Statistics as an Author
“مجھے یاد ہے یہ لکڑی کا بھاری دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا تھا ، اور اِس گھر کے مکین ہر آنے والے کو کھلے دِل اور مسکراہٹوں سے خوش آمدید کہتے تھے .”
“مگر جن کو سب کچھ مل جائے اور ان میں کچھ پانے کی خواہش اور کچھ کھو دینے کا ڈر باقی نہ ہو وہ بھی تو بد روحیں ہی ہیں بلکہ مردہلاشیں!”
“اس کٹیا سے ھر شام اٹھتی دھویں کی لکیر کو میں نے زندگی کا استعارہ کب سمجھنا شروع کیا، شاید مجھے خود صحیح اندازہ نہیں ہے۔”