میں اپنی بے مثال حیثیت کو منوا رہی تھی ۔ لکھنؤ جس کا مر کز تھا ۔
یہاں جب وہ پو ری طرح اپنے عروج پر تھی ۔ توانیسویں صدی کے اوائل سے حا لات بدلنا شروع ہو ئے ۔اور اس پو رے نظام کو لپیٹ دیا گیا ۔ جس پر یہ ریا ست کھڑی تھی ۔نئے نظام میں فیو ڈلز کی
کو ئی گنجا ئش ہی نہیں تھی ۔ عوامی اور جمہو ری نظام نے پورے ملک کو ایک نئی راہ پر ڈال دیا ۔ اور اس نئی راہ پر چلنا ،پرانے لو گوں کی موت تھی ۔ سو لوگ کیا مٹے۔ پوری تہذیب ہی مٹ گئی ۔ اس ٹو ٹتی مٹتی اودھ شاہی تہذیب کی کہا نی ہے ۔ اودھ کے آ نسو ۔ جو لکھنؤکے امراء کے رومانوی مزاج اور ماحول میں بھر پور طور پر جوان ہو ئی ، اور عین جوانی میں لکھنؤ کے حالات بدلتے ہی جواں مرگی کا نو حہ بن کر رخصت ہو گئی ۔
اسی لکھنؤ کے چند شیشہ صفت ، نازک مزاج، محبت کرنے والوں کی پیچ در پیچ کھلتی داستان عشق
جس کے آ خری آ خری کردار اکیسویں صدی تک زندہ رہے ۔اور انکی داستان حیات کو اخبارات اور ٹی وی چینلز نے عام کر نے کی بہت کو ششیں کیں ۔ لیکن ان شاہی اور دربا ری خو بو رکھنے والے آبگینہ صفت لو گو ں کو شکست نہ دے سکے۔وہ خاک نشیں ہو ئے بھی تو ایسے ، کہ مر قد کا نشان بھی نہ چھو ڑا ۔
صرف چند آ نسوؤں کا نذرانہ لے کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کھو گئے ۔
پروین زبیر
۲۴۔۳۔۲۲
دریا ئے گو متی کے اس پار سورج غروب ہو چکا تو لکھنؤ کے محلوں ، حویلیوں اور امام باڑوں کے جھروکوں میں روشنیاں جل اٹھیں۔ نوابوں صاحبزادوں کی ٹم ٹمیں،بگھیاں ،فٹن اور پالکیاں سڑک پر اتر آ ئیں۔ لکھوری اینٹوں کی سڑکوں پر انکے گھوڑوں کی ٹاپیں ایک مخصوص تال میں بجنے لگیں ۔ کوچبانوں کی ہٹو بچو کی آوازوں سے فضا جیسے جاگ سی گئی ۔
اجی ہٹئے گا مہربان ۔ ذرا بچ کے قبلہ ۔ذرا دھیان سے صا حبان۔ ً
شام کو ہو نے والے کیوڑے اور گلاب پانی کے چھڑکاؤ سے فضا میں اب تک مٹی کی سوندھی خوشبوچکرا رہی تھی ۔اودھ کی شام جوان ہو رہی تھی ۔ہر طرف پھو لوں اور عطر کی خوشبومشام جاں کو تر و تا زہ کر رہی تھی ۔
پھرمو تئے کے ہار اور گجرے بیچنے والے ہر ٹم ٹم ، بگھی اور پالکی کے ساتھ تھوڑی دور تک چلتے ۔
اجی حضور ! آج کیا خالی ہاتھ جا ئیے گا۔ لا ئیے آپکی کلا ئیوں پرگجرے سجا دوں ۔اصلی قنوج کے بیلے اور جونپور کے گلابوں سے گو ندھے ہو ئے ہیں۔ یہ گلے کے ہار بھی آج بہت خاص ہیں۔تازہ کلیوں سے گندھی یہ سہہ لڑی تو خا ص حضور کے لئے ہی بنوائی ہے ۔ جیسے جیسے رات جوان ہو گی ۔یہ کلیاں بھی گھونگھٹ کھول کرآپکی خدمت میں آداب بجا لا ئیں گی ۔خو شبو سے آپکی مشام جاں
تر و تا زہ ہو جا ئے گی ۔ ذرا ملا حظہ تو کیجئے سرکار ۔ ً
وہ ہا تھ میں مو تئے،چنبیلی کے ہار اور گجرے سجا ئے ٹم ٹم اور بگھیوں کے ساتھ ساتھ کچھ دیر چلتے اور اپنی
لچھے دار باتوں میں الجھا کر وہ پھول بیچ دیتے ۔ انھیں قیمت کے ساتھ آنہ دو آنہ بخشش بھی سا تھ مل
جا تی ۔تو وہ جھک کر آ داب بجا لاتے ہو ئے دور ہٹ جا تے اور سواری چلی جا تی ۔
نخاص بازاراور چوک میں مو جود دوکا نوں سے کباب بھو ننے اور شنگرفی شیر مالوں کی خوشبو دھویں کے ساتھ اٹھتی اور ہر سو پھیل کر ہر ایک کو مجبور کرنے لگتی کہ چلو ۔ سرخ سکے ہو ئے شیر مال اور ان پر دیسی گھی کا بھرپور ڈباؤ۔کبابوں کی سو ندھی اور اشتہا انگیز خو شبو۔ بڑے بڑے سرخ گھڑوں پر پڑے ہو ئے موتیا چنبیلی کے گجرے اور اس میں مو جود بادام پستے اور با لا ئی سے بنی ٹھنڈی نمش۔ایسا ٹھنڈا میٹھا ذا ئقہ کہ لگتا تھا سیدھی جنت سے اتاری گئی ہے ۔
سڑکوں پر اترنے والی اکثر بگھیوں اور ٹم ٹموں کا رخ چہارباغ کی جانب ہو تا تھا ۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں دن سو تے اور راتیں جا گتی تھیں۔ سارے بالا خانے روشن اور سرتال کی بند شوں سے آ باد ہو تے تھے مٹھائی ،پھول گجرے اور پانوں کی دوکانوں پرایک خلقت ٹو ٹی ہو تی ۔کہ ہر بالا خانے پر آ نے والے مہمانوں کی توا ضع انہی سے ہو تی ۔ تو کو ٹھوں سے آ نے والے با نکی ٹو پی سنبھا لتے ،ہا تھ بڑھا بڑھا کر ہا ہا کار مچاتے اورہر طرف جلدی کی ہا ئے ہا ئے مچی ہو تی تھی ۔
لال باغ ، انگوری باغ ، موتی باغ اور بلند باغ اپنی خوبصورتی اور سر سبزی میں بے مثال تھے ۔ ان کے بیچ میں سر اٹھا ئے کھڑا دولت خانہ تھا ۔ وہ خاص محل جس میں آخری تاجدار اودھ نواب واجد علی شاہ کی بچی کھچی آل اولاد اب تک آ باد تھی ۔ چالیسویں کی دھائی کے اوائل میں بچے کھچے چندنوابزادے ۔ نوابزادیاں اور انکے اہل و عیال آبا د تھے ۔ان محلوں کے پرا نے باسیوں میں سے زیادہ تر انگریزوں کے ہا تھوں قتل ہو گئے ۔کچھ انکے غضب سے بچنے کے لئے ادھر ادھر چھپ گئے یا پھر نیپال چلے گئے انھیں نہ تو کو ئی ہنر آ تا تھا ۔ اور نہ ہی کو ئی کام ۔ کہ رو زی اور بسر اوقات کے لئے کچھ کما لیں ۔ پھر رہی سہی کسر انکی فطری آ رام طلبی اور کم ہمتی نے پو ری کردی ۔ ان میں سے اکثر بھیک مانگتے دیکھے گئے ۔
نواب شجاع الدولہ کی پینتیس ہزار فوج جب انگریزوں کی بیس ہزار فوج سے شکست کھا گئی ۔ توساری ریا ست اودھ شا ہی انگریزوں کے عتاب کا شکار ہو کر پو ری طرح برباد ہو گئی ۔ بڑے بڑے نواب اور نوابزادے دنوں میں بھکا ری ہو گئے ۔ تب انکے صاحبزادے آ صف الدولہ نے بنگلہ فیض آباد کو
خیر باد کہہ کر لکھنؤ کو اپنا پا یہ تخت بنا نے کا فیصلہ کیا ۔ ہر طرف شرفاء کے خاندان کے خاندا ن بے بسی اور
زوال کی تصویر بنے ۔ ادھر ادھر منہ چھپا ئے پھر رہے تھے ۔ کہ کو ئی انھیں ان حا لوں میں دیکھ نہ لے ۔
انھوں نے اعلان کر دیا کہ جہاں تک زمین نظر آ تی ہے ۔ عما رتیں بناتے جا ئیے ۔ ہم اسکی بہتر ادا ئیگی کریں گے ۔ چنا نچہ بہت سی عما رتوں کے ساتھ ساتھ بڑے امام با ڑے کی بنیاد رکھی گئی ۔ یہاں کام کے اوقات رات کے رکھے گئے ۔ تاکہ شرفاء اندھیرے میں پہچا نے نہ جا ئیں
بڑے بڑے نوابین بے نوا اور بے سا ئباں ادھر ادھر منہ چھپا ئے پھرتے تھے ۔ ان میں سے بہت سوں کو رات میں ،منہ چھپا کر اینٹیں ڈھو تے، بجری کی پراتیں اٹھاکر مزدوری کرتے دیکھا گیا ۔ لیکن روزگار کا آ سرا مہیا کر دینے پر نواب آ صف ا لدولہ کے لئے جھو لی بھر بھر دعا ئیں دیتے بھی دیکھے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دولت محل میں نواب واجد علی شاہ کی پہلی نکا حی بیگم عالم آرا کی آل اولاد رہتی تھی ۔ عالم آرا اپنی بے پناہ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھیں ۔ اور انکی یہ خو بصورتی انکی بیٹیوں اور بیٹوں سے ہو تی ہو ئی آج تک کی نسلوں کی پہچان بنی ہو ئی تھی ۔ یہ لوگ آج بھی اپنے حسب نسب ، جاہ و حشم اور بے داغ حسن و جمال کا مرقع تھے ۔ بیگم ثروت محل ، انکی چھوٹی بہن علیا حضرت محل ، بڑے بھا ئی حسن نجم ا لد ولہ اور ان سے چھو ٹے عباس وصف ا لد ولہ۔ یہ سب دولت محل کے ایک حصے میں مقیم تھے
جبکہ دولت محل سے متصل ایک وسیع و عریض محل تھا ۔ خاص محل۔ جس میں صفی الدولہ کے تین بیٹے اور چار بیٹیاں رہتی تھیں ۔ برجیس قدر ثانی ان میں سب سے بڑے تھے ۔
اس رات دولت محل کے وسیع و عریض ہال کمرے میں ما حول کچھ گرم تھا ۔ برجیس قدر ثانی کے گھر والے سترہ سالہ ثروت محل کے لئے انکا رشتہ لے کر آ ئے تھے ۔ جیسے ہی یہ بات کی گئی تو ایک نا گوار سی خا مو شی ہر طرف چھا گئی ۔ چہروں پر بد مزگی کے آثار صاف بتا رہے تھے کہ یہ بات اس محل میں
پسندیدہ نہیں سمجھی گئی ۔
کیا بات ہے ؟ آپ لوگ با لکل ہی خا موش ہو گئے ہیں ۔ کسی بھی را ئے کا اظہار نہیں کیا ۔ ہماری خواہش ہے کہ ثروت محل ہما رے گھر کو رونق بخشنے کے واسطے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے میرے برجیس قدر کی دلہن بن کر آ جا ئیں۔ ہم پلہ رشتہ ہے ۔ اس میں اسقدر سوچ بچار کی ضرورت تو نہیں ہے ۔ لیکن پھر بھی آپ کچھ تو کہیں ۔ ً
ً یہ برجیس قدر کی پھو پھی تھیں ۔جو انکی والدہ کے انتقال کے بعد سے یہیں رہتی تھیں ۔ اور وہی رشتہ لے کر آ ئی تھیں ۔
آپ جا نتی ہیں۔ کہ ہم بغیر مشورے کے آپ سے کو ئی بات کہہ نہیں سکتے ۔ آپ یہ رقعہ لے کر آ ئیں ۔ ہم نے آپکی پذیرا ئی کی ۔ لیکن جواب فوری طور پر دینے سے قاصر ہیں ۔ ہمیں کچھ وقت دیجئے۔ ہم چند روز میں کچھ فیصلہ کر کے مشا طہ کو رقعہ دے کر بھیجیں گے۔ اور ہاں ۔ یہ جو مٹھا ئیوں کے ٹوکرے ،پھل اور پھول آپ لے کر آ ئی ہیں ۔ انھیں واپس لے جا ئیے۔ رشتے کے با رے میں فیصلہ ہو نے کے بعد ہی انہیں قبول کیا جا سکتا ہے ۔ ً ثروت کے بڑے بھا ئی حسن نے نہایت نرم لہجے میں اپنی بات ختم کی اور اٹھ کر چلے گئے ۔
ارے میاں ! آپکی ہمشیرہ کے لئے اس سے بہتر رشتہ اور کون سا ہو سکتا ہے ۔ خاندان کا ہے ۔ ہڈی اور خون کے جوڑ کا کو ئی تردد نہیں ہو گا ۔نجیب ا لطر فین اور ہم پلہ حسب و نسب رکھنے والا ہے ۔ کوئی دور بھی نہیں جانا ہو گا آپکی بٹیا کو۔ اس سے بڑے محل میں جا ئیں گی رخصت ہو کر۔اور وہاں شہزادی بن کر رہیں گی ہمیشہ ۔ پھر سو چنا کیا ہے ۔ ؟ ً
پھو پھی حضرت نے با آواز بلند کہاتو خس کی چلمن کی آ ڑ میں کھڑی ثروت محل کے تن بدن میں آ گ لگ گئی ۔ انھیں برجیس قدر اور اسکے خاندان والے زہر لگتے تھے ۔ وہ بچپن سے دیکھتی آ رہی تھیں کہ انھوں نے اخلاقی دبا ؤ ڈال کر ، زور زبر دستی کرکے خاص محل پر قبضہ کر رکھا تھا ۔ حا لا نکہ یہ ان بہن
بھا ئیوں کا حق تھا ۔ انکا محل خاص محل کے مقا بلے میں بہت چھو ٹا تھا ۔ اور اتنا شا ندار بھی نہیں تھا ۔ لیکن بہر حال تھا تو وہ بھی محل ہی ۔ثروت کا خیال تھا کہ انکی پر دادی کی ملکیت انہی کو منتقل ہو نی چا ہئے تھی ۔ لیکن برجیس قدر نے دھونس دھاندلی اور انگریزوں سے ساز باز کر کے وہ محل اپنی ملکیت میں لے لیا
تھا ۔ اور یہ بات ان بہن بھا ئیوں میں سے کسی کو بھی قبول نہیں تھی ۔ انکی حرکتوں اور انکی اس کم ظرفی کا
ایک ہی سبب وہ ٹھیراتے تھے کہ وہ نجیب الطر فین نہیں تھے ۔ صرف ایک جھو ٹی شان بنا کر رکھی ہو ئی تھی اور اسی بل بو تے پر وہ سماج میں بادشاہ کی اولاد کے طور پر متعا رف تھے ۔ اور یہ بات ثروت محل کوکسی طور قبول نہیں تھی ۔ اور ثروت محل ہی نہیں۔ کسی کو بھی قبول نہیں تھی ۔ انکا حق مارنے والے کم نسب لو گوں کی اتنی ہمت کیسے ہو ئی کہ وہ ان سے رشتہ جوڑنے کی سو چنے لگے ۔ تف ہے انکی اوقات پر ۔ یہ سوچ سوچ کر وہ جلتی کڑھتی رہیں ۔ کچھ غصہ بھی تھا ۔ کہ انکے با رے میں انھوں سو چا بھی کیسے ۔ چند ہی روز گذرے ہوں گے کہ مشاطہ نے آ کر خبر دی کہ برجیس قدر کے گھر والے شام کو انکا جواب لینے آ رہے ہیں ۔ ان کے سا تھ برجیس قدر خود بھی آ ئیں گے ۔
آپ نے انہیں پہلے ہی کیوں نہیں بتا دیا ۔ کہ ہمارا آکسفورڈ یو نیورسٹی میں داخلہ ہو گیا ہے ۔ اور ہم بہت جلد یہاں سے جا نے والے ہیں ۔ تعلیم مکمل کر نے تک ہم شا دی نہیں کر سکتے ۔ اور ان سے تو بالکل بھی نہیں ۔ اس لئے یہ خیال دل سے نکال دیں ۔ ً
ثروت محل نے اپنی بھابھی سے کہا ۔
برجیس قدر نے اسے شاید اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے ۔ اور چھوٹے ظرف رکھنے والے لوگ اپنی انا پر چوٹ پڑنا برداشت نہیں کرتے ۔ اسی لئے انھیں اس با رے میں کچھ نہیں بتا یا ۔ کہ وہ کوئی الٹی سیدھی حرکت نہ کریں ۔ وہ تو آپکا ازابیلا تھو برن کا لج میں پڑھنا ہی برداشت نہیں کرتے تھے ۔حا لا نکہ وہ تو ایک لڑکیوں کا کالج ہے ۔کہ آپ وہاں پڑھ کر کرسٹان ہو جا ئیں گی ۔ آپ جا نتی ہیں کتنی مشکل سے آپ نے گریجویشن مکمل کیا ہے ۔ آکسفورڈ جا نا تو شا ید انھیں با لکل بھی ہضم نہیں ہو گا ۔ ً
نہ ہو ۔ ہماری بلا سے ۔ ہم انکی مرضی پر کیوں چلیں ۔ وہ ٹھیرے انگو ٹھا ٹیک جا ہل آ دمی ۔ انکے نزدیک تعلیم حاصل کرنامحض وقت کا ضیاع ہے ۔اور ہمارے لیئے اعلی تعلیم آکسیجن کا درجہ رکھتی ہے ۔ کو ئی جوڑ نہیں ہے ہما را انکا ۔ صاف منع کر دیجئے گا ۔ ً وہ خاصی مشتعل تھیں ۔
آ رہے ہیں نہ شام کو ۔ جواب پکڑا دیں گے ۔ شاید وہ اپنی بے عزتی خود اپنے ہا تھ سے لینے آ رہے ہیں ۔تو آ نے دیں ۔ دیکھا جا ئے گا ۔ ً
وہ گر میوں کی حبس زدہ شام تھی جب دولت خانہ محل کے بڑے سارے دروازے سے کئی بگھیاں اندر ا
آ کر رکیں ۔ آوازیں لگیں ۔
پردے دار بیبیاں آ رہی ہیں ۔ سب مرد یہاں سے ہٹ جا ئیں ۔ ً برجیس قدر کی پھو پھی ، اور انکے جلو میں کو ئی سات آ ٹھ لڑکیاں تھیں ۔
مردانے میں خود برجیس قدر انکے چھوٹے بھا ئی اور ایک اور کو ئی صا حب سا تھ تھے ۔ وہ سب گول کمرے میں آ کر بیٹھ گئے ۔ مہما نوں کو ثروت کے دونوں بھا ئیوں نے خوش آمدید کہا۔ اگرچہ انکے چہروں پر سنجیدگی بتا رہی تھی کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں ۔
وہ بیٹھے ہی تھے ۔ ابھی کو ئی بات شروع نہیں ہو ئی تھی۔ کہ خا دمہ ایک کشتی میں مہکتا ہو ا ٹھنڈا صندل کا شر بت لے آ ئی ۔ اس نے طشتریوں میں گلاس رکھ کر مہما نوں کو پیش کرنے کی کو شش کی تو پھو پھی جان نے ہا تھ اٹھا کر اسے رو کا ۔
ٹھیرو بی بی ! اتنی جلدی بھی کیا ہے ۔ بات کرنے آ ئے ہیں ۔ تو پہلے بات تو کر لیں ۔ پھر سو چیں گے کہ اس گھر کا پا نی پئیں ۔ یا نہ پیئں۔ ً
سب نے چونک کر انھیں دیکھا ۔انکی اخلاقیات کا اگر انھیں علم نہ ہو تا۔ تو شاید انھیں بڑی شر مندگی
ہو تی ۔ لیکن ان سب نے سوائے نا گواری کے اور کچھ بھی اظہار نہیں کیا ۔ بھا بھی نے خادمہ کو اشارہ کیا ۔ وہ کشتی اٹھا کر واپس چلی گئی ۔
ہاں تو میاں نجم ا لد و لہ ! کچھ دن پہلے ہم صا حبزادی کے لئے درخواست لے کر آ ئے تھے۔ آج اسکی منظوری کے لئے مثبت اشارے لینے آ ئے ہیں ۔ اب تک تو آپ سب مشورے بھی کر چکے ہوں گے۔اور فیصلہ بھی ۔ تو سنا ئیے ۔ کیا فیصلہ ہے آپ سب لو گوں کا ۔ ً
پھو پھی نے دبنگ انداز میں بڑے بھیا سے جواب ما نگا۔ تو انھوں نے غور سے انکی طرف دیکھا ۔ پھر برجیس قدر کو دیکھا ۔ اور اسکی آ نکھوں میں ہلکی ہلکی آنچ محسوس کر لی ۔ ایک لمحے کو وہ سوچ میں پڑ گئے ۔ کچھ ہی دنوں میں ثروت کو آ کسفورڈ چلے ہی جا نا تھا ۔ تو وہ اسکے جا نے کے بعد جواب دینے کا سوچ رہے تھے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ برجیس قدر انکار سن کر آپے سے با ہر ہی نہ ہو جائے ۔ اسے کو ئی نقصان پہنچانے کی کو شش کرے ۔ وہ انکی مجرما نہ ذہنیت سے اچھی طرح واقف تھے ۔
جی ہاں ! مشورہ تو کیا تھا ۔ لیکن ابھی تک کسی بھی نتیجے پر نہیں پہنچ پا ئے۔ کچھ مختلف رائے ہیں ۔ شاید
ایک دوسرے کو قا ئل کرنے میں کچھ وقت اور لگ جا ئے ۔ اسلئے فی ا لحال ہم کو ئی بھی جواب دینے سے قاصر ہیں ۔ ً
انھوں نے تحمل سے کہا تو برجیس قدر نے صو فے پر پہلو بدلا ۔اور کچھ بے چینی کا اظہار کرتے ہو ئے پھوپھی کی طرف دیکھا ۔ انھوں نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا ۔
دیکھو میاں ! یہ ٹال مٹول کس لئے ۔جو بھی ہے ۔ وہ فیصلہ ابھی کیوں نہیں سنا دیتے ۔ اور اثبات سے انکار کس کو ہے ۔ ہمیں بتا ئیے۔ ہم انکے ہا تھ پا ؤں جوڑ کر انھیں منا لیں گے۔ اور راضی کر لیں گے ۔ بتا ئیے ؟ ً
دراصل ثروت ابھی تعلیم حاصل کرنا چا ہتی ہیں ۔ انکی تعلیم مکمل ہو نے تک ۔ ہم انکی شا دی کرنا نہیں
چا ہتے ۔ ً
اور یہ تعلیم کب تک مکمل ہو نے کا امکان ہے ۔ یہ بھی بتا دیجئے۔ کتنے سال اور تعلیم چلے گی انکی ۔ جب انکی عمر چالیس سال ہو جا ئے گی۔ تب تک پڑھتی رہیں گی ۔ ً برجیس قدر سے رہا نہیں گیا ۔اور وہ کڑوے سے لہجے میں بول پڑے ۔
یہ انکی مرضی ہے ۔ جتنا پڑھنا چا ہیں ۔ پڑھیں ۔ انکے شوق پر ہم قد غن نہیں لگا سکتے ۔ ً بھائی نے تحمل سے جواب دیا تو برجیس تلملا کراپنی نشست سے کھڑے ہو گئے ۔
آپ ہمیں اتنا نا دان سمجھتے ہیں ۔ کہ اس بہا نے کی آ ڑ میں چھپے آ پکے انکار کو ہم سمجھ نہیں پا ئیں گے ۔ صاف کہئے ناں ۔ کہ آپکو ہمارا رشتہ قبول نہیں ہے ۔ ً
آپ بہت سمجھ دار ہیں ۔ ہم نے تو جو بات ہے ۔ وہ کہہ دی ۔ آپ کی مر ضی ہے ۔ آپ جو مطلب
چا ہیں نکال لیں ۔ ً
نہیں ۔ یہ ممکن نہیں ہے ۔ آپ ہمیں انکار نہیں کر سکتے ۔ اگر آپ نے ایسا کیا ۔ تو آ پکو بہت پچھتا نا پڑے گا ۔ ً
آپ ہمیں دھمکیاں دے کر ۔ کس چیز سے خوفزدہ کر نا چا ہتے ہیں ۔ آپ اچھی طرح جا نتے ہیں ۔ یہ معاملات دھونس دھمکی سے کبھی طے نہیں ہو تے ۔ہمیں اپنے ذاتی معاملات طے کر نے کا کلی اختیار ہے ۔ با لکل ایسے ہی جیسے آپکو ہے ۔ ً
ٹھیک ہے۔ بہانہ شاید آپکو تعلیم کے علا وہ کو ئی اور سو جھا نہیں ۔ آپ نے کہا ۔اور ہم نے مان لیا ۔ لیکن بڑی نوازش ہو گی اگر آپ ہمیں اصل وجہ بھی بتا دیں ۔ کیو نکہ نیت تو آپکی واضح ہے ۔ تو بس ایک خلش
دور کرنا مقصود ہے ۔کہ اسطرح دھتکا رے جانے کا سبب تو معلوم ہو نا چا ہئے ۔ہم میں ایسی کیا کمی ہے کہ ہم آپکے بلند میعار کے قا بل نہ ہو سکے ۔ ً
برجیس قدر ! جو بات تھی ہم بتا چکے ہیں ۔ اگر ثروت اعلی تعلیم حا صل کرنا چا ہتی ہیں ۔ تو اس میں برا کیا ہے ۔ آپ اسے اپنی انا کا مسئلہ کیوں بنا ئے لے رہے ہیں ۔ ً
انا کا مسئلہ تو بن چکا ہے جناب نجم ا لد ولہ صا حب ۔ اور ہما ری انا سے یہ چھیڑ چھاڑ آپکے حق میں کچھ بہترثا بت نہ ہو سکے گی ۔ ہم چا ہتے ہیں کہ آپ ایک بار اور اچھی طرح سوچ لیں ۔ پھر جواب دیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو وقت آپکے ہا تھ سے نکل جا ئے اورآ پ پچھتا تے رہ جا ئیں۔ ً
برجیس قدر کا لب و لہجہ نہایت سو قیا نہ سا تھا ۔ اور تو کو ئی کچھ نہ بو لا ۔ لیکن چلمن کے پیچھے سے ثروت محل غصے سے لال چہرہ لئے ہو ئے با ہر نکلیں اور برجیس قدر کے سا منے آ کر رک گئیں ۔
آپ ایسی کیا چیز ہیں ۔کہ سب لوگ آپکی خواہشیں پوری کرنے کی کو ششیں کرتے رہیں ۔ سر جھکا کر جی حضور ، جی سرکار ہی کہتے رہیں ۔ آپ نے ہم سب کو بھی ملازم سمجھ کر یہ لب و لہجہ اختیار کر رکھا ہے ۔ چاند چھو نے کی تمنا بار آور ہو نے کے امکا نا ت کتنے ہو تے ہیں ۔ اسکا اندازہ آپ کو بخیر و خو بی ہو گا ۔ جا ئیے ۔ اور اپنے جیسے لو گوں میں ہی کو ئی اچھا رشتہ تلاش کیجئے۔ہم نجیب ا لطر فین لوگ ہیں۔اور اپنے جیسوں میں ہی رشتہ جوڑنے کے حق میں ہیں ۔ ً
ثروت محل ! اپنی حد کو پہچان کر بات کیجئے۔ ہم بھی واجد علی شاہ کی اولا دوں میں سے ہیں ۔ جن میں آپ بھی ہیں ۔ پھر یہ کس طرح کی بات کر رہی ہیں ؟ ہمارے نجیب ا لطر فین ہو نے میں کس قسم کا شبہ ہے آپکو ۔ ذرا ہمیں بھی تو پتہ چلے ۔ ً پھو پھی بیگم کا چہرہ تمتما رہا تھا ۔اور برجیس قدر سرخ آنکھو ں سے انھیں گھو ر رہے تھے ۔
ہم نواب واجد علی شاہ اور اور انکی اعلی نسب والی منکو حہ بیوی شہزادی عالم آرا کی اولا دوں میں سے ہیں ۔ اور آپ نواب صا حب کی دا شتا ؤں کے محل پری خا نے کی پیداوار ہیں ۔ دولت خا نے سے
،پری خانہ اتنا ہی دور تھا ۔ جتناشریف ہندؤں کے گھر سے باہر انکا تلسی کا پودا ۔ اور آپ نے با لکل ٹھیک کہا ۔ تعلیم تو ایک بہا نہ ہے ۔ بڑے بھیا نے انکار کو اس میں چھپا نا چا ہا تھا ۔ لیکن آپکے حد سے
بڑھ جا نے والے روئیے نے ہمیں مجبور کر دیا کہ ہم اصل بات بتا دیں ۔ ً ثروت نے برجیس قدر کی آنکھوں میں آ نکھیں ڈال کرانھیں انکی اوقات یاد دلا دی تھی ۔ اس پر وہ چیں بہ چیں ہوکر چلا اٹھے ۔
ثروت محل ! آپ ہمیں گا لی دے رہی ہیں ۔ اور یہ گا لی دے کر آپ ہما رے صبر و ضبط کو آ زما رہی ہیں ۔ ایسا نہ ہو کہ یہ آپکو بھا ری پڑ جا ئے ۔ ً
برجیس قدر غصے میں آگ بگولہ ہو رہے تھے ۔
ارے میاں ! سر پر ماں باپ نہ رہے ۔ تو بہن کے منہ میں اتنی لمبی زبان دے دی ۔ کہ وہ شرفاء کی عزت سے کھیلنا شروع کردیں۔ کم از کم انھیں اتنا تو بتا دیا ہو تا ۔کہ ہم بیگم حضرت محل کی اولا دوں میں سے ہیں ۔ وہ حضرت محل ۔ جو پری خانے سے نکل کر سیدھی اپنے ذاتی محل میں اتری تھیں۔ اوروہ ایک ہی تھیں تمام بیگمات میں سے ۔ جو سر پر کفن با ندھ کر اکیلی انگریزوں کے خلاف ایسی جی داری سے لڑی تھیں ۔ کہ خود انگریزبھی انکی بہادری کے قا ئل ہو گئے تھے ۔ دولت خانے کی تمام کی تمام بیگمات میں سے ۔ کو ئی ایک بھی تھیں انکے جیسی ۔ اگر کو ئی ایک بھی تھیں تو بتا ئیے۔ بیگم حضرت محل سے منسو ب ہو نا ۔ ہما رے لئے اعزاز ہے ۔ جسے آپ جیسے لوگ گا لی بنا ئے دیتے ہیں ۔ اور آج آپ نے ہمیں یہ گا لی دے کر کچھ اچھا نہیں کیا ۔ ً پھو پھی بیگم صدمے اور غصے کی کیفیت میں بو لتی چلی گئیں
ٹھیک ہے ثروت محل ! ہم سے غلطی ہو ئی جو ہم نے آپ کواس سنگھا سن پر بٹھا دیا ۔ جس کی آپ مستحق نہیں تھیں ۔ لیکن اب ہم دیکھتے ہیں کہ کون آتا ہے ہما ری اس غلطی کو دہرانے کے لئے ۔ کس نجیب ا لطر فین میں اسکی ہمت ہے۔ ہم دیکھ لیں گے ۔ ً برجیس قدر نے سنگین لہجے میں کہا
ضرور دیکھئے گا ۔ بلکہ اچھی طرح دیکھ لیجئے گا ۔ جانے سے پہلے شربت پی کر جا ئیے گا ۔ خاص صندل کو بسا کر تیار کیا جا تا ہے ۔ ہما را خاندانی نسخہ ہے ۔ ً ثروت محل کے اس جملے نے گو یا آگ ہی لگا دی ۔
وہ انکو کینہ توز نظروں سے دیکھتے ہو ئے سب کو اٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے باہر نکل گئے ۔
ثروت ! یہ آپ نے کیا کیا ۔؟ کچھ زیا دہ ہی نہیں کہہ دیا اس پیتل کے نواب کو ۔ اب اگر وہ اپنی سی پر اتر آ ئے ۔ تو آپ کو تکلیف دے سکتے ہیں ۔
بڑے بھیا نے انھیں ہلکے پھلکے لہجے میں ڈا نٹنے کی کو شش کی تو وہ لا پرواہی سے سر ہلا کر شہہ نشین پر بیٹھ
گئیں۔
ہمیں وہ کیا تکلیف دیں گے ۔ جو تکلیف د ینا تھی ، دے چکے ۔ وہ بڑا محل انھوں نے کس طرح دھو کے سے اپنے نام کر وا لیا ۔ روز روز انگریز ریزیڈینسی میں وہ جو اپنی چاندی کی مٹھ والی لٹھیا ٹھک ٹھک کر کے بجاتے ہو ئے جا تے تھے ۔ تو دراصل وہ بالا ہی بالامحل ، باغ اور پر گنے اپنے نام کروا نے کی جستجو میں لگے ہو ئے تھے ۔ ہمیں خبر ہی نہیں ہوئی ۔ انھوں نے ہمارا حق ہتھیا لیا ۔ وہ تو شکر ہوا کہ ہما را یہ چھوٹا سا محل بچ گیا۔ ورنہ ہم تو سا ئبان کے لئے بھی ان جیسے کم ظرف کے محتاج ہو جا تے ۔ ہماری زمینیں ، باغ ، پرگنے اور گا ؤں تک ۔انھوں نے کچھ بھی نہیں چھو ڑا سب پر ڈاکہ ڈال کر کتنااکڑتے پھرتے ہیں ۔ اب ہم سے شا دی کر کے وہ اس داغ کو مٹانا چا ہتے ہیں ۔جو سا ری دنیا کو ان کی پیشا نی پر صاف نظر آ تا ہے ۔ کہ وہ پری خانے کی پیداوار ہیں ۔ وہ ہم سے کئی درجے کم حیثیت رکھتے ہیں۔ اسے اونچا کر نے کے لئے وہ ہمارے پیچھے پڑ گئے ہیں ۔ ً ثروت آج آگ بگولہ بنی ہو ئی تھیں۔
اس وقت کا سچ تو یہی ہے کہ وہ اپنی اونچی حیثیت اور مال و زر کی فراوانی کے طفیل ہم سے کہیں زیا دہ
با حیثیت نظر آ تے ہیں ۔ ہمارے پاس اب کیا رہ گیا ہے ۔ سوائے اس مختصر محل کے ۔ جو محل سے زیا دہ بس ایک حویلی نظر آ تا ہے ۔ کو ئی تعلقہ ، زمین ، باغ یا گا ؤں ۔ کچھ بھی تو نہیں رہا ہما ر ے پاس سوائے ایک چھوٹے سے گا ؤں اور آموں کے ایک با غ کے۔کیا وہ اتنا ہے کہ اس سے ہماری شا یا ن شان گزر اوقا ت ہو سکتی ۔ آمدنی کا کو ئی زریعہ نہیں ہے ۔ جو کچھ تھا وہ انھوں نے خامو شی سے ہتھیا لیا ۔ چھو ٹے میاں وہاں لندن میں کسی انگریز کی نو کری کر رہے ہیں جو کچھ وہ ہمیں بھیج دیتے ہیں۔انکا احسان ہے ۔اب ہم بھی یہی سوچ رہے ہیں ۔کہ لندن ہی چلے جا ئیں۔ نو کری بھی کرنا پڑی ۔ تو کم از کم یہاں تو کسی کو پتہ نہ چلے گا ۔ یا پھر وہاں ملکہ سے یہاں کے ریزیڈینس کی شکا یت کریں گے ۔ کہ سرکار سے جو وثیقہ منظور ہوا تھا ۔ اس میں بھی بار بار مداخلت کار کی بدولت کٹوتی ہوتی رہتی ہے ۔یا پھر دو دو مہینے تک کو ئی خبر بھی نہیں لیتا ۔ ہم کریں تو کیا کریں ۔ ً نجم ا لد ولہ کے لہجے میں یا سیت تھی ۔
کچھ بھی نہیں ۔ بس ہمیں اپنی بقا کی جنگ ہی لڑ نا ہے ۔ اور اس جنگ میں تعلیم ہی ہما را ہتھیار ہے ۔ اسلئے ڈٹ کر اچھی تعلیم کی کو شش کرتے ہیں ۔ ً ثروت نے بڑے عزم سے اپنی بات کہی ۔
جی ہاں ۔ بات ٹھیک ہے آپکی۔ لیکن آج برجیس قدر کے تیور دیکھ کر ہم کچھ پریشا نی محسوس کر رہے
ہیں ۔ وہ کہیں کچھ غلط نہ کر دیں ۔ ایسا غلط کہ ہم پھر اسے سدھار بھی نہ سکیں۔ ہم چا ہتے ہیں کہ آپ کی شا دی ہو جا ئے اور آپ اپنے شو ہر کے گھر سکون اور آ رام سے رہیں ۔ ً
نجم ا لدولہ کے لہجے میں اندیشے جھلک رہے تھے۔
یہ تو کو ئی بات نہ ہو ئی ۔کہ ہم اس شیطان سے ڈر کر ۔وہ کرنے لگیں ۔ جو ہم نہیں کرنا چا ہتے ۔ ویسے بھی ہم نے اسکی اوقات یاد دلا تے ہو ئے اسے کہا تھا ناں ۔ کہ وہ نجیب ا لطرفین نہ ہو نے کے سبب
ہما رے لئے نا قا بل قبول ہے۔تو اب اتنی جلدی آپ کو ئی نجیب ا لطرفین کہاں سے ڈھو نڈیں گے ۔ ہمارے اطراف تو دور دور تک ایسا کو ئی نظر نہیں آ تا ۔ ً ثروت نے حالات کی مکمل تصویر پیش کی ۔
ہاں ۔ سوا ئے شبر میاں کے ۔ وہی جو ہمارے ماموں حضور کے بر خوردار ہیں ۔ ً
کیا ؟ کیا کہہ رہے ہیں بڑے بھیا ! وہ جو کنکوے اڑانے اور مر غے لڑا نے کے علاوہ کو ئی اور کام کرتے ہی نہیں ۔ جنھوں نے کبھی اسکول کی شکل تک نہیں دیکھی۔ سارادن اجاڑباغ کے با نکوں اور مشٹنڈ وں کے سا تھ آ وارہ گردی کرتے رہتے ہیں ۔ اور رات گئے ہمارے پا ئیں باغ کے اس پار ملازموں کی کو ٹھریوں میں آ کر پڑ رہتے ہیں ۔ وہ شبر میاں ؟ ۔
ً ثروت نے سلگتے ہو ئے لہجے میں انکا ذکر کیا
ہاں ۔ وہی شبر میاں ۔ یہ سارے کام جو وہ کرتے ہیں ۔ وہ تو تھے ہی نوابوں کے شو ق۔ اس لحاظ سے تو وہ اپنی خو بو میں بھی پکے نواب ہی ہیں ہم سے زیا دہ ابن نواب کہلا نے کے مستحق ۔ نجیب ا لطر فین تو انھوں نے ثا بت کیا ہے اپنے آپ کو ۔ یہ محل ماموں حضور کے بعد انکی ملکیت تھا ۔ لیکن انھوں نے ہمیں اپنے باپ کی جگہ سمجھ کر ، پو را محل ہما رے حوالے کر دیا ۔ یہ وصف کسی میں ہو تا ہے کیا ۔ کہ محلے دو محلے کسی کو یونہی بخش کر ۔ خود خاکسار ہو جا ئیں ۔ اصل نوابزادے تو ہیں وہ ۔ بس ایک روپے پیسے کی کمی ہے ۔ دوسرے جا ہ و حشم کی ۔ سو شاید انھیں اسکی ضرورت بھی محسوس نہیں ہو تی ۔ وہ اپنی کھال میں مست رہتے ہیں ۔ اسی زعم میں کہ وہ ماں باپ دو نوں کی جانب سے نواب ابن نواب ہیں ۔
ً نواب زادہ حسن نے کھو ئے کھو ئے لہجے میں کہا تو ثروت اور بھی سیخ پا ہو گئیں ۔
ان جیسے فضول آ دمی کو آپ ہمارے لئے سوچ رہے ہیں ۔ بڑے بھیا ! آپ سے ہمیں یہ تو قع نہیں
تھی ۔ کیا وہ ہما رے پا سنگ بھی ہیں ؟ ً
یقیناً وہ اس قابل نہیں کہ آپکے نام کے سا تھ بھی انکانام لیا جا ئے ۔ لیکن اب مسئلہ یہ ہے ۔ کہ جس عفریت کے سا منے، اسکے منہ پر آپ نے اسے نجیب ا لطرفین نہ ہو نے کا طعنہ دیا ہے ۔اس چوٹ کی جلن اب تک اسے جھلسا رہی ہو گی ۔ اور اس جلن کو مٹا نے کی خاطر وہ کیا کچھ نہیں کریں گے۔اس بارے میں سوچ کر ہمیں تھو ڑی پریشا نی ہو رہی ہے ۔ ویسے اللہ تعالی پنجتن پاک کے صدقے آپ کو اسکے خبث سے محفو ظ رکھے ۔ لیکن اس لعین سے کو ئی بعید نہیں ۔ وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔ جیسا کہ وہ دھمکی دے کر گئے ہیں ۔ ً
بڑے بھیا ! آپ انکی دھمکی سے ڈر گئے ۔ کیا اتنے کمزور ہیں آپ ۔ ً ؟
دیکھو بٹیا ! جنت نشین اماں اور ابا حضور آپکو ہماری گود میں ڈال گئے تھے ۔ یہ کہہ کر کہ بڑا بھا ئی باپ کی جگہ ہو تا ہے ۔ اور آج سے ثروت محل آپکی بہن نہیں بیٹی ہیں ۔ انکا ہمیشہ ایسے ہی خیال رکھئے گا ۔ جیسے آپ اپنی بیٹی کا رکھتے ہوں گے ۔ ہم اس خبیث سے نہیں ، آپکی عزت و تکریم سے ڈرتے ہیں ۔ کہیں انکے اچھا لے ہو ئے کیچڑ کی ایک چھینٹ بھی آپکے دامن تک پہنچی ۔ تو ہما رے لئے ڈوب مرنے مقام ہو گا ۔ ً
آپ پریشان نہ ہوں ۔ وہ لعین کچھ نہیں کرسکتے ۔ زیادہ سے زیادہ اپنے گندے منہ سے کچھ خاک ہی اڑا ئیں گے۔ تو دیکھ لیں گے ۔ آپ ہما ری وجہ سے پریشان نہ ہوں ۔
ً ثروت نے بڑے بھیا کو تسلی دینے کی کو شش کی اور انھیں سو چوں میں ڈو با چھوڑ کر اندر چلی گئیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ما حول میں ہر سو خامو شی تھی ۔ وہ خا مو شی جو کسی طو فان کا پیش خیمہ ہو تی ہے ۔ خاص محل کی رونقیں بھی معدوم تھیں ۔ روشنیاں بھی کم ہی جلتی تھیں اور وہاں برپا ہو نے والی محفلو ں پر بھی سنا ٹا چھا یا ہوا تھا ۔
نوابزادہ حسن نجم ا لد ولہ اس بات کا خا مو شی سے جا ئزہ لے رہے تھے ۔کہ اب کیا کچھ نیا سامنے آ نے والا ہے ۔
منشی چا ند خان آج تار گھر گئے تھے ۔ چھوٹے میاں نے لندن سے کچھ پیسے تار کئے تھے ۔ وہی لینے گئے تھے ۔ واپسی میں ایک سو پچپن چاندی کے رو پیوں کی تھیلی لا کر بڑے بھیا کے سا منے پیش کی ۔تو ایک خبر بھی سا تھ سنا دی ۔
بڑے حضور ! آج ہم ڈاکخانے جا رہے تھے ۔ تو ہم نے نواب برجیس قدر کوکو توالی کے اندر جا تے دیکھا ۔ انکے سا تھ انکا وہی منہ چڑھا منشی بھی تھا ۔ وہ ایک وکیل بابو کے سا تھ اندر گئے تھے ۔ ہمیں کچھ تجسس ہوا تو ہم نے بھی اندر قدم بڑ ھا دئیے۔ وہ سب اس بڑے ہال کی طرف جارہے تھے ۔ جہاں زمینوں کی سندیں پاس ہو تی ہیں ۔ ہم تو جا نیں وہ کوئی حویلی یا محل خرید رہے ہیں ۔ بس اسی کی سندیں بنوانے اور رجسٹرار صا حب سے اسکی پکی رسید بنوانے گئے تھے ۔ ہم نے دور سے کھڑے ہو ئے دیکھا۔ رجسٹرار نے کسی سند پر انکا انگو ٹھا بھی لگوایا تھا ۔
پچھلے کچھ دنوں سے انکے ریزیڈینسی کے بھی بہت چکر لگ رہے ہیں ۔ وہ اس لال منہ والے بندر جیسے ریزیڈنٹ کے پاس کتنی کتنی دیر بیٹھے رہتے ہیں ۔ جا نے کیا مسکوٹ کر رہے ہیں ۔ سنا ہے کو ئی بہت
خو بصورت مشکی گھوڑا بھی اس گو رے کو تحفے میں بھجوایا ہے ۔ ً
چاند خان ! وہ بہت کینہ پرور انسان ہیں ۔ ہما ری طرف سے انکار کے بعدوہ بدلہ لینے کی خا طر کو ئی نہ کو ئی سازش ضرور کریں گے ۔ آپ ذرا ان پر نظر رکھنے کی کو شش کیجئے گا ۔ بلکہ اگر ہو سکے تو کسی کو انکے پیچھے لگا دیں ۔ تاکہ انکی سر گر میوں کی کچھ نہ کچھ خبر ہمیں ملتی رہے۔ ً
انھوں نے منشی کو سمجھا کرباہر بھیجا اور خود اندر کی طرف قدم بڑھا دئیے۔ بعد میں ملنے والی خبروں نے انھیں کا فی حد تک پریشا نی میں مبتلا رکھا ۔
مشا طا ئیں ایک دو نوابزادوں کے اچھے رشتے بھی لے کر آ ئیں ۔جنھیں پسند بھی کیا گیا ۔ اور مشطاؤں کو کہہ دیا گیا کہ بات آ گے بڑھا ئیں ۔
لیکن نا معلوم وجو ہ کی بنا پر بات آ گے چلنے ہی نہیں پا ئی ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان کو ہراساں کیا گیا تھا کہ خبردار کسی کا رشتہ دولت خانے میں نوابزا دی ثروت محل کے لئے لے کر گئیں۔ تو انکا اور انکے
خاندان کا بندو بست زمین کے نیچے سوا گز کی گہرائی میں کر دیا جا ئے گا ۔ پھر کس کی مجال تھی ۔کہ اس طرف جا ئے ۔
یہ سن کر بوا ہزاری نے سینے پر دو ہتڑ مارا۔اور منہ ہی منہ میں جانے کیا بد بدا کر رہ گئیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرمی کا مو سم اور پورے چاند کی رات تھی ۔ محل کے اندرون گرمی سے دل اوبھ رہا تھا ۔ ثروت محل
پا ئیں باغ میں نکل آ ئیں ۔ بھر پور چا ندنی سے ساراباغ جگمگا رہا تھا ۔ مو تیا ، مولسری اور چنبیلی کی خوشبو نے سا ری فضا مہکا رکھی تھی ۔ انھوں نے سر اوپر اٹھا کر نیلگوں چاند کو دیکھا۔ پھر ایک لمبی سانس لے کر ہر سو پھیلی ہو ئی خوشبو کو اپنے اندر جذب کرنے کی کو شش کی اور ٹہلنا شروع کر دیا۔ وسط میں لگے فوارے سے پانی کی دھاریں مو تی برسا رہی تھیں اور چاندنی میں چمکتی ہو ئی ہیرے کی کنیاں محسوس ہو رہی تھیں ۔ وہ کچھ دیر کھڑ ی پانی بہنے کی رل ترل سنتی رہیں پھر آ گے بڑھ گئیں ۔ موسم کی خوبصورتی میں کھو ئی کھوئی وہ ٹہلتی رہیں۔یہ سلسلہ جا ری رہتا ۔ اگر اچانک شبر میاں سامنے نہ آ جا تے ۔ وہ اپنی ہی دھن میں مگن ڈولتے ڈگمگا تے رات کے اس پہر نہ جا نے کہاں سے آ رہے تھے ۔ اور شاید نو کرڈیوڑھی میں کہیں ٹھکا نہ کر نے کے خیال سے جا رہے تھے ۔ کہ اچانک ہی غیر متو قع طور پر ثروت محل سے سا منا ہو نے پر کچھ گڑ بڑا سے گئے ۔ بہکتے قد موں کو سنبھا لتے ہو ئے وہ رکے۔اور سر جھکا کر کھڑے ہو گئے ۔
آداب عرض ہے نوابزادی ثروت محل ! آپ اس وقت یہاں ؟ہمیں خبر ہو تی کہ آپ یہاں ہیں ۔ تو ہم یہاں سے کترا کر نکل جا تے ۔اسطرح ، یوں سا منے پڑ جانے پر ہم معذرت خواہ ہیں ۔ ً
اچھا ہو تا کہ آپ کترا کر نکل جا تے ۔ ہمارا سامنا نہ ہو تا ۔ یوں بہکتے قدم ، لڑکھڑا تی زبان اور بے طرح کے حلئیے میں دیکھ کر ،کم از کم ہمیں یہ صدمہ تو نہ ہو تا ۔کہ آپ ، ہمارے ماموں زاد، ایک نجیب ا لطرفین
نوابزادے ہو کر ،کس طرح اپنی خاندانی نجابت کوٹکے کے بھا ؤ بیچ رہے ہیں۔ یوں افیم کے نشے میں دھت ، ڈو منیوں کی گھنگھروؤں کی جھنکار پر سر دھنتے ، انہی کے قد موں میں اپنا خاندانی وقار لٹا تے
رہتے ہیں ۔ تف ہے آپ پر۔ سرکار سے جتنا وثیقہ پا تے ہیں۔۔انہی دو مشغلوں میں برباد کر دیتے ہیں ۔ کچھ تو خیال کریں۔ماموں ، مما نی جنت مکانی کی روح کیسے کیسے نہ تڑپتی ہو گی ۔ دو حروف ہیں آپکی اس بے راہ روی پر ۔ ً
ہم۔۔ ہم معافی چا ہتے ہیں۔ ہمارے قدم بہک جا تے ہیں۔کو ئی روکنے والا جو نہیں ہے ۔ہر روز ارادہ کرتے ہیں ۔ ہر روز ٹوٹ جا تا ہے ۔قسم ہے جناب پنجتن پاک کی۔ہم یہ سب جان بو جھ کر نہیں کرتے۔ بس ہو جا تا ہے ۔ ۔۔بس۔ ہو جا تا ہے ۔۔۔بس ۔۔۔ ً
شبر میاں یہ گردان کرتے ، لڑ کھڑا تے ہو ئے اپنے ٹھکا نے کی طرف بڑھتے چلے گئے اور ثروت محل انھیں آ خیر تک جا تے ہو ئے دیکھتی رہیں۔ انکی آنکھوں میں صد مے کے تاثرات جم سے گئے تھے۔شبر میاں کو دیکھ کر ہمیشہ انکا یہ صدمہ تا زہ ہو جا تا تھا۔کہ پری خانے کی پیداوار، بیگم حضرت محل اور دوسری داشتاؤں کی اولا دوں سے تو خاص محل بھرا پڑا تھا ۔ لیکن انکے جیسے نجیب ا لطرفین ، جو ماں اور باپ ، دو نوں طرف سے نواب ابن نواب ہوں ، ان بہن بھا ئیوں کے علا وہ صرف شبر میاں تھے جو اپنے بہکے قدموں کے سبب خود اپنے لئے بھی گا لی بن کر رہ گئے تھے ۔ کاش ایسا نہ ہو تا۔ مگر کیا کیجئے۔ کہ ایسا تھا ۔۔اور نظروں کے سا منے تھا ۔
انکی طبیعت بے مزہ ہو چکی تھی ۔ اسلئے واپس مڑیں اور دوہرے محرابی دالا نوں کی سیڑھیاں چڑ ھتی
ہو ئی اندر چلی گئیں ۔ طویل راہداری میں جلتی ہو ئی مشعلیں ہلکی ہو کر کم روشنی پر آ گئیں تھیں۔ کچھ ہی دیر میں دن کی روشنی پھوٹتے ہی یہ اپنی عمر پوری کرکے بجھ جا ئیں گی ۔اور کل انکی جگہ دوسری آ جا ئیں گی ۔ وہ اپنی زندگی کی بے ثبا تی پر سوچتی ہو ئی خوابگاہ میں داخل ہوئیں،اور دروازہ بند ہو گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ازابیلا تھوبرن کا لج سے وہ اینٹرینس کا امتحان پاس کر چکی تھیں ۔ نتیجے کا اعلان ہوا اور وہ پاس بھی
ہو گئیں ۔ کل انکی کلاس میٹ سنیتا جوہری کا ڈرا ئیور انکا پیغام دے کر گیا تھاکہ اگلے دو تین دن میں
سر ٹیفیکیٹ ملنے والا ہے ۔ اور ساتھ ہی گریجویشن کے لئے داخلہ فارم بھی جمع کروانا ہے ۔سارے گروپ نے کل کالج جانے کا پروگرام بنا یا ہے ،تا کہ یہ دونوں کام کیئے جا سکیں ۔ اسلئیے وہ بھی کل کالج آ جا ئیں۔
تو وہ آج صبح ہی اٹھ گئی تھیں ۔ اور بگھی والے کو بھی کہلوا بھیجا تھا کہ وقت پر بگھی تیاّر کر کے آ جا ئیں ۔ تیار ہو کر باہر نکلیں تو سیڑھیاں اترتے ہی سا منے سے شبر میاں آ تے ہو ئے دکھا ئی پڑ گئے ۔ قدرت نے ان بہن بھا ئیوں جیسا قد بت اور خاندانی وجا ہت انھیں بھی عطا کی تھی ۔ نین نقش کا تیکھا پن اورسرخ و سفید رنگ انھیں بھی اوپر والے سے عطا ہو ا تھا ۔ لیکن اس وجاہت کو خود انھوں نے جیسے خاک میں ملایا ہوا تھا۔ڈھاکے کی ململ کا دستی کڑھائی والا انگرکھا،اور کھلے پا ئینچے کا پا جا مہ اپنی سفیدی کھو چکا تھا ۔اور میلا اور مسلا ہوا لگ رہا تھا۔انھیں اپنے والد کے ترکے سے بہت کچھ ملا تھا۔اسی میں سے جو کچھ ان کے پاس تھا وہ سب اپنے لفنگے دوستوں میں لٹا یا۔ پھر انہی دوستوں نے انھیں طوا ئفوں کے کو ٹھوں کا راستہ دکھا دیا ۔ باقی جو بچا، وہ ان پر نچھاور کر دیا ۔ سنا ہے کہ اب ایک باغ اور کنواں باقی رہ گیا ہے ۔ جس کی آمدنی سے انکا گذارہ ہو تا ہے۔اگر وہ بھی نہ رہتا تو وہ بھیک ہی مانگ رہے ہوتے ۔ رہنے کا کو ئی ٹھکانہ اس لئے نہ رہا تھا کہ دولت محل وہ بڑے بھیاّ کو دے چکے تھے اور اپنے حصے میں آ نے والی حویلی،انھوں نے کسی طرح دار ڈومنی کی جھو ٹی ادا ؤں کی نذر کر دی تھی ۔ جس نے نظریں بدل کر انھیں بھی اس حویلی سے نکال با ہر کر دیا تھا ۔
بڑے بھیا کو منشی چاند خان نے انکا احوال بتا یا۔ اور یہ بھی بتا یاکہ اب کو ئی ٹھکا نہ نہ ہو نے کے سبب شرمندگی کی وجہ سے منہ چھپا تے ہو ئے انھوں نے کسی ویران قبرستان میں میں ٹھکا نہ کر لیا ہے ۔ جہاں کو ئی نہیں جا تا ۔ سب دوستوں نے بھی منہ پھیر لیئے ہیں ۔ عجب درویش صفت انسان تھے
شبر میاں بھی ۔ دولت محل انکو اپنے اجداد سے ورثے میں ملا تھا ۔ لیکن وہ انھوں نے بصد رضا و رغبت
بڑے بھیا کی نذر کر دیا تھا ۔ یہ کہہ کر کہ بڑے بھیا انکے ماں باپ کے دنیا سے پردہ کر لینے کے بعد انکے مربی ہیں ۔ انھوں نے ہی انکی پرورش کی ہے ۔ اس لئے وہ انکے دل کی گہرا ئیوں سے ممنو ن احسان ہیں۔ انکے شا یان شان یہ دولت محل ہے ۔ وہ ہی اسکو شان بخش سکتے ہیں ۔اس لئے اب سے
اسکے ما لک وہی ہیں ۔ اور سب سے عجیب یہ فیصلہ تھا ۔ کہ وہ اب دولت محل میں نہیں رہیں گے ۔
وہ جیسے بھی تھے حسن نجم ا لد ولہ کے ماموں زاد تھے ۔ انکی یہ حالت انکے لئے صرف افسو س کا سبب ہی نہیں تھی۔ بلکہ ننگ نام کا سبب بھی تھی ۔
انھوں نے شاگرد پیشہ کے پاس ہی ایک دو کمروں ، برامدے اور باورچی خانے پر مشتمل، چھوٹی سی ڈیو ڑھی انکے نام کرکے ، رات کی تاریکی میں شکرم بھیج انھیں چاند خان سے بلوالیا ۔ اور سختی سے ہدایت کی کہ اب یہاں وہ خود آرام سے رہیں۔ لیکن دوستوں کا جھوائی ٹولہ یہاں نہیں آ نا چا ہئے۔ اور بھی نہ جانے کیا کیا سخت سست کہا ۔ وہ چپ چاپ سر جھکا کر سنتے رہے ۔ چہرہ ستا ہوا اورآ نکھوں میں شرمندگی تھی ، جسے وہ نظریں جھکا کر چھپا نے کی کو شش کرتے رہے ۔ سنا تھا کہ وہ شا عری کرنے لگے ہیں ۔ سارا دن شعر کہتے اور انھیں قلم سے کا غذ پر اتارتے رہتے ہیں ۔ پر سنا تے کس کو ہیں ۔ یہ معلوم نہ ہو سکا ۔
ثروت محل انھیں افسوسناک نظروں سے دیکھتی ہو ئی، بگھی میں بیٹھ گئیں۔ بگھی چل پڑی ۔ گومتی کے کنارے کنارے ،درختوں سے گھری لمبی فیض آ باد روڈپر بگھی چلی جا رہی تھی ۔ درختوں کے گھنے سایوں اور ساتھ ساتھ بہتی ہو ئی گو متی ندی کی ٹھنڈک ، ما حول کو تا زگی بخش رہی تھی ۔ وہ اس راستے ، اس ماحول کو اپنی نظروں میں محصور کر لینا چا ہتی تھیں ۔ کیو نکہ انھیں یہاں سے چلے جا نا تھا ۔ آکسفورڈ یو نیورسٹی میں انکا دا خلہ ہو چکا تھا ۔ آ ج کل گر میوں کی چھٹیاں چل رہی تھیں۔ دو ماہ بعد انکا سیشن شروع ہو نا تھا ۔یہاں ازابیلا سے انھیں صرف اپنا اینٹرینس کا سر ٹیفیکیٹ لینا تھا ۔ آج وہ اپنے سب دوستوں سے آ خری بار مل کر ان سے وداع لینے والی تھیں ۔ اور جو وقت وہاں گذارا،تھا ان سب کی
یا دیں سمیٹ کر لانے والی تھیں ۔
سارے مراحل طے ہو گئے تو ان دوستوں نے ایک اچھی سی پارٹی کا بھی اہتمام کر رکھا تھا ۔ ساری لڑکیاں گھر سے ٹفن بھر کر لا ئی تھیں ۔ کچھ لڑکیوں نے کینٹین سے سوڈا واٹر کی بو تلیں،انگریزی بسکٹ
وغیرہ منگوا لئے ۔ وہ سب بڑی دیر تک ازابیلا کے لان میں گھنے درختوں کے نیچے پڑی بنچوں پر بیٹھے کھا تی پیتی اور باتیں کرتی رہے ۔ پھر سب ایک دوسرے سے رابطے میں رہنے اور ملتے جلتے رہنے کے وعدوں کے سا تھ رخصت ہو گئیں ۔
سورج سر پر آ گیا تھا ۔ گرمی بہت بڑھ گئی تھی ۔ ثروت نے بگھی گیٹ سے اندر ہی منگوالی تھی ۔ وہ بیٹھ گئیں تو کوچبان نے بگھی کے چاروں طرف خس کی مو ٹے پردے گرا ئے اور ان پر پانی چھڑک دیا۔پھر خس کے دستی پنکھے پر پانی چھڑک کر انھیں پکڑا دیا ۔ لمبی اور خاموش سڑک پرگھوڑے دلکی چال چلتے ہو ئے جا رہے تھے۔ ٹھنڈے ما حول ، یکساں رفتار سے پڑنے والی گھوڑوں کے ٹاپوں کی تال،اوراچھے دوستوں کی معیت میں گذارے ہو ئے ایک دلشاد وقت کاسحر۔ سب نے مل کر انھیں پر سکون ہو کر آنکھیں بند کر لینے پر مجبور کردیا ۔ دولت خانے تک وہ اچھا خاصا لمبا سفر تھا ۔ وہ پشتگاہ سے ٹیک لگا کر اونگھنے لگیں ۔ جانے کب تک اونگھتی رہیں ۔ کہ اچانک کوچبان نے شاید پوری طاقت سے اپنے گھو ڑوں کی راسیں کھینچیں ۔ جس کے سبب وہ زور سے ہنہناتے ہو ئے الف ہو گئے ۔ کچھ دوسرے گھوڑوں کی بھی آ وازیں آ ئیں ۔ وہ اپنی سیٹ سے لڑھک کر سنبھلیں اور چلا کر کوچبان کو
آ وازیں دیں ۔ پچھلی جا نب والی خس کی چٹا ئی اٹھا ئی تو با ہر ایک ہو لناک منظر نظر آ یا ۔
چند گھوڑوں نے انکی بگھی کو گھیرا ہو ا تھا ۔ اور ان پر چند ڈھاٹا پوش سوار تھے ۔ جن کے ہا تھوں میں طمنچے نظر آ رہے تھے ۔
کون ہیں یہ لوگ کوچبان ! ؟ ً انھوں نے وحشت زدہ انداز میں پو چھا تو کوچبان کی سہمی ہو ئی سی
آ واز سنا ئی دی ۔
پتہ نہیں علیا حضرت ۔ یہ کون ہیں اور کیا چا ہتے ہیں ؟ ہم نہیں جا نتے ۔ ً
کون ہیں آپ لو گ ؟ اور آپکو جرات کیسے ہو ئی کہ آپ دولت خانے کی بگھی کو روکیں ۔ جانتے نہیں۔ نوابزادہ حسن نجم ا لد دولہ آپکے سا تھ کیا کریں گے ۔ ؟ آپ لو گوں کے خاندان سمیت کو لہو میں پلوا دیں گے آپ سب کو ۔ راستے سے ہٹیں ۔ اور بگھی کو جا نے دیں ۔ چلئے کو چبان !
انکی بات کے جواب میں کو ئی کچھ نہیں بو لا ۔ تو کوچبان نے گھوڑوں کی راسیں ہلا ئیں اور آ گے نکلنے کی کو شش کی ۔ کہ اچا نک ایک بھاری فا ئر ہوا ۔ اور کوچبان کی کھوپڑی میں بڑا سا سوراخ ہو گیا ۔ اسے
اپنی نشست سے گرتا دیکھ کر ثروت کے لبوں سے ایک چیخ نکلی ۔اور وہ پھٹی پھٹی آ نکھوں سے کو چبان کو گرتے اور اسکی جگہ ایک ڈھا ٹا پوش کوکو بیٹھتا دیکھتی رہیں ۔ اچانک انھیں خطرے کا ادراک ہوا ۔ اور خیال آ یا کہ انھیں بگھی سے نکلنا چا ہئے۔ پردہ ہٹا کر باہر نکلنے کی کو شش کی ۔ تو معلوم ہوا
کہ ڈھا ٹا پوشوں نے چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے ۔ انھیں پردہ ہٹا تے دیکھ کر ایک نے فو راً طمنچہ انکے سا منے کر دیا ۔ پہلے وہ ڈر کر پیچھے ہٹیں۔ لیکن پھر خیال آ یا کہ اگر وہ انکے ہتھے چڑھ گئیں، تو نہ جانے کہاں پہنچا دی جا ئیں گی ۔نہ جا نے کیا سلوک ہو ۔ مریں گی ،یا بچ جا ئیں گی ۔ مگر اس صورت میں بھی زمانے بھر کی رسوائی اور بد نامی انھیں جینے کے قابل کہاں چھو ڑے گی ۔ ایک لمحے انھیں یہ
خیا ل آ یا۔ اور دوسرے لمحے انھوں نے نیچے چھلانگ لگا دی ۔
ابھی انکے قد موں نے زمین کو چھوا بھی نہیں تھا۔ کہ دوسرے بھا ری فا یر کی آ واز آ ئی اور ہر طرف
با رود کی بو پھیل گئی ۔
نوابزادی صا حبہ ! خامو شی سے بگھی میں تشریف رکھئے ۔ہمیں مجبور نہ کیجئے کہ ہم سے کو ئی گستا خی
ہو جا ئے۔ہم آ پکوانتہا ئی ادب و احترام کے ساتھ لے جا ئیں گے ۔
ً ایک ڈھاٹا پوش نے بھاری سی آ واز میں کہا ۔ تو وہ آپے سے با ہر ہو گئیں ۔
جس ادب و احترام کا مظا ہرہ آپ کر چکے ہیں ۔ اسکے بعد ہم اچھی طرح اندازہ کر سکتے ہیں۔کہ اور کتنا احترام کرنے کی صلا حیت رکھتے ہیں آپ ۔ ہمیں بتا ئیے کہ آپ ہیں کون ، اور کس کے حکم پر یہ سب کر رہے ہیں ۔ ورنہ ہم مر جا ئیں گے لیکن آپ کے سا تھ ہرگز نہیں جا ئیں گے۔
ثروت محل نے دبنگ آواز میں جواب دیا تو ایک اور فا ئر ہوااور قد موں کے پاس سے گر د و غبار کا ایک با دل سا اٹھا اور فضا کو دھندلا گیا ۔
لیکن ثروت محل خوف زدہ ہو ئے بغیر دو تین قدم پیچھے ہٹ کر اس غبار سے با ہر نکل گیئں ۔
کیا ہمت اور کیا مردانگی ہے ۔ آفرین ہے اس ملعون پر ۔ جس نے ایک اکیلی اور نہتی لڑ کی کو زبردستی اٹھانے کے لئے آپ جیسے مشٹنڈے یہاں بھیجے ہیں ۔ اب بلا وجہ اپنا بارود ضایع کرنے کی بجا ئے سیدھا نشانہ لیں ہمارا ۔ اور مار ڈالیں ۔ کیونکہ بشرط زندگی تو ہم آپ کے سا تھ جا نے والے
نہیں ہیں۔ ً
وہ مڑ کر بگھی کے کوچبان والی سیڑھی پر چڑ ھیں اور اسکی سیٹ پر بیٹھے ڈھا ٹا پوش کو زوردار دھکا دے کر نیچے گرا دیا ۔ گھوڑے کی راسیں ہا تھ میں لے کر ہلا ئیں تو گھوڑے اشارہ سمجھ کرچلنا شروع ہو ئے ۔ پھر فا ئر ہوا اور ایک گھوڑا رپٹ گیا دوسرا رک گیا اور زور سے ہنہنا یااسی اثنا میں جو ڈھاٹا پوش گرا
گرنے سے اسکا ڈھاٹا کھل گیا تھا۔ اس پر نظر پڑ ی تو وہ حیران ہو کر اسے دیکھنے لگیں ۔ وہ خاص محل کے محا فظ کے طور پر اسے اچھی طرح سے جا نتی تھیں ۔ کیو نکہ وہ اکثر برجیس قدر کے سا تھ ہو تا تھا ۔
اوہ ! تو اب برجیس قدر کی اخلا قیات اتنی بے قدر ہو گئی ہیں ۔کہ وہ سر راہ شریف زادیوں کی عزت سے کھیلنا شروع کر دیں۔ اور ایک نازک سی لڑکی کو اٹھا نے کے لئے دس دس غنڈوں کے لشکر بھیجیں۔ تف ہے ۔ بلکہ لعنت ہے ۔ ان پر بھی ۔ اور آپ سب پر بھی ۔ اب آپکی اوقات یہی رہ گئی ہے ۔ کہ آپ شریف لڑکیوں کو اٹھا تے پھریں ۔ شاید میدان جنگ میں مردوں سے لڑنے کے قابل نہیں رہے آپ سب ۔ زنخے ہو گئے ہیں ۔ تب ہی تو اس کام پر لگا دیے گئے ہیں۔
ً انکے آگ لگا نے والے الفاظ نے شاید سب کو آتش زیر پا کر دیا ۔ دو مشتعل ہو کر آ گے بڑ ھے اور ان میں سے ایک نے کلو رو فارم میں بھیگا رومال انکی ناک پر رکھ کرانھیں بے سدھ کر دیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سورج مغرب کی سمت جھک رہا تھا۔ حسن نجم ا لد ولہ منشی چاند خان کے ساتھ اپنے پر گنہ جہانگیرہ سے واپس آ رہے تھے ۔ اس دفعہ گندم کی فصل اچھی ہو ئی تھی ۔ آموں کے باغ میں پھل بھی لدا ہوا تھا ۔ محرم کے بعدگندم کی کٹا ئی اور پھلو ں کی اتروا ئی ۔ دونوں ساتھ شروع کروانے کا ارادہ تھا ۔ مقا طعہ والوں سے بات بھی ہو گئی تھی ۔ راستے بھر یہی باتیں ہو تی رہیں ۔ راستے کا پتہ بھی نہیں چلا ۔ اور وہ رومی دروازے سے گذر کر لکھنو شہر میں داخل ہو گئے ۔ فیض آ باد روڈ پر دا ہنی سمت مڑ کر وہ قیصر باغ کی طرف سے ہو تے ہو ئے ،گومتی کے کنا رے کنا رے ،نیم پختہ سڑک پر سے گذرتے ہو ئے آ خر کار
اپنے گھر ، دولت محل والی سڑک پر آ گئے ۔سامنے دور دا ہنی جا نب خاص محل نظر آ رہا تھا ۔ وہ بائیں
جا نب مڑ کر بڑے سا رے دہرے دروازے سے ہو تے ہو ئے۔اپنے دولت محل میں دا خل ہو گئے
موٹر جیسے ہی پورچ میں رکی ۔ بوا ہزاری بیگم کا بد حواس سا چہرہ نظر آ یا ۔ حسن کے مو ٹر سے اترتے ہی وہ
انکے نزدیک آ کر سینے پر دو ہتھڑ مارنے لگیں ۔ وہ ان بہن بھا ئیوں کی انا کھلا ئی تھیں ۔ سب انکا احترام کرتے تھے ۔
ارے ۔ ارے بوا ! کیا ہو گیا ؟ جو یوں بے حال ہو ئی جا رہی ہیں ۔ چلئے ۔۔اندر چلئے ۔۔ اور ہمیں بتا یئے۔ ایسی کیا افتاد پڑ گئی کہ آپ یوں بے پردہ با ہر نکل آ یئں۔ ً حسن نے انکو کا ندھے پکڑ کر تسلی دیتے ہو ئے اندر کی جا نب موڑا ۔ تو وہ بھپک بھپک کر رو پڑیں۔
ارے میاں ! قیا مت ٹوٹ پڑی ہے ۔ یہ شام ہمارے گھر کی شا م غریباں ہے ۔ مو لا حسینؓ کی طرح ۔ اس وقت ہما رے گھر میں، ہماری عزت اور غیرت کا جنازہ پڑا ہو ہے ۔ ماتم کر لو میاں ما تم ۔ ً
کیا اول فول کہے جا رہی ہیں ہزاری بوا ! صاف صاف بتا ئیے آ خر ہوا کیا ہے ؟
ًوہ بری طرح پریشان ہو گئے۔ اتنے میں انکی بیگم، شاہ زمانی بیگم سامنے آ ئیں ۔
ہم بتا تے ہیں ۔ آج ثروت محل صبح اپنے کا لج گئی تھیں ۔ اور دوپہر تک آ نے کا کہہ گئیں تھیں ۔ لیکن اب شام ہو گئی ہے ۔ اور انکی واپسی نہیں ہو ئی ہے ۔ ہم نے چوبدار کو انکی سہیلی سنیتا کے گھر بھیجا تھا۔ تا کہ حال معلوم ہو سکے ۔ لیکن انھوں نے بتا یا کہ دوپہر تک تو ہم سب سا تھ ہی تھے ۔پھر واپسی کے لئے بھی سب سا تھ ہی نکلے تھے ۔ ثروت نے اپنی بگھی کالج کے اندر ہی بلوا لی تھی ۔ وہ اس میں گئیں ۔ اور ہم اپنی مو ٹر میں گھر آ گئے ۔ اب صورت یہ ہے کہ کہیں سے کچھ معلوم نہیں ہو رہا ہے ۔ کہ ان پر ایسی کیا بپتا پڑی ۔ کہ وہ اب تک گھر واپس نہیں آ سکیں ۔ یہی پریشانی کھا ئے جا رہی ہے ۔
ً وہ بھی آنسو پو نچھنے لگیں۔ اس خبر نے تو حسن کو بھی یکلخت حواس باختہ کر دیا ۔
پھر ۔۔ پھر کیا ۔۔ کسی کو بھیجا ہے انہیں تلاش کر نے کو ۔ کو ئی گیا ہے کیا ؟ ً
ہر کسی کو تو بھیج نہیں سکتے تھے ۔ کہ کہیں یہ خبر عام نہ ہو جا ئے کہ نوابزادی ثروت محل اس طرح غائب ہو گئی ہیں ۔ شبر میاں کو بلوا کر صورتحال بتا ئی تو انہوں نے کہا کہ وہ ڈھونڈنے جا تے ہیں ۔ جہاں بھی ہو ں ۔ وہ ڈھونڈ کر ،اور انھیں لے کر ہی آ ئیں گے ۔ وہ سر شام ہی نکل گئے تھے ۔ جانے کہاں مارے
مارے پھر رہے ہوں گے ۔ ابھی تک تو واپس نہیں آ ئے ۔ اور نہ ہی کو ئی خبر آ ئی ہے ۔ ً
زمانی بیگم کی بات سن کر حسن کی پیشانی پر پسینے پھوٹ پڑے ۔ وہ بے دم سے ہو کرکا ؤچ پر گر پڑے ۔ کتنی دیر لمبی سا نسیں لے کر اپنے حواس بحال کر نے کی کوشش میں لگے رہے ۔ پھر کچھ سو چتے ہو ئے
منشی چاند خان کو بلوایا ۔
چاند خان ! عزت پر آن بنی ہے ۔ رات تک اگر ثروت گھر نہ آ ئیں ۔ تو کل کا دن ہم سب کے منہ پر کالک مل دے گا ۔ آپ بچپن سے ہمارا نمک کھا رہے ہیں ۔ اب اس نمک کو حلال کر نے کا وقت آ گیا ہے ۔ ہم جا نتے ہیں کہ آپ کے پاس کچھ لوگ ہیں ۔ جو لٹھ بازی اور گتکے کے ما ہر ہیں ۔ انھیں سا تھ لیں ، اور جہاں جہاں ممکن ہو ۔ ہما ری ہمشیرہ کو تلاش کریں ۔ انھیں ہر صورت تلاش کر نا ہے چا ند خان ۔ مردہ یا زندہ جیسی بھی ملیں ۔ انھیں سا تھ لئے بغیر واپس نہ آ ئیے گا ۔
ً انھوں نے نم نم لہجے میں کہا تو چاند خان خو د بھی پریشان ہو گئے ۔
پریشان نہ ہوں اعلی حضرت ! ہم ابھی نکلتے ہیں ۔ پوری جان لڑا دیں گے ۔ بٹیا کو لے کر ہی آ ئیں گے ۔ ً
جیسے جیسے اندھیرا اپنے پر پھیلا رہا تھا۔ ان سب کی پریشانی بھی بڑھتی جا رہی تھی ۔ حسن اپنی چا ندی کی مٹھ والی لا ٹھی ٹیک ٹیک کر مسلسل ہال کمرے کے چکر لگا رہے تھے اور مو لا علی ، مو لا علی کا ورد کر رہے تھے ۔ وہ کچھ بھی اندازہ نہیں کر پارہے تھے کہ ثروت کے سا تھ ہوا کیا ہے
کہاں چلی گئیں ؟ خود گیئں یالے جا ئی گئیں۔ اگر لے جا ئی گئیں ۔ تو اتنی ہمت کس نے کی ۔ ؟ یہ وہ سوال تھے جن کا جواب دینے والا کو ئی نہیں تھا ۔
رات کا دوسرا پہر چل رہا تھا۔ جب آ ہستگی سے دستک دے کر ، ان سے اجازت لے کر شبر میاں اندر دا خل ہو ئے ۔ حسن جانتے تھے کہ شبر میاں شام سے ثروت کی تلاش میں نکلے ہو ئے تھے ۔
کہئے شبر میاں ! کو ئی خبر ملی کیا ؟ کو ئی پتہ نشان ثروت کا ۔ ؟
ً حسن نجم ا لدولہ اس وقت ایک مجبور اور بے بس بھا ئی کی طرح بیتاب ہو کرپو چھ رہے تھے ۔
شبر میاں نے انگر کھے کی جیب میں ہا تھ ڈالا ۔ اور کچھ نکال کر حسن کی طرف ہا تھ بڑ ھا یا ۔
یہ ۔۔ یہ کیا ۔۔کیا ہے ۔ ؟
یہ چاندی کا منت کاوہ کڑا ہے ۔ جو ثروت محل اپنی کلا ئی میں ہر وقت پہنے رہتی تھیں ۔ ہمیں یاد ہے کہ یہ انکی جنت مکانی والدہ نے بڑے امام باڑے سے منت کے لئے لیا تھا ۔ اور عقیق کی یہ انگو ٹھی بھی ہم نے انہی کی انگلی میں دیکھی تھی ۔ سونے میں جڑا یہ سرخ عقیق انکی انگلیوں جھو لتا رہتا تھا۔ کیو نکہ جو ہری
نے اسکا ناپ تھوڑا بڑا کر دیا تھا ۔ اس لئے کبھی کبھی انگو ٹھی انکے ہا تھ سے گر بھی جا تی تھی ۔ ً
شبر میاں نے دو نوں چیزیں انکی پھیلی ہو ئی ہتھیلی پر رکھ دیں ۔
یہ ۔۔یہ کہاں سے ملیں ۔ کہاں سے لا ئے ہیں آپ ؟ اور ثروت کہاں ہیں ۔ ؟ ً
انھوں نے گھبرا کر ایک ہی سانس میں تین سوال کر ڈا لے ۔
ہم کو جب یہ خبر ملی ، تو ہمیں کچھ سمجھ میں نہیں آ یا کہ ہم انھیں ڈھو نڈ نے کہاں جا ئیں ۔ پھر ہمیں ایک ہی خیال آ یا ۔ کہ ہمیں اس راستے پر جا ناچا ہئے ۔ جس پر چل کر ثروت کالج جاتی اور آ تی ہیں ۔ وہی حضرت گنج سے انگریز ریزیڈینسی کی طرف جا نے والی لمبی۔فیض آ باد روڈ۔ ہم نے اس پر پیدل سفر کرنا شروع کیا ۔ اسکا چپہ چپہ ہم غور سے دیکھتے جا رہے تھے ۔ کہ ایک جگہ کچھ ابتری کے آ ثار نظر آ ئے ۔ تو ہم وہیں ٹھیر گئے ۔ زمین کا غور سے جا ئزہ لیا ۔ تو یہ چیزیں ہمیں دھول مٹی میں ملیں ۔ جھک کر انھیں اٹھا ہی رہے تھے ۔ کہ وہاں خون کے سے کچھ آ ثار نظر آ ئے ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہاں کسی کو مجروح یا قتل کیا گیا ہے ۔ اور پھر زمین پر کچھ گھسیٹے جا نے کے نشانات نظر آ ئے ۔ تو ہم نے انکا پیچھا کیا ۔ سڑک سے ہٹ کر ، درختوں اور جھا ڑیوں کی آ ڑ میں ہمیں کیا نظر آ یا ۔۔۔ کچھ نہ پو چھئے ۔ ۔
ً شبر میاں جھر جھری لے کر ایک پل کو رکے تو حسن کا پیما نہ صبر لبریز ہو گیا ۔ وہ چلا پڑے ۔
کیا ؟ کیا نظر آ یا آپکو وہاں ۔ بتا ئیے ۔ ً
وہاں ۔۔ وہاں آ پکے کو چبان کی لاش پڑی تھی ۔ اسکے سر میں طمنچے سے گو لی ما ری گئی تھی ۔ یہ بڑا سوراخ تھا کنپٹی پر ۔ ہم سے پھر وہاں رکا نہیں گیا ۔ جی متلا نے لگا تھااور ہا تھ پا ؤں لر زے کا شکار ہو رہے تھے ۔ کتنی ہی دیر ہم ایک پتھر پر بیٹھے اپنی سانسیں درست کر تے رہے ۔
وہاں سے ایک گنوریا پا نی کا گھڑا سر پر رکھے گذری ۔ اس نے ہما ری ابتر حالت دیکھ کر ہمیں تھوڑا پانی پلا یا ۔ تو ہما رے حواس کچھ بحال ہو ئے
اسی سے ہم نے پو چھا ۔ کہ اس نے یہاں کو ئی خاص بات تو نہیں دیکھی ۔ تو اس نے بتا یا کہ وہ دوپہر
کوادھر سے جا رہی تھی ۔ تو اس نے کچھ ڈھاٹا پوش لو گوں کو ایک بگھی کو روکتے دیکھا تھا ۔ انکے ہا تھ میں طمنچے بھی تھے ۔ بگھی میں کو ئی پردے دار بی بی تھیں۔ ایک شہدے نے سامنے کا پردہ کھینچ دیا اور نہ جا نے بی بی سے کیا کہا ہو گا ۔ تو وہ نیچے اتر آ ئیں ۔ پھر اس نے ایک دفعہ طمنچہ چلا یا ۔ تو وہ گنوریا خوفزدہ
ہو کر وہاں سے بھاگ گئی ۔ اسکے بعد وہاں کیا ہوا ۔ اسے کچھ معلوم نہیں ۔ ً
اسکا مطلب تو یہ ہوا کہ ثروت کوکچھ بد قماش لوگو ں نے اغوا کرلیا ہے ۔ ہما رے کوچبان کو مار کر پھینک دیا ۔ اور انھیں بگھی سمیت اڑا لے گئے ۔ لکھنؤ شہر میں اتنی ہمت والا کون ہو سکتا ہے بھلا۔ جو ہماری عزت پر ہا تھ ڈالنے کی جرات کرے ۔ ہم ابھی ریزیڈینسی جا تے ہیں ۔ اور اس گو رے افسر کے پاس شکا یت درج کرواتے ہیں ۔ کہ انکے راج میں یہ کیا اندھیر ہو رہا ہے دن دیھاڑے، سر عام ہماری بگھی کو روکا جا تا ہے ، ہمارے کوچبان کو گولی مار دی جاتی ہے اور ہماری ہمشیرہ کو اغوا کر لیا جا تا ہے ۔وہ انکے اغوا کاروں کو اور ہما رے کو چبان کے قا تلوں کو ڈھو نڈیں ۔ اور انھیں سزا دیں ۔ اتنے بڑے جرم کے ہو جا نے پر بھی وہ خا موش بیٹھے رہیں گے کیا ۔ ہم ابھی جا ئیں گے ۔ آپ ہما رے ساتھ چلیں گے شبر میاں ۔ ً حسن نے اتنا ہی کہا تھا کہ انکی بیگم شاہ زمانی سامنے آ گئیں ۔
غم اور غصے کی شدت نے شا ید آپکے سو چنے سمجھنے کی صلا حیت پر گہرا اثر ڈا لا ہے ۔ آپ اس انگریز ریزیڈنٹ سے کیا کہیں گے ؟ یہی ۔ کہ آپکی بہن کو کچھ غنڈوں نے اغوا کر لیا ہے ۔ اسے با زیاب کروایا جا ئے ۔ جا نے کب وہ ملیں ۔ کن کن مر حلوں سے گزر کر ۔ آپکے پاس آ بھی گئیں۔تو کس کام کی ۔ ساری زندگی کے لئے ذلت و رسوائی کا سامان کرنے جا رہے ہیں آپ ۔ لوگ آپکی طرف انگلی اٹھا کر کھلیّ اڑا ئیں گے آپکی ۔ سو چا ہے آپ نے یہ سب کچھ ۔ ً
زمانی بیگم نے جس قدر ہو لناک نقشہ کھینچا تھا اس نے حسن نجم ا لد دولہ کے ہو ش گم کر دئیے۔
تو پھر ہم کیا کریں ؟ کیا کریں ؟ مرنے دیں ۔۔ مرنے دیں ہم اپنی بہن کو ۔ً وہ اپنے بال مٹھیوں میں پکڑ کر کھینچنے لگے ۔ ہا ئے واویلا انکے گھٹے گھٹے دل کے اندر سے نکل رہا تھا ۔
مر تو وہ گئیں ہیں ۔ سانس لیتی ایک زندہ لاش اگر گھر آ بھی گئی ۔ تو آپ کون سے نہال ہو جا ئیں گے ۔ لاشوں کی جگہ قبرستان میں ہو تی ہے ۔گھر میں نہیں۔ جہاں ہیں ۔ انھیں وہیں رہنے دیجئے ۔ ابھی بات گھر میں ہی ہے ۔ کسی کو اس بارے میں کچھ خبر نہیں ہے ۔خاموشی سے تلاش کر وائیے ۔ کہیں بھی
شکا یت کر نے کا مطلب ہے ۔خود اپنی رسوائی کا ڈھنڈورا پیٹنا۔خاندان کی آن بان کو بٹہ لگا نے سے گریز کریں تو یہ آپ ہی کے حق میں بہتر ہو گا ۔
ً زمانی بیگم نے انھیں کا نٹوں پر دھکیل دیا ۔ انکا کہا کچھ ایسا غلط بھی نہیں تھا۔ اگر یہ بات پھیل گئی ۔ تو
انکی جو ذلت ہو گی۔وہ انھیں زندہ رہنے نہیں دے گی ۔ ً شبر میاں نے ان دو نوں کی باتیں سنیں۔ افسوس میں سر ہلا یا اور با ہر نکل گئے ۔
رات گزرتی رہی ۔ نجم ا لد ولہ پر غشی کے دورے پڑ تے رہے ۔ یہاں تک کہ سپیدہ ء سحری نمو دار ہو گیا ۔ لیکن ثروت کے بارے میں کو ئی اچھی خبر نہیں ملی ۔ طلو ع ہو تے ہو ئے سورج کے سا تھ منشی چاند خان کی آمد ہو ئی ۔
سر کار ! مجھے ان برجیس قدر پر شبہ ہو رہا تھا ۔ انکے خاص محل میں میرے کچھ مخبر بھی ہیں ۔ رات میں ان سے ملا ۔ کہ شاید بی بی کی کو ئی خبر مل سکے لیکن وہاں خاص محل میں تو رنگ تھا ۔ فیض آ باد سے کو ئی بڑی ڈومنی بلوا ئی گئی تھی ، جو رات بھر ٹھمری اور دادرے گا تی رہی ۔برجیس قدر اور انکے حاشیہ نشین رات بھراسے سنتے اور شراب کے نشے میں جھو متے رہے ۔ صبح نورکے تڑکے سے کچھ ہی پہلے وہ محفل ختم
ہو ئی ہے۔ ً
چاند خان ! آپ ہمیں یہ سب کچھ سنا کر ہما رے زخموں پر نمک نہیں چھڑک رہے ہیں ؟۔ ہم تو پہلے ہی اپنے زخموں کی اذیت سے نڈھال ہیں۔اس پر آپکے یہ دل خراش بیانات ۔ مولا علی کے صدقے۔ ہم پر کچھ کرم کیجئے۔ ً حسن کی آواز آ نسوؤں میں بھیگنے لگی۔
نہیں سرکا ر ! ہم تو صرف یہ بتا نے کی کو شش کر رہے ہیں ۔ کہ یہ بے وقت کی خو شیاں کچھ بھیدوں بھری نہیں ہیں۔آپ کے انکار کے بعد تو اس محل میں ایک طویل سوگ چل رہا تھا ۔ خامو شیاں پھیلی ہو ئی تھیں۔ یہاں تک کہ روشنیاں بھی پوری نہیں جلائی جا تی تھیں ۔پھر اچا نک ایسی خوشی کی محفل۔ ایسا نہیں لگ رہا ہے ۔ کہ خاص محل کے مکینوں کو ۔ کو ئی بڑی اور خاص خو شی ملی ہے ۔ جسے وہ دھوم دھام سے منا رہے ہوں ۔ ً
چاندخان ! آپ بھی شا ید حواسوں میں نہیں ہیں ۔ ہم غموں کے سمندر میں ڈو بے ہو ئے ہیں ۔ اور آپ انکی خو شیوں کی کہانیاں سنا کر ہمارا دل نہیں جلا رہے کیا؟ ً
نہیں سرکا ر ! ہم تو آپ کو یہ بتا نے کی کو شش کر رہے ہیں۔ کہ برجیس قدر کے رشتے کو ٹھکرا کر آپ نے جس طرح انھیں انکی اوقات یاد دلا ئی تھی ۔ تو وہ شدید غصے میں تھے ۔ کہیں ایسا تو نہیں ۔ کہ انھوں نے اپنی خنس نکا لنے کے لئے ۔ یہ سب کیا ہو ۔ اور وہ بدلہ لینے کی خو شی منا رہے ہوں ۔ ً
چاند خان کی بات سن کر وہ حیران ہو کر انکی شکل دیکھتے رہ گئے ۔
کیا کو ئی اتنا بھی رذیل ہو سکتا ہے ۔ کہ اپنے بدلے دوسرے کی بہو بیٹیوں کو اغوا کرکے لے ۔ یہ کیسے ممکن ہے چاند خان !
انکی غیرت پر آپکا انکار بارود کے دھما کے کی طرح پھٹاتھا ۔ چوٹ بہت گہری لگی تھی ، تکلیف کی جو شدت ہو گی ۔ اسے برداشت کرنا ممکن نہ رہا ہوگا ۔ تب ہی یہ رذیل حرکت کر کے خو شیاں منا رہے ہیں ۔ آ خر ہیں تو پری خانے کی ہی پیداوار۔ ً
منشی کی بات سن کر نجم الدولہ بٹر بٹر انھیں تکتے رہے ۔پھر ایک آہ بھر کر غش میں آ گئے ۔ زمانی بیگم نے مو ہری کو اشارہ کیااور وہ خس کے پنکھے پر عرق گلاب چھڑک کر ، ان پر پنکھا جھلنے لگی ۔ چاندخان سینے پر ہا تھ رکھ کر انکے سامنے خم ہو ئے اور با ہر نکل گئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شبر میاں ! آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ۔؟ ۔انھوں نے شبر میاں کو باغ کے فوارے کی منڈیر پر بیٹھے دیکھا تو وہ رک گئے ۔ ً
بیٹھئے منشی صا حب ! آپ بھی ذرا دیر رک کر ہما ری بات سن لیجئے ۔ بڑے بھیا کی تو حالت اسقدر عین غین ہے کہ ان سے کو ئی بات کرنابے سود ہے ۔ ہم ثروت محل کی تلاش میں جہاں گئے تھے۔وہاں سے انکی کچھ چیزیں ملی تھیں۔ تو ہم وہاں نزدیک ایک چھوٹے سے گا ؤں کی طرف بھی چلے گئے ۔ وہاں ایک بو ڑھا ملا تھا۔ وہ پرانا فو جی تھا اور اور بیگم حضرت محل کے سا تھ انگریزی فوج سے لڑا تھا ۔ وہ
کھو جی بھی ہے ۔ خاصا بو ڑھا ہو نے کے با وجوداب بھی اسکی ان صلا حیتوں میں کو ئی کمی نہیں آ ئی تھی۔ ہم اسے سا تھ لے کرسڑک پر اسی جگہ گئے ۔ جہاں سے ہمیں ثروت محل کی کچھ نشا نیاں ملی تھیں۔ وہاں بگھی کے پہیوں اور اسکے گھوڑوں کی سموں کے نشانات مو جو د تھے ۔ ہم نے اس سے کہا کہ وہ
بتا ئے کہ بگھی کس سمت کو گئی ہے ۔ وہ زمین پر جھک کر لا ٹھی ٹیکتا ہوا ایک جانب چل پڑا ۔ ہم اسکے پیچھے تھے ۔ جہاں زمین پر ہمیں کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا ۔ وہ جانے کیسے دیکھ کر آ گے بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ آ دھے گھنٹے کی تگ و دو کے بعد اس نے ہمیں ایک جگہ روک کر سا منے اشارہ کر دیا ۔
سرکار ! بگھی او سامنے کا محل ما گئی رہی ۔ اس ما کو نو سک نا ہیں ہے ۔ ً
وہ انگلی سے جس محل کی جا نب اشا رہ کر رہا تھا ۔ ہم نے نظر اٹھا کر دیکھا تو وہ خا ص محل تھا۔ برجیس قدرثروت محل کے رشتے سے انکار کے بعدانگاروں پر لوٹ رہے تھے ۔ انھیں تذلیل محسوس ہو ئی ۔ جس کا بدلہ انھوں نے اس طرح کی رذیل حرکت کر کے لیا۔ اس وقت ثروت محل اسی کے قبضے میں ہیں ۔ اور یقیناً خاص محل میں کہیں مقید ہوں گی ۔ ً
شبر میاں ! شبہ تو ہمیں بھی تھا ۔ لیکن صرف شبہ کرکے تو ہم کسی کو مورد الزام نہیں ٹھیرا سکتے۔ اب آپ نے پو را پورا ثبوت ہی اٹھا لیا ۔ تو یقین کرنا ہی پڑے گا ۔ وہ جس خاندانی نجابت کا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں ۔ کیا ان سے ایسی توقع کی جا سکتی ہے ۔کہ وہ ایسی حرکت کریں گے ۔ مگر انھوں نے کر ڈالی ۔ ً چاند خان کے لہجے میں سبکی تھی
سوال یہ ہے ۔ کہ معلوم ہو جا نے پر اسکے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی کر نا ممکن ہے کیا ۔ ؟ہمارے حسن نجم ا لد ولہ کیا اسکے خلاف کو ئی کار وائی کر سکتے ہیں ۔ اور وہ بھی اسطرح کہ کسی کو کان و کان خبر بھی نہ ہو سکے ۔اور ثروت محل گھر لو ائی جا سکیں۔ کیا وہ اتنی طا قت رکھتے ہیں۔ً
شبر میاں ! برجیس قدر کتنا چلتا پرزہ ہیں ۔ اسکا اندازہ آ پکو بھی ہے اور ہمیں بھی ۔ انگریزی سرکارکے دن گنے جا چکے ہیں ۔ وہ آج گئی کہ کل۔ بٹوارے کی خبریں بھی پھیل رہی ہیں ۔ یہ اسی چکر میں آ جکل ریزیڈنٹ بہا در کی چا پلو سی میں لگے ہو ئے ہیں۔ نہ جا نے کون کون سی مراعات اپنے نام پر حاصل
کر نا چا ہتے ہیں ۔ اور کس قیمت پر ۔ کہیں ایسا نہ ہو ۔۔میرے منہ میں خاک ۔۔کہ وہ ہماری ثروت محل کو ۔۔اس گو رے بندر کورشوت کے طور پر دے ڈا لیں ۔
ً چاند خان نے فکر انگیزی سے کہا تو شبر میاں برداشت نہ کر سکے ۔
چاند خان ! ایسی بات تو منہ سے نہ نکا لئے۔یہ ۔۔ یہ تو ہم سب کے لئے ڈوب کر مر جا نے کا مقام
ہو گا ۔ پورے خانوادے کی عزت کو داؤ پر لگا دیا ہے برجیس قدر نے ۔ اگر بڑے بھیا نے تھوڑی دیر کچھ اور نہ کیا۔ تو ہم تن تنہا اسکے پاس پہنچ جا ئیں گے ۔ ثروت کو اسکے خونی پنجوں سے چھڑوانے کے لئے ۔ پھر چا ہے ہمیں اپنی جان ہی کیوں نہ دینی پڑے ۔ ً وہ جذبا تی ہو کر چلائے ۔
آپ اکیلے اس توپ کا کیا بگاڑ لیں گے ۔ اپنی جان ہی گنوائیں گے ۔ بھلا شہباز اور ممو لے کا کیا مقابلہ ۔ بے شک آپکا اعتماد اور حو صلہ بلند ہے ۔ لیکن طاقت کا پلڑا بہت جھکا ہوا ہے ۔ایسی غلطی بھول کر بھی نہ کیجئے گا ۔ بس انتظار کیجئے ۔اور وقت کے پردے سے کیا ظہور میں آ تا ہے۔ آپ بھی دیکھیں ۔ ہم بھی دیکھیں گے ۔ وہ دیکھیں ۔ پردے دار بگھی اندر دا خل ہو رہی ہے ۔ شا ید کچھ بیبیاں آ ئی ہیں ۔ چلئے ! انھیں اتروا ئیے۔ زنان خانے میں پکار ہم کر وائے دیتے ہیں ۔ ً
وہ دونوں اٹھے تو دونوں کی پیشا نیوں پر سوچ کی الجھنیں نما یاں تھیں ۔ پردہ دار بگھی کے سا تھ آنے والے سواروں نے اعلان کیا کہ نواب رستم علی خان کے گھر کی بیبیاں تشریف لا ئی ہیں ۔
یہ نواب رستم علی خان کے گھر کی بیبیاں ۔ اسطرح اچا نک کیسے وارد ہو ئیں ۔ پہلے تو کبھی کو ئی بغیر اطلاع کے اسطرح نہیں آ یا ۔ پھر ۔ویسے بھی رستم علی خان سے دولت خا نے کے معاملات کچھ زیا دہ اچھے نہیں تھے ۔ خدا خیر کرے ۔ ایسے نازک وقت میں انکی آ مدکسی بڑی مصیبت کا پیش خیمہ نہ ہو ۔
چاند خان اسی پریشانی میں تیز قدم اندر کی طرف گئے اور ڈیوڑھی میں جا کر پکار کی ۔
بیگم صا حبہ ! بیگم صا حبہ۔ وہ ۔نواب رستم علی خان کے گھر سے ۔۔بیبیوں کی سواری آ ئی ہے ۔ شبر میاں اتروارہے ہیں ۔ پیشوائی کے لئے تشریف لے آ ئیے ۔ ً
انکی آواز سن کر زمانی بیگم زنان خانے کی چلمن اٹھا کر بڑے کمرے میں داخل ہو ئیں ۔
رستم علی خان کے گھر سے ۔ چاند خان ! کیا انکے آ نے کی پہلے سے کو ئی اطلاع بھجوا ئی گئی تھی ۔ ایسے وقت میں انکی آ مد خالی از علت نظر نہیں آ تی ۔ کہیں ایسا تو نہیں انھیں ثروت محل کے معا ملے کی بھنک پڑ گئی ہو ۔ویسے بھی ان کے خاند ان کی ہمارے ساتھ کچھ چپقلش چلتی ہی رہتی ہے ۔ وہ ہمارا بھلا چا ہنے والوں میں سے توہیں نہیں ۔ نہ جانے اب کون سا زہر اگلنے آ ئی ہیں۔ اللہ خیر کرے ۔ ً
وہ بڑبڑاتی ہو ئی چلی گئیں۔
بیگم صا حبہ ! وہ آ گئیں ہیں ۔ ہم جا تے ہیں ۔ دیکھتے ہیں ۔ کو ئی مرد بھی اگر سا تھ ہے تو ہم ان کو مہمان
خانے میں بٹھا تے ہیں ۔ً
زہے نصیب ۔ کہ آپ لوگوں نے غریب خانے کو عزت بخشی ۔ اطلاع کر کے آ ئی ہو تیں ۔ تو آپکے
شا یان شان استقبال کا اہتمام کیا جا تا ۔ہم معذرت خواہ ہیں ۔ کہ آپکو انتظار کی زحمت اٹھا نی پڑی ۔ تشریف رکھئے ۔ کہئے ! آپکی کیا خدمت کی جا ئے ۔ ً زمانی بیگم نے ان چاروں خواتین کو بیک وقت مخاطب کیا ۔
انکی بات سن کر انھوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔ پھر ان میں جو ذرا بڑی عمر کی تھیں ۔وہ مخاطب ہو ئیں ۔
پہلے تو ہم بہت معذرت خواہ ہیں ۔ کہ اسطرح پیشگی اطلا ع دئیے بغیر آپکے گھر حاضر ہو گئے ۔ دراصل کچھ ایسا معاملہ ہمارے گوش گذار ہوا ۔کہ ہم سے رہا نہ گیا ۔ ہم ثروت محل کی خیریت معلوم کر نے حاضر ہو ئے تھے ۔ سنا ہے ۔ نصیب دشمناں۔ وہ کل سے غا ئب ہیں ۔ انھیں اغوا کر لیا گیا ہے ۔ پورے لکھنؤ میں یہ بات پھیل رہی ہے ۔ بیٹیوں کی عزت تو سا نجھی ہو تی ہے ۔ ہمیں فکر ہو ئی ۔تو ہم نے سو چا۔ کہ خود جا کر تصدیق کر لیں ۔ اور اگر خدا نخواستہ درست ہے ۔ تو ہمیں بتا ئیے ۔ ہم سے جو بھی بن پڑا ۔ اس سلسلے میں ہم آپکی مدد کر یں گے ۔ ً
بس ۔۔ بس کیجئے۔یوں منہ بھر کر ثروت محل کا نام نہ لیجئے ۔ بیٹیوں کی عزت کانچ کی طرح نا زک ہو تی ہے ۔ کل آپکے گھر کی کسی بچی کا نام یوں بد نام کر نے کے لئے ۔ ہمدردی کے نام پر آپکے پاس لوگ
آ نے لگیں۔ تو کیا آپ انھیں خوش آمدید کہنے کا حوصلہ رکھتی ہیں ۔ ً
زمانی بیگم کا انداز مہذب لیکن لہجہ سلگتا ہو ا تھا ۔
آپ تو نا راض ہورہی ہیں ۔ ہم آپکے بہی خواہ ہیں ۔ ہو سکتا ہے یہ خبر غلط ہو ۔ اور ثروت محل گھر میں ہی ہوں ۔ بلا ئیے نا انھیں بھی ۔ دو با تیں ان سے بھی کر کے تسلی ہو جا ئے گی ۔ ً دوسری نے شاطرانہ انداز میں کہا ۔تو زمانی بیگم کو سچ مچ غصہ آ گیا ۔
ہم آپکی تسلی کروانے کے پا بند نہیں ہیں ۔ آپ ہماری مہمان ہیں ۔ آپکی خاطرداری ہم پر لا زم ہے ۔
ہزاری بوا ! چائے اور ناشتے کی کشتیاں لا کر مہما نوں کے سامنے سجا ئیے۔ کو ئی کمی نہ رہ جا ئے ۔ ہمیں اجازت دیجئے ۔ ہم ذرا مصروف ہیں ۔
وہ اٹھ کر جا نے لگیں توہزاری بوا نے انکے پیچھے آ کر کان میں یہ صور پھو نکا۔ کہ دو اور خاندانوں کی بیبیاں آ ئی ہیں ۔ بگھیاں با ہر کھڑی ہیں ۔ اور سواریاں اتار کر اندر لوائی جا رہی ہیں ۔ یہ سن کر زما نی بیگم کا چہرہ سرخ ہو گیا ۔ وہ جھٹکے سے رکیں ۔ اور سر جھٹک کر آ گے بڑھ گئیں ۔ گھنٹے بھر میں ہی لکھنؤ کے چیدہ خاندانوں سے لوگ آ گئے ۔ اور سب ثروت کے معاملے کی سن گن لینے آ ئے تھے ۔ نہیں معلوم کہ یہ خبر اسطرح کس نے پھیلا ئی ۔ کہ زما نے کو خبر ہو گئی ۔ انھوں نے تو منہ سے بھاپ بھی نہیں نکالی تھی ۔ لیکن کو ئی یہ بتا نے کو تیار نہیں تھا ۔ کہ انھیں کس نے یہ خبر دی تھی ۔نجم ا لد ولہ ، زمانی بیگم اور محل کے دوسرے افراد ۔ سب اسقدر لا ئق اعتبار تھے کہ ان میں سے کسی پر شک نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ مہما نوں کی جوق در جوق آ مد نے تمام مکینوں کو آزما ئش میں ڈا لا ہو تھا ۔ وہ ان لمحوں سے اسطرح گذر رہے تھے جیسے پل صراط کا سفر کر رہے ہوں ۔
مردان خانہ اور زنان خانہ بھرا ہوا تھا ۔ اور محل والے اس سوال کا کو ئی جواب نہیں دے رہے تھے کہ ثروت محل کہاں ہیں ۔ سب کے چہروں پر تنا ؤ تھا ۔ وہ سب ازخود سمجھ گئے تھے کہ بات بالکل درست ہے۔ اپنے اپنے مراتب کے حساب سے سب حسن نجم ا لدولہ کو تسلی دینے اور اپنی کو ششوں کو شامل حال کر نے کی باتیں کر رہے تھے ۔ ایک سوگ طاری تھا ۔ کئی لو گوں کے تو ہا تھ سینے پر تھے ۔ ما تم کی سی صورت تھی ۔
س خامو شی میں اچا نک ایک شور و غلغلہ اٹھا ۔ سب چو نکے ۔ معلوم ہو ا کہ نوابزادہ برجیس قدر کی سواری آ ئی ہے ۔ انکی چھ سفید گھوڑوں والی شاندار بگھی پورچ میں آکر رکی ۔نقیبوں نے با آواز بلند انکے تشریف لا نے کا اعلان کیا ۔ مردان خانے میں مو جود بیشتر مہمان انکی پیشوا ئی کے لئے با ہر نکل آ ئے ۔نجم ا لدو لہ کے اندر ایک جوار بھا ٹا سا لہرا گیا۔ انھوں نے اٹھنے کی کو شش کی ۔ مگر لڑ کھڑا گئے ۔ ایک مہمان نے انھیں سہارا دیا۔ واپس شہہ نشین پر بٹھا دیا ۔ اتنے میں برجیس قدر اندر داخل ہو ئے ۔ شربتی کا چنا ہو ا انگرکھا، گلبدن کا کلیوں دار پا ئجا مہ ، دوپلی اورنکے دار ٹوپی، کاندھے پر زربفتی کنا ری کی شال ڈالے ۔ وہ بڑے ٹھسے سے اندر وا رد ہو ئے ۔ آداب کے لئے ہا تھ اٹھا یا ۔ تو فیروزے اور
عقیق کی انگو ٹھیاں فانو سوں کی رو شنیوں میں جھلملا ئیں ۔
ایسا بھی کیا ۔ کہ گھر آ ئے مہمان کی پیشوائی بھی آپکے طبع نازک پر بو جھ بن جا ئے ۔ لیکن ہم سمجھ سکتے
You have read 12% of اودھ کے آنسو - Awadh k Aansoo. The full e-book picks up right where this stopped.