Check out our most recent publications
Saeed ul Hassan

Saeed ul Hassan

@saeedulhassan
Islamabad, pakistan Joined May 2020 Poetry

About the Author

سعید کا ادب سے لگاؤ بہت پرانا ہے۔ جس کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کے جن دنوں کامرس، بزنس ایڈمنسٹریشن اور کمپیوٹر سائنسز کو عملی زندگی میں کامیابی کا زینہ سمجھا جاتا رہا تھا، اِنھوں نے معاشیات اور شماریات جیسے خشک مگر اہم مضامین کو چار سال پڑھنے کے بَعْد درخور اعتنا جانا اور ماسٹر ڈگری کے لیے انگریزی ادب کا انتخاب کیا۔۔۔! یہ فیصلہ سعید کے نزدیک، ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں ہر حوالے سے اطمینان اور آسانیوں کا باعث بنا۔ پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری لینے کے بَعْد سعید نے تعلیم کے شعبے کو چُنا اور خصوصاً صنفی امتیاز کے خاتمے اور لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے لاہور میں ایک غیر سرکاری تنظیم سے وابستہ ہو کر سماجی بہبود اور تبدیلی کے سفر پر گامزن ہو گئے۔ لگ بھگ پچھلے سترہ سالوں سے چند نمایاں قومی اور بین اقوامی اداروں میں اہم عہدوں پر اپنے فرائض سر انجام دینے کے بَعْد ان دنوں ایک ملک گیر غیر سرکاری تنظیم کے ساتھ بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر وابستہ ہیں۔ سعید پہلے پاکستانی ہیں جنہوں نے ٢٠٠٩ء میں اپنے ادارے کی نمائندگی کرتے ہوئے ”کامن ویلتھ ایجوکیشن اِسْپیشَل نومینیشن ایوارڈ“ اور ”گورنمنٹ آف ملائیشیا ایوارڈ“ حاصل کیا۔ پچھلی دو دہائیوں میں لکھی گئی شاعری آپ کے سامنے سعید کے شعری مجموعہ ”توقّف“ کی صورت میں حاضر ہے۔ اپنی شخصیت کی طرح سعید کا لہجہ نرم، اسلوب سادہ اور متوازن ہے مگر سوچ اور فکر کی گہرائی پوری سنجیدگی سے پڑھنے والے پہ اثر اندازِ ہونے لگتی ہے۔ اسی کی بدولت قاری اور لکھاری گویا ایک دوسرے سے بات چیت کے انداز میں ہَم كلام ہونے لگتے ہیں۔۔۔ شاعری کے ذریعے دو انسانوں میں ہَم آہنگی، ربط اور کافی حد تک ایک نجی تعلق پیدا ہونا، ایک اچھی تحریر کی ضمانت ہوتا ہے کیونکہ ایک کے جذبات منظوم لفظوں میں ڈھل کے دوسرے کے احساسات کی ترجمانی کر رہے ہوتے ہیں۔ شعری مجموعہ کی بابت یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ سعید کی سماجی موضوعات پہ لکھی گئی دو نظموں کو بین الاقوامی سطح پر کافی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ ”ماں اور میں“ جو ماں اور بچے کے پہلے ہزار دنوں میں خصوصی دیکھ بھال اور غذایت کی اہمیت پر مبنی ہے اور ”زینب کی مٹھی“ چائلڈ پروٹیکشن(بچوں کے حفاظت) کے حساس موضوع پر لکھی گئی ہے۔

Statistics as an Author

1Books Published
4Average Rating
23Times Read

Quotes by Saeed ul Hassan

“ایسی ہی کیفیت میں وہ دن بھر لوگوں میں رہ كے بھی تنہا رہتا ہے، اور پِھر خود ہی حیرت سے پوچھتا ہے۔”
“حالیہ سالوں میں، ارشد کے چند گیت(’ہم چرسی بھنگی ہیں‘،’میرے دیس میں ہیں امکان بہت‘، اور، ’سب پیسے کی گیم‘، اور ’میری قوم بڑی جزباتی‘) کافی مقبول ہوئے ہیں۔”
“شروع میں تو شعریت تقریباً ہر تخلیقی اظہار میں استعمال کی جاتی رہی، جب نثر اور شاعری ایک دوسرے میں گندھے ہوئے رہے۔”
Browse all quotes