12% of the book — free to read
مسافر اور منزلیں
---------------------------------
آکاش خان
داستان پبلشرز
کاپی رائٹ ۲۰۲۵ء داستان
جملہ حقوق بحق ناشرمحفوظ ہیں۔
یہ سفرنامہ حقیقی واقعات پر مبنی ہے، تاہم کرداروں کی شناخت اور رازداری کے پیشِ نظر نام تبدیل کر دیے گئے ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ درج بالا افراد یا ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروںمیں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
آئی -ایس-بی-این نمبر:
978-627-526-026-4
----------------------------------------
ادارت و ترتیب: بتول جمالیؔ
سرورق: انعم امیر
--------------------------------
انتساب
یہ سفرنامہ میں محبت اور عقیدت کے ساتھ مندرجہ ذیل شخصیات کے نام کرتا ہوں جنہوں نے میری زندگی اور سوچ کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کیا:
محترمہ منیرہ قریشی
مالک اور پرنسپل
(مارگلہ گرامر اسکول، واہ کینٹ)
محترمہ فائز ہ ہاشمی
استاد
(مارگلہ گرامر اسکول، واہ کینٹ)
جناب سر ساکب شاہ
پرنسپل
(پنجاب کالج آف ایکسی لینس اِن کامرس، واہ کینٹ)
ڈاکٹر غفور شاہ قاسم
اردو استاد
(فارمن کرسچن کالج، لاہور)
-------------------------
فہرست
سفرنامہ
لندن (London) کا سفر
سوئٹزرلینڈ (Switzerland) کا سفر
Netherland (روٹرڈیم) میں آمد
پیرس: خوشبوؤں اور تضادات کا شہر
وطن واپسی کا سفر
قاری سے چند الفاظ
مصنّف کے بارے میں
داستان کیا ہے؟
------------------------
سفرنامہ
2011 میں میرے سفر کا آغاز ہوا۔ میرے ماموں، جو کہ میرے والد صاحب کے ساتھ بزنس پارٹنر بھی ہیں، اُن کا دل کیا کہ باہر گھومنے جانا چاہیے، مگر انھیں ہوائی سفر سے ڈر لگتا تھا۔ مگر پھر میرے بڑے بھائی کے بہت اصرار پر وہ مان گئے۔ میرے بڑے بھائی حماد اور ماموں آصف آپس میں ہمیشہ سے دوستوں کی طرح رہے۔ مثال یہاں آکر پوری ہو جاتی ہے کہ ماما اور بھانجا ہمیشہ دوست ہوا کرتے ہیں۔
میں فارمن کرسچن کالج میں پڑھتا تھا۔ یہ میرا دوسرا سمسٹر تھا۔ 3.3 جی پی اے کے ساتھ سپرنگ سمسٹر بھی بہت اچھا چل رہا تھا۔ میں 2009 کے بعد برطانیہ نہیں گیا تھا، اس لیے میرے والد صاحب نے مجھے فون کیا کہ تمہیں باہر جانا ہے۔
میرے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی مجھے کہا گیا کہ جانا ہے۔ میں اپنے والد صاحب کی بات کو منع نہیں کرسکتا تھا، اس لیے میں نے جانے کی حامی بھر لی۔ میرے بھائی کا بھی فون آیا کہ یورپ کے کچھ ممالک کی بھی سیر کرتے ہیں۔ لندن تو سارا دیکھا ہوا ہے، میں نے کہا کہ ٹھیک ہے، میں جانے کے لیے تیار ہوں۔
میں نے اپنے والد صاحب کی کبھی کوئی بات نہیں ٹالی، اس لیے مجھے جانا پڑا۔ مگر مجھے پتا تھا کہ سفر کافی لمبا اور بوریت سے بھرا ہوتا ہے، اور ایک نئے ملک میں جا کر وہاں کے رہن سہن کے مطابق زندگی کو ڈھالنا بھی کافی مشکل کام ہے۔ میرے ماموں نے بھی مجھے کہا کہ ساتھ چلو، تمہارا تو برطانیہ کا دو سال کا ویزہ لگا ہوا ہے، اور یورپ کا اپلائی کرتے ہیں، لگ گیا تو ٹھیک، نہیں تو نہ سہی۔ کون سے ہمارے وہاں جہاز ڈوب رہے ہیں۔
میرے ماموں کا ویزہ دو بار ریجیکٹ ہوا اور آخر کار تیسری کوشش کامیاب ہوئی اور ماموں کا ویزہ برطانیہ کا لگ گیا۔ اب سب امید یورپ کے ویزے پر تھی۔ یورپ کے کسی ایک اچھے ملک کا ویزہ لگ جائے تو باقی ملکوں میں بھی بندہ باآسانی جا سکتا ہے — جیسے سوئٹزرلینڈ، فرانس، جرمنی وغیرہ۔
ہم نے سوئٹزرلینڈ کا ویزہ لگانے کا سوچا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں یہ بھی ریجیکٹ نہ ہو جائے، کیونکہ جو بھی پہلی بار ویزہ لگواتا ہے کسی بھی یورپی ملک کا، تو وہ ریجیکٹ کر دیتے ہیں۔ میرا بھی برطانیہ کا ویزہ دو بار ریجیکٹ ہوا — ایک بار 2005 میں، اور پھر مجھے چھ ماہ کا ایک ویزہ 2006 میں ملا۔ میں گیا اور اس کے بعد واپس آیا۔ دوبارہ اپلائی کیا تو ویزہ پھر ریجیکٹ ہو گیا۔
پھر 2007 کے آخر میں اپلائی کیا اور چھ ماہ کا ویزہ ملا۔ اس کے بعد 2009 میں دو سال کا اور 2011 میں پانچ سال کا ویزہ مل گیا۔
میرے سمسٹر سپرنگ کے آخری دو ہفتے رہ گئے تھے اور یہی وہ دو ہفتے ہوتے ہیں جن میں پریزنٹیشنز اور اسائنمنٹس ہوتی ہیں جو کہ گریڈ بناتی ہیں۔
خیر، مجھے کہا گیا کہ دن کے 4:00 بجے ڈیوو پکڑو اور گھر آؤ۔ کل صبح 7:00 بجے انٹرویو ہے — ماموں کا، بھائی کا، اور تمہارا۔
میں بہت پریشان ہوا کہ ایک دم کیسے جاؤں؟ سارا کام پڑا ہوا ہے اور کسی استاد کو اطلاع بھی نہیں دی کہ میں جا رہا ہوں۔ میرے ساتھ میرا کزن ذیشان تھا۔ میں نے اسے سب بتایا اور کہا کہ جا کر سب استادوں کو بتا دینا کہ وہ کسی کام سے گھر چلا گیا ہے۔
صبح انٹرویو کے لیے جانا تھا۔ صبح 7:00 بجے روانہ ہو گئے کیونکہ انٹرویو کا وقت 9:00 بجے کا تھا۔ ہم 8:30 بجے تک وہاں پہنچے تو گاڑی اندر لے جانے کی اجازت نہ ملی، کیونکہ گاڑی کا نمبر دوسرا درج کیا گیا تھا اور ہم دوسری گاڑی لے گئے تھے۔ یاد ہی نہیں رہا کہ وہی گاڑی لے کر جانا تھی۔
خیر، انھوں نے شناختی کارڈ لیے اور ہمیں اندر جانے دیا۔ گیٹ سے اندر جاتے ہوئے ایسا لگا جیسے ہم کوئی بارڈر کراس کر رہے ہیں۔ اتنی سیکیورٹی تھی وہاں پر، اور آگے جاتے گئے تو سارا کا سارا علاقہ جنگل بنا ہوا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ہم سفاری پارک میں شیر کو دیکھنے آئے ہیں۔
خیر، ایمبیسی ملی اور ہمارا انٹرویو والا پرچہ دیکھ کر ہمیں اندر جانے دیا گیا۔ موبائل فون الاؤ نہیں تھے، اس لیے وہ گاڑی میں ہی چھوڑ دیے تھے۔
بیٹھ بیٹھ کر تھک گئے مگر ہمارا نمبر نہیں آیا۔ بعض خاص قسم کے لوگ وہاں موجود تھے۔ کوئی 15-17 ہوں گے، جن میں ہم بھی شامل تھے۔
میرے ماموں کو سگریٹ پینے کی عادت ہے، اس لیے ان کو سگریٹ چاہیے تھے جو کہ وہ گاڑی میں بھول گئے تھے۔ اس لیے مجھے لانے کے لیے کہا گیا، اور ساتھ ہی کچھ کھانے کے لیے بھی لے آنے کو کہا۔
میں گیا باہر ایمبیسی کے۔ وہاں اور بھی ایمبیسیز تھیں، اور دور جا کر کہیں کونے میں ایک چھوٹی سی دکان تھی۔ وہاں سے جوس اور پانی لیا، ساتھ چپس اور بسکٹ بھی لیے، اور ایمبیسی کی طرف واپس آگیا۔
وہاں پھر سے سب چیکنگ ہوئی اور سارا سامان کھول کر چیک کیا گیا۔ اس کے بعد میں اندر گیا۔ 10 منٹ بعد ہماری کال آگئی اور ہم اندر چلے گئے۔
وہاں صحیح اے سی لگے ہوئے تھے اور بہت ہی ٹھنڈا ماحول بنا ہوا تھا۔ جو انٹرویو دینے آتے تھے، ان کو باہر گرمی میں بٹھاتے تھے۔ صرف ایک پنکھا لگا ہوا تھا اور پانی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔
خیر، ہم سے چھوٹے موٹے سوالات پوچھے گئے — کیوں جا رہے ہو؟ کیا مقصد ہے؟ کتنے پیسے لے کر جاؤ گے؟ کتنے عرصے کا ٹرپ ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔
ان سوالات کے جوابات کے بعد ہمیں کہا گیا کہ ایک ہفتے بعد آ کر اپنے فارم لے جائیے گا۔ سب نے کہا: "ٹھیک ہے، شکریہ۔"
مگر میں رُک گیا اور پوچھا کہ کیا کوئی بھی لینے آ سکتا ہے یا مجھے ہی آنا ہوگا؟ میں نے بتایا کہ میں لاہور پڑھتا ہوں اور اگلے ہفتے میرے پرچے شروع ہونے والے ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ کوئی بھی لے سکتا ہے، آپ کو جو ابھی کوڈ دیا گیا ہے وہ بس کسی کو نہ بتائیے گا۔ جو لینے آئے، صرف اُسے ہی بتائیے گا۔
میں نے شکر ادا کیا اور چل پڑا۔ اتنے میں کھانے کا وقت ہو گیا تھا۔ بھوک لگ رہی تھی تو ماموں سیور فوڈ لے گئے۔ ساتھ ہنستے ہوئے کہنے لگے: "دیکھا میری ہوشیاری، 600 میں تین بندے کھا لیں گے، اور اگر کہیں اور لے کر جاتا تو 2000 لگ جاتے۔"
میرے ماموں بہت کھلے دل کے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اُن کے پاس پیسے بھی کھلے آتے ہیں۔
میں اگلے دن لاہور کے لیے روانہ ہو گیا اور پھر پرچے شروع ہو گئے۔ گریڈز دیکھنے سے ڈر لگتا تھا، اس لیے پرچے دے کر گھر نکل آیا۔ سامان بہت زیادہ تھا، اس لیے گھر سے گاڑی منگوانی پڑی۔
گھر جا کر تیاریاں شروع ہو گئیں — شاپنگ، پی آئی اے کی ٹکٹس، اور ضرورت کی چیزیں۔
لندن (London) کا سفر
You have read 12% of Musafir aur Manzile'n / مسافر اور منزلیں - Urdu travelogue book. The full e-book picks up right where this stopped.