Check out our most recent publications
Islamic Family System - A Comparative Study
Free sample · no sign-up

Islamic Family System - A Comparative Study

by Prof Zohra Jabeen Alvi

You are reading the first 12% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

12% of the book — free to read

بسم الله الرحمن الرحیم 

اسلام کا (خاندانی نظام نکاح ایک تقابلی مطالعہ ) 1997 میں تحریر کی۔ 

اس کتاب کی ضرورت اور اہمیت روز بروز بڑھتی گئی میرے 35 سالہ تدریسی تجربہ اور ایک عورت کی حیثیت سے میں سی بجھتی ہوں کہ خواتین ہی آگے چل کر معاشرے کو درست کر سکتی ہیں۔ پہلے پہل ڈگری کلاسز کی طالبات کے لئے یہ نصاب کا حصہ میرا مطمع نظر تھا مگر یہ عام آدمی کے لئے بھی مفید ثابت ہوگی۔ 

پاکستانی معاشرہ اپنے تدریجی مراحل سے گزر رہا ہے۔ عورت نے ہر میدان میں اپنے آپ کو منوالیا ہے عورت کے بارے میں عرف ( رواج ) تبدیل ہو چکا ہے۔ کسی ریاست میں رائج قانون اس میں بنے والوں کے سیاسی نظریات و عقائد کا عکاس ہوتا ہے۔ 

یہ تقابلی مطالعہ ہمارے لیے ایک روشن راستہ متعین کرے گا۔ امید ہے کہ آپ اس میں ترمیم و اضافہ کے لئے مزید مشورے و تجاویز دیں گے۔

زہرہ جبین ( پروفیسر آف لاء)

پرنسپل نمبر 1 کالج فار ویمن ایبٹ آباد



عرض ناشر 

ہر مسلمان زندگی بھر ایسے اعمال کرنے میں کوشاں رہتا ہے۔ جن کے باعث اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہو جائے ۔ یہی تمنا ، آرزو اور خواہش خاندانی نظام میں ایک تقابلی مطالعہ " کی سعی طباعت کا باعث بنی۔ اگر اسوۂ حسنہ پر شوق عمل کے ساتھ ساتھ خاندانی نظام جو معاشرہ کی بنیادی اکائی ہے اور اس کے بگاڑ پر پوری انسانیت کے بگاڑ کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کے سنور نے پر انسانیت کی نجات ہے۔ اس بابرکت کتاب اس میں جس نے تعاون کیا اس کے پیش نظر خدمت برائے حصول سعادت ہی رہی ۔ اس موقع پر کہ بڑے بیٹے ڈاکٹر محمد اواب حسن اور ممتاز مذہبی سکالر مفتی طارق کو اس کی ترتیب نو کرنے، پایہ تکمیل تک پہنچانے نیز انہوں نے کتاب کے متن اور عنوانات کی از سر نو کتابت فرما کر زاد آخرت بنالیا تقبل اللہ منہ۔ سرور کونین کی نعلین پاک کے نام

میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی 

میں اس لئے مسلمان میں اسی لئے نمازی 

گر قبول افتدار ہے عند و مشرف 

پروفیسر زہرہ جبین




انتساب

  •  رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے نام جن کے ذریعے ہدایت ملتی ہے۔
  • اپنے والدین کے نام جن کے اعتماد وتر بیت نے ہمیشہ آگے بڑھنے کی خواہش عطا کی۔
  • اپنے شوہر ڈاکٹر عبدالوحید علوی کے نام جو ہمیشہ صحت مند مثبت سرگرمی میں تعاون کرتے ہیں۔
  • اپنے بچوں ڈاکٹر محمد اداب حسن ( سیف الله ) ( محمد طیب منصور صبغته الله شهید ) انجینئر محمد عمر دانیال ( عبداللہ ) کے نام جنہوں نے وقت دیا۔






بسم الله الرحمن الرحيم

پیش کتاب " اسلام کا خاندانی نظام تحریر پروفیسر نہ ہرہ جبین بی اے جرنلزم ، ایم اے پولیٹکل سائنس ۔ ایل ایل بی شرعیہ انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی علمی کاوش کا نتیجہ ہے ، مصنفہ ایبٹ آباد کے معروف قدیم گورنمنٹ گرلز کالج میں شعبہ قانون کی استاد ہیں اور سینکڑوں طالبات کو اسلامی قانون اور خاندانی نظام پڑھا چکی ہیں، انہوں نے عورتوں کے حقوق و فرائض ، اسلامی تعلیمات اور خاص طور پر آج کی مسلمان عورت اور دور جدید کا چیلنج پر مقالات تحریر کئے ہیں۔ یہ مضامین طالبات اور خواتین کے لیے زندگی کی پر پیچ راستوں میں مشعل راہ ہوں گے۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ان کی یہ کاوش طالبات ، خواتین اور اہل علم میں مقبولیت حاصل کرنے ان کے خاندان کی ترقی فلاح و بہبود کا ذریعہ بنے ( آمین )۔

 

ڈاکٹر امجد حسن سید

قاہرہ یونیورسٹی مصر و جامعه از هر مصر




 اسلام کا خاندانی نظام ، ایک تقابلی مطالعہ، پروفیسر زہرہ جبین ناشتر : مکان نمبر ۴ گلی نمبر ۹ ، بلال ٹاؤن ایبٹ آباد۔

مصنفہ قانون کی استاد ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں عائلی نظام سے متعلقہ قوانین کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے ۔ فقہ، قانون اور سماجیات کے مطالعے کی بنیاد پر رہنمائی دی ہے کہ اسلام کس طرح کا خانگی نظام قائم تا ہے ؟ اس میں کن راہوں سے رخنہ اندازی پیدا ہوتی ہے ؟ پھر ہمارا قانون کس انداز سے معاملات کو کرتا سلجھانے کی کوشش کرتا ہے۔

یه در حقیقت خواتین کے لیے مدد گار کتاب کا درجہ رکھتی ہے ، جو یہ معلوم کر سکتی ہیں کہ دیگر تہذیبوں میں خواتین کس انداز سے زندگی گزار رہی ہیں اور ایک مسلمان خاتون کو زندگی کن راہوں پر چلتے ہوئے گزارنی چاہئے؟

 

مدیر محترمه سلیم منصور خالد

ماہنامہ: عالمی ترجمان القرآن اکتوبر ۲۰۱۹




انسان کا معاملہ بہت عجیب ہے وہ اکیلا اس دنیا میں آتا ہے اور اکیلا ہی اس دنیا سے کوچ کر جاتا ہے البتہ وہ مہد سے لحد تک کا سفر نہ اکیلا کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی اکیلا کر سکتا ہے وہ کسی خاندان کے فرد، کسی قبیلے کے رکن کسی شہر کے شہری اور کسی ملک کے باشندے کی حیثیت سے جانا جاتا ہے ۔ اس لئے انسان کو معاشرتی حیوان“ کہا جاتا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لئے معاشرے کی وہی حیثیت ہے جو مچھلی کے لئے پانی کی ہے۔

انسان کی انفرادیت بڑی محدود ہے۔ وہ چھوٹے موٹے روز مرہ کے امور میں سے بعض تنہا ہی کر لیتا ہے۔ غور و فکر اور عملی طور پر کسی کام کا آغاز تو تنہا کر سکتا ہے لیکن تنہا کسی ایسے کام کو منطقی انجام تک نہیں پہنچا سکتا جو معاشرے پر اثرات مرتب کرے۔ اجتماعیت انسانی فطرت کا خاصہ ہے ۔ سازگار معاشرہ کی تشکیل کے لئے انبیاء و رسل کی بعثت کا مقصد اخلاقی و روحانی تکمیل فلاح و نجات ہے ۔ عام انسان کی بات چھوڑیں۔ انبیاء ورسل نے بھی اپنے مشن کا آغاز تو تن تنہا کیا لیکن حوار بین و صحابہ کرام کی نصرت سے ہی آگے بڑھایا۔

اللہ کے آخری رسول و نبی محمد مصطفی ﷺ نے آکر پہلی مرتبہ پوری انسانیت کو ایک محفوظ کتاب قرآن مجید ( شاہ کلید ) کے ذریعے ایک کامل دین کی طرف نہ صرف بلایا بلکہ اسے قبول کرنےوالوں کی سمع وطاعت کے ٹھیٹھ اسلامی اصولوں پر ایک مضبوط جماعت بھی بنائی ۔

خطبہ حجتہ الوداع میں آپ شہادت علی الناس کا فریضہ اپنی امت کو منتقل کر کے رفیق اعلیٰ سے جاملے۔ خلاف راشدہ نے تمیں برسوں میں اسلام تین براعظموں تک پھیلا دیا۔

اسلام کا خاندانی نظام ایک تقابلی مطالعہ میں نے پڑھا انتہاء کی عرق ریزی سے تحقیق کر کے لکھا گیا ہے۔ اللہ تعالی مصفنہ کی کاوش کو قبول کرے ان کے لئے تو شہ آخرت کا سبب بنے۔

خاندانی نظام ہی معاشرہ کی بنیادی اکائی ہے اس ایک اکائی کے بگڑنے سے سارے معاشرے کا بگاڑ ہوتا ہے۔ اس کے سنورنے سے معاشرہ سنور جاتا ہے۔

 

( پروفیسر ڈاکٹر ایوب صابر )

 

بسم الله الرحمن الرحيم

پیش کردہ کتاب اسلام کا خاندانی نظام تحریر پروفیسرز ہرہ جبین بی اے جرنلزم، ایم اے پولیٹکل سائنس ۔ ایل ایل بی شرعیہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی علمی کاوش کا نتیجہ ہے، مصنفہ ایبٹ آباد کے معروف قدیم گورنمنٹ گرلز کالج میں شعبہ قانون کی استاد ہیں اور سینکڑوں طالبات کو اسلامی قانون اور خاندانی نظام پڑھا چکی ہیں، آج کے پاکستانی معاشرے میں عورت نے ہر میدان میں اپنے آپ کو منوا لیا ہے۔ مگر عورت کے بارے میں سماج نے اپنا رویہ تبدیل نہیں کیا۔ کسی ریاست میں قانون، معاشرہ جب تک اپنے نظریات تبدیل نہ کرے تو تبدیلی نہیں آسکتی۔ محترمہ زہرہ جبین نے اس کتاب میں اس کو بھی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ کتاب اس سلسلے میں بہت معاون ثابت ہوگی ۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان کی یہ کاوش طالبات ، خواتین اور اہل علم میں مقبولیت حاصل کرنے ان کے خاندان کی ترقی فلاح و بہبود کا ذریعہ بنے ( آمین )۔

ڈاکٹر فرحت ہاشمی

الہدی انٹرنیشنل




محترمہ پروفیسر زہرہ جبین صاحبہ سے میری شناسائی کے کئی حوالے ہیں اور بھی بہت پیارے اور معتبر ہیں، بطور پروفیسر آپ نے ہزاروں طالبات کی علمی رہنمائی کی ہے۔

زیر نظر کتاب میں آپ نے خواتین کے حقوق اور عائلی قوانین کے اسلامی پہلوؤں پر ایک جامع مطالعہ پیش کیا ہے۔ اس کتاب کے مقالے ظاہر کرتے ہیں کہ یہ کتاب فقہی اور قانونی پہلوؤں پر گہرائی سے روشنی ڈالتی ہے۔

دور جدید میں جہاں طلاق خلع تنسیخ نکاح ،، نفقہ جیسے مسائل بہت زیادہ دیکھنے میں آ رہے ہیں، یہ کتاب خواتین کے نکاح سے جڑے مسائل کو آپ نے نہایت عمدگی اور حقیقی انداز میں بیان کیا ہے اور عورت کے مقام اور مرتبے کو واضح کیا ہے ۔ اس کتاب کے مطالعے سے عصر حاضر کی مشکلات کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ یہ کتاب طالبات اور اساتذہ بھی کے لیے یکساں مفید ہے۔

اگر میں ادب کی ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے دیکھوں تو پروفیسر صاحبہ کی تحریر میں روانی اور برجستگی ہے۔ خیالات کی فکر انگیزی انتہائی حد کو چھوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے آپ نے جس مئوثر اور دلکش انداز میں اس تجزیہ کو پیش کیا ہے ، قابل ستائش ہے۔ آپ چلتی پھرتی انسائیکلو پیڈیا ہیں ۔ آپ کے سامنے کوئی بھی موضوع رکھ دیا جائے مدلل انداز میں گفتگو کرنے کا ہنر صرف آپ کا حاصل ہے۔

آپ نے اپنے پیشے سے دلی لگاؤ رکھنے والے استاد کی صحیح ترجمانی کا حق ادا کیا ہے ۔ اللہ آپ اور آپ کے قلم کے فیض سے سب کو مستفید ہونے کا موقع دے۔ ( آمین )

 

فائزه نذیر

ایسوسی ایٹ پروفیسر

گورنمنٹ ڈگری کالج

برائے خواتین ملکپورہ ایبٹ آباد

 

آج کی عورت اور مرد کے تعلق کو افراط و تفریط کا شکار کر دیا ہے سماج اور معاشرہ ایک افراتفری ، بہیجان و دہشت گردی میں مبتلا ہے۔ خاص طور پر غزہ کی دو سالہ جنگ، کشمیر میں اور پچھلے 53 سال سے ہے اور افغانستان کی جنگ نے چند امور بتا دیئے ہیں کہ اس دور میں جب مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ آج کے مسلمان نے اسلام کے خاندانی نظام جو اصل اکائی ہے اور ہر ایک نے اپنا فریضہ الہ کلمۃ الحق کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔

ہمارا پاکستانی معاشرہ اور سماج دورخی کا شکار ہے ہم حقوق مانگتے ہیں اسلام کے اور طرز زندگی قبائلی ، ہندو تہذیب اور سوشل میڈیا کے برے اثرات کا شکار ہے۔ ملک میں حالیہ دو واقعات جو ہوئے ہیں جن ایبٹ آباد میں ڈاکٹر وردہ کا قتل جو کہ لالچ اور بے حسی کی علامت ہے جسے اپنی ہی دوست نے اجرتی قاتلوں کے ذریعے بے دردی سے قتل کروایا ۔ ڈاکٹر وردہ نے اپنی دوست ردا وحید کے پاس 67 تولے سونا امانت رکھوایا تھے جسے واپس مانگنے پر اسے قتل کیا گیا جبکہ لاہور کے ایک ڈی ایس پی نے دوسری شادی کی مخالفت پر اپنی بیوی اور بیٹی کو گولیاں مار کرقتل کر دیا اور خود ہی اپنی بیوی اور بیٹی کے اغواء کا مقدمہ تھانہ میں درج کروایا ۔ ان باتوں سے عیاں ہوتا ہے کہ پاکستان میں وقت کی پابندی ہے نہ قانون کی عملداری ہے اور ہر ایک اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہے۔

ڈاکٹر خالدہ صباء

گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج نمبر 11 ایبٹ آباد )

 

اسلام کا خاندانی نظام ایک تقابلی مطالعہ انتہائی عرق ریزی سے لکھی گئی ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ ادخلو في السلم كافة “ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ یہاں Black & White واضح ہے یعنی Grey نہیں ہے۔ ایمان کے بعد عمل صالح لازم و ملزوم ہیں اس زمانے میں عام بات ہوگئی ہے لڑکیاں لڑکوں میں بہت سی خوبیاں چاہتی ہیں اور لڑکے لڑکیوں میں ۔ اب بچے چھوٹی چھوٹی بات پر طلاق و رشتہ ختم کر لیتے ہیں، اب میڈیا، عورت و مرد دونوں دسترس میں آگئے ہیں۔ رشتوں میں بندھنا اور اس میں تحفظ واحد یہ ہے ہم دوسروں میں خامیاں نکالنے کے بجائے خود کی حفاظت کریں۔ ایک دوسرے کو فکس کرنے ، درست کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے لئے لباس کے تعلق کو مد نظر رکھیں یعنی جس طرح لباس زینبت، خوبصورتی، تحفظ ، نزدیک ترین لباس موسمی اثرات سے بچاتا ہے ۔ مرد قلعہ بناتا ہے۔ عورت قلعہ بند ہے مگر آج دسمبر 2025 ء کی خبر ہے کہ ایبٹ آباد شہر میں ایک انتہائی شریف و متین ڈاکٹر وردہ ور کو اس کی دوست ( ردا وحید ) نے 67 تولہ سونے کی وجہ سے قتل کر کے چھوڑ دیا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ہمارے ملک میں عورت کا مال، جان محفوظ نہیں ہے جبکہ ایبٹ آباد شہر انتہائی کھچ د تعلیم یافتہ اور کاکول اکیڈمی کی وجہ سے انتہائی تہذیب یافتہ شہر ہے یہاں کے باسی ہر ایک کو خوش آمدید کہتے ہیں اس کے موسم انتہائی مناسب ہیں مگر آج کے دور میں محفوظ نہیں ہے۔ کیونکہ ہمارا میڈ یا جلد امیر ہونے کے گر سکھاتا ہے۔

حقوق ہم اسلام کے مطابق مانگتے ہیں اور فرائض بھول جاتے ہیں جبکہ حقوق و فرائض لازم و ملزوم ہیں۔

Where there is right, there is Co-orpaneting duty 

Right & Duty are co-relative آج دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ظلم، جبر، کفرو طفیان، طاغوتی اور دجالی نظام پھیلائی ہوئی بدامنی ہے۔ فاضل مصفہ و مدلفہ نے قرآن کو شاہ کلید کے طور پر پیش کر کے صاحب قرآن حضرت محمد محسن نسواں کی تعلیمات کی روشنی اللہ کی رضا کا حصول زندگی کا محور و مقصود قرار دیا ہے۔

 

یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا

 

فوزیہ بشیر علوی (شاعرہ، ادیبہ )

(ایم اے اسلامیات، ایم اے اکنامکس، ایم اے جرنلزم )







محترمہ پروفیسر زہرہ جبین ایڈوکیٹ کی یہ کتاب "اسلام کا خاندانی نظام ایک تقابلی مطالعہ انتہائی عرق ریزی اور دلائل سے مروجہ قانون و شریعت ، رسم و رواج خاص طور پر اسلامی اقدار کے ذریعے اپنے تجربہ کا نچوڑ لکھا ہے۔ ہمارے ادارہ نے اس سلسلے میں کافی کام کیا ہے ۔ یہ کتاب عام طالب علم کے علاوہ سماج کے سارے طبقوں کے لئے مشعل راہ بنے گی۔

قرآن ایک قانون کی کتاب نہیں بلکہ ہدایت کا ذریعہ قرار دیا۔ یہ عالم انسانیت کے لئے آخری پیغام ہدایت ہے۔ آج جو انتشار دنیا ، عالم میں برپا ہے وہ صرف اسلام کا خاندانی نظام جو قرآن وسنت سے ثابت شدہ ہے پر عمل درآمد کرنے سے ہی نجات کا ذریعہ ہے اور امن وسکون و راحت کا سبب بنے گا۔ ( انشاء اللہ )

اس نظام کو نافذ کرنے کے لئے گھروں سے تربیت اور بہ حیثیت ریاست پاکستان کے ذریعے عملی نفاذ کا عمل ہو۔ ایسی ساز گار فضاء ہو کہ جہاں عورتیں ، مرد، بچے آرام و سکون سے اسلامی شعار کو اپنائیں۔ صرف قانون سازی نہیں معاشرے کا ہر فرد اپنی ذمہ داری اپنے دائرہ کار عمل میں نافذ کرے۔

 

ڈاکٹر شگفتہ عمر

سابق ڈائریکٹر و ویمن ایڈ ٹرسٹ

دعوی اکیڈمی ( وومن ونگ ) اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد






ساس کی شخصیت کے بارے میں تحریر :

(وہ میری محسن اور مربی ہیں )

 

تربیت انسان کی شخصیت کا سب سے اہم ستون ہے۔ یہ صرف اتنی بات نہیں کہ ہمیں کون سکھاتا ہے، بلکہ بڑی حقیقت یہ ہے کہ ہم سیکھنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ جس دل میں سیکھنے کی خواہش ہوتی ہے، زندگی خود ایسے رہنما بھیج دیتی ہے جو انسان کو اس کی اصل پہچان تک پہنچا دیتے ہیں۔ میری زندگی میں یہ رہنمائی مجھے میری ساس سے ملی۔ ان کی تربیت آج بھی میرا سرمایہ زندگی ہے۔ میرے والدین نے مجھے پیار ، نرمی اور تحفظ کے دائرے میں پروان چڑھایا۔ انہوں نے ایک خوبصورت پودا لگایا تھا مگر اس پودے کو باغ بنانے کا ہنر میری ساس کے ہاتھوں نصیب ہوا۔ دوسری طرف میں جذباتی مزاج رکھتی تھی اور عملی زندگی کی حقیقتوں سے کم واقف تھی۔

 ایسے میں میری ساس وہ روشنی بن کر میرے سامنے آئیں جنہوں نے میرے اندر کی کمزوریوں کو پہچانا بھی اور انہیں دور کرنے میں میرا ہاتھ بھی تھاما۔ میری ساس مضبوط اصولوں، وسیع تجربے اور حقیقت پسند نگاہ رکھنے والی شخصیت ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ گھر محبت ، عقل اور برداشت سے چلتا ہے۔ بیوی گھر کی بنیاد ہوتی ہے۔ عزت کردار سے بنتی ہے اور مشکل وقت میں ثابت قدم رہنا ہی اصل طاقت ہے۔ ان کی باتیں کبھی سخت بھی ہوتیں ہیں، مگر ان میں محبت ، سنجیدگی اور نیت کی سچائی چھپی ہوتی ہے۔

وہ اکثر کہتی ہیں: ساس کو اگر ماں نہ سمجھ سکو تو کم از کم ایک بڑے بزرگ کی طرح ضرور سمجھو۔ اسی میں عزت ہے اور اس میں خیر ہے۔ وقت کے ساتھ مجھے وہ ہر بات سمجھ آنے لگی۔ میں نے سیکھنے کی نیت رکھی ، اور انہوں نے سکھانے میں کبھی کمی نہیں کی۔ یوں میرے والدین نے جو پودا پیار سے لگایا تھا، میری ساس نے اسے تراشا ، سنبھالا اور اپنی تربیت سے خوبصورت باغ میں بدل دیا۔ ان کی سکھائی ہوئی باتیں، ان کی تربیت ، ان کی دعائیں اور ان کا دیا ہوا حوصلہ میری زندگی کا حصہ ہیں۔ میں ہر مشکل میں ان کی سخت باتوں میں چھپی محبت کو یاد کرتی ہوں، اور ہر آسانی میں ان کی دی ہوئی سمجھ داری کو محسوس کرتی ہوں۔ میری زندگی کی مضبوطی، میر اوقار اور میرا کردار سب کچھ ان کی تربیت کا مکس ہے۔

ساس اور بہو کا رشتہ اکثر غلط فہمیوں میں گھر جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر دل سیکھنے کے لئے نرم ہو اور بزرگ رہنمائی کے لیے مخلص ہوں تو یہ رشتہ گھر کی بنیاد کو مضبوط ترین بنادیتا ہے۔

 

تحفظ : عورت کا بنیادی حق

ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی ( ممبر قومی اسمبلی ) ( ممبر اسلامی نظریاتی کونسل )

 

یا رسول اللہ ﷺ ! ہم لوگ جاہلیت والے اور بتوں کی عبادت کرنے والے لوگ تھے، ہم اپنی اولاد کو قتل کر دیتے۔ میری ایک بیٹی تھی ، جب وہ بڑی ہوئی اور اس کا حال یہ تھا کہ جب میں اسے بلاتا ، تو وہ میرے بلانے سے خوش ہوتی۔ تو ایک دن میں نے اسے بلایا، وہ میرے پیچھے ہولی ، میں چلا، یہاں تک کہ اپنے قبیلے کے کنویں پر آیا، جو زیادہ دور نہیں تھا، پھر میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے کنویں میں ڈال دیا۔

ایک روایت میں ہے کہ وہ اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے میرے ساتھ گڑھا کھود نے لگی اور میں نے اسے اس میں دبا دیا اور اس کے آخری الفاظ تھے کہ میرے بابا، میرے بابا ۔

حضور نبی کریم ﷺ یہ واقعہ سن کر رو پڑے۔ صحابہ کرام نے اس شخص کو کہا کہ تم نے نبی کریم ﷺ کو غم گین کر دیا ۔ حضور ﷺ نے صحابہ سے فرمایا اسے کچھ نہ کہو ۔ یہ اپنے نغم اور اپنی پشیمانی کے بارے میں پوچھ رہا ہے، جو لاحق ہے۔ اور اسے دوبارہ یہ قصہ سنانے کے لئے کہا۔

یہاں تک کہ آپ لے کے آنسو آپ کی داڑھی مبارک پر بہہ پڑے اور ان صاحب سے کہا کہ الہ نے اہل جاہلیت کے تمام برے اعمال ( اسلام لانے کی وجہ سے ) معاف فرما دیئے ہیں ۔ لہذا اب نئے سرے سے اچھے اعمال بجالاؤ۔

( سنن الداری ، 1/153)

آج لگتا ہے کہ زمانہ جاہلیت پھر سے پلٹ کر آگیا ہے ۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق سال 2024 ء میں صرف غیرت کے نام پر 547 خواتین کو قتل کیا گیا، جب کہ مجموعی طور پر صنفی بنیاد پر تشدد کے 32617 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں عصمت دری ، اغواء اور گھر یلو تشد دبھی شامل ہے۔

عورتوں کے قتل کے پیچھے سماجی ، ثقافتی رویے بنیادی عوامل ہیں، جن کے باعث خواتین کو موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے اور یہ رویے خطرناک طور پر بڑھ رہے ہیں ۔ ہمارے قانونی اور عدالتی نظام میں خرابیوں کی وجہ سے مجرم دندناتے پھرتے ہیں اور سزا کی شرح 0.5 فیصد تک محدود ہوگئی ہے ۔ یہ ایک سلمین انسانی حقوق کا مسئلہ ہے، جو سماجی بے داری ، اصلاحات اور قانون کے مئوثر نفاذ کا متقاضی ہے۔ ابھی حال ہی میں بلوچستان میں وقوع پذیر ہو نیوالے سانحے میں دو شادی شدہ افراد اپنی ازدواجی زندگیوں کا تقدس پامال کرتے ہوئے اپنے بچوں کو چھوڑ کر چلے گئے اور پھر ماورائے عدالت قتل کر دیئے گئے۔

یہ دونوں ہی رویے ہمارے سماجی اور معاشرتی انحطاط کی نشان دہی کرتے ہیں کہ کوئی بھی فرد کیسے اپنے معصوم بچوں اور اپنے شوہر یا بیوی کے ساتھ بے وفائی کر کے انہیں چھوڑ کر جا سکتا ہے ۔ بالفرض ، اگر کوئی عورت اپنی شادی سے ناخوش ہے، تو اس کا طریقہ موجود ہے کہ سیدھی طرح طلاق لے کر ، عدت گزار کے دوسری شادی کرلے مگر اس طرح اپنے سماج کی روایتوں کو باغیانہ طریقے سے پس پشت ڈال کر گھروں سے بھاگ جانا کسی بھی معاشرے میں قابل قبول نہیں، یہاں تک کہ مغرب میں بھی نہیں ، جیسا کہ پچھلے دنوں ایک میوزک کے کنسرٹ میں مشہور امریکی کمپنی کے سی ای او کو اپنی سیکرٹری کے ساتھ نا مناسب طور پر دیکھا گیا اور ان کی ویڈیو وائرل ہوئی، تو انہیں مستعفی ہونا پڑا اور پھر دونوں کے لائف پارٹنرز نے ان سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا، جب کہ دونوں کو پوری دنیا سے لعن طعن بھی سنے کو ملی۔

لیکن بہر حال ، ماورائے عدالت قتل کا اختیار کسی کو نہیں دیا جا سکتا۔ اسیط رح نور مقدم کا کیس ہے، جو چار سال سے چل رہا ہے جس میں ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ یہ کیس پاکستان میں عورتوں پر تشدد کے حوالے سے بڑے کیسز میں شمار کیا جاتا ہے اور اس کیس نے ہمارے ہاں کی اشرافیہ کے لائف اسٹائل اور رویوں کو بری طرح آشکار کر کے رکھ دیا ہے۔

نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری کے 1500 سال مکمل ہونے اور عالمی یوم حجاب کو تقریباً دو عشروں سے سنانے کے موقعے پر یہ سب واقعات اور اعداد و شمار اس لیے یاد آئے کہ ہم ان نبی کے نام لیوا ہیں کہ جن کی زندگی میں عورت کا کردار، بڑا مقدس ہے ۔ ان کی حیات طیبہ کے ہر ہر ورق پر خواتین سے حسن سلوک ، محبت اور عزت و تحفظ کے یادگار لمحات محفوظ ہیں۔ مشہور مورخ ابن ہشام نے نبی کریم ﷺ کی رضاعی بہن کا ایک خوب صورت واقعہ بیان کیا ہے۔

آپ کی کوئی حقیقی بہن نہیں تھیں، جب آپ سیدہ حلیمہ سعدیہ کے پاس گئے ، تو وہاں حضور کی ایک رضاعی بہن کا ذکر بھی آتا ہے، جو آپ کو لوریاں دیتی تھیں اور ان کا نام حضرت شیما ہے۔

شام کے وقت جب خواتین کھانا پکانے میں مصروف ہوتیں، تو بہنیں اپنے بھائی اٹھا کر باہر لے جاتیں اور ہر بہن کا خیال ہوتا کہ اس کا بھائی زمانے بھر میں سب سے خوب صورت ہے ۔ ایک کہتی میرے بھائی جیسا کوئی نہیں ۔ تو دوسری کہتی میرے بھائی جیسا کوئی نہیں“۔

اتنے میں شیما اپنے بھائی ،نبی کریم ﷺ کو اٹھالا تیں اور دور سے کہتیں ” میرا بھائی بھی آگیا ہے تو سب کے سر جھک جاتے اور سب کہتیں نہیں نہیں، تیرے بھائی کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکا، ہم تو آپس کی بات کر رہے ہیں۔ شیما حضور ے کو اپنی گود میں لے کر سمیٹتیں، جھومتیں اور پھر لوری دیتیں، جس کا ترجمہ ہے ۔ اے ہمارے رب میرے بھائی محمد ﷺ کو سلامت رکھنا۔ آج یہ پالنے میں بچوں کا سردار ہے ، کل جوانوں کا بھی سردار ہوگا ۔ پھر کچھ عرصے بعد حضور ﷺ اپنی والدہ کے پاس کے چلے گئے۔

حضور ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا اور مکے سے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی ۔ جب غزوات کا سلسلہ شروع ہوا، تو جس قبیلے میں حضرت شیما کی شادی ہوئی تھی ، اس قبیلے کے ساتھ مسلمانوں کا ٹکراؤ ہو گیا۔ مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی اور اس قبیلے کے چند افراد گرفتار ہوئے ۔ وہ لوگ اپنے قیدیوں کو چھڑوانے کے لیے فدیہ جمع کرنے لگے، قبیلے کے سردار بھی گھر گھر جا کر رقم جمع کر رہے تھے۔

چلتے چلتے وہ حضرت شیما کے گھر پہنچ گئے ، جو اپنی عمر کا خاصا حصہ گزار چکی تھیں۔ جب ان سے بھی رقم کا مطالبہ کیا گیا، تو انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ کس لیے جمع کر رہے ہیں؟ انہیں بتایا گیا کہ لڑائی میں ہمارے آدمی گرفتار ہوئے ہیں، انہیں فدیہ دے کر رہا کروانا ہے۔

باتیں کرتے کرتے کسی کے لبوں پر محمد ﷺ کا نام آگیا، تو حضرت شیما یہ سن کر کہنے لگیں" اچھا، تو کیا انہوں نے تمہارے لوگ پکڑے ہیں ؟ جب ” ہاں میں جواب ملا تو انہوں نے کہا ۔ تم رقم اکٹھی کرنا چھوڑ دو، مجھے ساتھ لے چلو سردار نے حیرت سے کہا: تمہیں کیوں ساتھ لے چلیں ؟ انہوں نے کہا۔ ہاں تم نہیں جانتے، وہ میرے بھائی ہیں۔ قصہ مختصر ، حضرت شیما قبیلے والوں کے ساتھ مدینہ منورہ چلی گئیں ۔ جب وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں، تو آپ کے دیکھتے ہی پہچان گئے اور اٹھ کر ان کا استقبال کیا۔ پھر ان کی درخواست پر نہ صرف قیدی رہا کر دیئے ، بلکہ آپ نے کچھ گھوڑے اور کپڑوں کے چند جوڑے حضرت شیما کو بطور تحفہ بھی دیئے ۔ آپ سے انہیں رخصت کرنے کے لیے خیمے سے باہر تک تشریف لائے۔

الغرض، آپ کی حیات طیبہ میں ماں، بہن، بیوی اور بیٹی ہی نہیں، ہر عورت سے عزت و احترام کے ساتھ پیش آنے کے واقعات موجود ہیں۔ اور جب ہم اپنے رویے دیکھتے ہیں تو جہاں عورت کے تحفظ کی بات ہو، اسے حقوق دینے ہوں تو آپ کی سیرت مبارکہ کی پیروی کی بجائے عورت کو رسم و رواج کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔

حلقہ خواتین ، جماع اسلامی قریباً 20 برس سے عالمی یوم حجاب اس عزم کے ساتھ مناتی آ رہی ہے کہ معاشرے میں عورت کی حفاظت کے رویے رواج پائیں۔ اس کے حقوق کا شعور حاصل ہو۔ اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے عورت جتنی تن دہی سے کام کرتی ہے، معاشرہ تحفظ کی صورت اسے خراج ادا کرے۔ حضاب محض گز بھر کپڑے کے ٹکڑے کا نام نہیں، بلکہ ایک پورا نظام تحفظ ہے۔

 

مسلمان خواتین کی واضح اکثریت اب ببانگ دہل یہ اعلان کرتی ہے کہ جن تہذیبوں نے بھی مرد اور عورت کے درمیان فطری تقسیم کار کے خلاف اقدامات اٹھائے ، وہ روئے زمین سے نیست و نابود ہوگئیں۔

رومن اور یونانی تہذ میں اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ اسلامی تہذیب و تمدن میں عورت اور مرد، ایک دوسرے کی صلاحیتیں پروان چڑھانے میں معاونت کرتے ہیں ۔ یہ دو مد مقابل قو تیں نہیں ، زندگی کی گاڑی کے دو یک سال پیسے ہیں، جو حقوق، اجر و ثواب اور عذاب و پاداش میں بالکل مساوی اور فرائض میں جدا گانہ کردار ادا کرتے ہیں۔

اس میں عورت کا کردار بحیثیت ماں اور بیوی کے اتنا ہی اہم ہے، جتنا کسی ملک کے لیے حکم ران، فوج اور قانون کا ہوتا ہے۔ عورت کی ممتا اور بیوی کے کردار کو غیر اہم ، فرسودہ اور ترقی کی راہیں رکاوٹ سمجھنا پوری تہذیب کا ملیا میٹ کرنے کے مترادف ہے ۔ عورت کو انسان کی تخلیق و تعمیر کی جو گراں بارڈ سے داری سونپی گئی ہے ، اس سلسلے میں اس کی فطرت تقاضا کرتی ہے کہ وہ محبت و حفاظت کے حصار میں رہے ۔ اسے دنیا کے جھمیلوں سے بے نیاز خلوت عطا کی جائے تبھی روئے زمین پر مہذب اور متمدن نسل پروان چڑھ سکے گی۔

جسے گھر کی خوب صورت دنیا کی محبت ملی ہوگی ، وہ دنیا کو ہی محبت اور شفقت لوٹا سکے گی ۔ ورنہ آج کی دنیا اس لیے فساد سے بھر گئی ہے کہ عورت نے اپنا بنیادی فریضہ غیر اہم اور فرسودہ سمجھ کر ترک کر دیا ہے۔ اس پر ایسے نظریات مسلط کر دیئے گئے ہیں جن کے سبب وہ اپنی فطری ذمے داریوں سے فرار کی

راہ اختیار کرنے ہی کو اپنی ترقی سمجھ بیٹھی ہے۔

گھر، جو دنیا کی بنیادی اکائی ہے، ممتا اور گھر گرہستن سے خالی ہو کر بازار کے سپر د ہو گیا ہے ۔ وہ ایک سرائے اور ہوٹل میں تبدیل ہو کر محبت اور شفقت سے خالی ہو گیا ہے ۔ اس لیے ہمیں شادی ، خاندان اور ممتا کے اداروں کی بحالی کے لیے سنجیدہ ہو جانا چاہئے ۔

عورت کے تحفظ اور وقار کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ مخلوط معاشرے کی ترویج کی بجائے مرد و عورت کے اپنی اپنی فطرت کے مطابق دائرہ کار میں کام کو ترجیح دیں۔ اس کے بعد جب بھی ضروری ہو، وہ ایک باوقار لباس میں ( جسے اسلامی معاشرے میں حجاب کے نام سے جانا جاتا ہے ) گھر سے باہر کے امور سر انجام دے سکتی ہے۔ اس حجاب کو قرآن کریم میں عورت کے لیے فرض قرار دیا گیا ہے تا کہ وہ ستائی نہ جاسکیں اور محفوظ و با وقار ہیں۔

پوری اسلامی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ دور نبوی سے لے کر آج کی جدید دنیا تک، حجاب مسلمان عورت کا بنیادی فریضہ رہا ہے، جسے وہ کسی شوق ، فیشن، جبر، پابندی ، مردوں کے حکم یا معاشرے کے رواج کی وجہ سے نہیں، بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کے تحت اپناتی ہے اور اس پیروی کو اپنے لیے وجہ افتخار بجھتی ہے۔ لیکن استحصالی قوتیں مسلمان عورت کے اس بنیادی حق ، یعنی حجاب کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے دہشت گردی سے جوڑ رہی ہیں ۔

با حجاب عورت کو دہشت گرد اور فرسودہ اقتدار کی حامل عورت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ، مگر مسلمان عورت اور مسلم معاشرہ کبھی بھی اس پراپیگنڈے کا شکار نہیں ہوگا۔ خواہ یہ اسلام دشمن طاقتوں کے لئے کتنی بھی خوف کی علامت کیوں نہ ہو۔ ہمیں Aging Problems اور بوڑھے پینشنرز کے بوجھ سے لدی سوسائٹی ، خاندانی نظام کی مضبوطی اور افزائش نسل کی بڑھوتری کے اقوام مغرب کے فلسفے سے سبق اور عبرت حاصل کرتے ہوئے فطرت سے بغاوت کی روش ترک کر کے صحیح اسلامی، فلاحی معاشرے کی داغ بیل ڈالنی چاہئے ، جس میں عورت کا ایک ایسا غالب کردار ہے ، جس کی عملی مثالیں خانوادہ نبوت کی خواتین نے اس طور پیش کیں کہ زمانہ لاکھ انہیں نظر انداز کرے، وہ چھپائے نہیں چھتیں۔

خواہ وہ حضرت خدیجہ ہوں ، جنہوں نے سب سے پہلے نبوت کی گواہی دی یا کہ حضرت عائشہ جن کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں ۔ حضرت فاطمہ کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے ، جوخاندان اور ممتا کے اداروں کے لیے مینارہ نور کی حیثیت رکھتی ہیں۔ حضرت زینب کے خطبات نے حضرت علی المرتضی کی یاداشت کے دلوں میں تازہ کی ، جن کی شجاعت نے حق و صداقت کا علم بلند کرنے اور یزیدی قوتوں کے سامنے نہ جھکنے کا ولولہ انگیز سبق دیا۔

اسلام مکالمے، رواداری، امن و سلامتی اور محبت و اخوت کا دین ہے ۔ مسلمان عورت انہی نظریات کے ساتھ پروان چڑھتی ہے۔ وہ دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے ، جیو اور جینے دو“ کے اصولوں پر اس زمین کو محبت و سلامتی کی آغوش میں دینے کیلئے سرگرداں ہے ۔ مگر آج اس کے لیے حجاب کی پابندی، اس کے خاندان میں بنیادی کردار اور مخلوط معاشرے کی تباہ کاریوں سے بیچ کر محفوظ اور محبت بھری پناہ گاہوں میں رہنے کو شک و شبے کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ اس کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس عورت کی اہمیت جو مرد کی طرح سوچے، مرد کی طرح جیے اور مرد ہی کی طرح لباس پہنے۔

شق و غرب کی تمام مسلمان عورتیں، تمام تر دہشت گردی سے (چاہے وہ انفرادی ہو یا ریاستی ) سر عام بے زاری اور نفرت کا اعلان کرتے ہوئے اس بات کا عزم کرتی ہیں کہ اپنی روایات و ما اقدار پر زبردستی کسی کا تسلط تسلیم نہیں کریں گی۔ خواہ اس کے لیے انہیں کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں اور ہم خواتین ، اقوام عالم اور اداروں سے بھی یہی توقع رکھتی ہیں کہ اپنی تہذیب واقدار تھوپنے کی بجائے وہ مکالمے، بحث مباحثے اور احترام و رواداری کے اعلیٰ انسانی اصول اپنا ئیں تاکہ ہم مہذب معاشرے تشکیل دے کر زمین کو تہذیب و شائستگی اور امن و آشتی کی جگہ بنا سکیں۔



ترتیب مضامین

  1. نظریه ازدواج
  2. ایک سے زائد شادیاں
  3. مسئلہ لونڈی داماء
  4. نکاح کی تعریف
  5. نکاح میں ولایت (جبر)
  6. حرمت نکاح
  7. نکاح کی اقسام ( جو از او عدم جواز )
  8. عارضی نکاح
  9. نکاح میں مرتد ہونے کا اثر
  10. مہر
  11. نفقه
  12. طلاق خلع و تنسیخ نکاح
  13. مختلف ادوار میں شادی
  14. آج کی مسلمان عورت اور دور جدید کا چیلنج
  15. مسلم خاندان: امد کے خطرات سے تحفظ
  16. مساجد میں خواتین
  17. نبی رحمت علی کا گھرانہ
  18. احکام قرآن عائلی قوانین
  19. کم سنی کی شادی اور امتناعی قانون: ایک جائزہ
  20. مختلف ادوار میں شادی
  21. "سالہ 2026ء"
  22. کتاب کا اجمالی خاکہ
  23. Women Rights 2017



باب نمبر 1

نظریه ازدواج

اسلام کا خاندانی نظام:

(نظریہ ازدواج) اور پاکسانی معاشرہ قانون کے تضادات:

آج کل خصوصاً اور پچھلے 78 سال سے عموماً حالات کا تجزیہ کیا جائے تو یوں لگتا ہے کہ پاکستانی معاشرہ تضادات کی لپیٹ میں آچکا ہے ایک قوم محض آئیڈیالوجی کی بنیاد پر اکٹھی ہوئی وگر نہ قومیت کے سارے بندھن و پیمانے مختلف تھے۔

قرآن میں سورہ صف آیت نمبر ۱۰۔۱۱، میں ارشاد ربانی ہے

"اے وہ لوگو جو ایمان لائے ۔ کیا بتاؤں تم کو ایسی نفع والی تجارت جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دلائے تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور اس کے دین کو اس ( زمین ) پر قائم کرنے کے لیے اپنی جانوں اور مالوں کے ساتھ جد و جہد کرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔"

ارشاد قائد اعظم محمد علی جناح ہے : ہم نے بحیثیت قوم اللہ کے قانون (شریعت) کو نافذ کرنے ، اپنا سپریم لاء بنانے کے لئے یہ زمین کا ٹکڑا حاصل کیا۔ اسلامی قانون کو پرکھنے کے لئے تجربہ گاہ کا حصول تھا۔ قرار داد مقاصد جواب آٹھویں ترمیم کی صورت میں آئین کا عملی حصہ بن چکی ہے اور اس کی رو سے آئندہ کوئی قانون قرآنوسنت کے خلاف نہیں بنایا جائے گا۔ جو قانون موجود ہیں ان کو قرآن وسنت کے مطابق ڈھالا جائے گا مگر عالم یہ ہے کہ ہم لوگوں کی ذہنیت اور طرز فکر اس طرح پروان چڑھ رہا ہے کہ فرائض کی چشم پوشی و دکان اور حقوق کی طلبی وخواتین پر ظلم ہورہا ہے تشدد کا نشانہ بن رہی ہیں تمام میڈیا خصوصا پاور فل میڈیا ٹیلی ویژن پر اس طرح کی راگنی الاپی جا رہی ہے کہ مرد عورت کو اپنی جوتی پر رکھتا ہے جب چاہے طلاق دے دے۔ جب چاہے چولہا الٹا کر اس کے خدو خال بگاڑ کر رکھ دے یا موت کی وادی میں دھکیل دے۔ آخر چولہا پھٹ کر بیوی کیوں مر جاتی ہے؟ ساس ، ہند کیوں نہیں؟

در حقیقت حقوق چھینے کا واویلا وہی طبقہ مچا رہا ہے جو خود اسلامی حدود و پابندیوں سے بیزار ہے تشد دو ظلم حدود آرڈینینس کا مذاق ، آبھی گواہی ، چار شادیوں، مہر و نفقہ، طلاق و خلع ، وراثت و جہیز کے غلط ملط کرنے کے نام سے خدا کے دین کا مذاق اڑایا جا رہا ہے ۔ گھریلو جھگڑوں کے اسباب کا بے لاگ تجزیہ

ضروری ہے ۔ جو ہماری قوتوں و صلاحیتوں و اوقات کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل الگ، متوسط طبقہ کی خواتین کے لئے شادی ایک مشکل مرحلہ بن گئی ہے عام طور سے رشتوں میں قحط الرجال کی سی کیفیت ہو گئی ہے اوپر سے ٹیلی ویژن جو ہر گھر کا اوڑھنا بچھونا ہے میں ایسے ڈرامے پیش کئے جاتے ہیں کہ شوخ و چنچل لڑکی کو گویا کہ

اس آہو رم خوردہ کی وحشت کھوئی مشکل تھی

سحر کیا اعجاز کیا جس نے تجھ کو رام کیا

کے مصداق محبت کو اسیر کرنے کے گر سکھائے جاتے ہیں۔ شادی کے مسائل پر کبھی بھی ، مذہبی لحاظ سے کوئی نصیحت آموز ڈرامہ نہیں دکھایا گیا۔

اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی نمائندگی کا حق ان مٹھی بھر خواتین کو نہ دیں جو حقوق مانگنے کا واویلا کر کے فرائض سے چشم پوشی کر رہی ہیں بعض اوقات واقعی اس طبقہ کی خواتین زیادہ ہی پس رہی ہوتی ہیں۔ مگر یہ بات عیاں ہے کہ آج کی عورت دین کے معاملہ میں جس قدر سمجھ بوجھ رکھتی ہے وہ تو اظہر من الشمس ہے۔ اپنی کم علمی و کم نمی کے سبب اللہ کی حدود کا مذاق اڑانے والی بن کر رہ گئی ہے اور خود کو مردوں کا شائد ضمیمہ کے روپ میں لے کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں۔

 

عورتوں کا دین :

عورتیں اپنے دین کو مردوں کے حوالے نہ کریں وہ مردوں کا ضمیمہ نہیں ہیں ان کی اپنی ایک مستقل شخصیت ہے۔ عورتوں کو بھی مردوں کی طرح خدا کے روبرو پیش ہونا ہے ۔ اپنے اعمال وافعال کا حساب دینا ہے۔ قیامت کے روز ہر عورت اپنی قبر ہی سے اٹھے گی ۔ اپنے شوہر، بھائی، باپ کی قبر سے نہیں اٹھے گی ۔ وہ اپنے اعمال کا حساب دیتے وقت یہ کہہ کر نہ چھوٹ جائے گی کہ میرا دین میرے مردوں سے پوچھو!! اپنے طریق زندگی کی وہ ذمہ دار ہے اور اپنے خدا کے سامنے اس بات کی جواب دہی کرنی ہوگی کہوہ جس طریقہ پر چلتی رہی کیا سوچ کر چلتی رہی ۔ سید ابوالاعلی مودودی کہتے ہیں۔ مسلمان ہونا اور لاعلم ہونا دو متضاد باتیں ہیں۔ ہمیں تو ان معزز و محترم خواتین کے کردار کا امین ہونا چاہئے جو کہ ہر مسئلہ رسول اللہ ﷺ اور بعد میں خلافا ء راشدین و صحابہ کرام اجمعین کے سامنے رکھتیں اور مکمل رہنمائی حاصل کرتی تھیں۔

حضرت ابو سعید بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا که یا رسول اللہ ﷺ مرد تو آپ کی باتیں سن جاتے ہیں ( مگر ہم عورتیں محروم رہتی ہیں ) پس آپ اپنی طرف سے ہمارے لئے کوئی دن مقرر فرمادیجئے جس میں ہم آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں تا کہ آپ ﷺ ہمیں وہ علم سکھائیں جو آپ ﷺ کو خدا نے سکھایا ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا تم فلاں فلاں جگہ جمع ہو جانا۔ چنانچہ وہ عورتیں جمع ہونے لگیں ( بخاری ) ان صحابیات کی علم دین حاصل کرنے کی خواہش اس لئے پوری ہوئی کہ انہوں نے حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں درخواست کر کے اپنے لئے علیحدہ بندو بست کروایا۔ یہ جرات یہ تڑپ دیکھ کر حضور ﷺ نے ان کے اس حق کو تسلیم کرتے ہوئے خصوصی طور پر مخاطب فرمایا اور تعلیم دی۔

حضرت عائشہ کے علمی مقام کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ احادیث کی تصحیح کتب میں ان کی مرویات کی تعداد ۲۰۰۰ سے زیادہ ہے ان کا شمار ان پانچ صحابہ میں کیا جاتا ہے جنہوں نے سب سے زیادہ احادیث روایت کیں۔ حتی کہ شریعت کے چوتھائی احکامات ان سے منقول ہیں ( فتح الباری جلدے ۔ ص ۸۲ ۸۳) اسلام نے عورت کی جد و جہد کو صرف علم و فکر کے میدان تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس کی پرواز عمل کے لئے اس سے وسیع تر فضاء میں کی وہ علم وادب کی طرح زراعت و صنعت و تجارت میں بھی حصہ بلکہ ترقی کرنے کا حق رکھتی ہیں بلکہ مختلف پیشوں اور صنعتوں کو اپنانے اور ترقی دینے اور بہت سی ملی و اجتماعی خدمات انجام دینے کی اجازت ہے۔

حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت عبادہ بن صامت کی بیوی ام حرام کی درخواست پر ان کے حق میں دعا فرمائی ۔ اللہ تعالیٰ ان کو بھی ان لوگوں میں شمار کریں جو خدا کی راہ میں جہاد کے لئے سمندر کا سفر کریں گے اور ان کو بشارت دی گئی ہے کہ ان کا شمار سابقین میں ہوگا۔ ( بخاری کتب الجہاد ) انصار کی عورتوں کے بارے میں حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ انصار کی عورتیں دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے کے سلسلے میں حیاء شرم ان کے لئے رکاوٹ نہیں بنتی تھی ۔ (مسلم کتاب الحیض ) مگر ہمارے لئے باعث تقلید مثال وہ ہے ایک لمحہ کے لئے چشم تصور میں لائے حضرت عمر فاروق جیسی شخصیت کی قانونی و اجتہادی مجلس ہے حق مہر کی مقدار کی تعین پر بحث ہو رہی ہے تو ایک عورت آکر ٹوکتی ہے کہ خدا اور اس کے رسول ﷺ نے مقدار کا تعین نہیں کیا تم کیسے کر سکتے ہو؟ جس پر حضرت عمر نے کہا آج ایک عورت قرآن سمجھنے میں مردوں سے بازی لے گئی ۔ اس واقعہ سے دو باتیں عیاں ہیں کہ اس وقت کی عورت کواپنے حقوق و فرائض کا علم و فہم کسی حد تک تھا اور ہر وہ موقع جہاں ان پر گزند پڑنے کا اندیشہ ہو اس سے مکمل طور پر چوکنا و باخبر رہتی تھیں ۔ دوئم یہ کہ اسے ان مجالس قانون ساز تک بھی رسائی حاصل تھی جہاں اس کی بات سنی جاتی اور اس پر عمل درآمد کا انتظام تھا۔

پھر ساتھ ساتھ ہم اپنا جائزہ لیں کہ ہم کسی حد تک اس معیار پر پورا اترتے ہیں۔ ہمارا عالم تو یہ ہے کہ اپنے لائق بچوں کو دنیاوی علوم پر نظریں مرکوز کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور جو کم فہم ، کند ذہن بچہ ہوگا اس کو اسلامیات و عربی یا مذہبی تعلیم کی طرف دھکیل دیں گے جب یہ آگے آجائیں گے تو اجتہاد کا راستہ کس طرح کھلے گا؟ یہ تو تقلید بھی تعصب و کند ذہن کے ساتھ کریں گے اور سب تقلید جامد کے قائل ہوں گے۔ ہمارے عائلی جھگڑوں کا سبب کیا ہے؟ اس ضمن میں اسلامی اور پاکستانی قوانین کا موازنہ ساتھ ساتھ اسلام کا اخلاقی نظام اس ضمن میں پیش کرنے کی سعی کروں گی کیونکہ اخلاق و قانون کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ نبی کریم اخلاق کی تکمیل کے لئے تشریف لائے ۔

 

اخلاق و قانون کا با همی تعلق:

انگریزی لفظ قانون (Law) لاطینی لفظ LOG سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں قائم یا جمی ہوئی شے انگریزی زبان میں یہ لفظ یکسانیت کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ قانون اصطلاحا اقتدار اعلیٰ کا ایسا حکم ہے جس کا خطاب رعایا سے ہوتا ہے جس کے ذریعے بعض کاموں سے انہیں روکا جاتا ہے اور بعض کاموں پر آمادہ کیا جاتا ہے ۔ قانون کے ذریعے ریاست اپنے دائرہ اختیار میں تمام افراد کے باہمی تعلقات کو استوار اور منظم کرتی ہے ۔ خوش حال و پر سکون زندگی کے لئے نظم وضبط و امن وامان کے لئے معاشرتی زندگی سے الجھاؤ اور تصادم ختم کرنے کے لئے قانون نہایت ضروری ہے۔

قانون و اخلاق کا چولی دامن کا ساتھ ہے، قانون کی بنیاد اخلاق پر استوار ہوتی ہے اور اخلاق قانون سے متاثر ہوتا ہے، ہر قانون اخلاقی معیار پر پورا اترنے کی کوشش کرتا ہے مگر ہر اخلاقی بات قانون کا درجہ نہیں رکھتی ۔ اخلاق کا تعلق انسان کے خیالات، مقاصد اور افعال سے ہوتا ہے ۔ یہ باطنی خیالات کے علاوہ انسان ن کے کردار کی بھی تشکیل کرتا ہے ۔ قانون تو صرف انسان کے ظاہری حرکات و سکنات سے بحث کرتا ہے ۔ اس کا تعلق جذبات و خیالات سے نہیں۔ اخلاق کا معیار رسم و رواج تعلیم و تربیت کے اختلاف سے بدلتا رہے گا۔ اب اگر اسلامی قانون کا اس تناظر میں جائزہ لیں گے تو واضح ہوگا کہ اسلام کے قوانین کے کتنے واضح اور ہمہ گیر ہیں کیونکہ ان کا بنانے والا فطرتوں کا بنانے والا ہے اس میں واضحاخلاق وانین میں نکھار کا سبب بنتا ہے انسان کا بنایا ہوا یا خدائی قانون میں ترمیم شدہ صورتحال کسی طرحتکلیف و ضرر کا باعث ہے اس ضمن میں تفصیل میں جانے سے پہلے عبرت کے لئے نقشہ واضح کر دینا ضروری ہے ۔ کہیں ہم نادانستہ طور پر اس طرف تو نہیں بڑھ رہے جس کا تذکرہ فلٹن جے شین (Fulton J Sheen کی کتاب کیمونزم اینڈ کا نشمین آف دی ویسٹ ( Communisum and Conscience of the West)میں ہے ملاحظہ فرمائیے:

"امریکہ کی گھریلو زندگی میں کس قدر مہیجان اس وقت پایا جاتا ہے اس کی مثال اس ملک کی پوری تاریخ میں نہیں ملتی ۔ مصنف کا خطاب اپنی قوام سے ہے امریکہ کی زندگی کے متعلق ہر پہلو سے ٹھیک ٹھاک اندازہ کرنا ہو تو اس کی گھریلو زندگی کو دیکھ لیجئے ۔ اگر ایک متوسط گھرانہ قرض پر زندگی گزار رہا ہے اسراف میں مبتلا ہے ، مقروض ہوتا جا رہا ہے تو یقین کر لیجئے کہ امریکہ قومی قرضوں کے نیچے دیتا چلا جائے گا یہاں تک کہ تباہی کے گڑھے میں جا گرے۔ اگر ایک متوسط گھر کے میاں بیوی ایک دوسرے سے وفاداری نہیں برت رہے تو جان لیجئے کہ کہ امریکہ اٹلانٹک چارٹر کی پابندی پر استوار نہیں رہے گا۔ اگر گھروں کے اندر جان بوجھ کر قصدا بچوں کی پیدائش کو روکا جا رہا ہے تو قوم میں لا ز ما یہ ذہنیت پرورش پائے گی کہ وہ قیمتوں کو برقرار رکھنے کی خاطر فصلوں کو برباد کر کے زندگی کو اس کی فطری نیچ پہ حرکت کرنے سے روکے۔ اگر گھر میں میاں بیوی خود غرضی سے کام لے رہے ہیں، ایک دوسرے کے مفادات اور احساسات کو نظر انداز کر رہے ہیں اور یہ بھول گئے کہ ان میں ہر ایک کی خوشی اور بھلائی کا انحصار دوسرے کی خوشی اور بھلائی پر ہے تو آپ کے ملک میں سرمایہ اور محنت کے درمیان وہ صورت پیدا ہوتی رہے گی جو گھر کے اندر خاوند اور بیوی کے درمیان پیدا ہو چکی ہے اس کے اجتماعی امن اور اس کی محنتوں کے پھل سے اس طرح محروم کر دے گی جس طرح میاں اور بیوی نے گھر کو اس سے محروم کر رکھا ہے ۔ اگر اپنی گھریلو زندگی میں میاں اور بیوی ایک دوسرے کو غیروں سے آنکھیں لڑانے کی گنجائش دے رہے ہیں تو ہماری قوم لازماً ایک ایسی قوم میں تبدیل ہو جائے گی جس کے اندر بیرونی فلسفے اور نظریات آگھیں اور اگر ایک امریکی گھر کے اندر میاں اور بیوی خدا سے آزاد اور بے نیاز ہو کر زندگی بسر کر رہے ہیں تو پورے امریکہ میں ضرور وہ لوگ بر سر اقتدار آئیں گے جو الحاد اور زندقہ کو قومی پالیسی کے طور پر اپنائیں گے اور اس پر زور دیں گے۔ دراصل قومی زندگی کے بجاؤ بگاڑ کا سارا انحصار گھر کی زندگی کے بناؤ بگاڑ پر ہے گھر ہی قوم کی زندگی میں فیصلہ کن ادارہ ہے جو کچھ گھر میں ہوگا وہی کچھ آپ کی اسمبلیوں میں ، سینٹ میں، سیکریٹریٹ اور عدالت عالیہ میں ہوگا۔ جیسی زندگی ہمارے گھروں کے اندر کی زندگی ہو گی بعینہ اسی طرحہماری اجتماعی زندگی ہوگی ۔ بہت سے اعداد وشمار دینے کے بعد وہ پھر تجزیہ کرتا ہے کہ یہ بات قطعی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ بہت سی خواتین کی دماغی اور اعصابی بیماری کا اصل سبب ان ذمہ داریوں کے آپڑھنے کا خوف ہی ہے طلاق رنج وغم ہی کا آخری مظہر ہوتی ہے ۔ اس سے پہلے فریقین پر ایک مدت تک چینی پریشانی اور دماغی عدم توازن کی حالت طاری رہتی ہے۔ پھر وہ اپنی قوم کو جو خطرات در پیش ہیں ان پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے ۔“

"امریکہ اپنی گھریلو زندگی میں جس راہ پر جا رہا ہے اس کو اس نے اگر ترک نہ کیا تو مذہبی و اخلاقی نقطہ نظر سے الگ سراسر دنیاوی نقطہ نظر سے بھی وہ ہولناک نتائج سے دو چار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔"

 

اولاد:

یہ کہ امریکن بتدریج ایک غدار قوم بنتے جائیں گے جس قوم کے اندر پچاس فیصد لوگ یہ سمجھنے لگ جائیں کہ وہ جب چاہیں محض اپنی خوشی اور سہولت کی خاطر نکاح کے مقدس عبد کو بلا تامل تو ڑ کر پھینک سکتے ہیں تو سمجھنا چاہئے کہ اس قوم کی زندگی میں وہ ساعت آن پہنچی ہے جب اس کے شہری ملک وملت سے وفاداری کے عہد کو بھی اہمیت دینا چھوڑ دیں گے جب کسی ملک کے شہریوں کا لگاؤ گھر سے ختم ہو جائے جو دولت مشترکہ اور حکومت خود انحصاری کا اصل مرکز ہے تو زیادہ دیر نہیں گزرے گی کہ قوم اور وطن سے بھی ان کا لگاؤ باقی نہ رہے جس ملک میں بیگم الف ہر آن بیگم جیم بننے کے لئے تیار ہو اس ملک کے باشندوں کو غیروں سے ساز باز کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ جو آج گھر میں غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں وہ کل قوم کے ساتھ غداری کرنے سے باز نہیں رہ سکتے ۔

 

ثانياً:

یہ کہ لوگوں کے ذہن ایسے بنتے جائیں گے کہ پھر کوئی شخص ملک وملت کی خاطر کرنے ، ان کے لئے مصائب جھیلنے، ان کے فائدہ کی خاطر مشقت اٹھانے کے لئے تیار نہ ہوگا کیونکہ گھر ہی وہ جگہ ہے جہاں

افراد قوم کو ضبط نفس کا اجتماعی مفاد کے پاس واحساس کا اور دوسروں کے ساتھ مل کر ان کے واسطے زندگی بسر کرنے کا سبق ملتا ہے۔ گھر ہی وہ درس گاہ ہے جہاں آدمی اپنی خوشی کو دوسروں کی خوشی پر، اپنی خواہشوں کو دوسروں کی خواہشوں پر ، اپنے آرام کو دوسروں کے آرام پز حتی کہ اپنی جان کو دوسروں کی جان پر بغیر کسی بدلہ یا غرض کے بغیر کسی تردد کے قربان کر دینے کی تربیت حاصل کرتا ہے۔

اس طویل اقتباس سے کئی نتائج سامنے آ رہے ہیں جس طرح خاندانی نظام کی بربادی کی وجہ سے پورا معاشرتی اور اجتماعی نظام تلپٹ ہو کر رہ گیا ہے اس سے یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے عورت کو مرد کے فرائض کی قدرتی تقسیم کو تو ڑ کر خاندان کے نظام کو عورت کی نگرانی سے محروم کر دیا گیا ہے ۔ یہ اقتباس تھوڑے ہی عرصہ پ؛ پہلے کا ہے اب تو اخلاقی حالت مزید مخدوش ہو کر رہ گئی ہے ۔ امریکہ و یورپ کے اکثر ملکوں میں خاندانی زندگی تباہ و برباد ہو چکی ہے اور خصوصاً برطانوی معاشرے کا حلیہ تیزی سے بگڑ رہا ہے برطانیہ میں ہمیں ہزار افراد کے سروے سے بی بی سی نے جو جائزہ مرتب کیا اس کے مطابق وہاں ایک چوتھائی گھرانوں میں روایتی کنبے رہتے ہیں یعنی میاں بیوی اور بچے۔ باقی دو تہائی بغیر شادی اکٹھے رہتے ہیں ۔ ( جنگ لاہور ۲۸ ستمبر ۱۹۹۱ء )

سابق جسٹس مولانا مفتی تقی عثمانی جون ۱۹۹۶ قومی و ڈائجسٹ میں رقم طراز ہیں عائلی زندگی معاشرے کی وہ بنیادی اکائی ہے جس پر تہذیب و تمدن کی عمارت کھڑی ہے ۔ اگر معاشرے میں خاندانی نظام کا ڈھانچہ توڑ پھوڑ کا شکار ہو تو خواہ زمینیں سونا اگل رہی ہوں، مشینوں سے لعل و جواہر برآمد ہو رہے ہوں، زندگی سکون سے محروم ہو جاتی ہے ۔ آج یورپ و امریکہ کی وہ دنیا جو سیاسی و معاشی اعتبار سے پسماندہ اور ترقی پذیر ملکوں کے لئے قابل رشک سمجھی جاتی ہے ۔ خاندانی نظام کی توڑ پھوڑ کی وجہ سے اس سنگین مسئلہ سے دو چار ہے ۔ یہ لوگ تمام آسائشوں کے باوجود ایک انجانے ذہنی اضطراب کا شکار ہیں۔ کبھی گانے کے دامن میں پناہ لے رہے ہیں اور کبھی منشیات اور خواب آور دواؤں میں سکون ڈھونڈتے ہیں۔ ان میں سے کوئی چیز بے چینی دور نہ کرے تو خودکشی کر لیتے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے میں سوئزرلینڈ میں تھا۔ میرے میزبانوں نے آمد و رفت کے لئے جس گاڑی کا بندو بست کیا اس کا ڈرائیور اطالوی نسل کا تعلیم یافتہ آدمی اور انگریزی روانی سے بول رہا تھا۔ اس کی عمر چالیس سال کو پہنچ رہی تھی ۔ لیکن اس نے ابھی تک شادی نہیں کی تھی۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ شادی کے بعد شوہر اور بیوی کے درمیان

زندگی کی پائیدار رفاقت کا تصور بہت کم ہے۔ شادی ایک رسمی تعلق کا نام رہ گیا ہے جس کا مقصد بڑی حد تک ایک دوسرے سے مالی فوائد حاصل کرنا ہوتا ہے۔ بہت سی خواتین جلد طلاق حاصل کر لیتی ہیں اور شوہر کی جائیداد کا بڑا حصہ ہتھیا کر اس کو دیوالیہ کر دیتی ہیں۔ اس نے حسرت سے کہا کہ آپ کے ایشیائی ملک میں شادی با مقصد ہے اور جما ہوا خاندان وجود میں آتا ہے۔ سب افراد دکھ سکھ کے ساتھی ہیں۔ میں نے خاندان کی ذمہ داری یاد دلائی تو اس نے کہا کہ والدین تو رخصت ہو چکے ہیں بہن، بھائی کا میری شادی سے کیا تعلق ہے؟ سابق سویت یونین کے آخری صدر میخائل گوربا چوف اب دنیا کے سیاسی منظر سے غائب ہو چکے ہیں۔ اپنی کتاب جو انہوں نے اپنے اقتدار کے زمانے میں لکھی۔ عورتوں کے بارے میں خواتین اور خاندان کے تحت تحریک آزادی نسواں کے اس پہلو کو قابل تعریف جانا کہ عورتوں کو حقوق ملیں گے اور معاشی پیداوار میں اضافہ ہوا مگر اس پرلمحہ فکر یہ محسوس کر رہے ہیں کہ عوامی تنظیمات ، میڈیا کے ذریعے یہ بحث کی جارہی ہے کہ عورت کو اس خالص نسوانی دنیا کی طرف لانے کے لئے کیا اقدامات کئے جائیں۔

ترجمہ : - (1987) 117  Perestroika P ) یہ ایک بے خدا ریاست کے بے بس لیڈر کا تبصرہ ہے جبکہ ہم آسمانی ہدایات کے پابند ایک مذہبی ریاست کے افراد ہیں جہاں مغربی تہذیب کو میڈیا کے ذریعے گھر گھر پھیلایا جا رہا ہے۔

بلا شبہ ہمارے ہاں بھی جرائم بڑھ رہے ہیں۔ اخلاقی قدریں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں مگر اس کے اسباب جہالت، افلاس، سیاسی و حکومتی افرا تفری میں مضمر ہے۔ جس میں ہم گزشتہ نصف صدی سے مبتلا ہیں اصلاح احوال کی طرف توجہ ہنوز نہیں دی گئی بلکہ بگاڑ کی قوتیں سرکاری سر پرستی میں مصروف عمل ہیں۔

پاکستانی خاتون اپنے تشخص کی جنگ میں ایسے دور سے گزر رہی ہے کہ وہ اپنی پہچان تک کھو چکی ہے ۔ ایک مراعات یافتہ طبقہ ہے جو بہر حال تقدیر کی ستم ظریفیوں سے بچتے ہوئے اس حد تک آگے بڑھ گیا ہے کہ صرف اور صرف حقوق کا واویلا ہے۔ فرائض سے چشم پوشی اختیار کر کے حتی کہ ہٹ دھرمی کا ثبوت دے رہا ہے۔ جبکہ دوسرا طبقہ انتہائی متوسط ہے جس کی رسائی اوپر والے طبقے تک نہیں ہے۔ محض دوغلی پالیسیوں پر کڑھنا جلنا اس کا کام ہے۔ مگر عملی تدابیر کے لئے اس کے پاس بھی طاقت و صلاحیت نہیں ہے۔ یہ صرف محبتوں کے بندھن میں بندھ کر کولہوں کے بیل کی طرح کام میں جتا رہتا ہے۔

عورت اپنی پہچان کے کے لئے شروع سے ہی کوشاں و سرگرداں رہی ۔ تاریخ انسانی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت ایک طویل عرصہ سے مظلوم چلی آرہی ہے ۔ وہ ہر خطہ میں مظلوم تھی ۔ یونان میں، روم میں مصر میں، ایران اور عراق میں، چین و عرب میں ہر جگہ اس پر ظلم ہو رہا تھا۔ بازاروں میں اس کی خرید و فروخت ہوتی تھی۔ یونان میں ایک عرصہ تک یہ بحث جاری رہی کہ اس کے اندر روح ہے بھی کہ نہیں؟ اس کا کوئی نام نہیں رکھا جاتا ، بلکہ مرد کے حوالے، رشتہ سے اس کو پکارا جاتا تھا۔ اہل عرب زمانہ جاہلیت میں اس کے وجود ہی کو موجب عار سمجھتے تھے۔ بعض شقی القلب اپنی لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔ ہندوستان میں شوہر کی چتا پر جلا کر راکھ ہونا پڑتا تھا۔ بعض راہبانہ مذاہب میں اسے معصیت کا سر چشمہ، گناہ کا دروازہ اور مجسم پاپ سمجھتے تھے۔

ماضی کی مختلف تہذیبوں کی طرح موجودہ مغربی تہذیب نے عورت و مرد کا سماجی ، معاشرتی رشتہ و حیثیت متعین کرنے میں یہ غلطی کی کہ اس عورت کو اس کے حقیقی مقام سے ہٹا کر مرد کی صف میں لاکھڑا کیا۔ حالانکہ یہ قاعدہ ہے کہ کسی ملک میں اجتماعی زندگی کی ترقی اس وقت ہوتی ہے جب عورت اور مرد دونوں کا سیاسی ، سماجی اور معاشرتی رشتہ ٹھیک ہو اور جنسی تعلق بھی صحیح ہو۔ عورت کی سعی و جد و جہد میں جو خلا رہ جائے اس کو مرد پر کرے اور عورت کے سماجی و معاشرتی رشتوں میں توازن نہ ہو اور جنسی تعلقات میں بے اعتدالی ہو تو معاشرتی زوال اور انحطاط بڑھنے لگتا ہے۔ کیونکہ سماجی رشتوں میں توازن نہ ہونے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اجتماعی زندگی کے بعض گوشے خالی اور ویران ہونے لگتے ہیں اور بعض گوشوں پر ضرورت سے زیادہ قوت صرف ہوتی ہے اور یہ دونوں باتیں معاشرہ کے لئے تباہ کن ہیں۔ اس طرح جنسی تعلقات میں بے اعتدالی سے سوسائٹی یا تو بے راہ روی کا شکار ہو گئی یا تجرد نے کسی تہذیب کو وجود میں ہی نہ آنے دیا۔

موجودہ تجارتی و معاشرتی حالات پر غور و فکر کرنے والا انسان اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ عورت و مرد کے لحاط رشتہ نے موجودہ مغربی تہذیب کی بنیاد میں ہلا وی ہیں اور انسان کو ایسے مقام پر لاکھڑا کیا ہے جہاں ظاہری سکون اور مادی چین کے ہزار سامان کے باوجود وہ ان سے بالکل محروم ہے اور اس کا باطن پریشان اور دل بے اطمینان ہے۔

اسلامی معاشرے میں عورت کی حیثیت ، مرتبہ و مقام، اس کے حقوق و اختیارات اور فرائض و واجبات کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے کھلے ذہن کے ساتھ ہم عورت کے بارے میں اسلام کے تصورات سے واقفیت حاصل کر لیں۔

 

انسان محترم هے :

اسلام کی نگاہ میں انسان من حیثیت الانسان ، صنف کی تمیز کے بغیر اپنی خلقت اور صفات کے لحاظ سے فطرت کا ایک عظیم شاہکار ہے۔ وہ اپنی ظاہری صورت اور باطنی خصوصیات دونوں کے اعتبار سے کا ئنات کی ایک محترم و مکرم ہستی ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالی نے سورۃ بنی اسرائیل میں ارشاد فرمایا ہے کہ "ہم نے بنی آدم کو بزرگی بخشی ہے اور اپنی مخلوقات میں سے بہتوں پر انہیں فضیلت بخشی" ( آیت نمبر ۷۰ ) اور سورۃ التین میں فرمایا " ہم نے انسان کو بہترین طریق پر تخلیق کیا ہے" ( آیت نمبر ۴)

 

معیار زندگی ایمان و عمل

اس تصور کو تسلیم کرنے کے بعد انسان ( خواہ وہ مرد ہو یا عورت ) کی عظمت فرش و خاک سے بلند ہو کر "ماہ و انجم "سے بھی کہیں آگے نکل جاتی ہے اسلام کے نزدیک انسان کی فلاح خسران ، سلامتی فکر اور درستی عمل کے ساتھ وابستہ ہے۔ وہ ان نظریات کو جاہلانہ نظریات سمجھتا ہے جو عورت کو محض عورت ہونے کی وجہ سے ذلیل تصور کر کے انسانیت کی بلند ترین سطح سے دور پھینکتے ہیں۔ اسلام نے واضح اور غیر مبہم انداز میں بتا دیا ہے کہ عزت و ذلت سربلندی اور سرفرازی کا معیار صرف تقوی اور سیرت و اخلاق ہے۔ جو اس کسوٹی پر جتنا گھر اثابت ہوگا اتنا ہی خدا کی نگاہ میں قابل قدر مستحق اکرام ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ النمل میں فرمایا کہ" جس مرد و عورت نے بھی اچھا کام کیا اگر وہ مومن ہے تو ہم اس کو پاکیزہ زندگی عطاء کریں گے"۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے نزدیک فلاح تقومی اور آخرت کی کامیابی کا جو معیار مرد کے لئے ہے وہی معیار عورت کے لئے بھی ہے خالق کا ئنات یہ سوال نہیں فرمائے گا کہ تمہارا تعلق کسی طبقہ یا کس صنف انسان سے تھا ؟

 

مرد و عورت تهذیب کے معمار ہیں۔:

قرآن بتاتا ہے کہ نوح انسانی کے نشیب وفراد میں مرد و عورت میں سے ہر ایک دوسرے کا مددگار اور معاون رہا ہے۔ تنہا ایسے معاشرے کا تصور نماط ہے جو صرف تبا عورت، یا مرد پرمشتمل ہو۔ تہذیب و تمدن کا ارتقاء دونوں کے اتحاد و معاونت سے عمل میں آیا ہے۔ کوئی قوم و تحریک ان میں سے کسی بھی طبقہ کو نظر انداز نہیں کر سکتی ۔ سورہ تو بہ آیت نمبر اے اس حقیقت کی نشان دہی کرتی ہے " ایمان والے مرد اور ایمان والی عورت ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں "جو اللہ و رسول کی اطاعت کرتے ہیں اور ان لوگوں پر اللہ ضرور رحم کرے گا۔ بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے ۔" (سورۃ تو بہ آیت نمبر ۷۱ )

سورة آل عمران میں خالق کا ئنات نے ارشاد فرمایا کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کروں گا۔ خواہ وہ مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہو۔

 

اسلامی شریعت کیا هے ؟ نظریه ازدواج

اسلامی شریعت

اسلامی قانون کے لغوی معنی پانی کو جانے والا راستہ ، چھوکھٹ ، گھاٹ، خدائی قانون کے ہیں۔ گویا جس طرح پانی زندگی کی علامت ہے اسی طرح شریعت اسلامی انسانی فلاح و کامرانی کی ضامن ہے۔

شریعت اسلام کے چند بڑے مقاصد یہ ہیں۔

ا۔ حفظ الدین :۔ اس کے تحت مرتد کو سزائے موت دی جاتی ہے۔

۲- حفظ النسل: انسان جان کے ضیاع پر قصاص ودیت کے قوانین

۳-حفظ المال:۔ چوری، بدیانتی پر عقوبات ، حرابہ ( ڈکیتی ) میں موت تک کی سزا ہے کیونکہ اس میں مال اور جان دونوں کو شدید ترین خطرہ لاحق ہوتا ہے اور نقص امن بھی ہوتا ہے۔

۴-حفظ العقل : شراب اور دوسری اشیاء (مسکرات) عقل پر پردہ ڈالنے والی اشیاء کی ممانعت ہے اس پر اسی کوڑوں کی سزادی جاتی ہے۔

۵- حفظ نب: نکاح وعدت کی اہمیت، زنا کے لئے سزاء رجم کی سزا۔

اسلام و این فطرت ہے ۔ اس میں کلمہ پڑھ کر داخل ہوں تو پھر سارے معاملات اجتماعیت کے دائرہ کے تحت ہوں گے ۔ ارکان اسلام کا تجزیہ کریں تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ نماز ، روزہ ، زکوۃ، حج سب

 

عبادات اجتماعیت کی دعوت خیر دیتی ہیں۔ وہ دین پیدائش سے پہلے کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے مرنے کے بعد تک کے معاملات میں داخل ہے اور اس کے عین فطرت ہونے کی واضح دلیل ہے ۔ جو ماں کے پیٹ میں بچہ کے حق جائیداد، مالی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے اور مرنے کی صورت میں پہلے تجہیزو تلفین، قرض و وصیت پر عمل درآمد کرنے کے بعد باقی جائیداد کی تقسیم ورثاء میں کرنے اور اس کی بیوی کی عدت میں مقیم کرنے کا مقصد اس کے احترام اور اس نسب کی حفاظت کی طرف دلالت ہے۔

شادی اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر بقیہ زندگی کی ذمہ داریوں سے عہدہ براک ہونے کے لئے دو افراد کے باہمی معاہدے کا نام ہے۔ اس معاہدہ کی رو سے مرد یا عورت کوئی کسی کا محکوم نہیں بنتا جبکہ دونوں مشتر کہ کوششوں سے ذمہ داریوں سے عہدہ برآں ہوتے ہیں کوئی ایک فریق بھی خود غرضی، نفس پرستی یا ذمہ داریوں سے فرار چاہے تو شادی کا انجام نا کامی پر منتج ہوتا ہے۔ ضروری نہیں نا کامی طلاق کی صورت میں ہو بلکہ دو افراد نا کام زندگی نبھا نہیں ، کاٹ رہے ہوتے ہیں۔

شادی کے بڑے بڑے مقاصد یہ ہیں کہ

ا۔ عصمت و عفت کی حفاظت

۲- بقائے نسل انسانی

۳- گھرانہ ( بنیادی معاشرہ کا یونٹ ) کی تشکیل

۴- مالی و جذباتی تحفظ

۵- معاشری فرائض کی ادائیگی کے لئے تعاون

 

عصمت و عفت کی حفاظت :۔

شادی کا اہم مقصد معاشرے کو بے راہ روی سے بچانا۔ اسلام نے صرف جائز اور فطری راہ کھلی رکھی ہے کہ ہر حیثیت سے یہ مفید ترین راہ یعنی نکاح کے ذریعے، مذاہب و ادیان ، آئین و قوانین سب نے اس فطری طریقہ کو کھلا رکھا ہے۔ اس رشتہ پر خاندانی وقبائلی زندگی کا دارو مدار ہے۔ احصان کا لفظ جو قرآن میں لایا گیا ہے وہ حسن سے مشتق ہے۔ جس کے معنی قلعہ کے ہیں۔ یعنی انسان شادی کر کے عفت و عصمت کے قلعے میں آجائے اور مفاسد اخلاق سے محفوظ ہو جائے ۔ شوہر کو محسن اور زوجہ کو محصنہ کہا جاتا ہے ۔ گویا شوہر معائدہ کی صورت میں ایک قلعہ تعمیر کرتا ہے جسکے ذریعے وہ دونوں اپنے نفس و اخلاق کی حفاظت کرتے ہیں۔ اس کو نکاح کا مقصد قرار دیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔ سوان کے مالکوں کی اجازت سے ان سے نکاح کر لیا کرو اور ان کے مہر کو قاعدہ کے مطابق دے دیا کرو۔ اس طور پر کہ وہ منکوحہ بنائی جائیں نہ تو اعلانیہ بدکاری کرنے والی ہوں اور نہ خفیہ آشنائی کرنے والی۔ (سورۃ النساء ) سورۃ المعائدہ میں ارشاد ہے :۔

"پار سا عورتیں اہل کتاب کی ، یہ سب بھی حلال ہیں جبکہ تم ان کو معاوضہ دے دو، اس طرح سے کہ تم بیوی بناؤ، نہ تو اعلانیہ بدکاری کرو نہ خفیہ آشنائی۔"

شرک کے بعد بڑا گنا زنا ہے۔ زنا کا ئنات کی مرکزی طاقت سے تصادم ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ شرک کے بعد کوئی گناہ اس نطفہ سے بڑھ کر نہیں جس کو کوئی شخص کسی ایسے رحم میں رکھے جو شرعا اس کے لئے جائز نہیں تھا۔ ( ابن کثیر ، صفحہ ۳۸)

جس نے شادی کی اس نے نصف دین پورا کر لیا۔ ( مشکوۃ کتاب النکاح)

شرعی و آئینی حدود میں اپنے آپ کو جکڑ دینے کے کئی فوائد ہیں اور نکاح کا تاکیدی حکم مصلحت و حکمت پر بنی ہے۔ انسان کی سرشت میں جنسی میلان رکھا گیا۔ دنیا کا کوئی نظام بھی خرابی پیدا کئے بغیر ، غیر فطری انداز میں انہیں ایک دوسرے سے کلی طور پر علیحدہ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ بلوغ کے بعد اس میلان فطری کے آثار کا ظہور شدت اختیار کرتا ہے۔ یہ تقاضا فطری ذرائع سے حاصل نہ ہو تو غیر فطری ذرائع تلاش کئے جاتے ہیں۔ اس لئے اسلام نے اس بات کو پسند کیا کہ نکاح کی پابندیاں اختیار کر کے مل جل کر زندگی گزاریں اور جنسی خرابیوں سے محفوظ ہو جائیں ۔ آج آتشک ، سوزاک عمل قوم لوط، استاذ از بالنفس سے نہ صرف جانی، اخلاقی و سیاسی نقصان ہو رہا ہے اور یہ امراض مہلک ( Fatal) بھی ہیں۔ نکاح سے بالکل مجبوری کی حالت میں عفت کی تاکید ہے۔

ایسے لوگ جن کو نکاح کی استد عاد نہیں ہے وہ ضبط کریں تا کہ اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کر دے۔ اسلام نے رشتہ ازدواج پر زور دیا ہے اور بالکل مجبوری کی حالت میں حکم دیا ہے ۔ ضبط نفس پاک دامنی سے کام لے کر جو جائز صورت ہو اس کو عمل میں لائے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایسے مجبور آدمی کے لئے حکم دیا ہے کہ روزہ رکھ کر خواہشات نفسانی کا زور توڑے جیسا کہ فرمایا:

"جو شخص اسباب جماع پر قدرت نہ رکھتا ہو اس پر روز ولازم ہے کہ وہ شہوت کو تو ڑتا ہے۔"

آپ ﷺ نے آزادی کے عوض جوتی جوڑے، لپ ستو، کھجور پر شادی کی اجازت مرحمت فرمائی۔ ایک جگہ فرمایا کہ اے نو جوانوں کی جماعت ہم میں سے جو اسباب جماع کی قدرت رکھتا ہے اس کو نکاحکر لینا چاہئے کیونکہ یہ نگاہ کو محفوظ رکھتا ہے اور شہوت کی جگہ بہت بچاتا ہے۔ گناہوں کے بڑے حصے کا تعلق جنسی میلانات و رجحانات سے ہے شرعی تعلق و حدود و قیود میں آنے سے اسباب کی حد تک بے راہ روی کے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔

 

بقائے نسل انسانی :۔

نکاح نسل انسانی کی بقاء، حفاظت اور تعلیم و تربیت کا عمدہ ترین ذریعہ ہے۔ جیسا کہ سورۃ اعراف میں فرمایا گیا ہے۔

ترجمہ: "وہ اللہ ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا ہے اور اس کی جنس سے جوڑا بنایا تاکہ اسکے پاس سکون حاصل کرے پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانپ لیا تو اسے ایک خفیف حمل ٹھہر گیا جے لئے وہ چلتی پھرتی ہے، پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ سے دعا مانگی اگر ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔" اسی طرح کا تذکرہ سورۃ النمل میں ہے "وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے ہم جنس ہیویاں بنائیں اور اس نے بیوی سے تمہیں بیٹے اور پوتے عطا کئے ۔" ( آیت ۷۲ )

گویا اولاد در اولاد کا مقصد ہو افزائش نسل نہ کہ روکنے کی کوشش ہو۔ انسانی زندگی کے ساتھ موت لگی ہوئی ہے ہر شخص دنیا میں آتا ہے اس نے لازماً ایک دن واپس جانا ہے۔ اسلئے دنیا میں انسانیت کے باقی رہنے کے لئے ضروری ہے کہ جانے والے اپنی جگہ دوسرے انسان چھور جائیں۔

انسانی بچہ پیدائش کے وقت بالکل بے بس ہوتا ہے۔ چلنے پھرنے ، کھانے پینے غرض ہر چیز کے لئے دوسروں کا محتاج ہے۔ والدین کی صورت میں دنیا میں اسے ایسا ٹھ کا نا میسر آجاتا ہے جو احساس فرض کے ساتھ ساتھ دل کے جذبے اور قلبی محبت کے باعث بچے کی پرورش تعلیم و تربیت کرتے ہیں۔ یہی چیز گھرانے کی تشکیل کا باعث ہوتی ہے اور یہی چیز معاشرہ کو آگے چل کر وجود میں لاتی ہے۔ جو اس بچے کی صلاحیتوں کو جلا بخشتا ہے اُس کی اجتماعی ضروریات اسے دوسرے افراد سے منسلک کرواتی ہیں۔ یہ باہمی محتاجی تقسیم کار کو جنم دیتی ہے جو افراد کی ضروریات کو آسان اور قابل حصول بناتی ہے یہ تقسیم کا رجس کی وجہ سے انسان کو ایسا وقت میسر آتا ہے جسے وہ فرصت و فراغت کا وقت کہہ سکتا ہو جس کی وجہ سے اس کی سوچ میں نمود جلا آتا ہے۔ وہ نہ صرف مادی ضروریات کی فراہمی کے بعد خود اپنی توجہ دینی تربیت کی طرف زیادہ کر دیتا ہے جس کی وجہ سے تہذیب و ثقافت کی ترقی ہوتی ہے۔ یہ ساری ترقی آرٹ و سائنس کے کرشمہ اسی وجہ سے ہیں ۔ والدین کی صورت میں ہمہ وقت قربانی کا پیکر بچوں کومل جاتا ہے اور والدین پر جو ذمہ داریاں ، بچوں کی پرورش، گھر بار بنانا اور اس کی حفاظت کرنا دکھ ، بیماریوں سے ان کی حفاظت کرنا۔ والدین کی خوابیدہ صلاحیتوں کو اجاگر ہونے کا موقع ملتا ہے۔ انسانی اداروں میں غالبا صرف ازدواجی زندگی ہی ایسا ادارہ ہے جس سے تعلق رکھنے والوں کی یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے سیکھے ہوئے زندگی کے ہر میدان میں ان سے آگے نکل جائیں ۔ حضرت معقل بن یسار بیان کرتے ہیں ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا مجھے ایک عورت ملی جو خوبصورت اور اچھے حسب نسب والی ہے مگر وہ اولاد پیدا کرنے والی نہیں ہے، کیا میں اس سے شادی کر سکتا ہوں ۔ حضور ﷺ نے فرمایا نہیں ۔ وہ شخص دوسری مرتبہ حضور کی خدمت میں آیا تو حضور ﷺ نے فرمایا اس عورت سے شادی کرو جو بہت محبت کرنے والی ہو۔ بہت بچے پیدا کرنے والی ہو کیونکہ تم لوگوں (کے بچے زیادہ ہونے ) کے باعث اپنی امت کی کثیر تعداد پر فخر کروں گا ۔ ( ابوداؤد )

ازدواجی زندگی فراخی رزق کا ذریعہ بھی ہے ۔ دو انسانوں کو اپنے حصہ کا رزق ملتا ہی ہے اور بسا اوقات اولا د ایسی ہو نہار نکل آتی ہے گھر کی کایا پلٹ جاتی ہے اگر وہ مفلس ہوں تو اللہ تعالی اپنے فضل سے ان کو غنی کر دے گا ۔ اللہ تعالی کشائش والا ہے۔

سورۃ طلاق میں اس طرح آیا ہے ۔ کہ تم کو بھی اور اس کو بھی رزق دیں گے ۔ ( ان کو رزق وہاں سے دے گا جہاں سے خیال تک نہیں گزرتا )

شادی کا اہم مقصد معاشرے کو بے راہ ہونے سے بچانا ہے بقائے نسل انسانی کے توسط سے گھرانہ معاشرے کا بنیادی یونٹ تشکیل پاتا ہے اور مختلف گھرانوں کی مشترکہ صفات سے معاشرہ ملک کی ثقافت تشکیل پاتی ہے ۔ تنہا انسان اپنی ثقافتی ورثہ کی حفاظت بخوبی نہیں کر سکتا۔ ایک اکیلا دو گیارہ، ایک کی نسبت دو افراد با ہم مل کر زیادہ کام کرتے ہیں۔ مثالی گھرانے کی تشکیل و تعمیر کی ذمہ داریاں قبول کرنے سے جذباتی اور مالی تحفظ خود بخود دل جاتا ہے۔ باہمی رفاقت و اشتراک عمل سے بطور انعام خوشیاں بھی ملتی ہیں اور پھر یہ خوشیاں صرف ایک گھر تک ہی محدود نہیں رہتیں بلکہ معاشرے پر ان کے اثرات پڑتے ہیں۔

 

نکاح کا حکم معاش کی ذمہ داری کے ساتھ :

اللہ تعالی کا ارشاد ہے اور اگر جو بے نکاح ہوں ان کا نکاح کر دیا کرو، اور تمہارے غلام اور لونڈیوں میں جو اس لائق ہو ان کا بھی “ ( نور ۶)

ایامی: ایم کی جمع ہے۔ اس کا استعمال مرد اور عورت دونوں کے لئے ہے جس مرد کی بیوی نہ ہو اس کو بھی کہتے ہیں اور جس عورت کا شوہر نہ ہو اس کو بھی ایم کہتے ہیں۔ پھر چاہے سرے سے شادی نہ ہوئی ہو یا شادی ہوئی تھی مگر شوہر یا بیوی کا انتقال ہو گیا۔ ابن کثیر ۶ ۲۸)

اس سے واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے رشتہ ازدواج کے قیام کی تاکید فرمائی ہے اور ان تمام مرد وعورت کی شادی کر دینے کا حکم دیا ہے جن کو شادی کی ضرورت ہو ۔ حتی کہ غلام اور لونڈیوں کی بھی جو بڑی حد تک بے بس ہوتے ہیں ان کی شادی کر دینے کا حکم اور پھر رب العزت نے یہ ذمہ داری قوم کے سر ڈالی ہے تا کہ اس کی اہمیت کا احساس واضح ہو اور شادی کے جو فائدے ہوتے ہیں اس سے پوری قوم مستفید ہوتی ہے اور شادی نہ کرنے کے جو نقصانات ہیں ان کا اثر پوری قوم پر پڑتا ہے۔ کوئی ذی عقل انسان اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ جائز شادی کا رواج اگر بند کر دیا جائے تو پوری قوم کے اخلاق گندے ہو جائیں گے۔ اس آیت کے اگلے حصہ میں اللہ رب العزت نے اس طرف بھی اشارہ کیا کہ کسی موہوم خدشہ کو حیلہ بنا کر اس نیک رشتہ کے قائم کرنے سے بچنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ یعنی اگر وہ فقیر ہوں تو اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ اس سے دو باتیں عیاں ہوتی ہیں کہ اسلامی معاشرہ مخلوط معاشرہ نہیں ہے جہاں مرد کو عورت تک رسائی ہو ۔ وہ آزاد شہوت رانی کے طریقوں سے واقف ہوں ۔

قاعدہ فقہی ہے کہ كل ما يؤدى الى الحرام فهو حرام “ یعنی جو حرام کی طرف لے جائے وہ حرام ہے ۔ حدیث میں ہے کہ کوئی مرد کسی عورت کو تنہائی میں نہ ملے کیونکہ تیسرا ان میں شیطان ہے ۔ سورۃ حجرات میں واضح ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو نہ مرد دوسرے مرد کا مذاق اڑائیں ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں ۔ ” اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ عورتیں مردوں کا مرد عورتوں کا مذاق اڑا سکتے ہیں۔ اس سے اسلامی معاشرے کی بنیادی قد رعیاں ہوتی ہے کہ مرد دعوت کا باہمی اختلاط نا ممکن ہے۔ ان کے پاس مواقع و اسباب ہی نہیں۔

 

منگنی اور اس کے احکام:

عربی میں منگنی کو خطبہ کہتے ہیں ۔ کسی مرد کا ایک عورت سے شادی کی نیت سے وعدہ کرنے کو منگنی کہتے ہیں۔ یہ شادی کا عہد و پیمان مقدمہ و دیباچہ ہے بلکہ مستحسن ہے اس میں حکمت شرعی یہ ہے کہ معاشرے کے باقی افراد یہ جان لیں فلاں عورت کسی کے ساتھ منسوب ہے لہذا وہاں کسی دوسرے مرد کا شادی کی نیت سے پیغام بھیجنا درست نہیں ہے۔ فقہاء کے نزدیک منگنی مستحب ہے۔ منگنی کا تحفہ دے کر واپسی مکروہ ہے ۔ حدیث ہی ہے تحفہ دے کر واپس لینا اس طرح کہ کتا قے کر کے چاٹ لے ۔ بغیر معقول وجہ کے منگنی توڑ نا بد عہدی میں شمار ہوگا ۔ بد عہدی کی سزا اللہ کے نزد یک سخت ہے۔

منگنی کے باقاعدہ انعقاد سے پہلے عورت کو دیکھ لیا جائے تو بہتر ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ ( ترجمہ ) "جب تم میں سے کوئی منگنی کرے تو اگر ہو سکے تو اس عورت کو دیکھ لے ۔ ( تا کہ اسے پتہ چل جائے ) کہ کون سی چیز اسے نکاح کے لئے رغبت دلانے والی ہے۔"

ایک حدیث میں انصار کی عورت کے بارے میں خبر دار کیا ان کی عورتوں کی آنکھوں میں عیب ہوتا ہے۔ حدیث نبوی ہ ہے جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص نکاح کا پیغام لائے جس کے دین اور اخلاق سے تم راضی نہ ہو تو نکاح کر دو۔ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور لمبا چوڑا فساد ہوگا۔ (ترمذی ، حدیث صحیح)

 

کسی عورت سے چار چیزوں کے سبب نکاح کیا جاتا ہے :

حدیث نبوی ہی ہے کسی عورت سے چار چیزوں کے سبب نکاح کیا جاتا ہے اس کے مال کی وجہ سے حسب نسب کی وجہ سے ، اس کے دین کی وجہ سے ، اس کے حسن و جمال کی وجہ سے، لیکن دیکھو تم دین والی عورت سے نکاح کرنا تمہارے ہاتھ مٹی میں مل جائیں ۔ ( بخاری ، ابو داؤد، نسائی )

حدیث کے الفاظ سے پتا چلتا ہے کہ عورت کو دیکھنا صرف مرد کی استطاعت پر منحصر ہے ۔ وہی عورت کو دیکھنے کے لئے ممکنہ جائز ذرائع پیدا کرے۔ بغیر کسی ناخوش گوار صورت حال کے عورت کو دیکھنے میں کامیاب ہو مگر ہمارے ہاں جو ہندو سماج کی وجہ سے یہ تہذیب پروان چڑھی ہے کہ لڑکی کو بنا سنوار کر کسی تقریب میں اکٹھا کیا جاتا ہے ۔ اب تو بعض خاندانوں میں شادی سے قبل آزادانہ اختلاط کے مواقع دانستہ مہیا کئے جاتے ہیں تا کہ وہ ایک دوسرے کو سمجھ سکیں ۔ یہ سب شریعت کے پیش نظر نہیں ہے ۔ شریعت اسلامی کے نزدیک صالح اور پاکیزہ زندگی کے لئے شادی ایک اہم عنصر ضرور ہے، مقصد حیات نہیں ہے اور شریعت اسلامی انسان کا ایک ایسا مزاج تعمیر کرتی ہے کہ عورت میں اکملیت (Idealism) کا عنصر تلاش کرتا پھرے۔ نیت مخلوص اور معاملہ اللہ کے سپرد کیا جائے ۔ امام نودی کے خیال میں چہرہ اور ہتھیلی دیکھ لے۔ دونوں ستر میں داخل نہیں۔ چہرے سے خوبصورتی اور ہتھیلی سے تروتازگی کا اندازہ ہوتا ہے (شرح مسلم ) اس رشتہ میں معاشرہ رکاوٹ بنے ۔ اس کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ غض بصر اور حجاب کے احکام کے باوجود شادی سے پہلے لڑکی کو دیکھ لینے کی نہ صرف اجازت ہے بلکہ ترغیب ہے۔ مگر اس صورت میں ترجیح وتطبیق سے نکل سکتی ہے۔

 

میاں بیوی کی محبت میں حائل ھونے کی ممانعت :

قرآن میں جادو کا تذکرہ کرتے ہوئے سب سے بڑی برائی یہ بتائی گئی اس سے میاں بیوی میں تفریق پیدا کرتے ہیں ۔ "اور وہ لوگ ان دونوں سے ایسا سحر (جادو) سیکھ لیتے تھے کہ اس کے ذریعے مرد اور بیوی میں تفریق پیدا کر دیتے تھے ۔" (سورۃ البقرۃ آیت نمبر ۱۲)

پھر اس کے انجام کا ذکر کرتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہے۔

"اور ضرور یہ بھی اتنا جانتے ہیں کہ جو شخص اس کو اختیار کرے ، ایسے شخص کو آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔" (بقرة )

میاں بیوی کی تفریق سے شیطان کو بھی مسرت ہوتی ہے۔

 

نکاح کے مراتب:

نکاح کر نانسل انسانی کی بقاء کے لئے انسان پر لازم ہے لیکن اس کا لزوم ہر فرد کے اپنے حالات پر منحصر ہے ۔ اسلام نے معاشرہ پر بحیثیت کی تو نکاح فرض قرار دیا ہے کہ معاشرہ اپنے افراد کے لئے وہ ذرائع فراہم کرے جو اس مقصد کے حصول کے لئے ضروری ہے۔ لیکن ہر فرد پر شادی کا حکم ایک جیسا نہیں ہے ۔ اسلامی معاشرے کی تمام کوششوں کے باوجود اونچ نیچ قائم رہتی ہے جس کا دور کرنا اسلامی ریاست کے ذمہ تو ہے بس میں نہیں۔ اس معاشرتی اونچ نیچ کے پیش نظر فقہاء نے شادی کرنا ہر فرد کے لئے ایک جیسا نہیں رکھا بلکہ اس حکم تکلیفی کے اعتبار سے درجات میں تقسیم کر رکھا ہے ۔ کسی کے لئے شادی کرنے نہ کرنے کے لئے پانچ قسم کے حالات ہو سکتے ہیں ان کو شریعت میں مراتب کہا جا سکتا ہے۔

مراتب: مرتبہ کی جمع ہے ۔ مرتبہ سے مراد درجہ ہے ۔ فقہاء کے خیال میں یہ مرتے فقہی احکام کی تطبیق (Interpretation) کے لئے واضح کئے گئے ہیں جن کی فہم کے لئے گہری بصیرت اور فقہا نہ درک درکار ہے۔ ورنہ حقیقت تو یہ ہے قرآن وسنت میں نکاح کی ترغیب ہر کسی کو دی گئی ۔ سورۃ النور آیت نمبر ۳۲ میں ارشاد باری تعالی ہے "اگر غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے۔"

 

کئی احادیث میں نکاح کی ترغیب دی گئی ۔ نسائی کی ایک حدیث میں تجرد کی زندگی سے منع کیا گیا۔ ام المومنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں ۔ "ان رسول الله النهي عن التبتل " ( ترجمہ ) رسول اللہ ﷺ نے مجرد رہنے سے منع کیا ہے ۔ (نسائی، کتاب النکاح) فقہا کے مرتب کردہ پانچ مراتب یہ ہیں۔

 

۱- فرض

کسی شخص کے پاس وہ تمام وسائل موجود ہوں جو عام طور پر معاشرے میں عائلی زندگی کے لئے ضروری ہے ۔ جیسے بالغ ہونا، برسر روزگار ہونا صحت مند ہونا، رہنے کے لئے گھر ہونا اور ان ضروری وسائل کے باوجود اس شخص کو یقین ( آج کل کے حالات کے مطابق تو یقین واثق ) ہو کہ اس نے نکاح نہ کیا تو گناہ کبیرہ (زنا) سرزد ہو جائے گا تو ایسی حالت میں شادی کرنا اس پر فرض ہے ۔ اسلام میں غض بصر ( نظریں نیچی رکھنے ) کا حکم دیا گیا ہے ۔ دیدہ بازی کو آنکھوں کی بدکاری قرار دیا گیا۔ حدیث میں ارشاد ہے کہ آدمی اپنے تمام حواس سے زنا کرتا ہے ۔ آواز سے لذت لینا ، کانوں سے زنا ہے، ہاتھ لگانا اور نا جائز مقصد کے لئے چلنا ہاتھ پاؤں کا زنا ہے۔ بدکاری کی یہ ساری تمہیدیں پوری ہو جائیں تب شرم گا ہیں یا تو اس کی تکمیل کرتی ہیں یا تکمیل کرنے سے رہ جاتی ہیں ( بخاری )۔

آج کل لوگوں ں نے ضروریات زندگی کی فہرست کو طویل کر دیا ہے اور نکاح کو مشکل ترین بنا کر رکھ دیاہے۔ 

 

۲- واجب :

مذکورہ بالا حالت میں جب اس فرد کو یقین کی بجائے خدشہ یا گمان غالب ہو کہ اس سے گناہ کبیرہ سرزد ہونے کا احتمال ہے و اس صورت میں شادی کرنا اس شخص کے لئے واجب ہے۔

 

۳- حرام:

مندرجہ ذیل دو صورتوں میں نکاح کرنا حرام ہے۔

الف۔ اولا ازدواجی زندگی کے ضروری لوازمات موجود نہ ہوں، مثلاً نامرد ہونا وغیرہ۔

ب۔  ثانياً: کسی فرد کو یقین ہو کہ شادی کرنے کے بعد وہ گناہ کبیرہ کرے گا والیسی صورت میں نکاح حرام ہو جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر ایک شخص کی رغبت ایک خاص عورت کی طرف ہے اور کسی وجہ سے شادی نہیں کر سکتا۔ دوسری عورت سے شادی کرنے کے نتیجے میں پہلی عورت میں اس کی رغبت رہتی ہے اور یقین ہے کہ عورت پر ظلم کرنے کی وجہ سے گناہ کبیرہ کر بیٹھے گا تو اس صورت میں دوسری عورت سے نکاح کرنا حرام ہے۔

 

۴- مكروه

جب کسی شخص کو گمان ہو کہ شادی کے بعد بیوی سے عدل کے بجائے ظلم کرے گا یا گمان ہو کہ شادی کے بعد گناہ کبیرہ کا ارتکاب کر بیٹھے گا۔ تو اس حالت میں نکاح کرنا مکروہ ہے۔

 

۵- سنت

جب ازدواج زندگی کے تمام لوازمات پورے ہو رہے ہوں ، عقل بلوغ موجود ہو اور بیوی کے ساتھ کسی طرح کا ظلم کرنے کا یقین نہ ہو اور نہ گمان ہوتو ایسی حالت میں نکاح سنت ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے ( ترجمہ )" نکاح میری سنت ہے۔"

زوجین میں برابری ( الكفائة )

زوجین آپس میں برابر ہوں اس کی حکمت یہ ہے کہ شادی ایک نازک ، قریبی تعلق پر مشتمل رشتہ ہے ایک جیسے ماحول میں رہنے والے افراد آپس میں جلد گھل مل جاتے ہیں۔ ان کے مسائل مشترک ہوتے ہیں۔ ان کی ضروریات ایک جیسی ہوتی ہیں اگر ان کے درمیان رہن سہن، بود و باش اور عقیدے کا فرق ہو تو ان کے درمیان محبت کی بجائے دوری پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ شوہر کے مشاغل بیوی کی دلچسپیوں سے یکسر مختلف ہوتے ہیں۔ بیوی کی ضروریات شوہر کی استطاعت سے بڑھ کر ہو سکتی ہیں۔ اسلئے اس بے ربط جوڑے سے صالح اور پاکیزہ زندگی ( جو مقصود العین ہے ) کی توقع سب کے لئے مشکل ہے اور یہ کفور نہ ہونے کی وجہ سے ہے اور اس سے آئندہ نسل بھی متاثر ہوتی ہے۔ اسلئے فقہا کا کہنا ہے کہ زوجین میں چند امور میں برابری ضروری ہے۔ یہ برابری پانچ طرح کی ہوتی ہے۔

 

۱ - نسب میں:

میاں بیوی ایک ہی قبیلہ سے تعلق رکھتے ہوں تو یہ نسب میں برابری کہلاتی ہے اور دونوں ایک جیسے ہم پلہ مختلف خاندانوں سے تعلق رکھتے ہوں تو یہ بھی نسب میں برابری کہلاتی ہے لیکن زوجین میں سے ایک اعلیٰ و ارفع قبیلے سے ہو اور دوسرے کا تعلق کسی کم تر خاندان سے اس صورت میں زوجین تو شائد ایک

 

دوسرے کو قبول کر لیں مگر خاندان کے باقی افراد کے لئے یہ جوڑا شاید قابل قبول نہ ہو۔ جس کا اثر ایک جوڑے پر ہی نہیں بلکہ دونوں خاندانوں پر ساری زندگی کے لئے رہتا ہے اسلئے کفو کا ہونا بھی ضروری ہے

 

۲- پیشہ میں

۳- اسلام میں

۴- تقوی میں

۵- تعلیم میں

فقہ حنفی کے نزد یک برابری ( کفاة ) کی یہ چھ شرائط ہیں:

ا۔ نسب

۲- اسلام

۳- پیشہ

۴- آزاد ہونا

۵- اچھے کردار کا ہونا

۶- ذرائع آمدن















باب نمبر 2

ایک سے زائد شادیاں تعداد ازدواج

 

ارشاد باری تعالی ہے:

That’s the end of the free sample

You have read 12% of Islamic Family System - A Comparative Study. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Prof Zohra Jabeen Alvi earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 1,000

See all editions, reviews and details

Islamic Family System - A Comparative Study Buy — Rs 1,000