12% of the book — free to read
دائروں کا سفر
محمد اقبال ساگرؔ
زندگی تھی دائروں کا اک سفر
گھومتے اپنے مداروں میں رہے
ہر کسی کا روگ تھا بالکل جدا
سب الگ اپنے حصاروں میں رہے
تھوڑی سی بات!
شاعر یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا اسی طرح میں نے جونہی ہوش سنبھالا تو میں شاعر تھا یہ اور بات کہ شاعری کے رموزوقواعد سے واقف نہ تھا وقت کےساتھ ساتھ پتہ چلا کہ شاعری کا فن تو بہت مشکل ہے اسے سیکھنا پڑے گا تبھی کچھ ڈھنگ سے کہا جا سکتا ہے ۔ بدقسمتی سے کوئی باقاعدہ استاد میسرنہ آسکا۔ غمِ روزگار میں سرگرداں رہا۔ فوج کی نوکری کبھی ایک جا اورکبھی دوسری جا۔ زندگی نے کبھی فرصت ہی نہ دی . ریٹائرمنٹ کے بعد سوچا کہ اپنی ہستی کے اس خلا کو پُر کیا جائے پڑھنے کا تو پہلے ہی شوق تھا پھر خاص موضوعات پر مطالعہ شروع کیا اور ساتھ ساتھ لکھنے لگا۔
یہ سچ ہے کہ میں اپنی شاعری کو کبھی کتابی صورت میں اکٹھا نہ کرتا اگر میری بیگم شاہین اقبال کا اصرار نہ ہوتا۔
03004418436 محمد اقبال ساگرؔ
29/اگست۔2024
کاپی رائٹ ۲۰۲۶ء داستان
جملہ حقوق بحق ناشرمحفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ درج بالا افراد یا ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروںمیں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
آئی -ایس-بی-این
PRINT: 978-627-526-133-9
EBOOK: 978-627-526-134-6
|
داستان پبلشرز
|
فہرست
مہکنے کا فضا میں تم بکھر کے تجربہ کر لو. 11
جب یاد مجھے دن وہ پرانے نہیں آتے... 13
مِرا ہونا تجھے جانے بنا ہونا 15
غمِ ہستی ترے صدقے مجھے جینے کی عادت ہے... 17
اکڑ کے نہ مِل عاجزی سے ملا کر. 20
رسائی کسے ہو تری چشمِ تر تک... 26
ادب کا یہ نہیں مطلب کہ جزبوں کو دبانا ہے... 29
نہ شہرت ہے مقصد نہ غرضِ ریا ہے... 31
تھی عید کے وہ چاند کی روشن شہادت ہو بہو.. 35
محبت کسی کو کسی سے نہ ہوتی. 37
بھری محفل میں وہ سب سے الگ مجھ کو نظر آئے... 39
محبت ہے مجھ کو مری مَہ جبیں سے... 42
ڈھونڈنے پر تو کیا نہیں ملتا.. 48
کیا پھول بالوں میں سجا تیری قسم اچھا لگا. 50
مرے تم ساتھ کچھ ایسا برا ہونے پہ مت رونا 56
امّیدوں نے رات کو مجھ پر ویسے تو احسان کیا. 59
تھی وہ معراج بھی رات کی بات بس... 66
ہوا کے آگے جھکے نہیں جو اکھڑ گئے سب بکھر گئے وہ 68
عاشق بڑا چالاک ہے دوری بنا کے رکھتا ہے... 70
سنا تھا جس نے بھی شورِ دریا وہ گھر میں بیٹھا ہی ڈر گیا تھا. 72
یہ ڈر ہے عشق میں مجنوں کوئی پاگل نہ بن جائے... 78
تری جھولی میں یہ جو آ کے گرا ہے... 84
'' خموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میری". 86
چلو فرض کر لیں محبت نہیں ہے... 88
مرے جو پاس ہیرا ہے کوئی ہتھیا نہیں سکتا... 90
نظر آئی نہ صورت کچھ منانے کی. 97
گلی گلی نکتہ چیں ہیں بیٹھے کرو نہ شرما کے بات ایسے... 99
مسلماں کیوں پراگندے سے لگتے ہیں.. 101
ہے کہنا معتبر اُس کا ، نہیں حجّت کہا میرا 106
آنکھوں سے میری دیکھتا سچ میں تو کوئی اور تھا. 111
والد صاحب کے انتقال پر۔۔۔. 119
خاص کو پھر عام بن جانا ہی تھا. 122
تم سے ہے دوستی اور کیا چاہیے... 124
خوف کی جو انتہا کو دیکھ لے گا. 126
وقت مجھ کو نفسیاتی بھوت کے جیسا لگے... 128
دل کی تھی جو بے قراری اب نہیں ہے... 130
اگر انسانیت دھرتی کا دیں ہوتا 134
پکڑتے تتلیاں ہاتھوں سے بچپن چھوٹ جاتا ہے... 137
پرانے زخموں کو دھویا ہو گا. 138
جو ہے صورتِ غم بدل جائے گی. 146
خدا کو چھوڑ کر خواہش کی پوجا ہم نہیں کرتے... 148
سفر اچھا برا ہونا تو ہوتا ہے... 149
ابتدا دیکھئیے انتہا دیکھئیے 151
شہر میں ہر طرف چلتی ہیں مورتیں... 153
نہ ہونے میں بھی ہونے کا مزا لیتے تو اچھا تھا. 155
یوں نہیں کہ شعر بھی کہنا نہیں آتا مجھے... 156
غیب کا جب کہ تصوّر ہے سبھی ادیان میں... 159
ترا منہ ہے چھوٹا نہ باتیں بڑی کر. 161
پلائیں ہاتھ سے اپنے غضب کا پھر تما شا ہو. 166
دستِ غیب سے پایا حوصلہ یہ کیا میں نے... 167
نہ ہوتی محبت یہ سوچا تو ہو گا. 170
مانتے اسے رہنا جان کر بھی کیا کرنا 175
مجھ سے ہونے کو کیا نہیں ہوتا پر کسی کا برا نہیں ہو تا 181
مومن جہاں رہا ہے کافر وہاں رہا ہے... 182
کچھ تمہاری طرح لوگ رب لگتے ہیں.. 186
کس قدر تاریک غاروں میں رہے... 190
ترستے تھے "کُن" کی صدا کے لیے... 192
شاعری اور یہ کتاب
محمد اقبال ساگر: فوج اور معاشرے کے درمیان کھڑا سپاہی شاعر
اپنے جذبات کے لیے زبان کا اظہارانسان کا طرہ امتیاز ہے جو اسے جانوروں سے ممتاز کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر انسان کسی نہ کسی حوالے سےاپنے جذبات و احساسات کے اظہار کے لیے زبان کا سہارا لیتاہے۔دنیا بھر کے مختلف خطوں میں بولی جانے والی زبانوں میں پیدا ہونے والا ادب اسی اظہار کا ایک پرتو ہے۔محمد اقبال ساگر نے بھی اپنے انہی کومل جذبات اور احساسات کو زبان دینے کے لیے حروف کا سہارا لیا ہے۔ ان کے ہاں اس اظہار میں جو بے ساختگی اور فطری انداز ہے وہ ان کو شاعرانہ وصف عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ یہ جذبات اور احساسات تو شاید کسی نہ کسی حوالے سے ہر انسان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں اور اس کی فکر کی جولا نگاہ میں سے گزرتے ہیں۔ساگر کی شاعری کا بڑا حصہ اس فطری جذبے سے عبارت ہے جسے محبت کہتے ہیں یعنی ان کے ہاں شاعری کا غالب حصہ رومانوی انداز لیے ہوئے ہے اور یہ وہ جذبہ ہے جو بلا تفریق رنگ و نسل یا مذہب و ملت دنیا کے ہر خطے میں موجود ہے۔ یہ جذبہ اس وقت سے ہے جب حضرت انسان نے اس دنیا پر اپنا پہلا قدم رکھا اور اس وقت تک قائم رہے گا جب اس دنیا میں آخری انسان کا وجود بھی نابود نہیں ہو جاتا۔ اگر چہ ساگر کے بقول یہ ان کی پختہ عمری یعنی ریٹائرمنٹ کے بعد کی شاعری ہے لیکن رومانوی جذبات وہی ہیں جو ایک ٹین ایجر میں ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر انسان اس دور سے گزرتا ہے اور اس تجربے کو محسوس کرتا ہے۔ ان کے ہاں اس رومانوی اظہار میں معصومیت، لگاؤ، سچائی، اخلاص،استقامت اور توحید موجود ہے اور یہ عناصر فی زمانہ رومانوی زندگی اور کسی حد تک شاعری سے بھی مفقود ہو چلے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس شاعری کو پڑھتے ہوئے ہمیں بیسویں صدی کی رسوم اور انداز ملتے ہیں۔ ان کی رومانوی شاعری میں ارسطلائی نظریہ محبت کے بجائے فلاطونی نظریہ محبت کی عکاسی نظر آتی ہے جس کا مطلب محبت میں پاکیزگی اور طہارت لیا جا سکتا ہے۔
محمد اقبال ساگر کی شاعری کا ایک بڑا پہلو مذہبی جذبات و احساسات سے بھی جڑا ہوا ہے جس میں ان کے ہاں خدائے بزرگ و بر تر اور جابر و قہار کے سامنے انسان کی بے بسی اور بے وقعتی کے ساتھ ساتھ اسی سے مانگنے اور اسی سے لو لگانے کا انداز بھی ہے۔ساتھ ہی ساتھ سرور انبیا فخر موجودات سرور کونین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی ذات بابرکت سےایک غیر مشروط اور لا محدود عشق بھی ہے جو ان کی نعت گوئی اور ان کے بعض غزلیہ اشعار اور نظموں میں بھی جا بجا دکھائی دیتا ہے۔ یہ ایک ایسے مذہبی شخص کا پر خلوص اظہار ہے جو اس کے اندر کی صفائی اور اس کے اخلاص کو ظاہر کرتا ہے۔ ممکن ہے یہ انداز ان کے ساتھ عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ جذبات و احساسات پیرانہ سالی کی عطا ہوں جیسا کہ ہمارے معاشرے میں معمول ہے کہ لوگ بڑی عمر میں جا کر مذہب کی طرف زیادہ مائل ہو جاتے ہیں۔
محمد اقبال ساگر کا تعلق چونکہ مسلح افواج سے رہا ہے اور انہوں نے عمر عزیز کا ایک بڑا حصہ اس ادارے کی نذر کیا ہے۔ فوج کا شعبہ اپنے کام اپنی مہارت اور اپنی مصروفیت کی وجہ سے بظاہر ادب سے وابستہ شعبہ محسوس نہیں ہوتا لیکن اس کے باوجود ہمارے عساکر پاکستان کا ایک بڑا ادبی ذخیرہ بھی قابل قدر اور قابل لحاظ ہے جس میں صدیق سالک،کرنل محمد خان،ضمیر جعفری،جعفر طاہر، فیض احمد فیض،حفیظ جالندری،شفیق الرحمان اور کئی بڑے قومی سطح کےادیبوں کے نام شامل کیے جا سکتے ہیں۔محمد اقبال ساگر بھی اسی روایت کا تسلسل ہیں جو عساکر پاکستان اور ادب کی سلک میں پروئے ہوئے ہیں۔ اپنی شاعری میں انہوں نے متعدد مقامات پر اپنی پیشہ ورانہ زندگی ،اس کی خوشیوں خوبصورتیوں اور اس کی تکلیفوں ، مصیبتوں ،غموں،سزاؤں وغیرہ کو بھی بھر پور انداز میں پیش کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری ایک سپاہی کی نظر سے فوج کے شعبے کو دیکھنے کی ایک عمدہ مثال ہے جس کی دور بین کا ایک رخ اپنے ادارے کی طرف ہے اور دوسرا اپنے گھر اور معاشرے کی طرف۔افواج پاکستان سے منسلک ادیبوں کی درج بالا فہرست میں زیادہ تر افسران ہیں لیکن یہ میری دانست میں پہلا موقع ہے کہ ہم فوج اور معاشرے کو ایک عام سپاہی کی نظر سے ادبی سطح پر دیکھنے کے لیے جا رہے ہیں اور یہ یقینا ایک بے حد مختلف اور منفرد زاویہ نگاہ ہے اور اس کا فوکس بھی یقینا اول الذکر سے بے حد مختلف ہے۔
محمد اقبال ساگر کی شاعری کو اگر فنی حوالے سے دیکھا جائے تو یہ دو حوالوں سے خاصے کی چیز ہے۔ پہلی بات جس نے مجھے متحیر کیا اور جس سے مجھے ایک گونا خوشی بھی محسوس ہوئی وہ یہ تھی کہ ساگر نے شاعری کرنے کے ساتھ ساتھ علم عروض بھی سیکھا ہے اور اس کو استعمال بھی کیا ہے ختیٰ کہ ہر غزل یا نظم کے ساتھ اس کی بحر ارکان کی صورت میں لکھ بھی دی ہے یہ فی زمانہ بہت اہم بات ہے۔ ہمارے بیشتر نوآموز شعراء علم عروض سے واقف نہیں ہوتے اور اسی طرح اپنی تک بندی میں بے وزن اشعار کہتے ہیں لیکن محمد اقبال ساگر اس عیب سے مبرا ہیں۔ ان کی شاعری نہ صرف فکری اعتبار سے گہری اور با معنی ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ باوزن بھی ہے اور یہ صورت حال قران السعدین کا روپ ہے۔ ان کی دوسری خوبی یہ ہے کہ انہوں نے اردو کی کئی مروج اصناف اور اشکال کو استعمال کیا ہے جن میں غزل،نظم،مثنوی،مثلث،مسدس وغیرہ شامل ہیں اور یہ ایک مسلم الثبوت اور قادر الکلام شاعر کی نشانی ہے۔
اقبال ساگر کی شاعری میں کسی حد تک تصوّف کا تڑکا بھی موجود ہے اور یہ بھی یقینا اسی جستجو کا حصہ ہے جو ہر انسان میں اپنے خالق کو تلاش کرنے کے لیے موجود ہوتی ہے کہیں کہیں آپ کو تصوّر کے گہرے رمز بھی پڑھنے کو ملیں گے۔اگرچہ ایسی شاعری اس مجموعے میں کم ہے مگر اس کے تیور بتاتے ہیں کہ اقبال ساگر کو صوفیانا شاعری میں بھی درک حاصل ہے اور اگر وہ اس سلسلے میں مزید طبع آزمائی کریں تو کافی حد تک کامیاب ثابت ہو سکتے ہیں۔
اقبال ساگر کی شاعری کا یہ پہلا مجموعہ ہے لیکن اس میں بہت سے امکانات موجود ہیں۔ میں پر امید ہوں کہ ان کی یہ اولین کوشش اپنا نقش بٹھانے اور اپنی پہچان کروانے میں کامیاب ہو جائے گی اور ان کے انداز اور فکر کی جو کونپلیں ابھی نو زائیدہ ہیں وہ اگلے مجموعوں میں زیادہ خوبصورت اور خوشبودار پھولوں کی صورت میں نمایاں ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ محمد اقبال ساگر کو صحت و تندرستی والی زندگی اور فکر کی جولانی عطا کرے اور وہ مزید ایسے مجموعے اردو قارئین اور سامعین کی خدمت میں پیش کرتے رہیں۔ اللہ پاک آپ کے قلم میں زور روانی اور اثر پیدا کرے۔آمین!
ڈاکٹر عرفان پاشا
اسسٹنٹ پروفیسر اردو
یونیورسٹی آف ایجوکیشن،لاہور
جب مدینے سے کوئی مہمان آتا ہے حضور
شہر کا سب حال مجھ کو پھر سناتا ہے حضور
آج کل حالات ہیں کچھ مختلف اس شہر کے
بن گئے ہیں اب وہاں پہلے سے اچھے راستے
کچھ فوّاروں کو بدل کر اب لگے منظر نیا
دیر تک آپس میں باتیں آپؐ کی کرتے رہے
دیر تک بیٹھے رہے سب دیر تک سنتے رہے
ذکر تیرا پھر بڑی تفصیل سے ہونے لگا
آپؐ سے جیسے ہمیشہ ہو بہو ملتے رہے
آپؐ سا پہلے کوئی نا بعد میں آ یا کوئی
وقت آخر جس کے گھر سے نا کوئی دولت ملی
ختم ہے سب عزت و اکرام آقا آپؐ پر
آپؐ سے منسوب ہےجو کچھ وہ سب ہے بہتریں
بہتریں اخلاق تیرے ہیں نبوّت کے امیں
خوبصورت آپ جیسے چاند کی ہو چودھویں
وہ کلامِ حق ملا جس کا نہیں نعم البدل
آج تک نا لا سکا جس کی کوئی ادنیٰ مثل
آخری خطبہ جسے امت بھلا سکتی نہیں
تھی وہ تکمیلِ ہدایت آخری تھا وہ نبیؐ
کٹ گیا تھا رابطہ، اللہ ، زمیں، لوح و قلم
آیتیں ایسی کسی پر اب اتر سکتی نہیں
تم اسے تھامے رکھو دیکھو ہدایت ہے یہی
دین سے فرقے بنے تو پھر فنا ہو جاؤ گے
جان لو ! کم تر نہیں پھر کیا سے کیا ہو جاؤ گے
کیا خبر یہ ماننا تھا یا گماں تھا یا یقیں
سامنے ہی تھے محمدؐ، خود خدا، تختِ بریں
تھم چکی تھی آنسوؤں کی بھی لڑی آخر کہیں
میں نے دیکھا گھوم کر مہمان تو کوئی نہیں
اس قدر لمحہ کوئی ہو بھی نہیں سکتا حسیں
آسماں کو چوم کرسجدے میں تھی میری جبیں
وہی دو جہاں میں ہے سلطان میرا
شفاعت کا وعدہ ہے محشر میں مجھ سے
طریقہ ہے بخشش کا آسان میرا
پیمبرؐ نہ ہوتے تو کامل نہ ہوتا
یہ جنت جہنم پہ ایمان میرا
طلب دیکھنے کی مگر ڈر ہے یہ بھی
نہ دل رک ہی جائے یہ حیران میرا
یہ بچے کے جیسے کرے ضد ہمیشہ
سمجھتا نہیں دل یہ نادان میرا
محبت کے معنی سمجھ آ گئے ہیں
محمدؐ پہ سب کچھ ہے قربان میرا
مزا جب ہے لوگوکہیں اے فرشتو
بلاؤ کہ ساگرؔ ہے مہمان میرا
اگر مرنا یہی ٹھہرا جیا جانا قضا کر لو
مٹانا تو پڑے گا اب کسی میں سے کسی کو تو
تمی رہ پا سکو یا وہ، کوئی تو فیصلا کر لو
نہ کانوں ہی کے بس میں ہے نہ ذہنوں میں وہ آپائے
سنا تو جا نہیں سکتا سمجھ کے اکتفا کر لو
مقدر ہے ترا مرنا مری جاں بچ نہیں سکتے
مگر پھر بھی چلے جانے سے پہلے کچھ نیا کر لو
ترے اندر جو دیکھے ہے وہی سچ ہے ہمیشہ سے
مناظر میں نہ الجھو تم اُسے بس رہنما کر لو
اگر تم بِک گئے ہو ناگہاں آگے زلیخا کے
تو پھر زندان جانے کی خدا سے التجا کر لو
تب خواب ترے مجھ کو ڈرانے نہیں آتے
پہلے جو کہیں باغ میں ملتے بھی اکیلے
باتوں میں تمہاری یہ زمانے نہیں آتے
انداز محبت کا جو تھا پہلے کتا بی
اب پھول کتابوں میں چھپانے نہیں آتے
دوچار ہوئے غم سے کہیں مر ہی نہ جاتے
دوچار دنوں تک جو منانے نہیں آتے
معلوم اگر ہوتا تمہیں علم تمہارا
خورشید کو آئینہ دکھانے نہیں آتے
پہلے تو اداؤں سے جلاتے تھے وہ اپنی
اب آگ لگی ہے تو بجھانے نہیں آتے
تھا عشق ترا بپھرا ہوا گہرا سمندر
میں ڈوب چلا تھا وہ بچانے نہیں آتے
بڑا مشکل خدا کا ہے خدا ہونا
تراشی ہے یہ دنیا تو ان آنکھوں نے
مرا مرنا ہے دنیا کا فنا ہونا
مرے اندر انالحق کے اشارے ہیں
مرا سولی پہ چڑھنا ہے پتہ ہونا
یہ جنت کی کہانی تو بہانہ تھی
حقیقت ہے ترا مجھ سے جدا ہونا
کہیں جانا نہیں پھر بھی رہے چلتے
سفر اچھا ہے منزل کے سوا ہونا
سمجھ پاتے وہ کیسے اس حقیقت کو
عصا میں پھر چھپا ہے اژدھا ہونا
غزل کیسے کہوں اس پر جہاں ساگرؔ
خیالوں کو نہیں آتا ادا ہو نا
تری مرضی رکھے جیسے مجھے جینے کی عادت ہے
مرے تم ساتھ تھے جب تک نیا پن زندگی میں تھا
بچھڑ کر اب لگے ایسے مجھے جینے کی عادت ہے
یہ دولت کے میں رشتوں کا تو قائل ہی نہیں یارو
بچھڑتے ہیں کہ ہیں ملتے مجھے جینے کی عادت ہے
یہاں چپ ہیں زبانیں سب گماں ہوتا ہے برزخ کا
کوئی پوچھے کوئی بولے مجھے جینے کی عادت ہے
مذاقِ آگہی دیکھو بنا ڈالا ہے بُت اس کو
ہوا پتھر خدا جب کے مجھے جینے کی عادت ہے
بڑی کوشش کروں پھر بھی نہ چھوڑا جا سکے مجھ سے
یہ جینا ہے نشہ جیسے مجھے جینے کی عادت ہے
زندگی اک تما شا لگے ناچتی بس رقا صہ لگے
مجھ میں کچھ بھی تو میرا نہیں جو بھی ہے سب تمہارا لگے
اک تجھے جاننے کے لیے جو بھی جانا نہ جانا لگے
وہ فرشتے سے پو چھے بتا یہ جہاں تم کو کیسا لگے
ڈوبتے ہیں وہیں جا کے سب دور سے جو کنارا لگے
کاغزوں کی جو قبریں بنیں شعر کا ان پہ کتبہ لگے
اس کی آنکیں ہیں حسنِ جہاں روشنی استعارہ لگے
You have read 12% of Dairon ka Safar. The full e-book picks up right where this stopped.